Surah 45 · word by word

Surah 45, ayah 23

  1. اَفَرَءَیْتَکیا پھر تم نے دیکھا
  2. مَنِجس نے
  3. اتَّخَذَبنا لیا
  4. اِلٰهَهٗاپنا الہ
  5. هَوٰىهُاپنی خواہش نفس کو
  6. وَاَضَلَّهُاور بھٹکا دیا اس کو
  7. اللّٰهُاللہ نے
  8. عَلٰیباوجود
  9. عِلْمٍعلم کے
  10. وَّخَتَمَاور مہر لگا دی
  11. عَلٰیپر
  12. سَمْعِهٖاس کے کان
  13. وَقَلْبِهٖاور اس کے دل پر
  14. وَجَعَلَاور اس نے ڈال دیا
  15. عَلٰیپر
  16. بَصَرِهٖاس کی آنکھ
  17. غِشٰوَةً ؕایک پردہ
  18. فَمَنْتو کون
  19. یَّهْدِیْهِہدایت دے گا اس کو
  20. مِنْNo meaning in the source
  21. بَعْدِبعد کیا
  22. اللّٰهِ ؕاللہ کے
  23. اَفَلَابھلا نہیں
  24. تَذَكَّرُوْنَتم نصیحٹ پکڑتے

Translation and commentary

Tafheem-ul-Quran

پھر کیا تم نے کبھی اُس شخص کے حال پر بھی غور کیا جس نے اپنی خواہشِ نفس کو اپنا خدا بنا لیا 1 اور اللہ نے علم کے باوجود2 اُسے گمراہی میں پھینک دیا اور اُس کے دل اور کانوں پر مُہر لگا دی اور اُس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا؟3 اللہ کے  بعد اب اور کون ہے جو اُسے ہدایت دے؟ کیا تم لوگ کوئی سبق نہیں لیتے؟4

Footnotes (the author's commentary)

  1. خواہش نفس کو خدا بنا لینے سے مراد یہ ہے کہ آدمی اپنی خواہش کا بندہ بن کر رہ جائے۔ جس کام کو اس کا دل چاہے اسے کر گزرے، خواہ خدا نے اسے حرام کیا ہو، اور جس کام کو اس کا دل نہ چاہے اسے نہ کرے، خواہ خدا نے اسے فرض کر دیا ہو۔ جب آدمی اس طرح کسی کی اطاعت کرنے لگے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کا معبود خدا نہیں ہے بلکہ وہ ہے جس کی وہ اس طرح اطاعت کر رہا ہے، قطع نظر اس سے کہ وہ زبان سے اس کو اپنا اِلٰہ اور معبود کہتا ہو یا نہ کہتا ہو، اور اس کا بت بنا کر اس کی پوجا کرتا ہو یا نہ کرتا ہو۔ اس لیے کہ ایسی بے چوں چرا اطاعت ہی اس کے معبود بن جانے کے لیے کافی ہے اور اس عملی شرک کے بعد ایک آدمی صرف اس بنا پر شرک کے جرم سے بری نہیں ہو سکتا کہ اس نے اپنے اس  مطاع کو زبان سے معبود نہیں کہا ہے اور سجدہ اس کو نہیں کیا ہے۔ اس آیت کی یہی تشریح دوسرے اکابر مفسرین نے بھی کی ہے۔ ان جریر اس کا مطلب یہ بیان کرتے ہیں کہ ’’ اس نے اپنی خواہش نفس کو معبود بنا لیا۔ جس چیز کی نفس نے خواہش کی اس کا ارتکاب کر گزرا۔ نہ اللہ کے حرام کیے ہوئے کو حرام کیا، نہ اس کے حلال کیے ہوئے کو حلال کیا۔‘‘ ابوبکر جصاص اس کے معنی یہ بیان کرتے ہیں کہ ’’ وہ خواہش نفس کی اس طرح اطاعت کرتا ہے جیسے کوئی خدا کی اطاعت کرے ‘‘۔ زمخشری اس کی تشریح یوں کرتے ہیں کہ ’’ وہ خواہش نفس کا نہایت فرمانبردار ہے۔جدھر اس کا نفس اسے بلاتا ہے اسی طرف وہ چلا جاتا ہے، گویا وہ اس کی بندگی اس طرح کرتا ہے جیسے کوئی شخص اپنے خدا کی بندگی کرے۔‘‘ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم،ص 453۔ جلد چہارم، تفسیر سورہ سبا، حاشیہ 63۔ یٰس، حاشیہ 53۔ الشوریٰ، حاشیہ 38)

  2. اصل الفاظ ہیں اَضَلَّہُ اللہُ عَلیٰ عِلْمِہ۔ ایک مطلب ان الفاظ کا یہ ہو سکتا ہے کہ وہ شخص عالم ہونے کے باوجود اللہ کی طرف سے گمراہی میں پھینکا گیا، کیونکہ وہ خواہش نفس کا بندہ بن گیا تھا۔ دوسری مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہا اللہ نے اپنے اس علم کی بنا پر کہ وہ اپنے نفس کی خواہش کو اپنا خدا بنا بیٹھا ہے، اسے گمراہی میں پھینک دیا۔

  3. اللہ کے کسی کو گمراہی میں پھینک دینے اور اس کے دل اور کانوں پر مہر لگا دینے اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دینے کی تشریح اس سے پہلے ہم متعدد مقامات پر اس کتاب میں کر چکے ہیں۔ ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اول، ص 52۔ 55۔ 531۔ 538۔ جلد دوم، ص 61۔62۔221۔222۔ 224۔ 301۔ 458۔ 459۔ 470۔ 471۔ 486۔ 575۔ 576۔ 619۔ 560۔ جلد سوم، ص، 767، جلد چہارم، فاطر، آیت 8، حواشی 16۔17، المومن، حاشیہ 54۔

  4. جس سیاق و سباق میں یہ آیت آئی ہے اس سے یہ بات خود بخود واضح ہو جاتی ہے کہ آخرت کا انکار دراصل وہی لوگ کرتے ہیں جو خواہشات نفس کی بندگی کرنا چاہتے ہیں اور عقیدہ آخرت کو اپنی اس آزادی میںمانع سمجھتے ہیں۔ پھر جب وہ آخرت کا انکار کر دیتے ہیں تو ان کی بندگی نفس اور زیادہ بڑھتی چلی جاتی ہے اور وہ اپنی گمراہی میں روز بروز زیادہ ہی بھٹکتے چلے جاتے ہیں۔ کوئی برائی ایسی نہیں ہوتی جس کے ارتکاب سے وہ باز رہ جائیں۔ کسی کا حق مارنے میں انہیں تامل نہیں ہوتا۔ کسی ظلم اور زیادتی کا موقع پا جانے کے بعد ان سے یہ توقع ہی نہیں کی جاسکتی کہ وہ اس سے صرف اس لیے رک جائیں گے کہ حق و انصاف کا کوئی احترام ان کے دلوں میں ہے جن واقعات کو دیکھ کر کوئی انسان عبرت حاصل کر سکتا ہے، وہی واقعات ان کی آنکھوں کے سامنے بھی آتے ہیں، مگر وہ ان سے الٹا یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ ہم جو کچھ کر رہے ہیں اور ہمیں یہی کچھ کرنا چاہیے۔ کوئی کلمہ نصیحت ان پر کار گر نہیں ہوتا۔ جو دلیل بھی کسی انسان کو برائی سے روکنے کے لیے مفید ہو سکتی ہے، وہ ان کے دل کو اپیل نہیں کرتی، بلکہ وہ ڈھونڈ ڈھونڈ کر ساری دلیلیں اپنی اسی بے قید آزادی کے حق میں نکالتے چلے جاتے ہیں، اور ان کے دل و دماغ کسی اچھی فکر کے بجائے شب و روز اپنی اغراض و خواہشات ہر ممکن طریقے سے پوری کرنے کی ادھیڑ بن ہی میں لگے رہتے ہیں۔ یہ اس بات کا صریح ثبوت ہے کہ عقیدہ آخرت کا انکار انسانی اخلاق کے لیے تباہ کن ہے۔ آدمی کو آدمیت کے دائرے میں اگر کوئی چیز رکھ سکتی ہے تو وہ صرف یہ احساس ہے کہ ہم غیر ذمہ دار نہیں ہیں بلکہ ہمیں خدا کے حضور اپنے اعمال کی جوابدہی کرنی ہو گی۔ اس احساس سے خالی ہو جانے کے بعد کوئی شخص بڑے سے بڑا ع الم بھی ہو تو وہ جانوروں سے بد تر رویہ اختیار کیے بغیر نہیں رہتا۔

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Bayan-ul-Quran

کیا آپ نے دیکھا اس شخص کو جس نے اپنی خواہش ِ نفس کو اپنا معبود بنا رکھا ہے ؟ اور اللہ نے اسے گمراہ کر رکھا ہے اس کے علم کے باوجود اور اللہ نے اس کی سماعت اور اس کے دل پر مہر لگا دی ہے اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا ہے تو اللہ کے (اس فیصلے کے) بعداب کون اسے ہدایت دے سکتا ہے تو کیا تم لوگ نصیحت حاصل نہیں کرتے ؟

Commentary

آیت 23 { اَفَرَئَ یْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰہَہٗ ہَوٰٹہُ } ”کیا آپ نے دیکھا اس شخص کو جس نے اپنی خواہش ِ نفس کو اپنا معبود بنا رکھا ہے ؟“ اس سے قبل یہ مضمون سورة الفرقان کی آیت 43 میں بھی آچکا ہے۔ یہاں اس کا اعادہ دراصل زیر مطالعہ آٹھ سورتوں سورۃ الزمر تا سورة الاحقاف کے مرکزی مضمون کے سیاق وسباق میں ہوا ہے۔ چناچہ آیت کا مفہوم سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس مضمون کے ذیلی عنوانات کی ترتیب کو ایک دفعہ پھر سے ذہن میں تازہ کرلیا جائے۔ ان آٹھ سورتوں میں سے پہلی چار سورتوں الزمر تا الشوریٰ میں ”توحید ِعملی“ کا مضمون ایک خاص ترتیب اور تدیج کے ساتھ بیان ہوا ہے۔ سورة الزمر میں تکرار کے ساتھ تاکید کی گئی ہے کہ اللہ کی بندگی کرو اس کے لیے اپنی اطاعت کو خالص کرتے ہوئے : { قُلْ اِنِّیْٓ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰہَ مُخْلِصًا لَّہُ الدِّیْنَ۔ ”اے نبی ﷺ ! آپ کہہ دیجیے : مجھے حکم ہوا ہے کہ میں بندگی کروں اللہ کی اس کے لیے اپنی اطاعت کو خالص کرتے ہوئے“۔ اللہ کی اطاعت سے منہ موڑ کر کسی اور کی اطاعت کرنا شرک ہے اور مخلوق میں سے کسی کی ایسی اطاعت کرنا بھی شرک ہے جس سے خالق کی معصیت کا ارتکاب ہوتا ہو۔ اس کے بعد سورة المومن میں توحید عملی کے داخلی پہلو دعا کو اجاگر کیا گیا ہے اور بار بار حکم دیا گیا ہے : { فَادْعُوا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ } کہ اللہ سے دعا کرو اس کے لیے اپنی اطاعت کو خالص کرتے ہوئے۔ اس طرح ان دونوں سورتوں میں توحید عملی کا مضمون اپنے خارجی اور داخلی دونوں پہلوئوں سے ایک فرد کی حد تک مکمل ہوگیا ہے۔ اس کے بعد اگلی دو سورتوں سورة حٰمٓ السجدۃ اور سورة الشوریٰ میں توحید عملی کو فرد سے اجتماعیت کی طرف بڑھایا گیا ہے۔ چناچہ سورة حٰمٓ السجدۃ میں توحید کی دعوت کو لوگوں تک پہنچانے کا حکم دیا گیا ہے اور اس دعوت کی فضیلت کو اس طرح بیان فرمایا گیا ہے : { وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَآ اِلَی اللّٰہِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَّقَالَ اِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ } ”اور اس شخص سے بہتر بات اور کس کی ہوگی جو بلائے اللہ کی طرف اور وہ نیک عمل کرے اور کہے کہ میں بھی مسلمانوں میں سے ہوں !“ اس دعوت کا ذریعہ medium چونکہ قرآن ہے اس لیے اسی نسبت سے سورة حٰمٓ السجدۃ میں قرآن کی عظمت کا ذکر تکرار کے ساتھ چھ مرتبہ آیا ہے۔ اس کے بعد سورة الشوریٰ کا مرکزی مضمون اقامت دین ہے۔ تدریج کے حوالے سے اس کی وضاحت یوں ہوگی کہ جو لوگ توحید کی دعوت پر لبیک کہیں انہیں منظم کر کے ایک قوت میں تبدیل کیا جائے۔ پھر یہ سب لوگ مل کر باطل کے تسلط کو ختم کرنے اور معاشرے میں اللہ کے دین کو غالب کرنے کے لیے جدوجہد کریں۔ اس طرح ان چار سورتوں میں ”توحید عملی“ کے مضمون کو فرد سے لے کر ایک ترتیب اور تدریج کے ساتھ اجتماعی نظام کی سطح تک مکمل کردیا گیا ہے۔ اس کے بعد سورة الزخرف اور سورة الجاثیہ میں اس مضمون توحید فی الاطاعت کے تقابل کے طور پر شرک فی الاطاعت کو موضوع بنایا گیا ہے۔ سورة الزخرف میں اجتماعیت کی بلند ترین سطح یعنی حاکمیت کی سطح کے شرک کا حوالہ ہے جبکہ سورة الجاثیہ میں خصوصی طور پر آیت زیر مطالعہ میں انفرادی سطح کے شرک کا ذکر ہے۔ جہاں تک اجتماعیت کی سطح پر شرک کا تعلق ہے اس کو یوں سمجھئے کہ ”انسانی حاکمیت“ کا تصور شرک کی بد ترین شکل ہے ‘ کیونکہ حاکم مطلق تو صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ سورة یوسف میں ہم پڑھ چکے ہیں : { اِنِ الْحُکْمُ اِلاَّ لِلّٰہِط } آیت 40 کہ اختیار مطلق تو صرف اللہ ہی کا ہے۔ اس حوالے سے سورة بنی اسرائیل کی آخری آیت کا یہ اعلان : { وَّلَمْ یَکُنْ لَّہٗ شَرِیْکٌ فِی الْْمُلْکِ } ”اور نہیں ہے اس کا کوئی شریک بادشاہی میں“ اور سورة الکہف کی آیت 26 کے یہ الفاظ { وَلَا یُشْرِکُ فِیْ حُکْمِہٖٓ اَحَدًا۔ ”اور وہ شریک نہیں کرتا اپنے حکم میں کسی کو بھی“ اپنے معانی و مفہوم میں بہت واضح ہیں۔ اب ایسے واضح احکام کے بعد اگر کوئی انسان ”حاکمیت مطلق“ کا دعویٰ کرے تو یہ گویا خدائی کا دعویٰ ہے اور یوں یہ شرک کی بد ترین شکل ہے۔ اسی شرک کا علمبردار نمرود تھا اور اسی جرم کا مرتکب فرعون بھی ہوا تھا۔ سورة الزخرف میں فرعون کے نعرہ شرک کا ذکر یوں آیا ہے : { وَنَادٰی فِرْعَوْنُ فِیْ قَوْمِہٖ قَالَ یٰقَوْمِ اَلَیْسَ لِیْ مُلْکُ مِصْرَ وَہٰذِہِ الْاَنْہٰرُ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِیْج اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ۔ } ”اور فرعون نے اپنی قوم میں ڈھنڈورا پٹوا دیا ‘ اس نے کہا کہ اے میری قوم کے لوگو ! کیا مصر کی حکومت میری نہیں ہے اور یہ تمام نہریں میرے حکم کے تحت نہیں بہتی ہیں ؟ تو کیا تم دیکھتے نہیں ہو ؟“ شرک فی الاطاعت کا دوسرا پہلو انفرادی ہے ‘ جس کا ذکر آیت زیر مطالعہ میں آیا ہے۔ اس آیت میں ایک ایسے شخص کی مثال بیان ہوئی ہے جس نے اپنی زندگی میں اللہ کے حکم کے مقابلے میں اپنے نفس کی خواہش پر چلنے کا طرز عمل اپنا رکھا ہے اور وہ اپنے نفس کے تقاضوں اور اس کی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے حلال و حرام کی تمیز روا نہیں رکھتا۔ ایسے شخص نے اپنے عمل سے گویا ثابت کردیا ہے کہ اس کا معبود اللہ نہیں ‘ بلکہ اس کا نفس ہے۔ اور وہ حقیقت میں اللہ کا نہیں اپنے نفس کا ”بندہ“ ہے۔ حضور ﷺ نے ایسے ہی شخص کو درہم و دینار کا بندہ قرار دیا ہے۔ آپ ﷺ کا فرمان ہے : تَعِسَ عَبْدُ الدِّیْنَارِ وَعَبْدُ الدِّرْھَمِ 1 ”ہلاک ہوجائے درہم و دینار کا بندہ“۔ یہ دراصل وہ شخص ہے جو دولت کی محبت میں اللہ تعالیٰ کے احکام اور حلال و حرام کی تمیز کو بالکل پس پشت ڈال چکا ہے۔ اب اس کے والدین نے اس کا نام ”عبدالرحمن“ ہی کیوں نہ رکھا ہو ‘ لیکن اس کے عمل سے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ اصل میں وہ ”عبدالدینار“ ہے۔ بہر حال سورة الزخرف میں شرک فی الاطاعت کا ذکر معاشرے کی بلند ترین سطح یعنی ریاست اور حاکمیت کی سطح پر ہوا ہے ‘ جبکہ زیر مطالعہ سورت کی اس آیت میں اس کی دوسری انتہا یعنی انفرادی سطح کے شرک کا بیان ہے۔ شرک کی باقی تمام صورتیں ان دونوں انتہائوں کے درمیان ہیں۔ آیت میں استفسار کے اسلوب سے زور کلام خاص طور پر زیادہ ہوگیا ہے کہ کیا آپ نے کبھی ایسے شخص کی عبرتناک حالت پر غور کیا ہے جس نے اپنی خواہش ِنفس کو اپنا معبود بنا رکھا ہے ؟ { وَاَضَلَّہُ اللّٰہُ عَلٰی عِلْمٍ } ”اور اللہ نے اسے گمراہ کر رکھا ہے اس کے علم کے باوجود“ ہوسکتا ہے وہ کوئی بہت بڑا عالم ہو یا اعلیٰ پائے کا محقق ہو یا کوئی نامور سائنسدان ہو ‘ مگر جس انسان نے اپنے نفس کا بندہ بن کر رہنا قبول کرلیا ہو اس کی علمی اہلیت ‘ تحقیقی استعداد اور سائنٹیفک اپروچ اسے نہ تو اللہ کی اطاعت کی راہ دکھا سکتی ہے ‘ اور نہ ہی اس کے دل کو ایمان اور اللہ کی معرفت کے نور سے منور کرسکتی ہے۔ ایسے بدقسمت لوگوں پر ہدایت کے دروازے ہمیشہ کے لیے بند کردیے جاتے ہیں : { خَتَمَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِہِمْ وَعَلٰی سَمْعِہِمْ ط وَعَلٰٓی اَبْصَارِہِمْ غِشَاوَۃٌ ز } البقرۃ : 7۔ سورة البقرۃ کی اس آیت کے الفاظ سے ملتے جلتے الفاظ دیکھئے یہاں بھی آگئے ہیں : { وَّخَتَمَ عَلٰی سَمْعِہٖ وَقَلْبِہٖ وَجَعَلَ عَلٰی بَصَرِہٖ غِشٰوَۃً } ”اور اللہ نے اس کی سماعت اور اس کے دل پر مہر لگا دی ہے اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا ہے۔“ اس مہر اور اس پردے کی کیفیت کا عملی مشاہدہ کرنا ہو تو آج کے سائنسدانوں کو دیکھ لیجیے۔ انہوں نے سات سمندروں کے پانیوں کو کھنگال مارا ہے ‘ روئے ارضی کے ذرّے ذرّے کی چھان پھٹک وہ کرچکے ہیں۔ خلا کی وسعتوں کے اندر دور دور تک وہ جھانک آئے ہیں۔ غرض سائنسی کرشموں کے سبب انہوں نے کائنات کے بڑے بڑے رازوں کو طشت ازبام کردیا ہے ‘ لیکن اس پوری کائنات میں اگر انہیں نظر نہیں آیا تو ایک اللہ نظر نہیں آیا ! مذکورہ ”پردہ“ ان کی آنکھوں پر اس قدر دبیز ہوچکا ہے کہ اس پوری کائنات میں کائنات کے خالق کا انہیں کہیں سراغ نہیں ملا۔ { فَمَنْ یَّہْدِیْہِ مِنْم بَعْدِ اللّٰہِط اَفَلَا تَذَکَّرُوْنَ } ”تو اللہ کے اس فیصلے کے بعداب کون اسے ہدایت دے سکتا ہے ‘ تو کیا تم لوگ نصیحت حاصل نہیں کرتے ؟“

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29

Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.

See this ayah on Mushaf page 500

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Meanings are shown as the source gives them, one per word. 1 word in this ayah has no meaning in the source and is left empty. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.

Sources & attribution