Surah 4 · word by word

Surah 4, ayah 12

  1. وَلَكُمْاور تمہارے لیے
  2. نِصْفُآدھا ہے
  3. مَاجو
  4. تَرَكَچھوڑا
  5. اَزْوَاجُكُمْتمہاری بیویوں نے
  6. اِنْاگر
  7. لَّمْنہ
  8. یَكُنْہو
  9. لَّهُنَّان کے لیے
  10. وَلَدٌ ۚاولاد۔ کوئی بچہ
  11. فَاِنْپھر اگر
  12. كَانَہے
  13. لَهُنَّان کے لیے
  14. وَلَدٌاولاد
  15. فَلَكُمُتو تمہارے لیے
  16. الرُّبُعُچوتھا حصہ ہے
  17. مِمَّااس میں سے جو
  18. تَرَكْنَوہ چھوڑ جائیں
  19. مِنْسے
  20. بَعْدِبعد
  21. وَصِیَّةٍوصیت کے
  22. یُّوْصِیْنَوہ عورتیں وصیت کر جائیں
  23. بِهَاۤجس کی
  24. اَوْیا
  25. دَیْنٍ ؕقرض کی ادائیگی کے بعد
  26. وَلَهُنَّاور ان عورتوں کے لیے ہے
  27. الرُّبُعُچوتھا حصہ
  28. مِمَّااس میں سے جو
  29. تَرَكْتُمْچھوڑا تم نے
  30. اِنْاگر
  31. لَّمْنہیں
  32. یَكُنْہے
  33. لَّكُمْتمہارے لیے
  34. وَلَدٌ ۚاولاد
  35. فَاِنْپھر اگر
  36. كَانَہے
  37. لَكُمْتمہارے لیے
  38. وَلَدٌاولاد
  39. فَلَهُنَّتو ان عورتوں کے لیے ہے
  40. الثُّمُنُآٹھواں حصہ
  41. مِمَّااس میں سے جو
  42. تَرَكْتُمْچھوڑا تم نے
  43. مِّنْکے
  44. بَعْدِبعد
  45. وَصِیَّةٍوصیت
  46. تُوْصُوْنَتم وصیت کر جاؤ
  47. بِهَاۤجس کی
  48. اَوْیا
  49. دَیْنٍ ؕادائیگی قرض کے بعد
  50. وَاِنْاور اگر
  51. كَانَہے
  52. رَجُلٌایک شخص
  53. یُّوْرَثُجس کی میراث لی جاتی ہے
  54. كَلٰلَةًکلالہ
  55. اَوِیا
  56. امْرَاَةٌکوئی عورت ہے
  57. وَّلَهٗۤاور اس کے لیے
  58. اَخٌایک بھائی ہو
  59. اَوْیا
  60. اُخْتٌایک بہن ہو
  61. فَلِكُلِّتو واسطے ہر
  62. وَاحِدٍایک کے
  63. مِّنْهُمَاان دونوں میں سے
  64. السُّدُسُ ۚچھٹا حصہ ہے
  65. فَاِنْپھر اگر
  66. كَانُوْۤاوہ سب ہوں
  67. اَكْثَرَزیادہ
  68. مِنْسے
  69. ذٰلِكَاس
  70. فَهُمْتو وہ
  71. شُرَكَآءُشریک ہیں
  72. فِیمیں
  73. الثُّلُثِایک تہائی
  74. مِنْکے
  75. بَعْدِبعد
  76. وَصِیَّةٍوصیت (کے)
  77. یُّوْصٰیوصیت کی جائے
  78. بِهَاۤاس کی
  79. اَوْیا
  80. دَیْنٍ ۙقرض (کی ادائیگی کے بعد)
  81. غَیْرَنہ
  82. مُضَآرٍّ ۚنقصان دینے والا ہو۔ نہ ضرر پہنچانے والا ہو
  83. وَصِیَّةًوصیت ہے
  84. مِّنَسے
  85. اللّٰهِ ؕاللہ کی طرف
  86. وَاللّٰهُاور اللہ
  87. عَلِیْمٌجاننے والا ہے
  88. حَلِیْمٌبردبار ہے

Translation and commentary

Tafheem-ul-Quran

اور تمہاری بیویوں نے جو کچھ چھوڑا ہو اس کا آدھا حصّہ تمہیں ملے گا اگر وہ بے اولاد ہوں، ورنہ اولاد ہونے کی صُورت میں ترکہ کا ایک چوتھائی حصّہ تمہارا ہے جبکہ وصیّت جو انہوں نے کی ہو پوری کردی جائے، اور قرض جو اُنہوں نے چھوڑا ہو ادا کردیا جائے۔ اور وہ تمہارے ترکہ میں سے چوتھائی کی حق دار ہوں گی اگر تم بے اولاد ہو، ورنہ صاحبِ اولاد ہونے کی صُورت میں اُن کا حصّہ آٹھواں ہوگا،1 بعد اس کے کہ جو وصیّت تم نے کی ہو وہ پُوری کردی جائے اور جو قرض تم نے چھوڑا ہو وہ ادا کردیا جائے۔اور اگر وہ مرد یا عورت (جس کی میراث تقسیم طلب ہے) بے اولاد بھی ہو اور اس کے ماں باپ بھی زندہ نہ ہوں، مگر اس کا ایک بھائی یا ایک بہن موجود ہوتو بھائی اور بہن ہر ایک کو چھٹا حصّہ ملے گا، اور بھائی بہن ایک سے زیادہ ہوں تو کُل ترکہ کے ایک تہائی میں وہ سب شریک ہوں گے،2 جبکہ وصیّت جو کی گئی ہو پوری کردی جائے، اور قرض جو میّت نے چھوڑا ہو ادا کردیا جائے، بشرطیکہ وہ ضرر رساں نہ ہو۔3 یہ حکم ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ دانا و بینا اور نرم خُو ہے۔4

Footnotes (the author's commentary)

  1. یعنی خواہ ایک بیوی ہو یا کئی بیویاں ہوں، اولاد ہونے کی صُورت میں وہ 1/8  کی اور اولاد نہ ہونے کی صُورت میں 1/4 کی حصّہ دار ہوں گی اور یہ 1/4 یا    1/8 سب بیویوں میں برابری کے ساتھ  تقسیم کیا جائے گا۔

  2. باقی 5/6 یا 2/3   جو بچتے ہیں ان میں اگر کوئی اور وارث موجود ہو تو اس کو حصّہ ملے گا ، ورنہ اس پُوری باقی ماندہ ملکیّت کے متعلق اس شخص کو وصیّت  کرنے کا حق ہو گا۔                 اس آیت کے متعلق مفسّرین کا اجماع ہے کہ اس میں بھائی اور بہنوں سے مراد اَخیافی بھائی اور بہن ہیں یعنی جو میّت کے ساتھ صرف ماں کی طرف سے رشتہ رکھتے ہوں اور باپ ان کا دُوسرا ہو۔ رہے سگے بھائی بہن ، اور وہ سوتیلے بھائی بہن جو باپ کی طرف سے میت کے ساتھ رشتہ رکھتے ہوں، تو ان کا حکم اِسی سُورہ کے آخر میں ارشاد ہوا ہے۔

  3. وصیّت میں ضرر رسانی یہ ہے کہ ایسے طور پر وصیّت کی جائے جس سے  مستحق رشتہ داروں کے حقوق تلف ہوتے ہوں۔ اور قرض میں ضرر رسانی یہ ہے کہ محض حقداروں کو محرُوم کرنے کے لیے آدمی  خواہ مخواہ اپنے اُوپر ایسے قرض کا اقرار کرے جو اس نے فی الواقع نہ لیا ہو، یا اور کوئی ایسی چال چلے جس سے مقصُود یہ ہو کہ حقدار میراث سے محرُوم ہو جائیں۔ اس قسم کے ضِرار کو گناہ ِ کبیرہ قرار دیا گیا ہے ۔ چنانچہ حدیث میں آیا ہے کہ وصیّت میں نقصان رسانی بڑے گناہوں  میں سے ہے۔ اور ایک دُوسری حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ آدمی تمام اہلِ جنّت کے سے کام کرتا رہتا ہے مگر  مرتے وقت وصیّت میں ضرر رسانی کر کے اپنی زندگی کو ایسے عمل پر ختم کر جاتا ہے جو اسے دوزخ کا مستحق بنا دیتا ہے ۔ یہ ضِرار اور حق تلفی اگرچہ ہر حال میں گناہ ہے، مگر خاص طور پر کَلالہ کے معاملہ میں اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر اس لیے فرمایا کہ جس شخص کے نہ اولاد ہو نہ ماں باپ ہوں اس میں عموماً  یہ میلان پیدا ہو جاتا ہے کہ اپنی جائداد کو کسی نہ کسی طرح تلف کر جائے اور  نسبتاً دُور کے رشتہ داروں کو حصّہ پانے سے محرُوم کر دے۔

  4. یہاں اللہ تعالیٰ کی صفتِ علم کا اظہار دو وجوہ سے کیا گیا ہے: ایک یہ کہ اگر اس قانون  کی خلاف ورزی کی گئی تو اللہ کی گرفت سے آدمی نہ بچ سکے گا۔ دوسرے یہ کہ اللہ نے جو حصّے جس طرح مقرر کیے ہیں وہ بالکل صحیح ہیں کیونکہ بندوں کی مصلحت جس چیز میں ہے اللہ اس کو خود بندوں سے زیادہ بہتر جانتا ہے ۔ اور اللہ کی صفتِ حِلم یعنی اس کی نرم خوئی کا ذکر اس لیے فرمایا کہ اللہ نے یہ قوانین مقرر کرنے میں سختی نہیں کی ہے کہ بلکہ ایسے قاعدے مقرر کیے ہیں جن میں بندوں کے لیے زیادہ سے زیادہ سہولت ہے تاکہ وہ مشقت اور تنگی میں مبتلا نہ ہوں۔

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Bayan-ul-Quran

اور تمہارا حصہ تمہاری بیویوں کے ترکے میں سے آدھا ہے اگر ان کے کوئی اولاد نہ ہو اور اگر ان کے اولاد ہے تو تمہارے لیے چوتھائی ہے اس میں سے جو انہوں نے چھوڑا بعد اس وصیت کی تعمیل کے جو وہ کر جائیں یا بعد ادائے قرض کے اور ان کے لیے چوتھائی ہے تمہارے ترکے کا اگر تمہارے اولاد نہیں ہے اور اگر تمہارے اولاد ہے تو ان کے لیے آٹھواں حصہ ہے تمہارے ترکے میں سے اس وصیت کی تعمیل کے بعد جو تم نے کی ہو یا قرض ادا کرنے کے بعد اور اگر کوئی شخص جس کی وراثت تقسیم ہو رہی ہے کلالہ ہو یا عورت ہو اور اس کا ایک بھائی یا ایک بہن ہو تو ان میں سے ہر ایک کے لیے چھٹا حصہ ہے اور اگر وہ اس سے زیادہ ہوں تو وہ سب ایک تہائی میں شریک ہوں گے اس وصیت کی تعمیل کے بعد جو کی گئی یا ادائے قرض کے بعد بغیر کسی کو ضرر پہنچائے اور اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا کمال حلم والا ہے

Commentary (one passage for ayahs 4:12, 4:13, 4:14)

آیت 12 وَلَکُمْ نِصْفُ مَا تَرَکَ اَزْوَاجُکُمْ اِنْ لَّمْ یَکُنْ لَّہُنَّ وَلَدٌ ج۔بیوی فوت ہوگئی ہے اور اس کے کوئی اولاد نہیں ہے تو جو وہ چھوڑ گئی ہے اس میں سے نصف شوہر کا ہوجائے گا۔ باقی جو نصف ہے وہ مرحومہ کے والدین اور بہن بھائیوں میں حسب قاعدہ تقسیم ہوگا۔ ِ فَاِنْ کَانَ لَہُنَّ وَلَدٌ فَلَکُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکْنَ مِنْم بَعْدِ وَصِیَّۃٍ یُّوْصِیْنَ بِہَآ اَوْ دَیْنٍ ط اگر مرنے والی نے اولاد چھوڑی ہو تو موجودہ شوہر کو مرحومہ کے مال سے ادائے دَین و انفاذ وصیت کے بعد کل مال کا چوتھائی حصہ ملے گا اور باقی تین چوتھائی دوسرے ورثاء میں تقسیم ہوگا۔وَلَہُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکْتُمْ اِنْ لَّمْ یَکُنْ لَّکُمْ وَلَدٌج فَاِنْ کَانَ لَکُمْ وَلَدٌ فَلَہُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَکْتُمْ مِّنْم بَعْدِ وَصِیَّۃٍ تُوْصُوْنَ بِہَآ اَوْ دَیْنٍ ط اگر مرنے والے نے کوئی اولاد نہیں چھوڑی تو ادائے دَین و انفاذ وصیت کے بعد اس کی بیوی کو اس کے ترکے کا چوتھائی ملے گا ‘ اور اگر اس نے کوئی اولاد چھوڑی ہے تو اس صورت میں بعد ادائے دَین و وصیت کے بیوی کو آٹھواں حصہ ملے گا۔ اگر بیوی ایک سے زائد ہے تو بھی مذکورہ حصہ سب بیویوں میں تقسیم ہوجائے گا۔وَاِنْ کَانَ رَجُلٌ یُّوْرَثُ کَلٰلَۃً اَوِ امْرَاَۃٌ ایسی ہی کلالہ وہ مرد یا عورت ہے جس کے نہ تو والدین زندہ ہوں اور نہ اس کی کوئی اولاد ہو۔ وَّلَہٗ اَخٌ اَوْ اُخْتٌ فَلِکُلِّ وَاحِدٍ مِّنْہُمَا السُّدُسُ ج فَاِنْ کَانُوْآ اَکْثَرَ مِنْ ذٰلِکَ فَہُمْ شُرَکَآءُ فِی الثُّلُثِ rّ مفسرین کا اجماع ہے کہ یہاں کلالہ کی میراث کے حکم میں بھائی اور بہنوں سے مراد اخیافی ماں شریک بھائی اور بہن ہیں۔ رہے عینی اور علاتی بھائی بہن تو ان کا حکم اسی سورت کے آخر میں ارشاد ہوا ہے۔ عربوں میں دراصل تین قسم کے بہن بھائی ہوتے ہیں۔ ایک عینیجن کا باپ بھی مشترک ہو اور ماں بھی ‘ جنہیں ہمارے ہاں حقیقیکہتے ہیں۔ دوسرے علاتیبہن بھائی ‘ جن کا باپ ایک اور مائیں جدا ہوں۔ اہل عرب کے ہاں یہ بھی حقیقی بہن بھائی ہوتے ہیں اور ان کا حکم وہی ہے جو عینیبہن بھائیوں کا ہے۔ وہ انہیں سوتیلا نہیں سمجھتے۔ ان کے ہاں سوتیلا وہ کہلاتا ہے جو ایک ماں سے ہو لیکن اس کا باپ دوسرا ہو۔ یہ اخیافیبہن بھائی کہلاتے ہیں۔ ایک شخص کی اولاد تھی ‘ وہ فوت ہوگیا۔ اس کے بعد اس کی بیوی نے دوسری شادی کرلی۔ تو اب اس دوسرے خاوند سے جو اولاد ہے وہ پہلے خاوند کی اولاد کے اخیافی بہن بھائی ہیں۔ تو کلالہ کی میراث کے حکم میں یہاں اخیافی بھائی بہن مراد ہیں۔مِنْم بَعْدِ وَصِیَّۃٍ یُّوْصٰی بِہَآ اَوْ دَیْنٍلا یہ دو شرطیں بہرصورت باقی رہیں گی۔ مرنے والے کے ذمے اگر کوئی قرض ہے تو پہلے وہ ادا کیا جائے گا ‘ پھر اس کی وصیت کی تعمیل کی جائے گی ‘ اس کے بعد میراث وارثوں میں تقسیم کی جائے گی۔ غَیْرَ مُضَآرٍّ ج۔یہ سارا کام ایسے ہونا چاہیے کہ کسی کو ضرر پہنچانے کی نیت نہ ہو۔وَصِیَّۃً مِّنَ اللّٰہِ ط یہ تاکید ہے اللہ کی طرف سے۔وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَلِیْمٌ rّاس کے حلم اور بردباری پر دھوکہ نہ کھاؤ کہ وہ تمہیں پکڑ نہیں رہا ہے۔ ع نہ جا اس کے تحمل پر کہ ہے بےڈھب گرفت اس کی !“ اس کی پکڑ جب آئے گی تو اس سے بچنا ممکن نہیں ہوگا : اِنَّ بَطْشَ رَبِّکَ لَشَدِیْدٌ البروج یقیناً تمہارے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے۔

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29

Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.

See this ayah on Mushaf page 79

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.

Sources & attribution