- وَقَالَاور کہا
- الَّذِیْنَان لوگوں نے
- كَفَرُوْاجنہوں نے کفر کیا
- لِلَّذِیْنَان لوگوں سے
- اٰمَنُوْاجو ایمان لائے
- لَوْاگر
- كَانَہوتا وہ
- خَیْرًااچھا
- مَّانہ
- سَبَقُوْنَاۤوہ سبقت لے جاتے ہم پر
- اِلَیْهِ ؕطرف اس کے
- وَاِذْاور جبکہ
- لَمْنہیں
- یَهْتَدُوْاانہوں نے ہدایت پائی
- بِهٖساتھ اس کے
- فَسَیَقُوْلُوْنَتو عنقریب وہ کہیں گے
- هٰذَاۤیہ
- اِفْكٌجھوٹ ہے
- قَدِیْمٌپرانا
Surah 46 · word by word
Surah 46, ayah 11
Translation and commentary
Tafheem-ul-Quran
جن لوگوں نے ماننے سے انکار کر دیا ہے وہ ایمان لانے والوں کے متعلق کہتے ہیں کہ اگر اس کتاب کو مان لینا کوئی اچھا کام ہوتا تو یہ لوگ اس معاملے میں ہم سے سبقت نہ لے جا سکتے تھے۔1 چونکہ اِنہوں نے اُس سے ہدایت نہ پائی اس لیے اب یہ ضرور کہیں گے کہ یہ تو پُرانا جھُوٹ ہے۔2
Footnotes (the author's commentary)
-
یہ ان دلائل میں سے ایک ہے جو قریش کے سردار عوام الناس کو نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے خلاف بہکا نے کیے لیے استعمال کر تے تھے۔ ان کا کہنا یہ تھا کہ اگر یہ قرآن بر حق ہوتا اور محمد( صلی اللہ علیہ و سلم) ایک صحیح بات کی طرف دعوت دے رہے ہوتے تو قوم کے سردار اور شیو خ اور معز ز ین آگے بڑ ھ کر اس کو قبول کرتے۔ آخر یہ کیسے ہو سکتا ہو کتا ہے کہ چند نا تجربہ کار لڑکے اور چند ادبی درجہ کے غلام تو ایک معقول بات کو مان لیں اور قوم کے بڑے بڑ ے لوگ، جو دانا اور جہاندیدہ ہیں، اور جن کی عقل و تدبیر پر آ ج تک قوم اعتماد کر تی رہی ہے، اس کو رد کر دیں۔ اس پر فریب استدلال سے وہ عوام کو مطمئن کرنے کی کو شش کرتے تھے کہ اس نئی دعوت میں خرابی ہے، اسی لیے تو قوم کے اکابر اس کو نہیں مان رہے ہیں، لہذا تم لو گ بھی اس سے دور بھا گو۔
-
یعنی ان لوگوں نے اپنے آپ کو حق و باطل کا معیار قرار دے رکھا ہے۔ یہ سمجھتے ہیں کہ جس ہدایت کو یہ قبول نہ کریں وہ ضرور ضلالت ہی ہونی چاہیے۔ لیکن یہ اسے ’’ نیا جھوٹ‘‘ کہنے کی ہمت نہیں رکھتے، کیونکہ اس سے پہلے بھی انبیاء علیہم السلام یہی تعلیمات پیش کرتے رہے ہیں، اور تمام کتب آسمانی جو اہل کتاب کے پاس موجود ہیں، ان ہی عقائد اور ان ہی ہدایات سے بھری ہوئی ہیں۔ اس لیے یہ اسے ’’پرانا جھوٹ‘‘ کہتے ہیں۔ گویا ان کے نزدیک وہ سب لوگ بھی دانائی سے محروم تھے جو ہزاروں برس سے ان حقائق کو پیش کرتے اور مانتے چلے آ رہے ہیں، اور تمام دانائی صرف انکے حصے میں آ گئی ہے۔
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.
See this ayah on Mushaf page 503
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.