Surah 42 · word by word

Surah 42, ayah 27

  1. وَلَوْاور اگر
  2. بَسَطَکھول دے
  3. اللّٰهُاللہ
  4. الرِّزْقَرزق کو
  5. لِعِبَادِهٖاپنے بندوں کے لیے
  6. لَبَغَوْاالبتہ وہ بغاوت کردیں
  7. فِیمیں
  8. الْاَرْضِزمین
  9. وَلٰكِنْلیکن
  10. یُّنَزِّلُاتارتا ہے ساتھ
  11. بِقَدَرٍاندازے کے
  12. مَّاجو
  13. یَشَآءُ ؕوہ چاہتا ہے
  14. اِنَّهٗبیشک وہ
  15. بِعِبَادِهٖاپنے بندوں کے ساتھ
  16. خَبِیْرٌخبر رکھنے والا ہے
  17. بَصِیْرٌدیکھنے والا ہے

Translation and commentary

Tafheem-ul-Quran

اگر اللہ اپنے سب بندوں کو کھُلا رزق دے دیتا تو وہ زمین میں سرکشی کا طوفان برپا کر دیتے، مگر وہ ایک حساب سے جتنا چاہتا ہے نازل کر تا ہے، یقیناً وہ اپنے بندوں سے باخبر ہے اور اُن پر نگاہ رکھتا ہے۔1

Footnotes (the author's commentary)

  1. اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ زمین، یعنی اپنی جائے تقرّر پر خلیفہ کی حیثیت سے بھیجے جانے سے پہلے ان دونوں کو امتحان کی غرض سے جنت میں رکھا گیا تھا تاکہ ان کے رُحجانات کی آزمائش ہوجائے۔ اس آزمائش کے لیے ایک درخت کو چُن  جس سلسلہ کلام میں یہ بات ارشاد ہوئی ہے اسے نظر میں رکھا جائے تو صاف محسوس ہوتا ہے کہ یہاں دراصل اللہ تعالیٰ اس بنیادی سبب کی طرف اشارہ فرما رہا ہے جو کفار مکہ کی سرکشی میں کام کر رہا تھا۔ اگرچہ روم و ایران کے مقابلہ میں ان کی کوئی ہستی نہ تھی اور گرد و پیش کی قوموں میں وہ ایک پس ماندہ قوم کے ایک تجارت پیشہ قبیلے ، یا بالفاظ دیگر، بنجاروں سے زیادہ حیثیت نہ رکھتے تھے ، مگر اپنی اس ذرا سی دنیا میں ان کو دوسرے عربوں کی بہ نسبت جو خوشحالی اور بڑائی نصیب تھی اس نے ان کو اتنا مغرور و متکبر بنا دیا تھا یہ وہ اللہ کے نبی کی بات پر کان دھرنے کے لیے کسی طرح تیار نہ تھے ، اور ان کے سرداران قبائل اس کو اپنی کسر شان سمجھتے تھے کہ محمد بن عبداللہ (صلی اللہ علیہ و سلم ) ان کے پیشوا ہوں اور وہ ان کی پیروی کریں ،۔ اسی پر فرمایا جا رہا ہے کہ اگر کہیں ہم ان چھوٹے ظرف کے لوگوں پر واقعی رزق کے دروازے کھول دیتے تو یہ بالکل ہی پھٹ پڑتے ، مگر ہم نے انہیں دیکھ کر ہی رکھا ہے ، اور ناپ تول کر ہم انہیں بس اتنا ہی دے رہے ہیں جو ان کو آپے سے باہر نہ ہونے دے۔ اس معنی کے لحاظ سے یہ آیت دوسرے الفاظ میں وہی مضمون ادا کر رہی ہے جو سورہ توبہ، آیت 68۔ 70، الکہف، آیات 32۔42۔القصص، آیات 75۔ 82۔الروم، آیت 9۔ سبا، آیت 34۔36۔ اور المومن آیات 82۔85 میں بیان ہوا ہے۔

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Bayan-ul-Quran

اور اگر اللہ کشادہ کردیتا رزق اپنے سب بندوں کے لیے تو وہ زمین میں سرکشی کرتے لیکن اللہ نازل کرتا ہے ایک اندازے کے مطابق جو چاہتا ہے۔ یقینا وہ اپنے بندوں (کے حالات) سے باخبر ان کو دیکھنے والا ہے۔

Commentary

آیت 27 { وَلَوْ بَسَطَ اللّٰہُ الرِّزْقَ لِعِبَادِہٖ لَبَغَوْا فِی الْاَرْضِ } ”اور اگر اللہ کشادہ کردیتا رزق اپنے سب بندوں کے لیے تو وہ زمین میں سرکشی کرتے“ یقینا اللہ کے خزانے بہت وسیع ہیں ‘ لیکن اگر وہ ان خزانوں کو سب کے لیے کھول دیتا اور ہر کسی کو اس کی خواہش اور مرضی کے مطابق با فراغت اور با سہولت رزق ملنا شروع ہوجاتا تو انسانوں کی اکثریت اللہ سے سرکشی پر اتر آتی۔ کیونکہ اب جب کہ دو وقت کی روٹی کمانے کے لیے دن رات مشقت میں جتے رہنے کے باوجود بھی ان میں سے اکثر اللہ کے نافرمان ہیں تو فکر معاش سے فراغت تو ان کو بالکل ہی باغی بنا دیتی۔ { وَلٰکِنْ یُّنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَّا یَشَآئُ اِنَّہٗ بِعِبَادِہٖ خَبِیْرٌ بَصِیْرٌ} ”لیکن اللہ نازل کرتا ہے ایک اندازے کے مطابق جو چاہتا ہے۔ یقینا وہ اپنے بندوں کے حالات سے باخبر ‘ ان کو دیکھنے والا ہے۔“

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29

Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.

See this ayah on Mushaf page 486

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.

Sources & attribution