- یٰۤاَیُّهَااے
- النَّبِیُّنبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
- اِنَّاۤبیشک
- اَحْلَلْنَاحلال کردیں ہم نے
- لَكَآپ کے لیے
- اَزْوَاجَكَآپ کی بیویاں
- الّٰتِیْۤوہ جو
- اٰتَیْتَدیے آپ نے
- اُجُوْرَهُنَّان کے مہر
- وَمَااور جن کے
- مَلَكَتْمالک ہے
- یَمِیْنُكَآپ کا دایاں ہاتھ
- مِمَّاۤاس میں سے جو
- اَفَآءَلوٹایا
- اللّٰهُاللہ نے
- عَلَیْكَآپ پر
- وَبَنٰتِاور بیٹیاں
- عَمِّكَآپ کے چچا کی
- وَبَنٰتِاور بیٹیاں
- عَمّٰتِكَآپ کی پھوپھیوں کی
- وَبَنٰتِاور بیٹیاں
- خَالِكَآپ کے ماموں کی
- وَبَنٰتِاور بیٹیاں
- خٰلٰتِكَآپ کی خالاؤں کی
- الّٰتِیْوہ
- هَاجَرْنَجنہوں نے ہجرت کی
- مَعَكَ ؗتیرے ساتھ
- وَامْرَاَةًاور کوئی عورت
- مُّؤْمِنَةًمومن
- اِنْاگر
- وَّهَبَتْہبہ کردے
- نَفْسَهَااپنے نفس کو
- لِلنَّبِیِّنبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
- اِنْاگر
- اَرَادَارادہ کریں
- النَّبِیُّنبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
- اَنْکہ
- یَّسْتَنْكِحَهَا ۗنکاح کرنا چاہیں اس سے
- خَالِصَةًخالصتا
- لَّكَآپ کے لیے ہے
- مِنْکے
- دُوْنِسوا
- الْمُؤْمِنِیْنَ ؕمومنوں کے
- قَدْتحقیق
- عَلِمْنَاجان لیا ہم نے
- مَاجو
- فَرَضْنَافرض کیا ہم نے
- عَلَیْهِمْان پر
- فِیْۤمعاملے میں
- اَزْوَاجِهِمْان کی بیویوں کے (معاملے میں)
- وَمَااور جن کے
- مَلَكَتْمالک ہیں
- اَیْمَانُهُمْان کے دائیں ہاتھ
- لِكَیْلَاتاکہ نہ
- یَكُوْنَہو
- عَلَیْكَآپ پر
- حَرَجٌ ؕکوئی تنگی
- وَكَانَاور ہے
- اللّٰهُاللہ تعالیٰ
- غَفُوْرًاغفور
- رَّحِیْمًارحیم
Surah 33 · word by word
Surah 33, ayah 50
Translation and commentary
Tafheem-ul-Quran
اے نبیؐ، ہم نے تمہارے لیے حلال کر دیں تمہاری وہ بیویاں جن کے مہر تم نے ادا کیے ہیں1 ، اور وہ عورتیں جو اللہ کی عطا کردہ لونڈیوں میں سے تمہاری ملکیت میں آئیں ، اور تمہاری وہ چچازاد اور پھوپھی زاد اور ماموں زاد اور خالہ زاد بہنیں جنہوں نے تمہارے ساتھ ہجرت کی ہے ، اور وہ مومن عورت جس نے اپنے آپ کو نبیؐ کے لیے ہبہ کیا ہو اگر نؐبی اسے نکاح میں لینا چاہے2۔ یہ رعایت خالصتاً تمہارے لیے ہے ، دوسرے مومنوں کے لیے نہیں ہے3 ہم کو معلوم ہے کہ عام مومنوں پر ان کی بیویوں اور لونڈیوں کے بارے میں ہم نے کیا حدود عائد کیے ہیں۔ (تمہیں ان حدود سے ہم نے اس لیے مستثنیٰ کیا ہے)تاکہ تمہارے اوپر کوئی تنگی نہ رہے4 ، اور اللہ غفور و رحیم ہے
Footnotes (the author's commentary)
-
یہ دراصل جواب ہے اُن لوگوں کے اعتراض کا جو کہتے تھے کہ محمد (صلی اللہ علیہ و سلم) دوسرے لوگوں کے لیے تو بیک وقت چار بیویاں رکھنا ممنوع قرار دیتے ہیں ، مگر خود انہوں نے یہ پانچویں بیوی کیسے کر لی۔ اس اعتراض کی بنیاد یہ تھی کہ حضرت زینب ؓ سے نکاح کے وقت نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی چار بیویاں موجود تھیں۔ ایک حضرت سودہؓ جن سے 3 قبلِ ہجرت میں آپ نے نکاح کیا تھا۔ دوسری ، حضرت عائشہؓ جن سے نکاح تو 3 قبل ہجرت میں ہو چکا تھا مگر انکی رخصتی شوال 1 ہجری میں ہوئی تھی ، تیسری ، حضرت حفصہؓ جن سے شعبان 3 ھجری میں آپ کا نکاح ہوا۔ اور چوتھی ، حضرت اُم سَلمہ ؓ جنہیں حضورؐ نے شوال 4 ہجری میں زوجیت کا شرف عطا فرمایا۔ اس طرح حضرت زینب ؓ آپؐ کی پانچویں بیوی تھیں۔ اس پر کفار و منافقین جو اعتراض کر رہے تھے اُس کا جواب اللہ تعالیٰ یہ دے رہا ہے کہ اے نبیؐ ، تمہاری یہ پانچوں بیویاں جنہیں مہر دے کر تم اپنے نکاح میں لائے ہو، ہم نے تمہارے لیے حلال کی ہیں۔ دوسرے الفاظ میں اس جوان کا مطلب یہ ہے کہ عام مسلمانوں کے لیے چار کی قید لگانے والے بھی ہم ہی ہیں اور اپنے نبی کو اس قید سے مستثنیٰ کرنے والے بھی ہم خود ہیں۔ اگر وہ قید لگانے کے ہم مجاز تھے تو آخر اس استثناء کے مجاز ہم کیوں نہیں ہیں۔ اس جواب کے بارے میں یہ بات پھر ملحوظِ خاطر رہنی چاہیے کہ اس سے مقصود کفار و منافقین کو مطمئن کرنا نہیں تھا بلکہ اُن مسلمانوں کو مطمئن کرنا تھا جن کے دِلوں میں مخالفینِ اسلام وسوسے ڈالنے کی کوشش کر رہے تھے۔ انہیں چونکہ یقین تھا کہ یہ قرآن اللہ کا کلام ہے اور اللہ تعالیٰ کے اپنے الفاظ میں نازل ہوا ہے ، اس لیے قرآن کی ایک محکم آیت کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے اعلان فرمایا کہ نبی بے چار بیویوں کے عام قانون سے اپنے آپ کو خود مستثنیٰ نہیں کر لیا ہے بلکہ یہ استثنا ء کا فیصلہ ہمارا کیا ہوا ہے۔
-
پانچویں بیوی کو حضورؐ کے لیے حلال کرنے کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں حضورؐ کو چند مزید اقسام کی عورتوں سے بھی نکاح کی اجازت عطا فرمائی: 1۔ وہ عورتیں جو اللہ کی عطا کردہ لونڈیوں میں سے آپؐ کی ملکیت میں آئیں۔ اس اجازت کے مطابق حضورؐ نے غزوۂ قُریظہ کے سبایا میں سے حضرت رَیحانہؓ ، غزوۂ بنی المُصْطَلِق کے سبایا میں سے حضرت جُوَیْریہؓ غزوۂ خیبر کے سبایا میں سے حضرت صفیہؓ اور مُقَقَسِ مصر کی بھیجی ہوئی حضرت ماریہ قبطیہؓ کو اپنے لیے مخصوص فرمایا۔ ان میں سے مقدّم الذکر تین کو آپؐ نے آزاد کر کے ان سے نکاح کیا تھا ، لیکن حضرت ماریہؓ سے بربنائے مِلکِ یمین تمتّع فرمایا، ان کے بارے میں یہ ثابت نہیں ہے کہ آپؐ نے ان کو آزاد کر کے ان سے نکاح کیا ہو۔ 2۔ آپؐ کی چچا زاد، ماموں زاد، پھوپھی زاد اور خالہ زاد بہنوں میں سے وہ خواتین جنہوں نے ہجرت میں آپؐ کا ساتھ دیا ہو۔ آیت میں آپؐ کے ساتھ ’’ہجرت کرنے ‘‘ کا جو ذکر آیا ہے اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سفر میں آپؐ کے ساتھ رہی ہوں ، بلکہ یہ تھا کہ وہ بھی اسلام کی خاطر راہِ خدا میں ہجرت کر چکی ہوں۔ حضورؐ کو اختیار دیا گیا کہ اِن رشتہ دار مہاجر خواتین میں سے بھی آپؐ جس سے چاہیں نکاح کر سکتے ہیں۔ چنانچہ اس اجازت کے مطابق آپؐ نے 7 ھ میں حضرت اُمّ حبیبہؓ سے نکاح فرمایا۔ (ضمناً اس آیت میں یہ صراحت بھی ہے کہ چچا ، ماموں ، پھوپھی اور خالہ کی بیٹیاں ایک مسلمان کے لیے حلال ہیں۔ اس معاملہ میں اسلامی شریعت عیسائی اور یہودی ، دونوں مذہبوں سے مختلف ہے۔ عیسائیوں کے ہاں کسی ایسی عورت سے نکاح نہیں ہو سکتا جس سے سات پشت تک مرد کا نسب ملتا ہو۔ اور یہودیوں کے ہاں سگی بھانجی اور بھتیجی تک سے نکاح جائز ہے )۔ 3۔ وہ مومن عورت جو اپنے آپ کو نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے لیے ہبہ کرے ،یعنی بلا مہر آپ کو حضورؐ کے نکاح میں دینے کے لیے تیار ہو اور حضورؐ اسے قبول کرنا پسند فرمائیں۔ اس اجازت کی بنا پر آپؐ نے شوال 7 ھ میں حضرت میمونہؓ کو اپنی زوجیت میں لیا۔ لیکن آپؐ نے یہ پسند نہ کیا کہ مہر کے بغیر اُن کے ہبہ سے فائدہ اُٹھائیں۔ اس لیے آپؐ نے ان کی کسی خواہش اور مطالبہ کے بغیر ان کو مہر عطا فرمایا۔ بعض مفسرین یہ کہتے ہیں کہ حضورؐ کے نکاح میں کوئی موہوبہ بیوی نہ تھیں۔ مگر اس کا مطلب دراصل یہ ہے کہ آپؐ نے ہبہ کرنے والی بیوی کو بھی مہر دیے بغیر نہ رکھا۔
-
اس فقرے کا تعلق اگر صرف قریب کے فقرے سے مانا جائے تو مطلب یہ ہو گاکہ دوسرے کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ کوئی عورت اپنے آپ کو اس کے لیے ہبہ کرے اور وہ بلا مہر اس سے نکاح کر لے۔ اور اگر اس کا تعلق اوپر کی پوری عبارت سے مانا جائے تو اس سے مُراد یہ ہو گی کہ چار سے زیادہ نکاح کرنے کی رعایت بھی صرف حضورؐ کے لیے ہے ، عام مسلمانوں کے لیے نہیں ہے۔ اس آیت سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ کچھ احکام نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے لیے خاص ہیں جن میں اُمت کے دوسرے لوگ آپؐ کے ساتھ شریک نہیں ہیں۔قرآن و سُنت کے تتبُّع سے ایسے متعدد احکام کا پتہ چلتا ہے۔ مثلاً حضورؐ کے لیے نماز تہجد فرض تھی اور باقی تمام اُمت کے لیے وہ نفل ہے۔ آپؐ کے لیے اور آپؐ کے خاندان والوں کے لیے صدقہ لینا حرام ہے اور کسی دوسرے کے لیے وہ حرام نہیں ہے۔ آپؐ کی میراث تقسیم نہ ہو سکتی تھی، باقی سب کی میراث کے لیے وہ احکام ہیں جو سورۂ نساء میں بیان ہوئے ہیں۔ آپؐ کے لیے چار سے زائد بیویاں حلال کی گئیں ، بیویوں کے درمیان عدل آپ پر واجب نہیں کیا گیا ، اپنے نفس کو ہبہ کر نے والی عورت سے بلا مہر نکاح کرنے کی آپؐ کو اجازت دی گئی ، اور آپؐ کی وفات کے بعد آپؐ کی بیویاں تمام اُمت پر حرام کر دی گئیں۔ ان میں سے کوئی خصوصیت بھی ایسی نہیں ہے جو حضورؐ کے علاوہ کسی مسلمان کو حاصل ہو۔ مفسرین نے آپؐ کی ایک خصوصیت یہ بھی بیان کی ہے کہ آپؐ کے لیے کتابیہ عورت سے نکاح ممنوع تھا، حالانکہ باقی اُمت کے لیے وہ حلال ہے۔
-
یہ وہ مصلحت ہے جس کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو عام قاعدے سے مستثنیٰ فرمایا۔’’ تنگی نہ رہے ‘‘ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ نعوذ باللہ آپؐ کی خواہشات نفسانی بہت بڑھی ہوئی تھیں اس لیے آپؐکو بہت بیویاں کرنے کی اجازت دے دی گئی تاکہ آپؐ صرف چار بیویوں تک محدود رہنے میں تنگی محسوس نہ فرمائیں۔ اس فقرے کا یہ مطلب صرف وہی شخص لے سکتا ہے جو تعصّب میں اندھا ہو کر اس بات کو بھول جائے کہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم نے 25 سال کی عمر میں ایک ایسی خاتون سے شادی کی تھی جن کی عمر اُس وقت 4۰ سال تھی ، اور پوری 25برس تک آپ اُن کے ساتھ نہایت خوشگوار ازدواجی زندگی بسر کرتے رہے۔ پھر جب اُن کا انتقال ہو گیا تو آپ نے ایک اور سن رسیدہ خاتون حضرت سَودہؓ سے نکاح کیا اور پورے چار سال تک تنہا وہی آپ کی بیوی رہیں۔ اب آخر کون صاحبِ عقل اور ایمان دار آدمی یہ تصور کر سکتا ہے کہ 53 سال کی عمر سے گزر جانے کے بعد یکایک حضورؐ کی خواہشات نفسانی بڑھتی چلی گئیں اور آپ کو زیادہ سے زیادہ بیویوں کی ضرورت پیش آنے لگی۔ دراصل ’’ تنگی نہ رہنے ‘‘ کا مطلب سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی ایک طرف تو اُس کارِ عظیم کو نگاہ میں رکھے جس کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے آپؐ کے اوپر ڈالی تھی اور دوسری طرف اُن حالات کو سمجھے جن میں یہ کار عظیم انجام دینے کے لیے آپ کو مامور کیا گیا تھا۔ تعصب سے ذہن کو پاک کر کے جو شخص بھی ان دونوں حقیقتوں کو سمجھ لے گا وہ بخوبی جان لے گا کہ بیویوں کے معاملے میں آپؐ کو کھُلی اجازت دینا کیوں ضروری تھا ، اور چار کی قید میں آپ کے لیے کیا ’’تنگی‘‘ تھی۔ حضورؐ کے سپرد جو کام کیا گیا تھا وہ یہ تھا کہ آپؐ ایک اَن گھڑ قوم کو جو اسلامی نقطۂ نظر ہی سے نہیں بلکہ عام تہذیب و تمدّن کے نقطۂ نظر سے بھی نا تراشیدہ تھی، ہر شعبۂ زندگی میں تعلیم و تربیت دے کر ایک اعلیٰ درجہ کی مہذّب و شائستہ اور پاکیزہ قوم بنائیں۔ اس غرض کے لیے صرف مردوں کو تربیت دینا کافی نہ تھا، بلکہ عورتوں کی تربیت بھی اتنی ہی ضروری تھی۔ مگر جو اُصولِ تمدّن و تہذیب سکھانے کے لیے آپؐ مامور کیے گئے تھے اُن کی رُو سے مردوں اور عورتوں کا آزادانہ اختلاط ممنوع تھا اور اس قاعدے کو توڑے بغیر آپؐ کے لیے عورتوں کو براہ راست خود تربیت دینا ممکن نہ تھا۔ اس بنا پر عورتوں میں کام کرنے کی صرف یہی ایک صورت آپؐ کے لیے ممکن تھی کہ مختلف عمروں اور ذہنی صلاحیتوں کی متعدّد خواتین سے آپؐ نکاح کریں ، ان کو براہِ راست خود تعلیم و تربیت دیکر اپنی مدد کے لیے تیار کریں ، اور پھر اُن سے شہری اور بدوی اور جوان اور بوڑھی، ہر قسم کی عورتوں کو دین سکھانے اور اخلاق و تہذیب کے نئے اصول سمجھانے کا کام لیں۔ اس کے علاوہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے سُپرد یہ خدمت بھی کی گئی تھی کہ پرانے جاہلی نظامِ زندگی کو ختم کر کے اس کی جگہ اسلامی نظامِ زندگی عملاً قائم کر دیں۔ اس خدمت کی انجام دہی میں جاہلی نظام کے علمبرداروں سے جنگ ناگزیر تھی۔ اور یہ کشمکش ایک ایسے ملک میں پیش آ رہی تھی یہاں قبائلی طرزِ زِندگی اپنی مخصوص روایات کے ساتھ رائج تھا۔ اِن حالات میں دوسری تدابیر کے ساتھ آپؐ کے لیے یہ بھی ضروری تھا کہ آپؐ مختلف خاندانوں میں نکاح کر کے بہت سی دوستیوں کو پختہ اور بہت سی عداوتوں کو ختم کر دیں۔ چنانچہ جن خواتین سے آپؐ نے شادیاں کیں ان کے ذاتی اوصاف کے علاوہ ان کے انتخاب میں یہ مصلحت بھی کم و بیش شامل تھی۔ حضرت عائشہ ؓ اور حضرت حفصہؓ کے ساتھ نکاح کر کے آپؐ نے حضرت ابو بکر ؓ اور حضرت عمرؓ کے ساتھ اپنے تعلقات کو اور زیادہ گہرا اور مستحکم کر لیا۔ حضرت امّ سلمہؓ اُس خاندان کی بیٹی تھیں جس سے ابوجہل اور خالد بن ولیدؓ کا تعلق تھا۔ اور حضرت اُم حبیبہؓ ابو سفیان کی بیٹی تھیں۔ان شادیوں نے بہت بڑی حد تک ان خاندان کی دشمنی کا زور توڑ دیا ، بلکہ اُم حبیبہؓ کے ساتھ حضورؐ کا نکاح ہونے کے بعد تو ابو سفیان پھر کبھی حضورؐ کے مقابلے پر نہ آیا۔ حضرت صفیہ ؓ، جُویریہ ؓ، اور رَیحانہؓ یہودی خاندانوں سے تھیں۔ انہیں آزاد کر کے جب حضورؐ نے ان سے نکاح کیے تو آپؐ کے خلاف یہودیوں کی سرگرمیاں ٹھنڈی پڑ گئیں۔ کیونکہ اُس زمانے کی عربی روایات کے مطابق جس شخص سے کسی قبیلے کی بیٹی بیاہی جاتی وہ صرف لڑکی کے خاندان ہی کا نہیں بلکہ پُورے قبیلے کا داماد سمجھا جاتا تھا اور داماد سے لڑنا بڑے عار کی بات تھی۔ معاشرے کی عملی اصلاح اور اس کی جاہلانہ رسوم کو توڑنا آپؐ کے فرائضِ منصبی میں شامل تھا۔ چنانچہ ایک نکاح آپؐ کو اس مقصد کے لیے بھی کرنا پڑا ، جیسا کہ اسی سور ۂ احزاب میں مفصل بیان ہو چکا ہے۔ یہ مصلحتیں اس بات کی مقتضی تھیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے لیے نکاح کے معاملے میں کوئی تنگی باقی نہ رکھی جائے۔ تاکہ جو کارِ عظیم آپؐ کے سپرد کیا گیا تھا اس کی ضروریات کے لحاظ سے آپؐ جتنے نکاح کرنا چاہیں کر لیں۔ اس بین سے ان لوگوں کے خیال کی غلطی بھی واضح ہو جاتی ہے جو سمجھتے ہیں کہ تعدّد ازواج صرف چند شخصی ضرورتوں کی خاطر ہی جائز ہے اور ان کے ماسوا کوئی غرض ایسی نہیں ہو سکتی جس کے لیے یہ جائز ہو۔ ظاہر بات ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے جو ایک سے زائد نکاح کیے ان کی وجہ یہ نہ تھی کہ بیوی بیمار تھی ، یا بانجھ تھی ، یا اولاد نرینہ تھی ، یا کچھ یتیموں کی پر ورش کا مسئلہ در پیش تھا۔ ان محدود شخصی ضروریات کے بغیر آپؐ نے تمام نکاح یا تو تبلیغی و تعلیمی ضروریات کے لیے کیے ،یا سیا سی و اجتماعی مقاصد کے لیے۔ سوال یہ ہے کہ جب اللہ نے خود تعدّد ازواج کو ان چند گنی چنی مخصوص اغراض تک ، جن کا آج نام لیا جا رہا ہے ، محدود نہیں رکھا اور اللہ کے رسول نے ان کے سوا بہت سے دوسرے مقاصد کے لیے متعدّد نکاح کیے تو کوئی دوسرا شخص کیا حق رکھتا یہ کہ قانون میں اپنی طرف سے چند قیود تجویز کرے اور او پر سے دعویٰ یہ کرے کہ یہ حد بندیاں وہ شریعت کے مطابق کر رہا ہے۔ در اصل ان ساری حد بندیوں کی جڑ یہ مغربی تخیّل ہے کہ تعدّدِ ازواج بجائے خود ایک برائی ہے۔ اسی تخیّل کی بنا پر یہ نظریہ پیدا ہوا ہے کہ یہ فعل حرام اگر کبھی حلال ہو بھی سکتا ہے تو صرف شدید ناگزیر ضروریات کے لیے ہو سکتا ہے اب اس درآمد شدہ تخیّل پر اسلام کا جعلی ٹھپہ لگانے کی چاہے کتنی ہی کوشش کی جائے ، قرآن و سنت اور پوری امتِ مسلمہ کا لٹریچر اس سے قطعاً نا آشنا ہے۔
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Bayan-ul-Quran
اے نبی ﷺ ! ہم نے آپ کے لیے حلال ٹھہرایا ہے آپ کی ان تمام ازواج کو جن کے مہر آپ نے ادا کیے ہیں ور (ان کو بھی) جو آپ ﷺ کی ملک یمین (باندیاں) ہیں ان سے جو اللہ نے آپ ﷺ کو بطور فے عطا کیں (اسی طرح آپ ﷺ کو نکاح کرنا جائز ہے) اپنے چچا کی بیٹیوں سے اور اپنی پھوپھیوں کی بیٹیوں سے اور اپنی ماموئوں کی بیٹیوں اور اپنی خالائوں کی بیٹیوں سے جنہوں نے آپ ﷺ کے ساتھ ہجرت کی۔ اور وہ مومن عورت بھی جو ہبہ کرے اپنا آپ نبی ﷺ کے لیے اگر نبی ﷺ اسے اپنے نکاح میں لانا چاہیں۔ یہ (رعایت) خالص آپ ﷺ کے لیے ہے مومنین سے علیحدہ۔ ہمیں خوب معلوم ہے جو ہم نے ان (عام مسلمانوں) پر ان کی بیویوں اور ان کی باندیوں کے ضمن میں فرض کیا ہے تاکہ آپ ﷺ پر کوئی تنگی نہ رہے۔ اور اللہ بہت بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے۔
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29
Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.
See this ayah on Mushaf page 424
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.
Commentary
آیت 50 { یٰٓــاَیُّہَا النَّبِیُّ اِنَّآ اَحْلَلْنَا لَکَ اَزْوَاجَکَ الّٰتِیْٓ اٰتَیْتَ اُجُوْرَہُنَّ } ”اے نبی ﷺ ! ہم نے آپ کے لیے حلال ٹھہرایا ہے آپ کی ان تمام ازواج کو جن کے مہر آپ نے ادا کیے ہیں“ { وَمَا مَلَکَتْ یَمِیْنُکَ مِمَّآ اَفَآئَ اللّٰہُ عَلَیْکَ } ”اور ان کو بھی جو آپ ﷺ کی ملک یمین باندیاں ہیں ‘ ان سے جو اللہ نے آپ ﷺ کو بطور ’ فے ‘ عطا کیں“ جیسے مصر کے فرمانروا مقوقس نے حضرت ماریہ قبطیہ علیہ السلام کو آپ ﷺ کی خدمت میں بطور ہدیہ بھیجا تھا۔ { وَبَنٰتِ عَمِّکَ وَبَنٰتِ عَمّٰتِکَ وَبَنٰتِ خَالِکَ وَبَنٰتِ خٰلٰتِکَ } ”اسی طرح آپ ﷺ کو نکاح کرنا جائز ہے اپنے چچا کی بیٹیوں سے اور اپنی پھوپھیوں کی بیٹیوں سے ‘ اور اپنی ماموئوں کی بیٹیوں اور اپنی خالائوں کی بیٹیوں سے“ { الّٰتِیْ ہَاجَرْنَ مَعَکَ } ”جنہوں نے آپ ﷺ کے ساتھ ہجرت کی۔“ { وَامْرَاَۃً مُّؤْمِنَۃً اِنْ وَّہَبَتْ نَفْسَہَا لِلنَّبِیِّ } ”اور وہ مومن عورت بھی جو ہبہ کرے اپنا آپ نبی ﷺ کے لیے“ { اِنْ اَرَادَ النَّبِیُّ اَنْ یَّسْتَنْکِحَہَا } ”اگر نبی ﷺ اسے اپنے نکاح میں لانا چاہیں۔“ یعنی وہ مسلمان خاتون جو مہر کا تقاضا کیے بغیر خود کو آپ ﷺ کی زوجیت کے لیے پیش کرے اور آپ ﷺ اسے قبول فرمائیں۔ { خَالِصَۃً لَّکَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ } ”یہ رعایت خالص آپ ﷺ کے لیے ہے ‘ مومنین سے علیحدہ۔“ اس سلسلے میں نبی مکرم ﷺ کو عام قانون سے مستثنیٰ قرار دیا جا رہا ہے۔ { قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَیْہِمْ فِیْٓ اَزْوَاجِہِمْ وَمَا مَلَکَتْ اَیْمَانُہُمْ } ”ہمیں خوب معلوم ہے جو ہم نے ان عام مسلمانوں پر ان کی بیویوں اور ان کی باندیوں کے ضمن میں فرض کیا ہے“ ایک عام مسلمان ایک وقت میں چار سے زیادہ بیویاں اپنے نکاح میں نہیں رکھ سکتا۔ اسی طرح باندیوں کے بارے میں بھی ان پر طے شدہ قواعد و ضوابط کی پابندی لازم ہے۔ { لِکَیْلَا یَکُوْنَ عَلَیْکَ حَرَجٌ وَکَانَ اللّٰہُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا } ”تاکہ آپ ﷺ پر کوئی تنگی نہ رہے۔ اور اللہ بہت بخشنے والا ‘ نہایت رحم کرنے والا ہے۔“ اس موضوع کے حوالے سے ایک اہم نکتہ یہ بھی مد نظر رہنا چاہیے کہ حضور ﷺ کے متعدد نکاح کرنے میں بہت سی حکمتوں اور مصلحتوں کا عمل دخل تھا۔ مثلاً حضرت عائشہ رض اٹھارہ سال کی عمر میں بیوہ ہوگئیں اور اس کے بعد آپ رض ایک طویل مدت تک خواتین اُِمت کے لیے ایک معلمہ کا کردار ادا کرتی رہیں۔ اسی طرح حضور ﷺ نے بہت سے ایسے نکاح بھی کیے جن کی وجہ سے متعلقہ قبائل کے ساتھ مسلمانوں کے تعلقات مضبوط بنیادوں پر استوار ہوئے اور اس طرح اسلامی حکومت اور ریاست کو تقویت ملی۔ یہ مصلحتیں اس بات کی متقاضی تھیں کہ حضور ﷺ کے لیے نکاح کے معاملے میں کوئی تنگی باقی نہ رکھی جائے ‘ تاکہ جو عظیم کام آپ ﷺ کے سپرد کیا گیا تھا اس کی ضروریات کے لحاظ سے آپ جتنے نکاح کرنا چاہیں کرلیں۔