Surah 2 · word by word

Surah 2, ayah 196

  1. وَاَتِمُّوااور پورا کرو
  2. الْحَجَّحج کو
  3. وَالْعُمْرَةَاور عمرے کو
  4. لِلّٰهِ ؕاللہ کے لیے
  5. فَاِنْپھر اگر
  6. اُحْصِرْتُمْتم گھیر لیے جاؤ
  7. فَمَاتو جو
  8. اسْتَیْسَرَمیسر آجائے
  9. مِنَسے
  10. الْهَدْیِ ۚقربانی
  11. وَلَااور نہ
  12. تَحْلِقُوْاتم منڈاؤ
  13. رُءُوْسَكُمْاپنے سروں کو
  14. حَتّٰییہاں تک کہ
  15. یَبْلُغَپہنچ جائے
  16. الْهَدْیُقربانی
  17. مَحِلَّهٗ ؕاپنی حلال گاہ کو
  18. فَمَنْتو جو کوئی
  19. كَانَہو
  20. مِنْكُمْتم میں سے
  21. مَّرِیْضًامریض
  22. اَوْیا
  23. بِهٖۤساتھ اس کے
  24. اَذًیتکلیف ہو
  25. مِّنْسے
  26. رَّاْسِهٖاس کے سر سے
  27. فَفِدْیَةٌتو فدیہ دینا ہے
  28. مِّنْسے
  29. صِیَامٍروزے سے
  30. اَوْیا
  31. صَدَقَةٍصدقہ سے
  32. اَوْیا
  33. نُسُكٍ ۚقربانی سے
  34. فَاِذَاۤتو جب
  35. اَمِنْتُمْ ۥامن میں آجاؤ تم
  36. فَمَنْتو جو کوئی
  37. تَمَتَّعَفائدہ اٹھائے
  38. بِالْعُمْرَةِعمرے کا
  39. اِلَیتک
  40. الْحَجِّحج تک
  41. فَمَاتو جو بھی
  42. اسْتَیْسَرَمیسر آئے
  43. مِنَسے
  44. الْهَدْیِ ۚقربانی سے
  45. فَمَنْتو جو کوئی
  46. لَّمْنہ
  47. یَجِدْپائے
  48. فَصِیَامُتو روزے رکھنا ہے
  49. ثَلٰثَةِتین
  50. اَیَّامٍدن کے
  51. فِیمیں
  52. الْحَجِّحج میں
  53. وَسَبْعَةٍاور سات (روزے)
  54. اِذَاجب
  55. رَجَعْتُمْ ؕلوٹو تم
  56. تِلْكَیہ
  57. عَشَرَةٌدس ہیں
  58. كَامِلَةٌ ؕپورے
  59. ذٰلِكَیہ
  60. لِمَنْواسطے اس کے جو
  61. لَّمْنہ
  62. یَكُنْہوں
  63. اَهْلُهٗاس کے گھر والے
  64. حَاضِرِیموجود
  65. الْمَسْجِدِمسجد
  66. الْحَرَامِ ؕحرام کے
  67. وَاتَّقُوااور ڈرو
  68. اللّٰهَاللہ سے
  69. وَاعْلَمُوْۤااور جان لو
  70. اَنَّبیشک
  71. اللّٰهَاللہ
  72. شَدِیْدُسخت
  73. الْعِقَابِسزا والا ہے

Translation and commentary

Bayan-ul-Quran

اور حج اور عمرہ مکمل کرو اللہ کے لیے پھر اگر تمہیں گھیر لیا جائے تو جو کوئی بھی قربانی میسرّ ہو وہ پیش کر دو اور اپنے سر اس وقت تک نہ مونڈو جب تک کہ قربانی اپنی جگہ نہ پہنچ جائے پھر جو کوئی تم میں سے بیمار ہو یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو تو وہ فدیہ کے طور پر روزے رکھے یا صدقہ دے یا قربانی کرے پھر جب تمہیں امن حاصل ہو (اور تم سیدھے بیت اللہ پہنچ سکتے ہو) تو جو کوئی بھی فائدہ اٹھائے عمرے کا حج سے قبل تو وہ قربانی پیش کرے جو بھی اسے میسرّ ہو جس کو قربانی نہ ملے تو وہ تین دن کے روزے ایام حج میں رکھے اور سات روزے رکھو جبکہ تم واپس پہنچ جاؤ یہ کل دس (روزے) ہوں گے یہ (رعایت) اس کے لیے ہے جس کے گھر والے مسجد حرام کے قریب نہ رہتے ہوں اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور خوب جان لو کہ اللہ تعالیٰ سزا دینے میں بھی بہت سخت ہے

Commentary

آیت 196 وَاَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ لِلّٰہِ ط۔ عمرہ کے لیے احرام تو مدینہ منورہ سے سات میل باہر نکل کر ہی باندھ لیا جائے گا ‘ لیکن حج مکمل تب ہوگا جب طواف بھی ہوگا ‘ وقوف عرفہ بھی ہوگا اور اس کے سارے مناسک ادا کیے جائیں گے۔ لہٰذا جو شخص بھی حج یا عمرہ کی نیت کرلے تو پھر اسے تمام مناسک کو مکمل کرنا چاہیے ‘ کوئی کمی نہ رہے۔فَاِنْ اُحْصِرْتُمْ یعنی روک دیا جائے ‘ جیسا کہ 6 ہجری میں ہوا کہ مسلمانوں کو صلح حدیبیہ کرنی پڑی اور عمرہ ادا کیے بغیر واپس جانا پڑا۔ مشرکین مکہ اڑ گئے تھے کہ مسلمانوں کو مکہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْہَدْیِ ج۔ یہ دم احصار کہلاتا ہے کہ چونکہ اب ہم آگے نہیں جاسکتے ‘ ہمیں یہیں احرام کھولنا پڑ رہا ہے تو ہم اللہ کے نام پر یہ جانور دے رہے ہیں۔ یہ ایک طرح سے اس کا کفارہ ہے۔ّوَلاَ تَحْلِقُوْا رُءُ وْسَکُمْ حَتّٰی یَبْلُغَ الْہَدْیُ مَحِلَّہٗ ط۔ یعنی جہاں جا کر قربانی کا جانور ذبح ہونا ہے وہاں پہنچ نہ جائے۔ اگر آپ کو حج یا عمرہ سے روک دیا گیا اور آپ نے قربانی کے جانور آگے بھیج دیے تو آپ کو روکنے والے ان جانوروں کو نہیں روکیں گے ‘ اس لیے کہ ان کا گوشت تو انہیں کھانے کو ملے گا۔ اب اندازہ کرلیا جائے کہ اتنا وقت گزر گیا ہے کہ قربانی کا جانور اپنے مقام پر پہنچ گیا ہوگا۔فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَّرِیْضًا اَوْ بِہٖٓ اَذًی مِّنْ رَّاْسِہٖ یعنی سر میں کوئی زخم وغیرہ ہو اور اس کی وجہ سے بال کٹوانے ضروری ہوجائیں۔فَفِدْیَۃٌ مِّنْ صِیَامٍ اَوْ صَدَقَۃٍ اَوْ نُسُکٍ ج۔ اگر اس ہدی کے جانور کے کعبہ پہنچنے سے پہلے پہلے تمہیں اپنے بال کاٹنے پڑیں تو فدیہ ادا کرنا ہوگا۔ یعنی ایک کمی جو رہ گئی ہے اس کی تلافی کے لیے کفارہّ ادا کرنا ہوگا۔ اس کفارے ّ کی تین صورتیں بیان ہوئی ہیں : روزے ‘ یا صدقہ یا قربانی۔ اس کی وضاحت احادیث نبویہ ﷺ سے ہوتی ہے کہ یا تو تین دن کے روزے رکھے جائیں ‘ یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلایا جائے یا کم از کم ایک بکری کی قربانی دی جائے۔ اس قربانی کو دم جنایت کہتے ہیں۔فَاِذَآ اَمِنْتُمْ قف فَمَنْ تَمَتَّعَ بالْعُمْرَۃِ اِلَی الْحَجِّ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْہَدْیِج رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پہلے اہل عرب کے ہاں ایک سفر میں حج اور عمرہ دونوں کرنا گناہ سمجھا جاتا تھا۔ ان کے نزدیک یہ کعبہ کی توہین تھی۔ ان کے ہاں حج کے لیے تین مہینے شوال ‘ ذوالقعدہ اور ذوالحجہ تھے ‘ جبکہ رجب کا مہینہ عمرے کے لیے مخصوص تھا۔ وہ عمرے کے لیے علیحدہ سفر کرتے اور حج کے لیے علیحدہ۔ یہ بات حدود حرم میں رہنے والوں کے لیے تو آسان تھی ‘ لیکن اس امت کو تو پوری دنیا میں پھیلنا تھا اور دور دراز سے سفر کر کے آنے والوں کے لیے اس میں مشقت تھی۔ لہٰذا شریعت محمدی ﷺ میں لوگوں کے لیے جہاں اور آسانیاں پیدا کی گئیں وہاں حج وعمرہ کے ضمن میں یہ آسانی بھی پیدا کی گئی کہ ایک ہی سفر میں حج اور عمرہ دونوں کو جمع کرلیا جائے۔ اس کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ پہلے عمرہ کر کے احرام کھول دیا جائے اور پھر آٹھویں ذوالحجہ کو حج کا احرام باندھ لیا جائے۔ یہ حج تمتع کہلاتا ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ حج کے لیے احرام باندھا تھا ‘ جاتے ہی عمرہ بھی کرلیا ‘ لیکن احرام کھولا نہیں اور اسی احرام میں حج بھی کرلیا۔ یہ حج قرآن کہلاتا ہے۔ لیکن اگر شروع ہی سے صرف حج کا احرام باندھا جائے اور عمرہ نہ کیا جائے تو یہ حج افراد کہلاتا ہے۔ قرآن یا تمتع کرنے والے پر قربانی ضروری ہے۔ امام ابوحنیفہ رض اسے دم شکر کہتے ہیں اور قربانی کرنے والے کو اس میں سے کھانے کی اجازت دیتے ہیں۔ امام شافعی رح کے نزدیک یہ دم جبر ہے اور قربانی کرنے والے کو اس میں سے کھانے کی اجازت نہیں ہے۔فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلٰثَۃِ اَیَّامٍ فِی الْْحَجِّ یعنی عین ایام حج میں ساتویں ‘ آٹھویں اور نویں ذوالحجہ کو روزہ رکھے۔ دسویں کا روزہ نہیں ہوسکتا ‘ وہ عید کا دن یوم النحر ہے۔وَسَبْعَۃٍ اِذَا رَجَعْتُمْ ط اپنے گھروں میں جا کر سات روزے رکھو۔تِلْکَ عَشَرَۃٌ کَامِلَۃٌ ط ذٰلِکَ لِمَنْ لَّمْ یَکُنْ اَہْلُہٗ حَاضِرِی الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ط یعنی ایک ہی سفر میں حج اور عمرہ کو جمع کرنے کی رعایت ‘ خواہ تمتعّ کی صورت میں ہو یا قران کی صورت میں ‘ صرف آفاقی کے لیے ہے ‘ جس کے اہل و عیال جوار حرم میں نہ رہتے ہوں ‘ یعنی جو حدودحرم کے باہر سے حج کرنے آیا ہو۔

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29

Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.

See this ayah on Mushaf page 30

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.

Sources & attribution