Surah 5 · word by word

Surah 5, ayah 41

  1. یٰۤاَیُّهَااے
  2. الرَّسُوْلُرسول
  3. لَانہ
  4. یَحْزُنْكَغمگین کریں آپ کو
  5. الَّذِیْنَوہ لوگ
  6. یُسَارِعُوْنَجو دوڑ دھوپ کرتے ہیں
  7. فِیمیں
  8. الْكُفْرِکفر
  9. مِنَسے
  10. الَّذِیْنَان لوگوں میں سے
  11. قَالُوْۤاجو کہتے ہیں
  12. اٰمَنَّاہم ایمان لائے
  13. بِاَفْوَاهِهِمْاپنے مونہوں سے
  14. وَلَمْحالانکہ نہیں
  15. تُؤْمِنْایمان لائے
  16. قُلُوْبُهُمْ ۛۚان کے دل
  17. وَمِنَاور میں سے
  18. الَّذِیْنَان لوگوں (میں سے)
  19. هَادُوْا ۛۚجو یہودی بن بیٹھے۔ یہودی ہوئے
  20. سَمّٰعُوْنَبہت زیادہ سننے والے ہیں
  21. لِلْكَذِبِجھوٹ کے لیے ۔ کو
  22. سَمّٰعُوْنَبہت زیادہ سننے والے ہیں
  23. لِقَوْمٍقوم کے لیے
  24. اٰخَرِیْنَ ۙدوسری (قوم کے لیے)
  25. لَمْنہیں
  26. یَاْتُوْكَ ؕوہ آتے آپ کے پاس
  27. یُحَرِّفُوْنَوہ پھیر دیتے ہیں
  28. الْكَلِمَباتوں کو
  29. مِنْNo meaning in the source
  30. بَعْدِبعد
  31. مَوَاضِعِهٖ ۚان کی جگہیں (مقرر ہونے کے)
  32. یَقُوْلُوْنَوہ کہتے ہیں
  33. اِنْاگر
  34. اُوْتِیْتُمْدیے جاؤ تم
  35. هٰذَایہ
  36. فَخُذُوْهُتو لے لو اس کو
  37. وَاِنْاور اگر
  38. لَّمْنہ
  39. تُؤْتَوْهُتم دیے جاؤ اس کو
  40. فَاحْذَرُوْا ؕتو چھوڑ دو ۔ بچو۔ محتاط رہو
  41. وَمَنْاور جس سے
  42. یُّرِدِارادہ کرلے
  43. اللّٰهُاللہ
  44. فِتْنَتَهٗاس کی آزمائش کا
  45. فَلَنْتو ہرگز نہیں
  46. تَمْلِكَتم مالک ہوسکتے
  47. لَهٗاس کے لیے
  48. مِنَسے
  49. اللّٰهِاللہ کی طرف
  50. شَیْـًٔا ؕکسی چیز کے
  51. اُولٰٓىِٕكَیہی لوگ
  52. الَّذِیْنَوہ لوگ ہیں
  53. لَمْنہیں
  54. یُرِدِارادہ رکھتا
  55. اللّٰهُاللہ
  56. اَنْکہ
  57. یُّطَهِّرَپاک کرے
  58. قُلُوْبَهُمْ ؕان کے دلوں کو
  59. لَهُمْان کے لیے
  60. فِیمیں
  61. الدُّنْیَادنیا
  62. خِزْیٌ ۖۚرسوائی ہے
  63. وَّلَهُمْاور ان کے لیے
  64. فِیمیں
  65. الْاٰخِرَةِآخرت میں
  66. عَذَابٌعذاب ہے
  67. عَظِیْمٌبڑا

Translation and commentary

Tafheem-ul-Quran

اے پیغمبرؐ ! تمہارے لیے باعث رنج نہ ہوں وہ لوگ جو کفر کی راہ میں بڑی تیزگامی دکھا رہے ہیں۔1 خواہ وہ اُن میں سے ہوں جو منّہ سے کہتے ہیں، ہم ایمان لائے مگر دل اُن کے ایمان نہیں لائے، یا اُن میں سے ہوں جو یہودی بن گئے ہیں، جن کا حال یہ ہے کہ جُھوٹ کے لیے کان لگاتے ہیں،2 اور دُوسرے لوگوں کی خاطر، جو تمہارے پاس کبھی نہیں آئے، سُن گُن لیتے پھرتے ہیں،3 کتاب اللہ کے الفاظ کو اُن کا صحیح محل متعیّن ہونے کے باوجود اصل معنی سے پھیرتے ہیں،4 اور لوگوں سے کہتے ہیں کہ اگر تمہیں یہ حکم دیا جائے تو مانو، نہیں تو نہ مانو۔5 جسے اللہ ہی نے فتنہ میں ڈالنے کا ارادہ کرلیاہو اس کو اللہ کی گرفت سے بچانے کے لیے تم کچھ نہیں کرسکتے،6یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے پاک کرنا نہ چاہا،7 ان کے لیے دُنیا میں رُسوائی ہے اور آخرت میں سخت سزا

Footnotes (the author's commentary)

  1. یعنی جن کی ذہانتیں اور سرگرمیاں ساری کی ساری اس کوشش میں صرف ہو رہی ہیں کہ جاہلیت کی جو حالت پہلے سے چلی آرہی ہے وہی برقرار  رہے اور اسلام کی یہ اصلاحی دعوت اُس بگاڑ کو درست کرنے میں کامیاب نہ ہونے پائے۔ یہ لوگ  تمام اخلاقی بندشوں سے آزاد ہو کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ہر قسم کی رکیک سے رکیک چالیں چل رہے تھے۔ جان بُوجھ کر حق نِگل رہے تھے۔ نہایت بے باکی و جسارت کے ساتھ جھُوٹ ، فریب ، دغا اور مکر کے ہتھیاروں سے اُس پاک  انسان کے کام کو شکست دینے کی کوشش کر رہے تھے جو کام بے غرضی کے ساتھ سراسر خیر خواہی کی بنا پر عام انسانوں کی اور خود اُن کی فلاح و بہبُود کے لیے شب و روز محنت کر رہا تھا۔ اُن کی اِن حرکات کو دیکھ دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دل کُڑھتا تھا ، اور یہ کُڑھنا بالکل فطری امر تھا۔ جب کسی پاکیزہ انسان کو پست اخلاق لوگوں سے سابقہ پیش آتا ہے اور وہ محض اپنی جہالت اور خود غرضی و تنگ نظری کی بنا پر  اس کی  خیر خواہانہ مساعی کو روکنے کے لیے گھٹیا درجہ کی چال بازیوں سے کام لیتے  ہیں تو فطرۃً اُس کا دل  دُکھتا ہی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کے ارشاد کا منشا یہ نہیں ہے کہ اِن حرکات پر جو فطری رنج آپ کو ہوتا ہے وہ نہ ہونا چاہیے۔ بلکہ منشاء دراصل یہ ہے کہ اس سے آپ دل شکستہ نہ ہوں، ہمت نہ ہاریں، صبر کے ساتھ بندگانِ خدا کی اصلاح کے لیے کام کیے چلے جائیں۔ رہے یہ لوگ، تو جس قسم کے ذلیل اخلاق انہوں نے اپنے اندر پرورش کیے ہیں اُن کی بنا پر یہ روش ان سے عین متوقع ہے، کوئی چیز اِن کی اس روش  میں خلاف توقع نہیں ہے۔

  2. اس کے دو مطلب ہیں: ایک یہ کہ یہ لوگ چونکہ خواہشات کے بندے بن گئے ہیں اس لیےسچائی سے انہیں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ جُھوٹ ہی انہیں پسند آتا ہے اور اسی کو یہ جی لگا کر سُنتے ہیں ، کیونکہ ان کے نفس کی پیاس اُسی سے بُجھتی ہے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کی مجلسوں میں یہ جھُوٹ کی غرض سے آکر بیٹھتے ہیں تاکہ یہاں جو کچھ دیکھیں اور جو باتیں سُنیں اُن کو اُلٹے معنی پہنا کر یا ان کے ساتھ اپنی طرف سے غلط باتوں کی آمیزش کر کے آنحضرت ؐ اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لیے لوگوں میں پھیلائیں۔

  3. اس کے بھی دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ جاسوس بن کر آتے ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کی مجلسوں میں اس لیے گشت لگاتے پھرتے ہیں کہ کوئِ راز کی بات کان میں پڑے تو اسے آپ کے دُشمنوں تک پہنچائیں۔ دُوسرے یہ کہ جھُوٹے الزامات  عائد کرنے اور افترا پردازیاں کرنے کے لیے مواد فراہم کرتے پھرتے ہیں تاکہ اُن لوگوں میں بدگمانیاں اور غلط فہمیاں پھیلائیں جن کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں سے براہِ راست تعلقات پیدا کرتے کا موقع نہیں ملا ہے۔

  4. یعنی توراۃ کے جو احکام ان کی خواہشات کے مطابق نہیں ہیں۔ ان کے اندر جان بُوجھ کر ردو بدل کرتے ہیں اور الفاظ کے معنی بدل کر من مانے احکام ان سے نکالتے ہیں۔

  5. یعنی جاہل عوام سے کہتے ہیں کہ جو حکم ہم بتا رہے ہیں ، اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی یہی حکم تمہیں بتائیں تو اسے قبول کرنا ورنہ رد کر دینا۔

  6. “اللہ کی طرف سے کسی کے فتنہ میں ڈالے جانے کا مطلب یہ ہے کہ جس شخص کے اندر اللہ تعالیٰ کسی قسم کے بُرے میلانات پرورش  پاتے دیکھتا ہے اس کےسامنے پے در پے ایسے مواقع لاتا ہے جن میں اس کی سخت آزمائش ہوتی ہے۔ اگر وہ شخص ابھی بُرائی کی طرف پوری طرح نہیں جھکا ہے تو ان آزمائشوں سے سنبھل جاتا ہے اور اس کے اندر بدی کا مقابلہ کرنے کے لیے نیکی کی جو قوتیں موجود ہوتی ہیں وہ اُبھر آتی ہیں۔ لیکن اگر وہ بُرائی کی طرف پُوری طرح جھُک چکا ہوتا ہے اور اس کی نیکی اس کی بدی سے اندر ہی شکست کھا چکی ہوتی ہے تو ہر ایسی آزمائش کے موقع پر وہ اور زیادہ بدی کے پھندے میں پھنستا چلا جاتا ہے۔ یہی اللہ تعالیٰ کا وہ فتنہ ہے جس سے کسی بگڑتے ہوئے انسان کو بچا لینا اس کے کسی خیر خواہ کے بس میں  نہیں ہوتا۔ اور اس فتنہ میں صرف  افراد ہی نہیں ڈالے جاتے بلکہ قومیں بھی ڈالی جاتی ہیں۔

  7. اس لیے کہ انہوں نے خود پاک ہونا نہ چاہا۔ جو خود پاکیزگی کا خواہش مند ہوتا ہے اور اس کے لیے کوشش کرتا ہے اُسے پاکیزگی سے محرُوم کرنا اللہ کا دستور نہیں ہے ۔ اللہ پاک کرنا اُسی کو نہیں چاہتا جو خود پاک ہونا نہ چاہے۔

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Bayan-ul-Quran

اے نبی ﷺ یہ لوگ آپ کے لیے باعث رنج نہ ہوں جو کفر کی راہ میں بہت بھاگ دوڑ کر رہے ہیں ان لوگوں میں سے جو اپنے منہ سے تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان رکھتے ہیں مگر ان کے دل ایمان نہیں لائے ہیں اور اسی طرح کے لوگ یہودیوں میں سے بھی ہیں یہ بڑے ہی غور سے سنتے ہیں جھوٹ کو اور یہ سنتے ہیں کچھ اور لوگوں کی خاطر جو آپ کے پاس نہیں آتے وہ کلام کو پھیر دیتے ہیں اس کی جگہ سے اس کا موقع ومحل معیّن ہوجانے کے بعد وہ کہتے ہیں اگر تمہیں یہی (فیصلہ) مل جائے تو قبول کرلینا اور اگر یہ (فیصلہ) نہ ملے تو کنی کترا جانایہ وہ لوگ ہیں کہ جن کے دلوں کو اللہ نے پاک کرنا چاہا ہی نہیں ان کے لیے دنیا میں بھی رسوائی ہے اور آخرت میں بھی ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے

Commentary

آیت 41 یٰٓاَ یُّہَا الرَّسُوْلُ لاَ یَحْزُنْکَ الَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْْکُفْرِ مِنَ الَّذِیْنَ قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِاَفْوَاہِہِمْ وَلَمْ تُؤْمِنْ قُلُوْبُہُمْ ج۔ آپ ﷺ ان لوگوں کی سرگرمیوں اور بھاگ دوڑ سے غمگین اور رنجیدۂ خاطر نہ ہوں۔وَمِنَ الَّذِیْنَ ہَادُوْا ج سَمّٰعُوْنَ لِلْکَذِبِ سَمّٰعُوْنَ لِقَوْمٍ اٰخَرِیْنَ لا لَمْ یَاْتُوْکَ ط یعنی ایک تو یہ لوگ اپنے شیاطین کی جھوٹی باتیں بڑی توجہ سے سنتے ہیں ‘ جیسے سورة البقرۃ آیت 14 میں فرمایا : وَاِذَا لَقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْٓا اٰمَنَّاج وَاِذَا خَلَوْا اِلٰی شَیٰطِیْنِہِمْ لا قالُوْٓا اِنَّا مَعَکُمْ لا اِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَہْزِءُ وْنَ پھر یہ لوگ ان کی طرف سے جاسوس بن کر مسلمانوں کے ہاں آتے ہیں کہ یہاں سے سن کر ان کو رپورٹ دے سکیں کہ آج محمد ﷺ نے یہ کہا ‘ آج آپ ﷺ کی مجلس میں فلاں معاملہ ہوا۔ سَمّٰعُوْنَ لِقَوْمٍ اٰخَرِیْنَ کا ترجمہ دونوں طرح سے ہوسکتا ہے : دوسری قوم کے لوگوں کی باتوں کو بڑی توجہ سے سنتے ہیں یا سنتے ہیں دوسری قوم کے لوگوں کے لیے یعنی انہیں رپورٹ کرنے کے لیے ان کے جاسوس کی حیثیت سے۔ ان کے جو لیڈر اور شیاطین ہیں ‘ وہ آپ ﷺ کے پاس خود نہیں آتے اور یہ جو بین بین کے لوگ ہیں یہ آپ ﷺ کے پاس آتے ہیں اور ان کے ذریعے سے جاسوسی کا یہ سارا معاملہ چل رہا ہے۔یُحَرِّفُوْنَ الْکَلِمَ مِنْم بَعْدِ مَوَاضِعِہٖ ج یَقُوْلُوْنَ اِنْ اُوْتِیْتُمْ ہٰذَا فَخُذُوْہُ وَاِنْ لَّمْ تُؤْتَوْہُ فَاحْذَرُوْا ط اہل کتاب کے سرداروں کو اگر کسی مقدمے کا فیصلہ مطلوب ہوتا تو اپنے لوگوں کو رسول ‘ اللہ ﷺ کے پاس بھیجتے اور پہلے سے انہیں بتا دیتے کہ اگر فیصلہ اس طرح ہو تو تم قبول کرلینا ‘ ورنہ رد کردینا۔ واضح رہے کہ مدینہ منورہ میں اسلامی ریاست اور پورے طور پر ایک ہمہ گیر اسلامی حکومت دراصل فتح مکہ کے بعد قائم ہوئی اور یہ صورت حال اس سے پہلے کی تھی۔ ورنہ کسی ریاست میں دوہرا عدالتی نظام نہیں ہوسکتا۔ یہی وجہ تھی کہ یہ لوگ جب چاہتے اپنے فیصلوں کے لیے حضور ﷺ کے پاس آجاتے اور جب چاہتے کسی اور کے پاس چلے جاتے تھے۔ گویا بیک وقت دو متوازی نظام چل رہے تھے۔ اسی لیے تو وہ لوگ یہ کہنے کی جسارت کرتے تھے کہ یہ فیصلہ ہوا تو قبول کرلینا ‘ ورنہ نہیں۔وَمَنْ یُّرِدِ اللّٰہُ فِتْنَتَہٗ فَلَنْ تَمْلِکَ لَہٗ مِنَ اللّٰہِ شَیْءًا ط اور جس کو اللہ ہی نے فتنے میں ڈالنے کا ارادہ کرلیا ہو تو تم اس کے لیے اللہ کے مقابلے میں کچھ بھی اختیار نہیں رکھتے۔

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29

Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.

See this ayah on Mushaf page 114

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Meanings are shown as the source gives them, one per word. 1 word in this ayah has no meaning in the source and is left empty. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.

Sources & attribution