Surah 28 · word by word

Surah 28, ayah 46

  1. وَمَااور نہ
  2. كُنْتَتھا تو
  3. بِجَانِبِکنارے
  4. الطُّوْرِطور کے
  5. اِذْجب
  6. نَادَیْنَاپکارا ہم نے
  7. وَلٰكِنْلیکن
  8. رَّحْمَةًیہ رحمت ہے
  9. مِّنْسے
  10. رَّبِّكَتیرے رب کی طرف (سے)
  11. لِتُنْذِرَتاکہ تو خبردار کرے
  12. قَوْمًاایک قوم کو
  13. مَّاۤنہیں
  14. اَتٰىهُمْآیا ان کے پاس
  15. مِّنْکوئی
  16. نَّذِیْرٍڈرانے والا
  17. مِّنْسے
  18. قَبْلِكَآپ (سے) پہلے
  19. لَعَلَّهُمْشاید کہ وہ
  20. یَتَذَكَّرُوْنَنصیحت پکڑیں

Translation and commentary

Tafheem-ul-Quran

اور تم طُور کے دامن میں بھی اُس وقت موجود نہ تھے جب ہم نے (موسیٰؑ کو پہلی مرتبہ)پکارا تھا، مگر یہ تمہارے ربّ کی رحمت ہے(کہ تم کو یہ معلومات دی جارہی ہیں)1 تاکہ تم اُن لوگوں کو متنبّہ کرو جن کے پاس ان سے پہلے کوئی متنبّہ کرنے والا نہیں آیا،2 شاید کہ وہ ہوش میں آئیں

Footnotes (the author's commentary)

  1. یہ تینوں باتیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت  میں پیش کی گئی ہیں۔ جس وقت یہ باتیں کہی گئی تھی اس وقت مکہ کے تمام سردار اور عام کفار اس بات پر پوری طرح تلے ہوئے تھے کہ کسی نہ کسی طرح آپ کو غیر نبی ۔ اور معاذ اللہ جھوٹا مدعی ثابت کر دیں۔ ان کی مدد کے لیے یہود کے علماء اور عیسائیوں کے راہب بھی حجاز کی بستیوں میں موجود تھے۔ اور محمد  صلی اللہ علیہ وسلم کہیں عالم بالا سے آکر یہ قرآن  نہیں سنا جاتے تھے۔ بلکہ اُسی مکہ کے رہنے والے تھے اور آپ کی زندگی کا کوئی گوشہ آپ کی بستی اور آپ کے قبیلے کے لوگوں سے چھپا ہوا نہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جس وقت اس کھلے چیلنج کے انداز میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے ثبوت کے طور پر یہ تین باتیں ارشاد فرمائی گئی ، اس وقت مکے، اور حجاز، اور پورے عرب میں کوئی ایک شخص بھی اٹھ کر وہ بیہودہ بات نہ کہہ سکا  جو آج کے مستشرقین کہتے ہیں۔ اگر چہ جھوٹ گھڑ نے  میں وہ لوگ اِن سے کچھ کم نہ تھے، لیکن ایسا درو غِ فروغ آخر وہ کیسے بول سکتے تھے جو ایک لمحہ کے لیے بھی نہ چل سکتا ہو۔ وہ کیسے  کہتے کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم، تم فلاں فلاں یہودی عالموں اور عیسائی راہبوں سے یہ معلومات حاصل کر لائے ہو، کیونکہ پورے ملک میں وہ اِس  غرض کے لیے کسی کا نام نہیں لے سکتے تھے۔ جس کا نام بھی وہ لیتے ، فوراً ہی یہ ثابت ہو جاتا کہ  اس سے آنحضرتؐ  نے کوئی  معلومات حاصل نہیں کی ہیں۔ وہ کیسے کہتے کہ اے محمد ؐ، تمہارے  پاس پچھلی تاریخ اور علوم آداب کی ایک لائبریری موجود ہے جس کی مدد سے تم یہ ساری تقریریں کر رہے ہو، کیونکہ لائبریری تو درکنار، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے آس پاس کہیں سے وہ ایک کاغذ کا پرزہ بھی بر آمد نہیں کر سکتے تھے جس میں یہ معلومات لکھی ہوئی ہوں ۔ مکے کا بچہ بچہ جانتا تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم لکھے پڑھے آدمی نہیں ہیں، اور کوئی یہ بھی نہیں کہہ سکتا تھا کہ آپ نے کچھ مترجمین کی خدمات حاصل کر رکھی ہیں جو عبرانی اور سُریانی اور یونانی کتابوں کے ترجمے کر کرکے آپ کو دیتے ہیں۔ پھر ان میں سے کوئی بڑے سے بڑا بے حیا آدمی بھی یہ دعویٰ کرنے کی جرأت نہ رکھتا تھا کہ شام و فلسطین کے تجارتی سفروں میں آپ یہ معلومات حاصل کر آئے تھے۔ کیونکہ یہ سفر تنہا نہیں ہوئے تھے۔ مکے ہی کے تجارتی قافلے ہر سفر میں آپ کےساتھ لگے ہوتے تھے۔ اگر کوئی اس وقت ایسا دعویٰ کرتا تو سینکڑوں زندہ شاہد یہ شہادت دے دیتے کہ  وہاں آپ نے کسی سے کوئی درس نہیں لیا۔ اور آپ کی وفات کے بعد تو دوسال کے اندر ہی رومیوں سے  مسلمان بر سر پیکا ر ہوگئے تھے۔ اگر کہیں جھوٹوں بھی شام و فلسطین میں کسی عیسائی راہب یا یہودی ربِّ سے حضور ؐ نے کوئی مذاکرہ کیا ہوتا تو رومی سلطنت رائی کا پہاڑ بنا کر یہ پروپیگنڈا کرنے میں ذرا دریغ نہ کرتی محمد صلی اللہ علیہ وسلم، معاذ اللہ سب کچھ یہاں سے سیکھ گئے تھے اور مکے جا کر نبی بن بیٹھے۔ غرض ، اُس زمانے میں جبکہ قرآن کا یہ چیلنچ قریش کے کفار و مشرکین کے لیے پیامِ موت کی حیثیت رکھتا تھا، اور اس کو جھٹلانے کی ضرورت موجود ہ زمانے کے مستشرقین کی بہ نسبت اُن لوگوں کو بدر جہاز یادہ لاحق تھی ، کوئی شخص بھی کہیں سے ایسا کوئی مواد فراہم کر کے نہ لا سکا جس سے وہ یہ ثابت کر سکتا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وحی کے سوا اِن معلومات کے حصول کا کوئی دوسرا ذریعہ موجود ہے جس کی نشان دہی  کی جا سکتی ہو۔           یہ بات بھی جان لینی چاہیے  کہ قرآن نے یہ چیلنج اِسی ایک جگہ نہیں دیا ہے بلکہ متعدد مقامات پر مختلف قصّوں کے سلسلہ میں دیا ہے۔ حضرت ذکریا اور حضرت مریم کا قصّہ بیان کر کے فرمایا  ذٰلِکَ مِنْ اَنْبَآ ءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْہِ اِلَیْکَ وَمَا کُنْتَ لَدَیْھِمْ اِذْ یُلْقُوْنَ اَقْلَا مَھُمْ اَیُّہُمْ یَکْفُلُ مَرْیَمَ وَمَا کُنْتَ لَدَیْہِمْ اِذْ یَخْتَصِمُوْنَ، ”یہ غیب کی خبروں میں سے ہے جو ہم وحی کے ذریعہ سے تمہیں دے رہے ہیں ، تم اُن لوگوں کے آس پاس کہیں موجودنہ تھے جبکہ وہ اپنے قرعے یہ طے  کرنے کے لیے پھینک رہے تھے کہ مریم کی کفالت کو ن کرے۔ اور نہ تم اس وقت موجود تھے جبکہ وہ  جھگڑ رہے تھے“(آل عمران، آیت 44)۔ حضرت یوسف ؑ  کا قصّہ بیان کرنے کے بعد فرمایا  ذٰلِکَ مِنْ اَنْبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْہِ اِلَیْکَ وَمَا کُنْتَ لَدَیْھِمْ اِذْ اَجْمَعُوْ ٓا اَمْرَھُمْ وَھُمْ یَمْکُرُوْنَ،”یہ غیب کی خبروں میں سے ہےجو ہم وحی کے ذریعہ سے تمہیں دے رہے ہیں ، تم ان کے (یعنی یوف کے بھائیوں کے) آس پاس  کہیں موجود نہ تھے جبکہ انہوں نے اپنی تدبیر پر اتفاق کیا اور ج ب کہ وہ اپنی چال چل رہے تھے“(یوسف، آیت 1۰2)۔ اسی طرح حضرت نوح کا مفصل قصّہ بیان کر کے فرمایا   تِلْکَ مِنْ اَنْبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحَیْھَآ اِلَیْکَ، مَا کُنْتَ تَعْلَمُھَآ  اَنْتَ وَلَا قَوْمُکَ مِنْ قَبْلِ ھٰذَا، ”یہ باتیں غیب کی خبروں میں سے ہیں جو ہم تم پر وحی کر رہے ہیں، تمہیں اور تمہاری قوم کو اس سے پہلے ان کا کوئی علم نہ تھا“(ہود۔ آیت 49)۔ اِس چیز کی بار بار تکرار  سے یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ قرآن مجید اپنے من جانب اللہ ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم  کے رسول اللہ ہونے پر جو بڑے بڑے دلائل دیتا تھا ان میں سے ایک یہ دلیل  تھی کہ سینکڑوں ہزاروں برس پہلے کے گزرے ہوئے واقعات کی جو تفصیلات ایک اُمّی کی زبان سے بیان ہو رہی ہیں ان کے علم کا کوئی ذریعہ اُس کے پاس وحی کے سوا نہیں ہے۔ اور یہ چیز اُن اہم اسباب میں سے ایک تھی جن کیبنا پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم عصر لوگ اس بات پر یقین لاتے چلے جا رہے تھے  کہ واقعی آپؐ اللہ کے نبی ہیں اور آپؐ پر وحی آتی ہے، اب یہ ہر شخص خود تصور کر سکتا ہے کہ اسلامی تحریک کے مخالفین کے لیے اُس زمانے میں اِس چیلنج کی تردید کرنا کیسی کچھ اہمیت رکھتا  ہو گا،  اور انہوں نے اس کے خلاف ثبوت فراہم کرنے کی کوششوں میں کیا  کسر اُٹھا رکھی ہو گی۔ نیز یہ بھی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اگر معاذ اللہ اِس چیلنج  میں ذرا سی  بھی کوئی کمزوری ہوتی تو اس کو غلط ثابت کرنے کے لیے شہادتیں فراہم کرنا ہم عصر لوگوں کے لیے مشکل نہ  ہوتا۔

  2. عرب میں حضرت اسمٰعیل اور حضرت شعیب علیہما السلام کے بعد کوئی نبی نہیں آیا تھا۔ تقریباً دو ہزار برس کی اس طویل مدت میں باہر کے انبیاء کی دعوتیں تو ضرور وہاں پہنچیں، مثلاً حضرت موسیٰ، حضرت سلیمان اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام کی دعوتیں، مگر کسی نبی کی بعثتِ خاص اس سرزمین میں نہیں ہوئی تھی۔

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Bayan-ul-Quran

اور نہ آپ ﷺ (اس وقت) طور کے پاس موجود تھے جب ہم نے (موسیٰ ؑ کو) پکارا تھا بلکہ یہ سب رحمت ہے آپ ﷺ کے رب کی طرف سے تاکہ آپ ﷺ اس قوم کو خبردار کریں جس کی طرف آپ ﷺ سے پہلے کوئی خبردار کرنے والا نہیں آیا شاید کہ وہ نصیحت حاصل کریں

Commentary

وَلٰکِنْ رَّحْمَۃً مِّنْ رَّبِّکَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّآ اَتٰٹہُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ قَبْلِکَ ” قریش مکہّ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے اور حضرت اسماعیل علیہ السلام سے لے کر محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت تک کم و بیش تین ہزار برس کا عرصہ بیت چکا تھا ‘ جس میں اس قوم کی طرف نہ کوئی نبی اور رسول آیا اور نہ ہی کوئی کتاب بھیجی گئی۔ اس کے برعکس حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق علیہ السلام کی نسل بنی اسرائیل میں نبوت کا سلسلہ لگاتار چلتا رہا اور انہیں زبور ‘ تورات اور متعدد صحائف بھی عطا کیے گئے۔ بلکہ بنی اسرائیل میں چودہ سو برس کا ایک عرصہ ایسا بھی گزرا جس کے دوران ان میں ایک لمحے کے لیے بھی نبوت کا وقفہ نہیں آیا۔ بہرحال ایک طویل عرصے کے بعد اللہ تعالیٰ نے بنو اسماعیل علیہ السلام کو خبردار کرنے کے لیے ان کی طرف حضرت محمد ﷺ کو بطور رسول بھیجنے کا فیصلہ کیا۔

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29

Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.

See this ayah on Mushaf page 391

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.

Sources & attribution