Surah 4 · word by word

Surah 4, ayah 11

  1. یُوْصِیْكُمُوصیت کرتا ہے تم کو
  2. اللّٰهُاللہ
  3. فِیْۤمیں
  4. اَوْلَادِكُمْ ۗتمہاری اولاد کے بارے میں
  5. لِلذَّكَرِلڑکوں کے لیے
  6. مِثْلُمانند
  7. حَظِّحصہ
  8. الْاُنْثَیَیْنِ ۚدو لڑکیوں کے
  9. فَاِنْپھر اگر
  10. كُنَّہوں وہ
  11. نِسَآءًعورتیں
  12. فَوْقَاوپر
  13. اثْنَتَیْنِدو سے اوپر
  14. فَلَهُنَّتو ان عورتوں کے لیے ہے
  15. ثُلُثَادو تہائی
  16. مَاجو
  17. تَرَكَ ۚاس نے چھوڑا
  18. وَاِنْاور اگر
  19. كَانَتْہو
  20. وَاحِدَةًایک لڑکی
  21. فَلَهَاتو اس کے لیے
  22. النِّصْفُ ؕآدھا ہے
  23. وَلِاَبَوَیْهِاور واسطے اس کے ماں باپ کے
  24. لِكُلِّہر کے لیے
  25. وَاحِدٍایک
  26. مِّنْهُمَاان دونوں میں سے
  27. السُّدُسُچھٹا حصہ ہے
  28. مِمَّااس میں سے جو
  29. تَرَكَاس نے چھوڑا
  30. اِنْاگر
  31. كَانَہے
  32. لَهٗاس کے لیے
  33. وَلَدٌ ۚاولاد۔ کوئی بچہ
  34. فَاِنْپھر اگر
  35. لَّمْنہیں
  36. یَكُنْہو
  37. لَّهٗاس کے لیے
  38. وَلَدٌاولاد۔ کوئی بچہ
  39. وَّوَرِثَهٗۤاور وارث ہوئے اس کے
  40. اَبَوٰهُاس کے والدین
  41. فَلِاُمِّهِتو اس کی ماں کے لیے
  42. الثُّلُثُ ۚتیسرا حصہ ہے
  43. فَاِنْپھر اگر
  44. كَانَہوں
  45. لَهٗۤاس کے (میت کے)
  46. اِخْوَةٌبہن بھائی
  47. فَلِاُمِّهِتو اس کی ماں کے لیے
  48. السُّدُسُچھٹا حصہ ہے
  49. مِنْکے
  50. بَعْدِبعد
  51. وَصِیَّةٍوصیت پوری کرنے
  52. یُّوْصِیْوصیت کر جائے
  53. بِهَاۤاس کی
  54. اَوْیا
  55. دَیْنٍ ؕقرض کی ادائیگی کے بعد
  56. اٰبَآؤُكُمْتمہارے آباؤاجداد
  57. وَاَبْنَآؤُكُمْاور تمہارے بیٹے
  58. لَانہیں
  59. تَدْرُوْنَتم جانتے
  60. اَیُّهُمْان میں سے کون
  61. اَقْرَبُزیادہ قریب ہے
  62. لَكُمْتمہارے لیے
  63. نَفْعًا ؕنفع کے لحاظ سے
  64. فَرِیْضَةًفریضہ ادا کرنا ہے
  65. مِّنَسے
  66. اللّٰهِ ؕاللہ کی طرف
  67. اِنَّبیشک
  68. اللّٰهَاللہ تعالیٰ
  69. كَانَہے
  70. عَلِیْمًاعلم والا
  71. حَكِیْمًاحکمت والا

Translation and commentary

Tafheem-ul-Quran

تمہاری اولاد کے بارے میں اللہ تمہیں ہدایت کرتا ہے کہ : مرد کا حصّہ دو عورتوں کے برابر ہے،اگر1(میّت کی وارث) دو سے زائد لڑکیاں ہو ں تو انہیں ترکے کا دو تہائی دیا جائے۔2اور اگر ایک ہی لڑکی وارث ہو تو آدھا ترکہ اس کا ہے۔اگر میّت صاحبِ اولاد ہو تو اس کے والدین میں سے ہر ایک کو ترکے کا چھٹا حصّہ مِلنا چاہیے۔3اور اگر وہ صاحبِ اولاد نہ ہو اور والدین ہی اس کے وارث ہوں تو ماں کو تیسرا حصّہ دیا جائے۔4اور اگر میّت کے بھائی بہن بھی ہوں تو ماں چھٹے حصّہ کی حق دار ہوگی۔5(یہ سب حصّے اُس وقت نکالے جائیں گے) جبکہ وصیّت جو میّت نے کی ہو پُوری کردی جائے اور قرض جو اُس پر ہو ادا کردیا جائے۔6تم نہیں جانتے کہ تمہارے ماں باپ اور تمہاری اولاد میں سے کون بلحاظ نفع تم سے قریب تر ہے۔ یہ حصّے اللہ نے مقرر کردیے ہیں، اور اللہ یقیناً سب حقیقتوں سے واقف اور ساری مصلحتوں کا جاننے والا ہے۔7

Footnotes (the author's commentary)

  1. میراث کے معاملہ میں یہ اوّلین اُصُولی ہدایت ہے کہ مرد کا حصّہ عورت سے دوگنا ہے  ۔ چونکہ شریعت نے خاندانی زندگی میں مرد پر زیادہ معاشی ذمّہ داریوں کا بوجھ ڈالا ہے اور عورت کو بہت سی معاشی ذمّہ داریوں کے بار سے سبکدوش رکھا ہے، لہٰذا انصاف کا تقاضا یہی تھا کہ میراث میں عورت کا حصّہ مرد کی بہ نسبت کم رکھا جاتا ۔

  2. یہی حکم دو لڑکیوں کا بھی ہے ۔ مطلب یہ  ہے کہ اگر کسی شخص نے کوئی لڑکا  نہ چھوڑا  ہو اور اس کی اولاد میں صرف لڑکیاں  ہی لڑکیاں ہوں تو خواہ دو لڑکیاں ہوں  یا دو سے زائد ، بہرحال اس کے کل ترکہ  2/3 حصّہ ان لڑکیوں میں تقسیم ہو گا ، باقی1/3 دُوسرے وارثوں میں ۔ لیکن اگر میّت کا صرف ایک لڑکا ہو تو اس پر اجماع ہے کہ دُوسرے وارثوں کی غیر موجودگی میں وہ کُل مال کا وارث ہوگا ، اور دُوسرے وارث موجود ہوں تو اُن کا حصّہ دینے کے بعد باقی سب مال اُسے ملے گا۔

  3. یعنی میّت  کے صاحبِ اولاد ہونے کی صُورت میں بہرحال میّت کے والدین میں سے ہر ایک  1/6  کا حق دار ہوگا خواہ میّت کی وارث صرف بیٹیاں ہوں، یا صرف بیٹے ہوں، یا بیٹے اور بیٹیاں ہوں، یا ایک بیٹا ہو، یا ایک بیٹی ۔ رہے باقی 2/3  تو اُن میں دُوسرے وارث شریک ہوں گے۔

  4. ماں باپ کے سوا کوئی اور وارث نہ ہو تو باقی  2/3 باپ کو ملے گا۔ ورنہ2/3  میں باپ اور دُوسرے وارث شریک ہوں گے۔

  5. بھائی بہن ہونے کی صُورت میں ماں کا حصّہ  1/3 کے بجائے 1/6  کر دیا گیا ہے۔  اس طرح ماں کے حصّہ میں سے جو1/6 لیا گیا ہے  وہ باپ کے حصّہ میں ڈالا جائے گا  کیونکہ اس صُور تمیں باپ کی ذمّہ داریاں بڑھ جاتی ہیں ۔ یہ واضح رہے کہ میّت کے والدین اگر زندہ ہوں تو اس کے بہن بھائیوں کو حصّہ نہیں پہنچتا۔

  6. وصیت کا ذکر قرض پر مقدم اس لیے کیا گیا ہے کہ قرض کا ہونا ہر مرنے والے کے حق میں ضروری نہیں ہے، اور وصیت کرنا اس کے لیے ضروری ہے۔ لیکن حکم کے اعتبار سے اُمّت کا اس پر اجماع ہے کہ قرض وصیت پر مقدم ہے۔ یعنی اگر میت کے ذمہ قرض ہو تو سب سے پہلے میت کے ترکہ میں سے وہ ادا کیا جائے گا ، پھر وصیت پوری کی جائے گی، اور اس کے بعد وراثت تقسیم ہو گی۔ وصیت کے متعلق سُورہٴ بقرہ حاشیہ نمبر ١86 میں ہم بتا چکے ہیں کہ آدمی کو اپنے کُل مال کے 1/3  حصّہ کی حد تک وصیّت کرنے کا اختیار ہے ، اور یہ وصیّت کا قاعدہ اس لیے مقرر کیا گیا ہے کہ قانونِ وراثت کی رُو سے جن عزیزوں کو میراث میں سے حصّہ نہیں پہنچتا ان میں سے جس کو یا جس جس کو آدمی مدد کا مستحق پاتا ہو اس کے لیے اپنے اختیار ِ تمیزی سے حصّہ مقرر کر دے۔ مثلاً کوئی یتیم پوتا یا پوتی موجود ہے ، یا کسی بیٹے کی بیوہ مصیبت کے دن کاٹ رہی ہے ، یا کوئی بھائی یا بہن یا بھاوج یا بھتیجا یا بھانجا یا اور کوئی عزیز ایسا ہے جو سہارے کا محتاج نظر آتا ہے ، تو اس کے حق میں وصیّت کے ذریعہ سے حصّہ مقرر کیا جا سکتا ہے۔ اور اگر رشتہ داروں میں کوئی ایسا نہیں ہے تو دُوسرے مستحقین کے لیے یا کسی رفاہِ عام کے کام میں صرف کرنے کے لیے  وصیّت کی جا سکتی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ آدمی کی کُل ملکیت میں سے 2/3 یا اس سے کچھ زائد کے متعلق شریعت نے میراث کا ضابطہ بنا دیا ہے جس میں سے شریعت کے  نامزد کردہ وارثوں کو مقررہ حصّہ ملے گا۔ اور 1/3 یا اس سے کچھ کم کو خود اس کی صوابدید پر چھوڑا گیا ہے کہ اپنے مخصُوص خاندانی حالات کے لحاظ سے (جو ظاہر ہے کہ ہر آدمی کے معاملہ میں مختلف ہوں گے) جس طرح مناسب سمجھے تقسیم کرنے کی وصیّت کر دے۔ پھر اگر کوئی شخص اپنی وصیّت میں ظلم کرے، یا بالفاظِ دیگر اپنے اختیارِ تمیزی کو  غلط طور پر اس طرح استعمال کرے جس سے کسی  کے جائز حقوق متاثر ہوتے ہوں تو اس کے لیے یہ چارہ کار رکھ دیا گیا ہےکہ خاندان کے لوگ باہمی رضامندی سے اس کی اصلاح کر لیں یا قاضی شرعی سے مداخلت کی درخواست کی جائے اور وہ وصیّت کو درست کر دے۔ مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو میرا رسالہ” یتیم پوتے کی وراثت“۔

  7. یہ جواب ہے اُن سب نادانوں کو جو میراث کے اس خدائی  قانون کو نہیں سمجھتے اور اپنی ناقص عقل سے اس کسر کو پورا کرنا چاہتے ہیں جو ان کے نزدیک اللہ کے بنائے ہوئے قانون میں رہ گئی  ہے۔

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Bayan-ul-Quran

اللہ تعالیٰ تمہیں وصیت کرتا ہے تمہاری اولاد کے بارے میں کہ لڑکے کے لیے حصہ ہے دو لڑکیوں کے برابر پھر اگر لڑکیاں ہی ہوں (دو یا) دو سے زیادہ تو ان کے لیے ترکے کا دو تہائی ہے اور اگر ایک ہی لڑکی ہے تو اس کے لیے آدھا ہے اور میت کے والدین میں سے ہر ایک کے لیے چھٹا حصہ ہے جو اس نے چھوڑا اگر میت کے اولاد ہو اور اگر اس کے اولاد نہ ہو اور اس کے وارث ماں باپ ہی ہوں تو اس کی ماں کا ایک تہائی ہے پھر اگر میت کے بہن بھائی ہوں تو اس کی ماں کا چھٹا حصہ ہے بعد اس وصیت کی تعمیل کے جو وہ کر جائے یا بعد ادائے قرض کے تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے تم نہیں جانتے کہ ان میں سے کون تمہارے لیے زیادہ نافع ہے یہ اللہ کی طرف سے مقرر کیا ہوا فریضہ ہے یقیناً اللہ تعالیٰ علم و حکمت والا ہے

Commentary

سورة النساء کا دوسرا رکوع بڑا مختصر ہے اور اس میں صرف چار آیات ہیں ‘ لیکن معنوی طور پر ان میں ایک قیامت مضمر ہے۔ یہ قرآن حکیم کا اعجاز ہے کہ چار آیتوں کے اندر اسلام کا پورا قانون وراثت بیان کردیا گیا ہے جس پر پوری پوری جلدیں لکھی گئی ہیں۔ گویا جامعیت کی انتہا ہے۔آیت 11 یُوْصِیْکُمُ اللّٰہُ فِیْ اَوْلاَدِکُمْ ق لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِج فَاِنْ کُنَّ نِسَآءً فَوْقَ اثْنَتَیْنِ فَلَہُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَکَ ج وَاِنْ کَانَتْ وَاحِدَۃً فَلَہَا النِّصْفُ ط۔ظاہر ہے اگر ایک ہی بیٹا ہے تو وہ پورے ترکے کا وارث ہوجائے گا۔ لہٰذا جب بیٹی کا حصہ بیٹے سے آدھا ہے تو اگر ایک ہی بیٹی ہے تو اسے آدھی وراثت ملے گی ‘ آدھی دوسرے لوگوں کو جائے گی۔ وہ ایک علیحدہ معاملہ ہے۔وَلِاَبَوَیْہِ لِکُلِّ وَاحِدٍ مِّنْہُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَکَ اِنْ کَانَ لَہٗ وَلَدٌ ج۔اگر کوئی شخص فوت ہوجائے اور اس کے والدین یا دونوں میں سے کوئی ایک زندہ ہو تو اس کی وراثت میں سے ان کا بھی معین حصہ ہے۔ اگر وفات پانے والا شخص صاحب اولاد ہے تو اس کے والدین میں سے ہر ایک کے لیے وراثت میں چھٹا حصہ ہے۔ یعنی میت کے ترکے میں سے ایک تہائی والدین کو چلا جائے گا اور دو تہائی اولاد میں تقسیم ہوگا۔ ّ فَاِنْ لَّمْ یَکُنْ لَّہٗ وَلَدٌ وَّوَرِثَہٗ اَبَوٰہُ فَلاُِمِّہِ الثُّلُثُج ۔اگر کوئی شخص لاولد فوت ہوجائے تو اس کے ترکے میں سے اس کی ماں کو ایک تہائی اور باپ کو دو تہائی ملے گا۔ یعنی باپ کا حصہ ماں سے دو گنا ہوجائے گا۔فَاِنْ کَانَ لَہٗ اِخْوَۃٌ فَلاُِمِّہِ السُّدُسُ اگر مرنے والا بےاولاد ہو لیکن اس کے بہن بھائی ہوں تو اس صورت میں ماں کا حصہ مزید کم ہو کر ایک تہائی کے بجائے چھٹا حصہ رہ جائے گا اور باقی باپ کو ملے گا ‘ لیکن بہن بھائیوں کو کچھ نہ ملے گا۔ وہ باپ کی طرف سے وراثت کے حق دار ہوں گے۔ لیکن ساتھ ہی فرما دیا :مِنْم بَعْدِ وَصِیَّۃٍ یُّوْصِیْ بِہَآ اَوْ دَیْنٍ ط۔وراثت کی تقسیم سے پہلے دو کام کرلینے ضروری ہیں۔ ایک یہ کہ اگر اس شخص کے ذمے کوئی قرض ہے تو وہ ادا کیا جائے۔ اور دوسرے یہ کہ اگر اس نے کوئی وصیت کی ہے تو اس کو پورا کیا جائے۔ پھر وراثت تقسیم ہوگی۔اٰبَآؤُکُمْ وَاَبْنَآؤُکُمْج لاَ تَدْرُوْنَ اَیُّہُمْ اَقْرَبُ لَکُمْ نَفْعًا ط فَرِیْضَۃً مِّنَ اللّٰہِ ط تم اپنی عقلوں کو چھوڑو اور اللہ کی طرف سے مقرر کردہ حصوں کے مطابق وراثت تقسیم کرو۔ کوئی آدمی یہ سمجھے کہ میرے بوڑھے والدین ہیں ‘ میری وراثت میں خواہ مخواہ ان کے لیے حصہ کیوں رکھ دیا گیا ہے ؟ یہ تو کھاپی ‘ چکے ‘ زندگی گزار چکے ‘ وراثت تو اب میری اولاد ہی کو ملنی چاہیے ‘ تو یہ سوچ بالکل غلط ہے۔ تمہیں بس اللہ کا حکم ماننا ہے۔اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیْمًا حَکِیْمًا ۔اس کا کوئی حکم علم اور حکمت سے خالی نہیں ہے۔

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29

Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.

See this ayah on Mushaf page 79

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.

Sources & attribution