Surah 5 · word by word

Surah 5, ayah 116

  1. وَاِذْاور جب
  2. قَالَفرمائے گا
  3. اللّٰهُالہ
  4. یٰعِیْسَیاے عیسیٰ
  5. ابْنَابن
  6. مَرْیَمَمریم
  7. ءَاَنْتَکیا تو نے
  8. قُلْتَتو نے کہا تھا
  9. لِلنَّاسِلوگوں سے
  10. اتَّخِذُوْنِیْبنا لو مجھ کو
  11. وَاُمِّیَاور میری ماں کو
  12. اِلٰهَیْنِدو الہ
  13. مِنْNo meaning in the source
  14. دُوْنِسوا
  15. اللّٰهِ ؕاللہ کے
  16. قَالَNo meaning in the source
  17. سُبْحٰنَكَوہ کہیں گے
  18. مَانہیں ہے
  19. یَكُوْنُNo meaning in the source
  20. لِیْۤمیرے لیے
  21. اَنْکہ
  22. اَقُوْلَمیں کہوں
  23. مَاجو
  24. لَیْسَنہیں
  25. لِیْ ۗمیرے لیے
  26. بِحَقٍّ ؔؕحق
  27. اِنْاگر
  28. كُنْتُمیں نے
  29. قُلْتُهٗکہا ہوتا اس کو
  30. فَقَدْتو تحقیق
  31. عَلِمْتَهٗ ؕجان لیتا تو اس کو
  32. تَعْلَمُتو جانتا ہے
  33. مَاجو
  34. فِیْمیں ہے
  35. نَفْسِیْمیرے نفس
  36. وَلَاۤاور نہیں
  37. اَعْلَمُمیں جانتا
  38. مَاجو
  39. فِیْمیں ہے
  40. نَفْسِكَ ؕتیرے نفس
  41. اِنَّكَبیشک تو
  42. اَنْتَتو ہی
  43. عَلَّامُخوب جانتا ہے
  44. الْغُیُوْبِغیب کی باتیں

Translation and commentary

Tafheem-ul-Quran

غرض جب (یہ احسانات یاد دلاکر) اللہ فرمائے گا کہ ”اے عیسٰی ؑ بن مریم ؑ ! کیا تُو نے لوگوں سے کہا تھا کہ خدا کے سوا مجھے اور میری ماں کو بھی خدا بنالو؟“1 تو وہ جواب میں عرض کرے گا ”سبحان اللہ! میرا یہ کام نہ تھا کہ وہ بات کہتا جس کے کہنے کا مجھے حق نہ تھا، اگر میں نے ایسی بات کہی ہوتی تو آپ کو ضرور علم ہوتا، آپ جانتے ہیں جو کچھ میرے دل میں ہے اور میں نہیں جانتا جو کچھ آپ کے دل میں ہے، آپ تو ساری پوشیدہ حقیقتوں کے عالم ہیں

Footnotes (the author's commentary)

  1. عیسائیوں  نے اللہ کے ساتھ صرف مسیح اور رُوح القدس ہی کو خدا بنانے پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ مسیح کی والدۂ ماجدہ حضرت مریم کو بھی ایک مستقل معبُود بنا ڈالا۔ حضرت مریم علیہا السّلام کو اُلُوہیّت یا قُدُّوسیّت کے متعلق کوئی اشارہ تک بائیبل میں موجود نہیں ہے۔ مسیح کے بعد ابتدائی تین سو برس تک عیسائی دُنیا اس تخیّل سے بالکل نا آشنا تھی۔ تیسری صدی عیسوی کے آخری دَور میں اسکندریہ کے بعض علماء دینیات نے پہلی مرتبہ حضرت مریم کے لیے ”اُمّ اللہ“ یا ” مادرِ خدا“ کے الفاظ استعمال کیا۔ اس کے بعد آہستہ آہستہ اُلُوہیّت ِ مریم کا عقیدہ اور مریم پرستی کا طریقہ عیسائیوں میں پھیلنا شروع ہوا۔ لیکن اوّل اوّل چرچ اسے باقاعدہ تسلیم کرنے کے لیے تیار  نہ تھا ، بلکہ مریم پرستوں کو فاسد العقیدہ قرار دیتا تھا۔ پھر جب نَسطُور یَس کے اس عقیدے پر کہ مسیح کی واحد ذات میں دو مستقل جُداگانہ شخصیتیں جمع تھیں، مسیحی دُنیا میں بحث و جدال کا ایک طوفان اُٹھ کھڑا ہوا تو اس کا تصفیہ کرنے کے لیے سن 431 ء میں شہر افسوس میں ایک کونسل منعقد ہوئی، اور اس کونسل میں پہلی مرتبہ کلیسا کی سرکاری زبان میں حضرت مریم کے لیے ”مادرِ خدا“ کا لقب استعمال کیا گیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مریم پرستی کا جو مرض اب تک کلیسا کے باہر پھیل رہا تھا وہ اس کے بعد کلیسا کے اندر بھی تیزی کے ساتھ پھیلنے لگا، حتٰی کہ نزولِ قرآن کے زمانہ تک پہنچتے پہنچتے حضرت مریم اتنی بڑی دیوی بن گئیں کہ باپ، بیٹا اور رُوح القدس تینوں ان کے سامنے ہیچ ہوگئے۔ ان کے مجسّمے جگہ جگہ کلیساؤں میں رکھے ہوئے تھے ، ان کے آگے عبادت  کے جُملہ مراسم ادا کیے جاتے تھے، انہی سے دُعائیں مانگی جاتی تھیں ، وہی فریاد رس، حاجت روا، مشکل کشا اوربکسیوں کی پشتیبان تھیں، اور ایک مسیحی بندے کے لیے سب سے بڑا ذریعۂ اعتماد اگر کوئی تھا تو وہ یہ تھا کہ ” مادرِ خدا“ کی حمایت و سرپرستی اسے حاصل ہو۔ قیصر جَسٹِینَن اپنے ایک قانون کی تمہید میں حضرت مریم ؑ کو اپنی سلطنت کا حامی و ناصر قرار دیتا ہے۔ اس کا مشہوُر جنرل نرسیس میدانِ جنگ میں حضرت مریم ؑ سے ہدایت و رہنمائی طلب کرتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمعصر قیصر ہِرَ قْل نے اپنے جھنڈے پر ”مادرِ خدا“ کی تصویر بنا رکھی تھی اور اسے یقین تھا کہ اس تصویر کی برکت سے یہ جھنڈا سرنگوں نہ ہوگا۔ اگرچہ بعد کی صدیوں میں تحریک اصلاح کے اثر سے پروٹسٹنٹ عیسائیوں  نے مریم پرستی کے خلاف شدّت سے آواز اُٹھائی ، لیکن رومن کیتھولک کلیسا آج تک اس مسلک پر قائم ہے۔

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.

See this ayah on Mushaf page 127

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Meanings are shown as the source gives them, one per word. 3 words in this ayah have no meaning in the source and are left empty. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.

Sources & attribution