- اَلَمْکیا نہیں
- تَرَتم نے دیکھا
- اِلَیطرف ان لوگوں کے
- الَّذِیْنَوہ لوگ جو
- یَزْعُمُوْنَزعم رکھتے ہیں
- اَنَّهُمْبیشک وہ
- اٰمَنُوْاایمان لائے
- بِمَاۤساتھ اس کے جو
- اُنْزِلَنازل کیا گیا
- اِلَیْكَتیری طرف
- وَمَاۤاور جو
- اُنْزِلَنازل کیا گیا
- مِنْسے
- قَبْلِكَتجھ سے پہلے
- یُرِیْدُوْنَوہ چاہتے ہیں
- اَنْNo meaning in the source
- یَّتَحَاكَمُوْۤاکہ وہ فیصلہ لے جائیں
- اِلَیطرف
- الطَّاغُوْتِطاغوت کے
- وَقَدْاور تحقیق
- اُمِرُوْۤاوہ حکم دئیے گئے
- اَنْگمراہی میں
- یَّكْفُرُوْاکہ وہ کفر کریں
- بِهٖ ؕاس کا
- وَیُرِیْدُاور چاہتا ہے
- الشَّیْطٰنُشیطان
- اَنْNo meaning in the source
- یُّضِلَّهُمْکہ بھٹکا دے انکو
- ضَلٰلًاگمراہی میں
- بَعِیْدًادور کی
Surah 4 · word by word
Surah 4, ayah 60
Translation and commentary
Tafheem-ul-Quran
اے نبی ! تم نے دیکھا نہیں اُن لوگوں کو جو دعوٰی تو کرتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں اُس کتاب پر جو تمہاری طرف نازل کی گئی ہے اور ان کتابوں پر جو تم سے پہلے نازل کی گئی تھیں مگر چاہتے یہ ہیں کہ اپنے معاملات کا فیصلہ کرانے کے لیے طاغوت کی طرف رُجوع کریں، حالانکہ انہیں طاغوت سے کفر کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔۔1۔۔شیطان انہیں بھٹکا کر راہِ راست سے بہت دُور لے جانا چاہتا ہے
Footnotes (the author's commentary)
-
یہاں صریح طور پر ”طاغوت“ سے مراد وہ حاکم ہے جو قانونِ الہٰی کے سوا کسی دُوسرے قانون کے مطابق فیصلہ کرتا ہو، اور وہ نظامِ عدالت ہے جو نہ تو اللہ کے اقتدارِ اعلیٰ کا مطیع ہو اور نہ اللہ کی کتاب کو آخرت سند مانتا ہو۔ لہٰذا یہ آیت اس معنیٰ میں بالکل صاف ہے کہ جو عدالت”طاغوت“ کی حیثیت رکھتی ہو اس کے پاس اپنے معاملات فیصلہ کے لیے لے جانا ایمان کے منافی ہے اور خدا اور اس کی کتاب پر ایمان لانے کا لازمی اقتضا یہ ہے کہ آدمی ایسی عدالت کو جائز عدالت تسلیم کرنے سے انکار کر دے۔ قرآن کی رُو سے اللہ پر ایمان اور طاغوت سے کفر، دونوں لازم و ملزوم ہیں، اور خدا اور طاغوت دونوں کے آگے بیک وقت جُھکنا عین منافقت ہے۔
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Bayan-ul-Quran
کیا تم نے غور نہیں کیا ان لوگوں کی طرف جن کا دعویٰ تو یہ ہے کہ وہ ایمان لے آئے ہیں اس پر بھی جو (اے نبی ﷺ !) آپ ﷺ پر نازل کیا گیا اور اس پر بھی جو آپ سے پہلے نازل کیا گیا وہ چاہتے یہ ہیں کہ اپنے مقدمات کے فیصلے طاغوت سے کروائیں حالانکہ انہیں حکم دیا گیا ہے کہ طاغوت کا کفرکریں اور شیطان چاہتا ہے کہ انہیں بہت دور کی گمراہی میں ڈال دے
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29
Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.
See this ayah on Mushaf page 87
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Meanings are shown as the source gives them, one per word. 2 words in this ayah have no meaning in the source and are left empty. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.
Commentary
آیت 60 اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ یَزْعُمُوْنَ اَنَّہُمْ اٰمَنُوْا بِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ لیکن ان کا طرز عمل یہ ہے کہ :یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَحَاکَمُوْآ اِلَی الطَّاغُوْتِ یہاں واضح طور پر طاغوت سے مراد وہ حاکم یا وہ ادارہ ہے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام کے مطابق فیصلے نہیں کرتا۔ پچھلی آیت میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا حکم دیا گیا تھا۔ گویا جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت پر کاربند ہوگیا وہ طاغوت سے خارج ہوگیا اور جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کو قبول نہیں کرتا وہ طاغوت ہے ‘ اس لیے کہ وہ اپنی حد سے تجاوز کر گیا۔ چناچہ غیر مسلم حاکم یا منصف جو اللہ اور اس کے رسول کے احکام کا پابند نہیں وہ طاغوت ہے۔ وَقَدْ اُمِرُوْآ اَنْ یَّکْفُرُوْا بِہٖ ط منافقین مدینہ کی عام روش یہ تھی جس مقدمہ میں انہیں اندیشہ ہوتا کہ فیصلہ ان کے خلاف ہوگا اسے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں لانے کے بجائے یہودی عالموں کے پاس لے جاتے۔ وہ جانتے تھے کہ حضور ﷺ کے پاس جائیں گے تو حق اور انصاف کی بات ہوگی۔ ایک یہودی اور ایک مسلمان جو منافق تھا ‘ ان کا آپس میں جھگڑا ہوگیا۔ یہودی کہنے لگا کہ چلو محمد ﷺ کے پاس چلتے ہیں۔ اس لیے کہ اسے یقین تھا کہ میں حق پر ہوں۔ لیکن یہ منافق کہنے لگا کہ کعب بن اشرف کے پاس چلتے ہیں جو ایک یہودی عالم تھا۔ بہرحال وہ یہودی اس منافق کو رسول اللہ ﷺ کے پاس لے آیا۔ آپ ﷺ نے دونوں کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ یہودی کے حق میں کردیا۔ وہاں سے باہر نکلے تو منافق نے کہا کہ چلو اب حضرت عمر رض کے پاس چلتے ہیں ‘ وہ جو فیصلہ کردیں وہ مجھے منظور ہوگا۔ وہ دونوں حضرت عمر رض کے پاس آئے۔ منافق کو یہ امید تھی کہ حضرت عمر رض میرا زیادہ لحاظ کریں گے ‘ کیونکہ میں مسلمان ہوں۔ جب یہودی نے یہ بتایا کہ اس مقدمے کا فیصلہ رسول اللہ ﷺ میرے حق میں کرچکے ہیں تو حضرت عمر رض نے آؤ دیکھا نہ تاؤ ‘ تلوار لی اور اس منافق کی گردن اڑا دی کہ جو محمد رسول اللہ ﷺ کے فیصلے پر راضی نہیں ہے اور اس کے بعد مجھ سے فیصلہ کروانا چاہتا ہے اس کے حق میں میرا یہ فیصلہ ہے ! اس پر اس منافق کے خاندان والوں نے بڑا واویلا مچایا۔ وہ چیختے چلاتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور حضرت عمر رض پر قتل کا دعویٰ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مقتول حضرت عمر رض کے پاس یہودی کو لے کر اس وجہ سے گیا تھا کہ وہ اس معاملہ میں باہم مصالحت کرا دیں ‘ اس کے پیش نظر رسول اللہ ﷺ کے فیصلے سے انکار نہیں تھا۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں جن میں اصل حقیقت ظاہر فرما دی گئی۔