- تُرْجِیْآپ دور رکیں
- مَنْجس کو
- تَشَآءُآپ چاہیں
- مِنْهُنَّان میں سے
- وَتُـْٔوِیْۤاور آپ جگہ دیں
- اِلَیْكَاپنی طرف
- مَنْجس کو
- تَشَآءُ ؕآپ چاہیں
- وَمَنِاور جس کو
- ابْتَغَیْتَآپ چاہیں
- مِمَّنْان میں سے
- عَزَلْتَالگ کردیں آپ
- فَلَاتو نہیں
- جُنَاحَکوئی گناہ
- عَلَیْكَ ؕآپ پر
- ذٰلِكَیہ بات
- اَدْنٰۤیقریب تر ہے
- اَنْکہ
- تَقَرَّٹھنڈی ہوں
- اَعْیُنُهُنَّان کی نگاہیں
- وَلَااور نہ
- یَحْزَنَّوہ غمگین ہوں
- وَیَرْضَیْنَاور وہ راضی ہوجائیں
- بِمَاۤساتھ اس کے جو
- اٰتَیْتَهُنَّدیا آپ نے ان کو
- كُلُّهُنَّ ؕسب کی سب
- وَاللّٰهُاور اللہ
- یَعْلَمُجانتا ہے
- مَاجو
- فِیْمیں
- قُلُوْبِكُمْ ؕتمہارے دلوں میں ہے
- وَكَانَاور ہے
- اللّٰهُاللہ تعالیٰ
- عَلِیْمًاعلم والا
- حَلِیْمًاحلم والا۔ بردبار
Surah 33 · word by word
Surah 33, ayah 51
Translation and commentary
Tafheem-ul-Quran
تم کو اختیار دیا جاتا ہے کہ اپنی بیویوں میں سے جس کو چاہو اپنے سے الگ رکھو، جسے چاہو اپنے ساتھ رکھو اور جسے چاہو الگ رکھنے کے بعد اپنے پاس بلا لو۔ اس معاملے میں تم پر کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ اس طرح زیادہ متوقع ہے کہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں گی اور وہ رنجیدہ نہ ہوں گی، اور جو کچھ بھی تم ان کو دو گے اس پر وہ سب راضی رہیں گی1 اللہ جانتا ہے جو کچھ تم لوگوں کے دلوں میں ہے ، اور اللہ علیم و حلیم ہے2
Footnotes (the author's commentary)
-
اس آیت سے مقصود نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو خانگی زندگی کی الجھنوں سے نجات دلانا تھا تاکہ آپؐ پورے سکون کے ساتھ اپنا کام کر سکیں۔ جب اللہ تعلی نے صاف الفاظ میں حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو پورے اختیارات دے دیے کہ ازواجِ مطہرات میں سے جس کے ساتھ جو بر تاؤ چاہیں کریں تو اس بات کا کو ئی امکان نہ رہا کہ یہ مو من خواتین آپؐ کو کسی طرح پریشان کرتیں یا آپس میں مسابقت اور رقابت کے جھگڑے پیدا کر کے آپ کے لیے الجھنیں پیدا کرتیں۔ لیکن اللہ تعلی سے یہ اختیار پا لینے کے بعد حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے تمام ازواج کے در میان پورا پورا عدل فرما یا ، کسی کو کسی پر ترجیح نہ دی ، او ربا قاعدہ باری مقرر کر کے آپؐ سب کے ہاں تشریف لے جاتے رہے۔ محدّثین میں سے صرف ابو رزین یہ بیان کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم صرف چار بیویوں (حضرت عائشہؓ ، حضرت حفصہؓ ، حضرت زنیب ؓ اور حضرت ام سلمہ ؓ ) کو باریوں کی تقسیم میں شامل کیا تھا اور باقی ازواج کے لیے کوئی باری مقرر نہ تھی۔ لیکن دوسرے تمام محدثین و مفسرین اس کی تردید کرتے ہیں اور نہایت قوی روایت سے اس امر کا ثبوت پیش ہیں کہ اس اختیار کے بعد بھی حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے ہاں باری باری سے جاتے تھے اور سب سے یکساں برتاؤ کرتے تھے۔ بخاری، مسلم ، نسائی اور ابو داؤد وغیرہم حضرت عائشہ ؓ کا قول نقل کرتے ہیں کہ اس آیت کے نزول کے بعد بھی حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا طریقہ یہی رہا کہ آپؐ ہم میں سے کسی بیوی کی باری کے دن دوسری بیوی کے ہاں جاتے تو اس سے اجازت لے کر جاتے تھے۔‘‘ابو بکر جصاص عروہ بن زبیر کی روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ ؓ نے ان سے فرمایا رسول صلی اللہ علیہ و سلم باریوں کی تقسیم میں ہم میں سے کسی کو ترجیح نہ دیتے تھے۔ اگر چہ کم ہی ایسا ہو تا تھا کہ آپؐ کسی روز اپنی سب بیویوں کے ہاں نہ جاتے ہوں ، مگر جس بیوی کی باری کا دن ہو تا تھا اس کے سوا کسی دوسری بیوی کو چھوتے تک نہ تھے اور یہ روایت بھی حضرت عائشہ ؓ ہی کی ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ و سلم اپنی آخری بیماری میں مبتلا ہوئے اور نقل و حرکت آپؐ لیے مشکل ہو گئی تو آپؐ نے سب بیویوں سے اجازت طلب کی کہ مجھے عائشہ ؓ کے ہاں رہنے دو ، اور جب سب نے اجازت دے دی تب آپؐ نے آخری زمانہ حضرت عائشہ ؓ کے ہاں گزارا۔ ابن ابی حاتم امام زہری کا قول نقل کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا کسی بیوی کو باری سے محروم کرنا ثابت نہیں ہے اس سے صرف حضرت سودہ ؓ مستثنیٰ ہیں جنہوں نے خود اپنی باری بخوشی حضرت عائشہ ؓ کو بخش دی تھی ، کیوں کہ وہ بہت سن رسیدہ ہو چکی تھیں۔ اس مقام پر کسی کے دِل میں یہ شبہ نہ رہنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے معاذاللہ اس آیت میں اپنے نبی کے ساتھ کوئی بے جا رعایت کی تھی اور ازواجِ مطہرات کے ساتھ حق تلفی کا معاملہ فرمایا تھا۔ دراصل جن عظیم مصالح کی خاطر نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو بیویوں کی تعداد کے معاملہ میں عام قاعدے وے مستثنیٰ کیا گیا تھا،انہی مصالح کا تقاضہ یہ بھی تھا کہ آپؐ کو خانگی زندگی کا سکون بہم پہنچایا جائے اور اُن اسباب کا سدّ باب کیا جاۓ جو آپؐ کے لیے پریشان خاطری کے موجب ہو سکتے ہوں ازواجِ مطہرات کے لیے یہ ایک بہت بڑا شرف تھا کہ انہیں نبی صلی اللہ علیہ و سلم جیسی بزرگ ترین ہستی کی زوجیت حاصل ہوئی اور اس کی بدولت اُن کو یہ موقع نصیب ہوا کہ دعوت و اصلاح کے اُس عظیم الشان کام میں آپؐ کی رفیق کار بنیں جو رہتی دُنیا تک انسانیت کی فلاح کا ذریعہ بننے والا تھا۔ اس مقصد کے لیے جس طرح نبی صلی اللہ علیہ و سلم غیر معمولی ایثار و قربانی سے کام لے رہے تھے اور تمام صحابۂ کرام اپنی حدِ استطاعت تک قربانیاں کر رہے تھی اسی طرح ازواج مطہرات کا بھی یہ فرض تھا کہ ایثار سے کام لیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کی اس فیصلے کو تمام ازواج رسولؐ نے بخوشی قبول کیا۔
-
یہ تنبیہ ہے ازواج مطہرات کے لیے بھی اور دوسرے تمام لوگوں کے لیے بھی۔ ازواج مطہرات کے لیے تنبیہ اس بات کی ہے کہ اللہ کا یہ حکم آ جانے کے بعد اگر وہ دِل میں بھی کبیدہ خاطر ہوں گی تو گرفت سے نہ بچ سکیں گی۔ اور دوسرے لوگوں کے لیے اس میں یہ تنبیہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی ازدواجی زندگی کے متعلق کسی طرح کی بدگمانی بھی اگر انہوں نے اپنے دِل میں رکھی یا فکر و خیال کے کسی گوشے میں بھی کوئی وسوسہ پالتے رہے تو اللہ سے ان کی یہ چوری چھپی نہ رہ جائے گی۔ اس کے ساتھ اللہ کی صفتِ حِلُم کا بھی ذکر کر دیا گیا ہے تاکہ آدمی کو یہ معلوم ہو جائے کہ نبیؐ کی شان میں گستاخی کا تخیل بھی اگرچہ سخت سزا کا مستوجب ہے ، لیکن جس کے دِل میں کبھی ایسا کوئی وسوسہ آیا ہو وہ اگر اسے نِکال دے تو اللہ تعالیٰ کے ہاں معافی کی اُمید ہے۔
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Bayan-ul-Quran
آپ ﷺ ان میں سے جس کو چاہیں پیچھے ہٹائیں اور جس کو چاہیں اپنے قریب جگہ دیں۔ اور جن کو آپ ﷺ نے دور کردیا تھا ان میں سے کسی کو (دوبارہ قریب کرنا) چاہیں تو بھی آپ ﷺ پر کوئی حرج نہیں یہ زیادہ قریب ہے اس سے کہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور وہ رنجیدہ نہ ہوں اور وہ سب کی سب راضی رہیں اس پر جو بھی آپ انہیں دیں۔ اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے۔ اور اللہ ہرچیز کا علم رکھنے والا بہت بردبار ہے۔
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29
Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.
See this ayah on Mushaf page 425
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.
Commentary
آیت 51 { تُرْجِیْ مَنْ تَشَآئُ مِنْہُنَّ وَتُـــْٔــوِیْٓ اِلَیْکَ مَنْ تَشَآئُ } ”آپ ﷺ ان میں سے جس کو چاہیں پیچھے ہٹائیں اور جس کو چاہیں اپنے قریب جگہ دیں۔“ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ ﷺ کو خصوصی اجازت دے دی گئی کہ آپ ﷺ کے لیے تمام ازواجِ مطہرات رض کے درمیان مساوات کا برتائو اور برابری کا سلوک کرنا ضروری نہیں۔ آپ ﷺ کو اجازت تھی کہ آپ ﷺ چاہیں تو کسی زوجہ محترمہ کے پاس زیادہ دیر ٹھہریں اور چاہیں تو کسی کو نسبتاً کم وقت دیں۔ { وَمَنِ ابْتَغَیْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْکَ } ”اور جن کو آپ ﷺ نے دور کردیا تھا ‘ ان میں سے کسی کو دوبارہ قریب کرنا چاہیں تو بھی آپ ﷺ پر کوئی حرج نہیں۔“ { ذٰلِکَ اَدْنٰٓی اَنْ تَقَرَّ اَعْیُنُہُنَّ وَلَا یَحْزَنَّ وَیَرْضَیْنَ بِمَآ اٰتَیْتَہُنَّ کُلُّہُنَّ } ”یہ زیادہ قریب ہے اس سے کہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور وہ رنجیدہ نہ ہوں اور وہ سب کی سب راضی رہیں اس پر جو بھی آپ انہیں دیں۔“ یہ حکم اس لیے دیا جا رہا ہے کہ آپ ﷺ کی ازواج مطہرات رض آپ ﷺ کی طرف سے کسی چیز یا کسی سلوک کو اپنا حق نہ سمجھیں اور آپ ﷺ انہیں جو کچھ بھی عطا فرمائیں اسے آپ ﷺ کی عنایت سمجھتے ہوئے خوشی خوشی قبول کرلیں۔ اگرچہ اس حکم کے بعد حضور ﷺ پر ازواج کے مابین مساوات کا برتائو واجب نہیں رہا تھا مگر اس کے باوجود آپ ﷺ ہمیشہ نان و نفقہ سمیت ایک ایک چیز میں ناپ تول کی حد تک سب کے ساتھ برابر کا معاملہ فرمایا کرتے تھے۔ تمام ازواج کے ہاں شب باشی کے لیے بھی آپ ﷺ نے باری مقرر فرما رکھی تھی۔ اسی طرح جب آپ ﷺ مدینہ میں ہوتے تو نمازعصر کے بعد باری باری سب ازواج مطہرات رض کے ہاں تشریف لے جاتے اور اس دوران وقت کی تقسیم میں مساوات کا خیال فرماتے۔ غرض ہر معاملے میں آپ ﷺ بہت محتاط انداز میں عدل و مساوات کا اہتمام فرماتے اور اس کے باوجود فرمایا کرتے : اَللّٰھُمَّ ھٰذَا قَسْمِیْ فِیْمَا اَمْلِکُ فَلَا تَلُمْنِیْ فِیْمَا تَمْلِکُ وَلَا اَمْلِکُ 1 ”اے اللہ ! جو چیزیں میرے اختیار میں ہیں ان میں تو میں نے برابر کی تقسیم کردی ہے ‘ لیکن جو میرے اختیار میں نہیں ہیں بلکہ تیرے اختیار میں ہیں ان کے بارے میں مجھے ملامت نہ کرنا“۔ یعنی ایک سے زیادہ بیویوں کے درمیان مساوات کے حوالے سے ظاہری چیزوں کی حد تک تو کوشش کی جاسکتی ہے مگر دل کے رجحان یا میلان کو برابر تقسیم کرنا انسان کے بس میں نہیں۔ اس حوالے سے سورة النساء میں بہت واضح حکم آچکا ہے : { وَلَنْ تَسْتَطِیْعُوْٓا اَنْ تَعْدِلُوْا بَیْنَ النِّسَآئِ وَلَوْ حَرَصْتُمْ فَلاَ تَمِیْلُوْا کُلَّ الْمَیْلِ فَتَذَرُوْہَا کَالْمُعَلَّقَۃِط وَاِنْ تُصْلِحُوْا وَتَتَّقُوْا فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا } اور تمہارے لیے ممکن ہی نہیں کہ تم عورتوں کے درمیان انصاف کرسکو چاہے تم اس کے لیے کتنے ہی حریص بنو ‘ لیکن ایسا نہ ہو کہ تم کسی ایک کی طرف پورے کے پورے جھک جائو اور دوسری کو معلق کر کے چھوڑ دو۔ اور اگر تم اصلاح کرلو اور تقویٰ کی روش اختیار کروتو اللہ بہت بخشنے والا ‘ نہایت رحم فرمانے والا ہے۔“ { وَاللّٰہُ یَعْلَمُ مَا فِیْ قُلُوْبِکُمْ وَکَانَ اللّٰہُ عَلِیْمًا حَلِیْمًا } ”اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے۔ اور اللہ ہرچیز کا علم رکھنے والا ‘ بہت بردبار ہے۔“