- وَقَالُوْااور انہوں نے کہا
- مَانہیں
- هِیَہے یہ
- اِلَّامگر
- حَیَاتُنَاہماری زندگی
- الدُّنْیَادنیا کی
- نَمُوْتُہم مریں گے
- وَنَحْیَااور ہم جئیں گے
- وَمَااور
- یُهْلِكُنَاۤہلاک کرتا ہم کو
- اِلَّامگر
- الدَّهْرُ ۚزمانہ
- وَمَااور نہیں
- لَهُمْان کے لیے
- بِذٰلِكَاس کا
- مِنْکوئی
- عِلْمٍ ۚعلم
- اِنْنہیں
- هُمْوہ
- اِلَّامگر
- یَظُنُّوْنَوہ گمان کرتے ہیں
Surah 45 · word by word
Surah 45, ayah 24
Translation and commentary
Tafheem-ul-Quran
یہ لوگ کہتے ہیں کہ ”زندگی بس یہی ہماری دنیا کی زندگی ہے ، یہیں ہمارا مرنا اور جینا ہے اور گردشِ ایام کے سوا کوئی چیز نہیں جو ہمیں ہلاک کرتی ہو۔“ درحقیقت اِس معاملہ میں اِن کے پاس کو ئی علم نہیں ہے۔ یہ محض گمان کی بنا پر یہ باتیں کرتے ہیں۔1
Footnotes (the author's commentary)
-
یعنی کوئی ذریعہ علم ایسا نہیں ہے جس سے ان کو بتحقیق یہ معلوم ہو گیا ہو کہ اس زندگی کے بعد انسان کے لی کوئی دوسرے زندگی نہیں ہے، اور یہ بات بھی انہیں معلوم ہو گئی ہو کہ انسان کی روح کسی خدا کے حکم سے قبض نہیں کی جاتی ہے بلکہ آدمی محض گردش ایام سے مر کر فنا ہو جاتا ہے۔ منکرین آخرت یہ باتیں کسی علم کی بنا پر نہیں بلکہ محض گمان کی بنا پر کرتے ہیں۔ علمی حیثیت سے اگر وہ بات کریں تو زیادہ سے زیادہ جو کچھ کہہ سکتے ہیں وہ بس یہ ہے کہ ’’ ہم نہیں جانتے کہ مرنے کے بعد کوئی زندگی ہے یا نہیں‘‘، لیکن یہ ہر گز نہیں کہہ سکتے کہ ’’ ہم جانتے ہیں کہ اس زندگی کے بعد کوئی دوسری زندگی نہیں ہے۔‘‘ اسی طرح علمی طریقہ پر وہ یہ جاننے کا دعویٰ نہیں کر سکتے کہ آدمی کی روح خدا کے حکم سے نکالی نہیں جاتی ہے بلکہ وہ محض اس طرح مر کر ختم ہو جاتا ہے جیسے ایک گھڑی چلتے چلتے رک جائے۔ زیادہ سے زیادہ جو کچھ وہ کہہ سکتے ہیں وہ صرف یہ ہے کہ ہم ان دونوں میں سے کسی کے متعلق یہ نہیں جانتے کہ فی الواقع کیا صورت پیش آتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ جب انسانی ذرائع علم کی حد تک زندگی بعد موت کے ہونے یا نہ ہونے، اور قبض روح واقع ہونے یا گردش ایام سے آپ ہی آپ مر جانے کا یکساں احتمال ہے، تو آخر کیا وجہ ہے کہ یہ لوگ امکان آخرت کے احتمال کو چھوڑ کر حتمی طور پر انکار آخرت کے حق میں فیصلہ کر ڈالتے ہیں۔ کیا اس کی وجہ اس کے سوا کچھ اور ہے کہ دراصل اس مسئلے کا آخری فیصلہ وہ دلیل کی بنا پر نہیں بلکہ اپنی خواہش کی بنا پر کرتے ہیں؟ چونکہ اس کا دل یہ نہیں چاہتا کہ مرنے کے بعد کوئی زندگی ہو اور موت کی حقیقت نیستی اور عدم نہیں بلکہ خدا کی طرف سے قبض روح ہو، اس لیے وہ اپنے دل کی مانگ کو اپنا عقیدہ بنا لیتے ہیں اور دوسری بات کا انکار کر دیتے ہیں۔
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Bayan-ul-Quran
وہ کہتے ہیں کہ نہیں ہے (کوئی اور زندگی) سوائے ہماری دنیا کی زندگی کے ہم خود ہی مرتے ہیں اور خود ہی جیتے ہیں اور ہمیں نہیں ہلاک کرتا مگر زمانہ حالانکہ ان کے پاس (اس بارے میں) کوئی علم نہیں ہے وہ تو صرف ظن سے کام لے رہے ہیں
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29
Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.
See this ayah on Mushaf page 500
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.
Commentary
آیت 24 { وَقَالُوْا مَا ہِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَنَحْیَا } ”وہ کہتے ہیں کہ نہیں ہے کوئی اور زندگی سوائے ہماری دنیا کی زندگی کے ‘ ہم خود ہی مرتے ہیں اور خود ہی جیتے ہیں“ اس ایک جملے میں یوں سمجھئے کہ دہریت اور مادّیت Materialism کی پوری حقیقت سمو دی گئی ہے۔ اس فلسفے کے مطابق اس کائنات کی اصل اور سب سے بڑی حقیقت مادّہ matter ہے ‘ مادّے کے علاوہ کسی اور شے کا کوئی وجود نہیں ‘ مادّے کی اپنی صفات ہیں ‘ کائنات میں جہاں کہیں بھی کوئی چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی تبدیلی آتی ہے وہ مادّے کی ہیئت میں تبدیلیوں physical and chemical changes کے باعث ہی ممکن ہے۔ یہ کائنات مادّے سے خود ہی وجود میں آئی تھی اور مادّے کے اٹل قوانین کے باعث خود ہی چل رہی ہے۔ انسانی زندگی بھی انہی اٹل قوانین کے تابع ہے۔ انہی لگے بندھے قوانین کے تحت انسان پیدا ہوتے ہیں ‘ اپنی طبعی عمر کے مطابق زندہ رہتے ہیں اور مرجاتے ہیں۔ نہ تو مرنے کے بعد انسان دوبارہ زندہ ہوسکتا ہے اور نہ ہی اس زندگی کے بعد کسی اور زندگی کا کوئی امکان ہے۔ یہ فلسفہ دہریت کے بنیادی نکات ہیں ‘ جبکہ تجربیت پسندی بحیثیت نظریہ علم Empiricism اور منطقی اثباتیت Logical Positivism بھی اسی فلسفے کی ذیلی شاخیں ہیں اور مذکورہ نکات ان سب کے ہاں مشترک ہیں۔ { وَمَا یُہْلِکُنَآ اِلَّا الدَّہْرُ } ”اور ہمیں نہیں ہلاک کرتا مگر زمانہ“ کہ ہم تو محض زمانے کی گردش سے ہلاک ہوتے ہیں۔ نہ تو کوئی اللہ ہے جو انسانوں کی موت کے پروانے جاری کرتا ہو اور نہ ہی کسی فرشتے وغیرہ کا کوئی وجود ہے جو آکر کسی کی جان قبض کرتا ہو۔ { وَمَا لَہُمْ بِذٰلِکَ مِنْ عِلْمٍج اِنْ ہُمْ اِلَّا یَظُنُّوْنَ } ”حالانکہ ان کے پاس اس بارے میں کوئی علم نہیں ہے ‘ وہ تو صرف ظن سے کام لے رہے ہیں۔“ محض اٹکل کے تیر ُ تکے ّچلا رہے ہیں۔