Surah 57 · word by word

Surah 57, ayah 23

  1. لِّكَیْلَاتاکہ نہ
  2. تَاْسَوْاتم افسوس کرو
  3. عَلٰیاوپر
  4. مَااس کے جو
  5. فَاتَكُمْنقصان ہوا تم کو۔ کھو گیا تم سے
  6. وَلَااور نہ
  7. تَفْرَحُوْاتم خوش ہو
  8. بِمَاۤساتھ اس کے
  9. اٰتٰىكُمْ ؕجو اس نے دیا تم کو
  10. وَاللّٰهُاور اللہ
  11. لَانہیں
  12. یُحِبُّپسند کرتا
  13. كُلَّہر
  14. مُخْتَالٍخود پسند
  15. فَخُوْرِفخر جتانے والے کو

Translation and commentary

Tafheem-ul-Quran

(یہ سب کچھ اس لیے ہے) تاکہ جو کچھ بھی نقصان تمہیں ہو اس پر تم دل شکستہ نہ ہو اور جو کچھ اللہ تمہیں عطا فرمائے اس پر پھول نہ جاؤ1۔ اللہ ایسے لوگوں کو پسند نہیں کرتا جو اپنے آپ کو بڑی چیز سمجھتے ہیں اور فخر  جتاتے ہیں

Footnotes (the author's commentary)

  1. اس سلسلہ بیان میں یہ بات جس غرض کے لیے فرمائی گئی ہے اسے سمجھنے کے لیے ان حالات کو نگاہ میں لکھنا  چاہیے جو اس سورت کے نزول کے وقت اہل ایمان کو پیش آ رہے تھے ۔ ہر وقت دشمنوں کے حملے کا خطرہ، پے در پے لڑائیاں دائماً  محاصرہ کی سی کیفیت، کفار کے معاشی مقاطعہ کی وجہ سے سخت بد حالی، عرب کے گوشے گوشے میں ایمان لانے والوں پر کفار کا ظلم و ستم، یہ کیفیات تھیں جن سے مسلمان اس وقت گزر رہے تھے ۔ کفار ان کو مسلمانوں کے مخذول اور راندۂ درگاہ ہونے کی دلیل قرار دیتے تھے ۔ منافقین انہیں اپنے شکوک و شبہات کی تائید میں استعمال کرتے تھے ۔ اور مخلص اہل ایمان اگر چہ بڑی ثابت قدمی کے ساتھ ان حالات کا مقابلہ کر رہے تھے ، مگر بعض اوقات مصائب کا ہجوم ان کے لیے بھی انتہائی صبر آزما ہو جاتا تھا۔ اس پر مسلمانوں کو تسلی دینے کے لیے فرمایا جا رہا ہے کہ تم پر کوئی مصیبت بھی معاذاللہ تمہارے رب کی بے خبری میں نازل نہیں ہو گئی ہے ۔ جو کچھ پیش آ رہا ہے ، یہ سب اللہ کی طے شدہ اسکیم کے مطابق ہے جو پہلے سے اس کے دفتر میں لکھی ہوئی موجود ہے ۔ اور ان حالات سے تمہیں اس لیے گزارا جا رہا ہے کہ تمہاری تربیت پیش نظر ہے ۔ جو کار عظیم اللہ تعالیٰ تم سے لینا چاہتا ہے اس کے لیے یہ تربیت  ضروری ہے ۔ اس سے گزارے بغیر تمہیں کامیابی کی منزل پر پہنچا دیا جائے تو تمہاری سیرت میں وہ خامیاں باقی رہ جائیں گی جن کی بدولت نہ تم عظمتو اقتدار کی ثقیل خوراک ہضم کر سکو گے اور نہ باطل کی طوفان خیز موجوں کے تھپیڑے سہہ سکو گے ۔

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Bayan-ul-Quran

تاکہ تم افسوس نہ کیا کرو اس پر جو تمہارے ہاتھ سے جاتا رہے اور اس پر اترایا نہ کرو جو وہ تمہیں دے دے اور اللہ کو بالکل پسند نہیں ہیں اترانے والے اور فخر کرنے والے۔

Commentary

آیت 23{ لِّکَیْلَا تَاْسَوْا عَلٰی مَا فَاتَکُمْ } ”تاکہ تم افسوس نہ کیا کرو اس پر جو تمہارے ہاتھ سے جاتا رہے“ کوئی اچھا موقع ہاتھ سے نکل جانے پر انسان رہ رہ کر افسوس کرتا اور پچھتاتا ہے کہ اگر میں اس وقت یوں کرلیتا تو میرا یہ کام ہوجاتا ‘ اگر فلاں شخص فلاں وقت فلاں رکاوٹ کھڑی نہ کردیتا تو میں فلاں نقصان سے بچ جاتا وغیرہ وغیرہ۔ ایسے پچھتاوے بعض اوقات زندگی کا روگ بن جاتے ہیں۔ لیکن اگر اللہ اور اس کے فیصلوں پر انسان کا ایمان مضبوط ہو تو وہ اپنے بڑے سے بڑے نقصان کو بھی یہ کہہ کر بھلا دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو میرے حق میں ایسا ہی منظور تھا اور اس چیز کے میرے ہاتھ سے نکل جانے میں ہی خیر تھی ‘ کیونکہ میرے لیے کیا بہتر ہے اور کیا بہتر نہیں ہے اس کا علم تو اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔ سورة البقرۃ کی یہ آیت اس بارے میں بہت واضح ہے :{ وَعَسٰٓی اَنْ تَـکْرَہُوْا شَیْئًا وَّہُوَخَیْرٌ لَّــکُمْ وَعَسٰٓی اَنْ تُحِبُّوْا شَیْئًا وَّہُوَ شَرٌّ لَّــکُمْ وَاللّٰہُ یَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ۔ } ”اور ہوسکتا ہے کہ تم کسی شے کو ناپسند کرو اور وہ تمہارے لیے بہتر ہو ‘ اور ہوسکتا ہے کہ تم کسی چیز کو پسند کرو درآنحالیکہ وہی تمہارے لیے بری ہو۔ اور اللہ جانتا ہے ‘ تم نہیں جانتے۔“ { وَلَا تَفْرَحُوْا بِمَا اٰتٰٹـکُمْ وَاللّٰہُ لَا یُحِبُّ کُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرِ۔ } ”اور اس پر اترایا نہ کرو جو وہ تمہیں دے دے ‘ اور اللہ کو بالکل پسند نہیں ہیں اترانے والے اور فخر کرنے والے۔“ ایسی کسی صورت میں انسان کے لیے اترانے کا جواز اس لیے نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے جو کچھ بھی دیا جاتا ہے دراصل اس کی آزمائش کے لیے دیا جاتا ہے۔ اس حوالے سے ہمیں اس حقیقت کو کسی وقت بھی فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ اس دنیا میں ہمیں جو نعمت ‘ صلاحیت یا دولت ملتی ہے اس کے لیے ہمیں جواب دہ ہونا ہے۔ چناچہ جس انسان کے پاس دنیوی نعمتوں کی جس قدر بہتات ہوگی جوابدہی کے حوالے سے اس کی ذمہ داری بھی اسی حد تک بڑھ جائے گی۔ اکائونٹس کی زبان میں ایسی ذمہ داری کو liability کہا جاتا ہے۔ جب کسی محکمے یا ادارے کی balance sheet تیار ہوتی ہے تو اس ادارے کو ملنے والا سرمایہ liability کے کھاتے میں لکھا جاتا ہے۔ کھاتے میں liability کا اندراج ہوجانے کے بعد اس کی ایک ایک پائی کا حساب دینا اس ادارے کی ذمہ داری ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ انسان کو دنیا میں جو کچھ دیتا ہے وہ اس کے ذمہ liability ہے۔ کل قیامت کے دن اس میں سے ہرچیز کا آڈٹ ہونا ہے۔ اس دن اللہ تعالیٰ بندے سے پوچھے گا کہ تمہیں جو مال دیا گیا تھا بتائو اس کا تم نے کیا کیا ؟ میری طرف سے دی گئی قوت ‘ ذہانت اور دوسری صلاحیتوں کو کہاں کہاں صرف کیا ؟ دنیا بنانے میں کھپایا یا آخرت کمانے میں لگایا ؟ اس احتساب یا آڈٹ کا تصور کر کے ہم میں سے ہر ایک کو اپنے اپنے کھاتے کی فکر کرنی چاہیے۔ جیسے آج ہمارے بہت سے لوگ ورلڈ بینک ‘ آئی ایم ایف اور بین الاقوامی سطح کے دوسرے اداروں میں بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہیں اور لاکھوں ڈالر تنخواہ وصول کر رہے ہیں۔ ان کے نزدیک یقینا یہ بہت بڑے اعزاز اور فخر کی بات ہے ‘ لیکن ایسے لوگوں کو سوچنا چاہیے کہ وہ کس کی چاکری کر رہے ہیں ؟ اور کس کی رتھ میں گھوڑے بن کر جتے ہوئے ہیں ؟ ظاہر ہے وہ باطل نظام کی خدمت کر رہے ہیں اور اسی نظام سے اپنی خدمت کا معاوضہ وصول کر رہے ہیں۔ پھر ایسے لوگوں کو یہ بھی سوچنا چاہیے کہ آخرت کے آڈٹ کے وقت وہ اپنی balance sheet کو کیسے justify کریں گے۔ چناچہ انسان کو مال و دولت اور دوسری نعمتوں پر اترانے کے بجائے ان کے حساب کتاب کی فکر کرنی چاہیے اور یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ چیزیں اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش کے طور پر دی گئی ہیں۔ اگر وہ اس آزمائش میں ناکام ہوگیا تو یہی نعمتیں آخرت میں اس کے گلے کا طوق بن جائیں گی۔ اس حوالے سے امام احمد بن حنبل - کا ایک واقعہ بہت عبرت انگیز ہے۔ آپ رح کو خلیفہ وقت کی طرف سے ”خلق ِقرآن“ کے مسئلے پر جیل میں ڈالا گیا۔ خلیفہ آپ رح سے اپنی مرضی کا فتویٰ حاصل کرنا چاہتا تھا اور اس کے لیے خلیفہ کے حکم پر جیل میں آپ رح پر بےپناہ تشدد ہوا۔ روایات میں آتا ہے کہ جس انداز میں آپ رح کو پیٹا جاتا تھا ایسی مار کسی ہاتھی کو پڑتی تو وہ بھی بلبلا اٹھتا ‘ مگر اس بےرحم تشدد کو آپ رح نے ایسے حوصلے اور صبر سے برداشت کیا کہ کبھی آنکھوں میں آنسو تک نہ آئے۔ مگر جب نئے خلیفہ کے دور میں آپ رح کو جیل سے رہا کیا گیا اور خلیفہ کے ایلچی آپ رح کی خدمت میں اشرفیوں کے تھیلے لے کر حاضر ہوئے تو ان تھیلوں کو دیکھ کر آپ رح رو پڑے۔ آپ رح نے روتے ہوئے اللہ کے حضور عرض کی کہ اے اللہ ‘ یہ آزمائش بہت سخت ہے ! میں اس سے عہدہ برآ ہونے کے قابل نہیں ہوں ‘ مجھے اس امتحان میں مت ڈال ! اس حوالے سے دوسری انتہا پر برصغیر کے قوم فروشوں کی مثال بھی ہمارے سامنے ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ برصغیر میں انگریزوں نے بڑی بڑی جاگیروں ‘ عہدوں اور خطابات کے ذریعے یہاں کے لوگوں کو خریدا اور حکمرانوں کے ہاتھوں بکنے کے بعد وہ لوگ اپنی قوم سے غداری کر کے اپنے آقائوں کی حکومت کو مضبوط کرنے کے لیے جدوجہد کرتے رہے۔ بہرحال یہ ہر انسان کا اپنا فیصلہ ہے کہ اس کی ترجیح دنیا ہے یا آخرت ؟

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29

Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.

See this ayah on Mushaf page 540

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.

Sources & attribution