- وَلَقَدْاور البتہ تحقیق
- جِئْتُمُوْنَاآگئے تم ہمارے پاس
- فُرَادٰیتنہا۔ اکیلے
- كَمَاجیسا کہ
- خَلَقْنٰكُمْپیدا کیا تھا ہم نے تم کو
- اَوَّلَپہلی
- مَرَّةٍبار
- وَّتَرَكْتُمْاور چھوڑ آئے تھے تم
- مَّاجو
- خَوَّلْنٰكُمْدیا ہم نے تم کو
- وَرَآءَکے پیچھے
- ظُهُوْرِكُمْ ۚاپنی پیٹھوں
- وَمَااور نہیں
- نَرٰیہم دیکھتے
- مَعَكُمْتمہارے ساتھ
- شُفَعَآءَكُمُتمہارے سفارشیوں کو
- الَّذِیْنَوہ جو
- زَعَمْتُمْگمان کیا کرتے تھے تم۔ زعم رکھتے تھے تم
- اَنَّهُمْبیشک وہ
- فِیْكُمْتم میں
- شُرَكٰٓؤُا ؕشریک ہیں
- لَقَدْالبتہ تحقیق
- تَّقَطَّعَکٹ گئے
- بَیْنَكُمْتمہارے درمیان سے
- وَضَلَّاور گم ہوگیا
- عَنْكُمْتم سے
- مَّاوہ جو
- كُنْتُمْتھے تم
- تَزْعُمُوْنَتم گمان کیا کرتے
Surah 6 · word by word
Surah 6, ayah 94
Translation and commentary
Tafheem-ul-Quran
(اور اللہ فرمائے گا) "لو اب تم ویسے ہی تن تنہا ہمارے سامنے حاضر ہوگئے جیسا ہم نے تمہیں پہلی مرتبہ اکیلا پیدا کیا تھا، جو کچھ ہم نے تمہیں دنیا میں دیا تھا وہ سب تم پیچھے چھوڑ آئے ہو، اور اب ہم تمہارے ساتھ تمہارے اُن سفارشیوں کو بھی نہیں دیکھتے جن کے متعلق تم سمجھتے تھے کہ تمہارے کام بنانے میں ان کا بھی کچھ حصہ ہے، تمہارے آپس کے سب رابطے ٹوٹ گئے اور وہ سب تم سے گم ہوگئے جن کا تم زعم رکھتے تھے"
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Bayan-ul-Quran
(پھر ان سے کہا جائے گا) اور اب آگئے ہونا ! ہمارے پاس اکیلے اکیلے جیسا کہ ہم نے تمہیں پیدا کیا تھا پہلی مرتبہ اور تم چھوڑ آئے ہو اپنے پیچھے وہ سب کچھ جس میں ہم نے تمہیں لپیٹ دیا تھا اور ہم نہیں دیکھ رہے تمہارے ساتھ تمہارے وہ سفارشی بھی جن کے بارے میں تمہیں زعم تھا کہ وہ تمہارے معاملے میں شریک ہیں اب تمہارے مابین سارے رشتے ٹوٹ چکے اور وہ سب چیزیں تم سے گم ہوگئیں جن کا تم زعم کیا کرتے تھے
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29
Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.
See this ayah on Mushaf page 139
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.
Commentary
آیت 94 وَلَقَدْ جِءْتُمُوْنَا فُرَادٰی کَمَا خَلَقْنٰکُمْ اَوَّلَ مَرَّۃٍ یعنی آج اپنے تمام لاؤ لشکر ‘ مال و متاع اور خدم و حشم سب کچھ پیچھے چھوڑ آئے ہو ‘ آج کوئی بھی ‘ کچھ بھی تمہاری مدد کے لیے تمہارے ساتھ نہیں۔ یہی بات سورة مریم میں اس طرح کہی گئی ہے : وَکُلُّہُمْ اٰتِیْہِ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ فَرْدًا کہ قیامت کے دن ہر شخص کا محاسبہ انفرادی حیثیت میں ہوگا۔ اور ظاہر ہے اس کے لیے ہر کوئی اکیلا کھڑا ہوگا ‘ نہ کسی کے رشتہ دار ساتھ ہوں گے ‘ نہ ماں باپ ‘ نہ اولاد ‘ نہ بیوی ‘ نہ بیوی کے ساتھ اس کا شوہر ‘ نہ سازو سامان نہ خدم و حشم !یہاں ایک اور اہم بات نوٹ کیجیے کہ خَلَقْنٰکُمْ اَوَّلَ مَرَّۃٍ کا مطلب ہے کہ انسان کی تخلیق دو مرتبہ ہوئی ہے۔ ایک تخلیق عالم ارواح میں ہوئی تھی ‘ وہاں بھی سب اکیلے اکیلے تھے ‘ نہ کسی کا باپ ساتھ تھا نہ کسی کی ماں۔ تب ارواح کے مابین کوئی رشتہ داری بھی نہیں تھی۔ یہ رشتہ داریاں تو بعد میں عالم خلق میں آکر ہوئی ہیں۔ آیت زیرنظر میں عالم ارواح کی اسی تخلیق کی طرف اشارہ ہے۔ عالم ارواح کے اس اجتماع میں بنی نوع انسان کے ہر فرد نے وہ عہد کیا تھا جسے عہد الست کہا جاتا ہے۔ جب پروردگار عالم نے اولاد آدم کی ارواح سے سوال کیا : اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ تو سب نے جواب دیا : بَلٰی الاعراف : 172 کیوں نہیں ! عالم ارواح کے اجتماع اور روز محشر کے اجتماع میں ایک لحاظ سے فرق ہے اور ایک لحاظ سے مشابہت۔ فرق یہ ہے کہ پہلے اجتماع میں مجرد ارواح کی شمولیت ہوئی تھی ‘ اس وقت تک انسانوں کو جسم عطا نہیں ہوئے تھے ‘ جب کہ روز محشر کے اجتماع میں یہ دنیاوی اجسام بھی ساتھ ہوں گے۔ ان اجتماعات میں مشابہت یہ ہے کہ پہلے اجتماع میں بھی حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر ان کی نسل کے آخری انسان تک سب کی ارواح موجود تھیں اور قیامت کے دن بھی یہ سب کے سب انسان اپنے پروردگار کے حضور کھڑے ہوں گے۔وَّتَرَکْتُمْ مَّا خَوَّلْنٰکُمْ وَرَآءَ ظُہُوْرِکُمْ ج۔وہ کون سی چیزیں ہیں جن میں یہاں ہمیں لپیٹ دیا گیا ہے ‘ اس پر غور کی ضرورت ہے۔ اصل چیز تو انسان کی روح ہے۔ اس روح کے لیے پہلا غلاف یہ جسم ہے ‘ پھر اس غلاف کے اوپر کپڑوں کا غلاف ہے ‘ کپڑوں کے اوپر پھر مکان کا غلاف اور پھر دیگر اشیائے ضرورت۔ اس طرح روح کے لیے جسم اور جسم کی ضروریات کے لیے تمام مادّی اشیاء یعنی اس دنیا کا سازو سامان سب کچھ اس میں شامل ہے۔ ہماری روح درحقیقت ان مادی غلافوں میں لپٹی ہوئی ہے۔ قیامت کے دن ارشاد ہوگا کہ آج تم ہمارے پاس اکیلے حاضر ہوئے ہو اور دنیا کی تمام چیزیں اپنے پیچھے چھوڑ آئے ہو۔ وَمَا نَرٰی مَعَکُمْ شُفَعَآءَ کُمُ الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ اَنَّہُمْ فِیْکُمْ شُرَکٰٓوءُ ‘ ا ط ان مجرم لوگوں کو جن جن کے بارے میں بھی زعم تھا کہ وہ ان کے لیے قیامت کے دِن شفاعت کریں گے وہ سب وہاں ان سے اعلان براءت کردیں گے۔ لات ‘ منات ‘ عزیٰ اور دوسرے معبود ان باطل تو کسی شمار و قطار ہی میں نہیں ہوں گے ‘ اس سلسلے میں انبیاء کرام علیہ السلام ‘ ملائکہ اور اولیاء اللہ سے لگائی گئی ان کی امیدیں بھی اس روز بر نہیں آئیں گی۔لَقَدْ تَّقَطَّعَ بَیْنَکُمْ وَضَلَّ عَنْکُمْ مَّا کُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ آج ان ہستیوں میں سے کوئی تمہارے ساتھ نظر نہیں آ رہا جن کی سفارش کی امید کے سہارے پر تم حرام خوریاں کیا کرتے تھے۔