- وَاَتِمُّوااور پورا کرو
- الْحَجَّحج کو
- وَالْعُمْرَةَاور عمرے کو
- لِلّٰهِ ؕاللہ کے لیے
- فَاِنْپھر اگر
- اُحْصِرْتُمْتم گھیر لیے جاؤ
- فَمَاتو جو
- اسْتَیْسَرَمیسر آجائے
- مِنَسے
- الْهَدْیِ ۚقربانی
- وَلَااور نہ
- تَحْلِقُوْاتم منڈاؤ
- رُءُوْسَكُمْاپنے سروں کو
- حَتّٰییہاں تک کہ
- یَبْلُغَپہنچ جائے
- الْهَدْیُقربانی
- مَحِلَّهٗ ؕاپنی حلال گاہ کو
- فَمَنْتو جو کوئی
- كَانَہو
- مِنْكُمْتم میں سے
- مَّرِیْضًامریض
- اَوْیا
- بِهٖۤساتھ اس کے
- اَذًیتکلیف ہو
- مِّنْسے
- رَّاْسِهٖاس کے سر سے
- فَفِدْیَةٌتو فدیہ دینا ہے
- مِّنْسے
- صِیَامٍروزے سے
- اَوْیا
- صَدَقَةٍصدقہ سے
- اَوْیا
- نُسُكٍ ۚقربانی سے
- فَاِذَاۤتو جب
- اَمِنْتُمْ ۥامن میں آجاؤ تم
- فَمَنْتو جو کوئی
- تَمَتَّعَفائدہ اٹھائے
- بِالْعُمْرَةِعمرے کا
- اِلَیتک
- الْحَجِّحج تک
- فَمَاتو جو بھی
- اسْتَیْسَرَمیسر آئے
- مِنَسے
- الْهَدْیِ ۚقربانی سے
- فَمَنْتو جو کوئی
- لَّمْنہ
- یَجِدْپائے
- فَصِیَامُتو روزے رکھنا ہے
- ثَلٰثَةِتین
- اَیَّامٍدن کے
- فِیمیں
- الْحَجِّحج میں
- وَسَبْعَةٍاور سات (روزے)
- اِذَاجب
- رَجَعْتُمْ ؕلوٹو تم
- تِلْكَیہ
- عَشَرَةٌدس ہیں
- كَامِلَةٌ ؕپورے
- ذٰلِكَیہ
- لِمَنْواسطے اس کے جو
- لَّمْنہ
- یَكُنْہوں
- اَهْلُهٗاس کے گھر والے
- حَاضِرِیموجود
- الْمَسْجِدِمسجد
- الْحَرَامِ ؕحرام کے
- وَاتَّقُوااور ڈرو
- اللّٰهَاللہ سے
- وَاعْلَمُوْۤااور جان لو
- اَنَّبیشک
- اللّٰهَاللہ
- شَدِیْدُسخت
- الْعِقَابِسزا والا ہے
Surah 2 · word by word
Surah 2, ayah 196
Translation and commentary
Tafheem-ul-Quran
اللہ کی خوشنودی کے لیے جب حج اور عمرے کی نیت کر و، تو اسے پورا کرو، اور اگر کہیں گر جاؤ تو جو قربانی میسر آئے، اللہ کی جناب میں پیش کرو1 اور اپنےسر نہ مونڈو جب تک کہ قربانی اپنی جگہ نہ پہنچ جائے۔2مگر جو شخص مریض ہو یا جس کے سر میں کوئی تکلیف ہو اس بناء پر اپنا سر منڈوالے، تو اسے چاہیے کہ فدیہ کے طور پر روزے رکھے یا صدقہ دے یا قربانی کرے۔3 پھر اگر تمہیں امن نصیب ہو جا ئے4(اور تم حج سے پہلے مکہ پہنچ جاؤ )، تو جو شخص تم میں سے حج کا زمانہ آنے تک عمرے کا فائدہ اٹھائے ، وہ حسب مقدور قربانی دے، اور اگر قربانی میسر نہ ہو ، تو تین روزے حج کے زمانے میں اور سات گھر پہنچ کر ، اس طرح پورے دس روزے رکھ لے۔ یہ رعایت ان لوگو ں کے لیے ہے ، جن کے گھر بار مسجد حرام کے قریب نہ ہوں۔5 اور اللہ کے ان احکام کی خلاف ورزی سے بچو اور خوب جان لو کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے
Footnotes (the author's commentary)
-
یعنی اگر راستے میں کوئی ایسا سبب پیش آجائے ، جس کی وجہ سے آگے جانا غیر ممکن ہو اور مجبوراً رُک جانا پڑے، تو اُونٹ، گائے، بکری میں سے جو جانور بھی میسّر ہو، اللہ کے لیے قربان کر دو۔
-
اس امر میں اختلاف ہے کہ قربانی کے اپنی جگہ پہنچ جانے سے کیا مراد ہے۔ فقہائے حنفیہ کے نزدیک اس سے مراد حرم ہے، یعنی اگر آدمی راستہ میں رُک جانے پر مجبُور ہو، تو اپنی قربانی کا جانور یا اس کی قیمت بھیج دے تاکہ اس کی طرف سے حُدودِ حرم میں قربانی کی جائے۔ اور امام مالک اور شافعی رحمہما اللہ کے نزدیک جہاں آدمی گھِر گیا ہو، وہیں قربانی کردینا مراد ہے۔ سر مونڈنے سے مراد حجامت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب تک قربانی نہ کر لو حجامت نہ کرا ؤ ۔
-
حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس صورت میں تین دن کے روزے رکھنے یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلانے یا کم از کم ایک بکری ذبح کرنے کا حکم دیا ہے۔
-
یعنی وہ سبب دُور ہو جائے ، جس کی وجہ سے مجبُوراً تمہیں راستے میں رُک جانا پڑا تھا۔ چونکہ اُس زمانے میں حج کا راستہ بند ہونے اور حاجیوں کے رُک جانے کی وجہ زیادہ تر دشمنِ اسلام قبیلوں کی مزاحمت ہی تھی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اُوپر کی آیت میں ”گھِر جانے“ اور اس کے بالمقابل یہاں”امن نصیب ہوجانے“ کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ لیکن جس طرح”گھِر جانے“ کے مفہوم میں دشمن کی مزاحمت کے علاوہ دُوسرے تمام موانع شامل ہیں، اسی طرح ”امن نصیب ہو جانے“ کا مفہُوم بھی ہر مانع و مزاحم چیز کے دُور ہو جانے پر حاوی ہے۔
-
عرب جاہلیّت میں یہ خیال کیا جا تا تھا کہ ایک ہی سفر میں حج اور عُمرہ دونوں ادا کرنا گناہِ عظیم ہے۔ ان کی خود ساختہ شریعت میں عُمرے کے لیے الگ اور حج کےلیے الگ سفر کرنا ضروری تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس قید کو اُڑا دیا اور باہر سے آنے والوں کے ساتھ یہ رعایت فرمائی کہ وہ ایک ہی سفر میں عُمرہ اور حج دونوں کر لیں۔ البتہ جو لوگ مکّہ کے آس پاس میقاتوں کی حُدود کے اندر رہتے ہوں انھیں اس رعایت سے مستثنیٰ کر دیا کیونکہ ان کے لیے عُمرہ کا سفر الگ اور حج کا سفر الگ کرنا کچھ مشکل نہیں۔ حج کا زمانہ آنے تک عُمرے کا فائدہ اُٹھانے سے مُراد یہ ہے کہ آدمی عُمرہ کر کے اِحرام کھول لے اور اُن پابندیوں سے آزاد ہو جائے ، جو احرام کی حالت میں لگائی گئی ہیں۔ پھر جب حج کے دن آئیں، تو ازسرِ نو احرام باندھ لے۔
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.
See this ayah on Mushaf page 30
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.