- لَانہیں
- یَحِلُّحلال
- لَكَآپ کے لیے
- النِّسَآءُعورتیں سے
- مِنْکے
- بَعْدُاس کے بعد
- وَلَاۤاور نہ
- اَنْکہ
- تَبَدَّلَآپ بدل ڈالیں
- بِهِنَّبدلے ان کے
- مِنْسے
- اَزْوَاجٍبیویوں میں (سے)
- وَّلَوْاور اگرچہ
- اَعْجَبَكَپسند آئے آپ کو
- حُسْنُهُنَّحسن ان کا
- اِلَّامگر
- مَاجن کا
- مَلَكَتْمالک ہے
- یَمِیْنُكَ ؕآپ کا دایاں ہاتھ
- وَكَانَاور ہے
- اللّٰهُاللہ تعالیٰ
- عَلٰیاوپر
- كُلِّہر
- شَیْءٍچیز کے
- رَّقِیْبًانگران
Surah 33 · word by word
Surah 33, ayah 52
Translation and commentary
Tafheem-ul-Quran
اس کے بعد تمہارے لیے دوسری عورتیں حلال نہیں ہیں ، اور نہ اس کی اجازت ہے کہ ان کی جگہ اور بیویوں لے آؤ خواہ ان کا حسن تمہیں کتنا ہی پسند ہو1 ، البتہ لونڈیوں کی تمہیں اجازت ہے2 اللہ ہر چیز پر نگران ہے
Footnotes (the author's commentary)
-
اس ارشاد کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ جو عورتیں اوپر آیت نمبر 5۰ میں حضورؐ کے لیے حلال کی گئی ہیں ان کے سوا دوسری کوئی عورت اب آپؐ کے لیے حلال نہیں ہے۔ دوسرے یہ کہ جب آپ کی ازواجِ مطہرات اس بات کے لیے راضی ہو گئی ہیں کہ تنگی و ترشی میں آپؐ کا ساتھ دیں اور آخرت کے لیے دُنیا کو انہوں نے تج دیا ہے ، اور اس پر بھی خوش ہیں کہ آپؐ جو برتاؤ بھی ان کے ساتھ چاہیں کریں ، تو اب آپؐ کے لیے یہ حلال نہیں ہے کہ ا ن میں سے کسی کو طلاق کے کر اس کی جگہ کوئی اور بیوی لے آئیں۔
-
یہ آیت اس امر کی صراحت کر رہی ہے کہ منکوحہ بیویوں کے علاوہ مملوکہ عوروں سے بھی تمتع کی اجازت ہے اور ان کی لیے تعداد کی کوئی قید نہیں ہے۔ اسی مضمون کی تصریح سوُرۂ نساء آیت 3، سُورۂ مومنون آیت ۶، اور سورۂ معارج آیت 3۰ میں بھی کی گئی ہے۔ ان تمام آیات میں مملوکہ عورتوں کو منکوحہ ازواج کے بالمقابل ایک الگ صنف کی حیثیت سے بیان کیا گیا ہے اور پھر ان کے ساتھ ازدواجی تعلق کو جائز قرار دیا گیا ہے۔ نیز سورۂ نساء کی آیت 3 منکوحہ بیویوں کے لیے چار کی حد مقرر کرتی ہے ، مگر نہ اُس جگہ اللہ تعالیٰ نے مملوکہ عورتوں کے لیے تعداد کی حد مقرر کی ہے اور نہ دوسری متعلقہ آیات میں ایسی کسی حد کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ بلکہ یہاں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا جا رہا ہے کہ آپ کے بعد دوسری عورتوں سے نکاح کرنا، یا موجودہ بیویوں میں سے کسی کو طلاق دے کر دوسری بیوی لانا حلال نہیں ہے ، البتہ مملوکہ عورتیں حلال ہیں۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ مملوکہ عورتوں کے معاملے میں کوئی حد مقرر نہیں ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ خدا کی شریعت یہ گنجائش مالدار لوگوں کو بے حساب لونڈیاں خرید کر عیاشی کرنے کے لیے دیتی ہے۔ بلکہ یہ تو ایک بے جا فائدہ ہے جو نفس پرست لوگوں نے قانون سے اٹھایا ہے۔ قانون بجائے خود انسانوں کی سہولت کے لیے بنایا گیا تھا ، اس لیے نہیں بنایا گیا تھا کہ لوگ اس سے یہ فائدہ اٹھائیں۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے شریعت ایک مرد کو چار تک بیویاں کرنے کی اجازت دیتی ہے ، اور اسے یہ حق بھی دیتی ہے کہ اپنی بیوی کو طلاق دے کر دوسری بیوی لے آئے۔ یہ قانون انسانی ضروریات کو ملحوظ رکھ کر بنایا گیا تھا۔ اب اگر کوئی شخص محض عیاشی کی خاطر یہ طریقہ اختیار کرے کہ چار بیویوں کو کچھ مدّت رکھ کر طلاق دیتا اور پھر ان کی جگہ بیویوں کی دوسری کھیپ لاتا چلا جائے ، تو یہ قانون کی گنجائشوں سے فائدہ اُٹھا نا ہے جس کی ذمّہ داری خود اسی شخص پر عائد ہو گی نہ کہ خدا کی شریعت پر۔ اسی طرح شریعت نے جنگ میں گرفتار ہونے والی عورتوں کو، جبکہ ان کی قوم مسلمان قیدیوں سے تبادلہ کرنے یا فدیہ دے کر اُن کو چھڑانے کے لیے تیار نہ ہو ، لونڈی بنانے کی اجازت دی ، اور جن اشخاص کی ملکیت میں وہ حکومت کی طرف سے دیدی جائیں اُن کو یہ حق دیا کہ ان عورتوں سے تمتع کریں اُن کا وجود معاشرے کے لیے اخلاقی فساد کا سبب نہ بن جائے۔ پھر چونکہ لڑائیوں میں گرفتار ہونے والے لوگوں کی کوئی تعداد معین نہیں ہو سکتی تھی اس لیے قانوناً اس امر کی بھی کوئی حد معین نہیں کی جا سکتی تھی کہ ایک شخص بیک وقت کتنے غلام اور کتنے لونڈیاں رکھ سکتا ہے۔لونڈیوں اور غلاموں کی خرید و فروخت کو بھی اس بنا پر جائز رکھا گیا کہ اگر کسی لونڈی یا غلام کا نباہ ایک مالک سے نہ ہو سکے تو وہ کسی دوسرے شخص کی ملکیت میں منتقل ہو سکے اور ایک ہی شخص کی دائمی ملکیت مالک و مملوک دونوں کے لیے عذاب نہ بن جائے۔ شریعت نے یہ سارے قواعد انسانی حالات و ضروریات کو ملحوظ رکھ کر سہولت کی خاطر بنائے تھے۔ اگر ان کو مالدار لوگوں نے عیاشی کا ذریعہ بنا لیا تو اس کا الزام انہی پر ہے نہ کہ شریعت پر۔
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Bayan-ul-Quran
اب اس کے بعد اور عورتیں آپ ﷺ کے لیے حلال نہیں اور نہ ہی (اس کی اجازت ہے کہ) آپ ﷺ ان میں سے کسی کی جگہ کوئی اور بیوی لے آئیں اگرچہ ان کا حسن آپ ﷺ کو اچھا لگے سوائے اس کے جو آپ ﷺ کی مملوکہ ہو اور اللہ ہرچیز پر نگران ہے۔
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29
Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.
See this ayah on Mushaf page 425
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.
Commentary
آیت 52 { لَا یَحِلُّ لَکَ النِّسَآئُ مِنْم بَعْدُ وَلَآ اَنْ تَبَدَّلَ بِہِنَّ مِنْ اَزْوَاجٍ } ”اب اس کے بعد اور عورتیں آپ ﷺ کے لیے حلال نہیں اور نہ ہی اس کی اجازت ہے کہ آپ ﷺ ان میں سے کسی کی جگہ کوئی اور بیوی لے آئیں“یعنی آئندہ نہ تو آپ ﷺ مزید کوئی نکاح کریں اور نہ ہی اپنی ازواجِ مطہرات رض میں سے کسی کو طلاق دیں۔ { وَّلَوْ اَعْجَبَکَ حُسْنُہُنَّ } ”اگرچہ ان کا حسن آپ ﷺ کو اچھا لگے“ یعنی بر بنائے طبع بشری کسی خاتون کی طرف کوئی رغبت ہونے کے باوجود بھی اب آپ ﷺ کو مزید نکاح کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ آیت کے یہ الفاظ فطرتِ انسانی کے تقاضوں کے عین مطابق ہیں۔ انسانی فطرت کے اس طبعی میلان کی عکاسی حضور ﷺ کے اس فرمان سے بھی ہوتی ہے : اِنَّمَا حُبِّبَ اِلَیَّ مِنْ دُنْیَاکُمُ النِّسَائُ وَالطِّیْبُ ، وَجُعِلَتْ قُرَّۃُ عَیْنِیْ فِی الصَّلَاۃِ 1”مجھے تو تمہاری دنیا میں سے دو ہی چیزیں پسند ہیں : عورتیں اور خوشبو ‘ البتہ میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے۔“ { اِلَّا مَا مَلَکَتْ یَمِیْنُکَ } ”سوائے اس کے جو آپ ﷺ کی مملوکہ ہو۔“ یعنی مذکورہ پابندی مزید نکاح کرنے کے بارے میں ہے ‘ باندیوں پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا۔ روایات میں حضور ﷺ کی دو باندیوں کا ذکر ملتا ہے : حضرت ماریہ قبطیہ اور حضرت ریحانہ رض۔ { وَکَانَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ رَّقِیْبًا } ”اور اللہ ہرچیز پر نگران ہے۔“