Surah 46 · word by word

Surah 46, ayah 10

  1. قُلْکہہ دیجیے
  2. اَرَءَیْتُمْکیا سوچا تم نے
  3. اِنْاگر
  4. كَانَہے وہ
  5. مِنْسے
  6. عِنْدِطرف (سے)
  7. اللّٰهِاللہ کی
  8. وَكَفَرْتُمْاور کفر کیا تم نے
  9. بِهٖساتھ اس کے
  10. وَشَهِدَاور گواہی دے چکا
  11. شَاهِدٌایک گواہ
  12. مِّنْسے
  13. بَنِیْۤبنی
  14. اِسْرَآءِیْلَاسرائیل میں سے
  15. عَلٰیاوپر
  16. مِثْلِهٖاس کی مانند کے
  17. فَاٰمَنَپس وہ ایمان لے آیا
  18. وَاسْتَكْبَرْتُمْ ؕاور تم نے تکبر کیا
  19. اِنَّبیشک
  20. اللّٰهَاللہ تعالیٰ
  21. لَانہیں
  22. یَهْدِیہدایت دیتا
  23. الْقَوْمَقوم کو
  24. الظّٰلِمِیْنَظالم

Translation and commentary

Tafheem-ul-Quran

اے نبی ؐ ، ان سے کہو”کبھی تم نے سوچا بھی کہ اگر یہ کلام اللہ ہی کی طرف سے ہوا  اور تم نے اِس کا انکار کر دیا(تو تمہارا کیا انجام ہو گا)؟1 اور اِس جیسے ایک کلام پر تو بنی اسرائیل کا ایک گواہ شہادت بھی دے چکا ہے۔ وہ ایمان لے آیا اور تم اپنے گھمنڈ میں پڑے رہے۔2 ایسے ظالموں کو اللہ ہدایت نہیں دیا کرتا۔“

Footnotes (the author's commentary)

  1. یہ وہی مضمون ہے جو اس سے پہلے ایک دوسرے طریقہ سے سورہ حٰم السجدہ، آیت 52 میں گزر چکا ہے۔ تشریح کے لیے ملاحظہ ہو جلد چہارم، تفسیر سورہ مذکور، حاشیہ 69۔

  2. مفسرین کے ایک بڑے گروہ نے اس گواہ سے مراد حضرت عبداللہ بن سلام کو لیا ہے جو مدینہ طیبہ کے مشہور یہودی عالم تھے اور ہجرت کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر ایمان لائے۔ یہ واقعہ چونکہ مدینی میں پیش آیا تھا اس لیے ان مفسرین کا قول یہ ہے کہ یہ آیت مدنی ہے۔ اس تفسیر کی بنیاد حضرت سعد بن ابی وقاص کا یہ بیان ہے کہ یہ آیت حضرت عبداللہ بن سلام کے بارے میں نازل ہوئی تھی (بخار، مسلم، نسائی، ابن جریر)، اور اسی بنا پر ابن عباس، مجاہد، قتادہ، ضحاک، ابن سیرین، حسن بصری، ابن زید، اور عوف بن مالک الاشجعی  جیسے متعدد اکابر مفسرین نے اس تفسیر کو قبول کیا ہے۔ مگر دوسری طرف عکرمہ اور شعبی اور مسروق کہتے ہیں کہ یہ آیت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے بارے میں نہیں ہو سکتی کیونکہ یہ پوری سورۃ مکی ہے۔ ابن جریر طبری نے بھی اسی قول کو ترجیح دی ہ اور ان کا کہنا یہ ہے اوپر سے سارا سلسلہ کلام مشرکین مکہ کو مخاطب کرتے ہوئے چلا آ رہا ہے اور آگے بھی سارا خطاب انہی سے ہے، اس سیاق و سباق میں یکایک مدینے میں نازل ہونے والی ایک آیت کا آ جانا قابل تصور نہیں ہے۔ بعد کے جن مفسرین نے اس دوسرے قول کو قبول کیا ہے وہ حضرت سعد بن ابی وقاص کی روایت کو رد نہیں کرتے، بلکہ ان کا خیال یہ ہے کہ یہ آیت چونکہ حضرت عبداللہ بن سلام کے ایمان لانے پر بھی چسپاں ہوتی ہے، اس لیے حضرت سعد نے قُدَماء کی عادت کے مطابق یہ فرمان دیا کہ یہ ان کے برے میں نازل ہوئی۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جب وہ ایمان لائے اس وقت ان ہی کے بارے میں یہ نازل ہوئی، بلکہ اس مطلب صرف یہ ہے کہ وہ اس آیت کے ٹھیک ٹھیک مصداق ہیں اور ان کے قبول ایمان پر یہ پوری طرح چسپاں ہوتی ہے۔ بظاہر یہی دوسرا قول زیادہ صحیح اور معقول محسوس ہوتا ہے۔ اس کے بعد یہ سوال حل طلب وہ جاتا ہے کہ اس ’’گواہ‘‘ سے مراد کون ہے۔ جن مفسرین نے اس دوسرے قول کو اختیار کیا ہے ان میں سے بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد موسیٰ علیہ السلام ہیں لیکن بعد کا یہ فقرہ کہ’’ وہ ایمان لے آیا اور تم اپنے گھمنڈ میں پڑے رہے‘‘۔ اس تفسیر کے ساتھ کوئی مناسبت نہیں رکھتا۔زیادہ صحیح بات وہی معلوم ہو تی ہے جو مفسر نیسا پوری اور ابن کثیر نے بیان کی ہے کہ یہاں گواہ سے مراد کو ئ شخص  نہیں، بلکہ بنی اسرائیل کا عام آدمی ہے۔ ارشاد الہی کا مدعا یہ ہے کہ قرآن مجید جو تعلیم تمہارے سامنے پیش کر رہا ہے یہ کو ئ انوکھی  چیز بھی نہیں ہے دنیا میں پہلی مرتبہ تمھارے ہی سامنے پیش کی گئی ہو اور تم یہ عذر  کر سکو ہم یہ نرالی باتیں کیسے مان لیں جو نوع انسانی کے سامنے کبھی آ ئ ہی نہ تھیں۔ اس سے پہلے یہی تعلیمات اسی طرح وحی کے ذریعہ سے بنی اسرائیل کے سامنے تو ر ا ۃ اور دوسرے کتب آسمانی کی شکل میں آ چکی ہیں ایک عام آ دمی ان کو مان چکا ہے، اور یہ بھی تسلیم کر چکا ہے کہ اللہ کی وحی ان تعلیمات کے نزول کا ذریعہ ہے۔ اس لیے تم لوگ یہ دعوی نہیں کر سکتے کہ وحی اور یہ تعلیمات ناقابل فہم چیزیں ہیں۔ اصل بات صرف یہ ہے کہ تمہارا غرور و تکبر اور بے بنیاد و گھمنڈ ایمان لانے میں مانع ہے۔

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.

See this ayah on Mushaf page 503

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.

Sources & attribution