Surah 4 · word by word

Surah 4, ayah 25

  1. وَمَنْاور جو کوئی
  2. لَّمْنہ
  3. یَسْتَطِعْاستطاعت رکھتا ہو
  4. مِنْكُمْتم میں سے
  5. طَوْلًاقدرت ۔ وسعت۔ فراخی
  6. اَنْکہ وہ
  7. یَّنْكِحَنکاح کرے
  8. الْمُحْصَنٰتِعورتوں سے جو آزاد ہیں۔ خاندانی عورتوں سے
  9. الْمُؤْمِنٰتِجو ایمان والیاں ہیں
  10. فَمِنْتو اس میں سے
  11. مَّاجو
  12. مَلَكَتْمالک ہوئے
  13. اَیْمَانُكُمْتمہارے دائیں ہاتھ
  14. مِّنْمیں سے
  15. فَتَیٰتِكُمُتمہاری لونڈیاں
  16. الْمُؤْمِنٰتِ ؕجوایمان والیاں ہیں
  17. وَاللّٰهُاور اللہ
  18. اَعْلَمُزیادہ جاننے والا ہے
  19. بِاِیْمَانِكُمْ ؕتمہارے ایمان کو
  20. بَعْضُكُمْتم میں سے بعض
  21. مِّنْسے
  22. بَعْضٍ ۚبعض ہیں
  23. فَانْكِحُوْهُنَّتو نکاح کرلو ان سے
  24. بِاِذْنِساتھ اذن کے
  25. اَهْلِهِنَّان کے اہل کے
  26. وَاٰتُوْهُنَّاور دو انکو
  27. اُجُوْرَهُنَّان کے مہر
  28. بِالْمَعْرُوْفِساتھ معروف کے
  29. مُحْصَنٰتٍوہ پاکدامن ہوں
  30. غَیْرَاور نہ
  31. مُسٰفِحٰتٍبد کاریاں کرنے والیاں
  32. وَّلَااور نہ
  33. مُتَّخِذٰتِبنانے والیاں
  34. اَخْدَانٍ ۚچھپے دوست
  35. فَاِذَاۤتو جب
  36. اُحْصِنَّقید نکاح میں لائی جائیں
  37. فَاِنْپھر اگر
  38. اَتَیْنَوہ آئیں
  39. بِفَاحِشَةٍکسی بے حیائی کو
  40. فَعَلَیْهِنَّتو ان پر ہے
  41. نِصْفُآدھی (سزا)
  42. مَاوہ جو
  43. عَلَیاوپر
  44. الْمُحْصَنٰتِپاکدامن عورتوں کے ہے
  45. مِنَسے
  46. الْعَذَابِ ؕعذاب میں
  47. ذٰلِكَیہ-ایسا کرنا
  48. لِمَنْواسطے اس ہے جو
  49. خَشِیَڈرے
  50. الْعَنَتَگناہ سے
  51. مِنْكُمْ ؕتم میں سے
  52. وَاَنْاور یہ کہ اگر
  53. تَصْبِرُوْاتم صبر کرو
  54. خَیْرٌبہتر ہے
  55. لَّكُمْ ؕتمہارے لیے
  56. وَاللّٰهُاور اللہ
  57. غَفُوْرٌبخشنے والا
  58. رَّحِیْمٌمہربان ہے

Translation and commentary

Tafheem-ul-Quran

اور جو شخص تم میں سے اتنی مقدرت نہ رکھتا ہو کہ خاندانی مسلمان عورتوں (مُحْصَنَات) سے نکاح کرسکے اسے چاہیے کہ تمہاری اُن لونڈیوں میں سے کسی کے ساتھ نکاح کرلے جو تمہارے قبضہ میں ہوں اور مومنہ ہوں۔ اللہ تمہارے ایمانوں کا حال خُوب جانتا ہے، تم سب ایک ہی گروہ کے لوگ ہو،1 لہٰذا اُن کے سرپرستوں کی اجازت سے اُن کے ساتھ نکاح کرلو اور معرُوف طریقہ سے اُن کے مہر ادا کردو، تاکہ وہ حصارِ نکاح میں محفوظ (مُحْصَنَات) ہو کر رہیں، آزاد شہوت رانی نہ کرتی پھریں اور نہ چوری چھُپے آشنائیاں کریں۔ پھر جب وہ حصارِ نکاح میں محفوظ ہوجائیں اور اس کے بعد کسی بد چلنی کی مرتکب ہوں تو ان پر اس سزا کی بنسبت آد ھی سزا ہے۔ جو خاندانی عورتوں (مُحصنَات) کے لیے مقرر ہے۔2 یہ سہولت3 تم میں سے اُن لوگوں کے لیے پیدا کی گئی ہے جن کو شادی نہ کرنے سے بندِ تقویٰ کے ٹوٹ جانے کا اندیشہ ہو۔ لیکن اگر تم صبر کرو تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے، اور اللہ بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے

Footnotes (the author's commentary)

  1. یعنی معاشرت میں لوگوں کے درمیان جو فرقِ مراتب ہے وہ محض ایک اعتباری چیز ہے، ورنہ دراصل سب مسلمان یکساں ہیں، اور اگر کوئی حقیقی وجہِ امتیاز ان کے درمیان ہے تو وہ ایمان ہے جو محض اُونچے گھرانوں ہی کا حصّہ نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ایک لونڈی ایمان و اخلاق میں ایک خاندانی عورت سے بہتر ہو۔

  2. سرسری نگاہ میں یہاں ایک پیچیدگی واقع ہوتی ہے جس سے خوارج اور اُن دُوسرے لوگوں نے فائدہ اُٹھایا ہے جو رجم کے منکر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ”اگر آزاد شادی شدہ عورت کے لیے شریعتِ اسلام میں زنا کی سزا رجم ہے تو اس کی نصف سزا کیا ہوسکتی ہے جو لونڈی کے دی جائے؟ لہٰذا یہ آیت اس بات پر دلیل قاطع ہے کہ اسلام میں رجم کی سزا ہے ہی نہیں۔“ لیکن ان لوگوں نے قرآن کے الفاظ پر غور نہیں کیا۔ اس رکوع میں لفظ  مُحْصَنٰتُ (محفوظ عورتیں) دو مختلف معنوں میں استعمال کیا گیا ہے۔ ایک  ”شادی شدہ عورتیں“ جن کو شوہر کی حفاظت حاصل ہو۔ دُوسرے”خاندانی عورتیں“ جن کو خاندان کی حفاظت حاصل ہو، اگرچہ وہ شادی شدہ نہ ہوں۔ آیتِ زیر بحث میں ”محصَنات“ کا لفظ لونڈی کے بالمقابل خاندانی عورتوں کے لیے دُسرے معنی میں استعمال ہوا ہے نہ کہ پہلے معنی میں، جیسا کہ آیت کے مضمون سے صاف ظاہر ہے۔ بخلاف اس کے لونڈیوں کے لیے مُحصنات کا لفظ پہلے معنی میں استعمال ہوا ہے اور صاف الفاظ میں فرمایا ہے کہ جب انہیں نکاح  کی حفاظت  حاصل ہو جائے(فَاِذَآ اُحْصِنَّ) تب ان کے لیے زنا کے ارتکاب پر وہ  سزا ہے جو مذکور ہوئی۔ اب اگر غائر نگاہ سے دیکھا جائے تو یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ خاندانی عورت کو دو حفاظتیں حاصل ہوتی ہیں۔ ایک خاندان کی حفاظت جس کی بنا پر وہ شادی کے بغیر بھی مُحْصَنہ ہوتی ہے۔ دُوسری شوہر کی حفاظت جس کی وجہ سے اس کے لیے خاندان کی حفاظت پر ایک  اور حفاظت کا اضافہ ہو جاتا ہے۔ بخلاف اس کے لونڈی جب تک لونڈی ہے مُحصَنہ نہیں ہے، کیونکہ اس کو کسی خاندان کی حفاظت حاصل نہیں ہے۔ البتہ نکاح ہونے پر اس کو صرف شوہر کی حفاظت حاصل ہوتی ہے اور وہ  بھی اَدھُوری ، کیونکہ شوہر کی حفاظت میں آنے کے بعد بھی نہ تو وہ ان لوگوں کی بندگی سے آزاد ہوتی ہے جن کی ملک میں وہ تھی، اور نہ اُسے معاشرت   میں وہ مرتبہ حاصل ہوتا ہے جو خاندانی عورت کو نصیب ہوا کرتا ہے۔ لہٰذا اسے جو سزا دی جائے گی وہ غیر شادی شدہ خاندانی عورتوں کی سزا سے آدھی ہوگی نہ کہ شادی شدہ خاندانی عورتوں کی سزا سے۔ نیز یہیں سے یہ بات بھی معلوم ہوگئی کہ سُورہٴ نُور کی دُوسری آیت میں زنا کی جس سزا کا ذکر ہے وہ صرف غیر شادی شدہ خاندانی عورتوں کے لیے ہے جن کے مقابلہ میں یہاں شادی شدہ لونڈی کی سزا  نصف بیان کی گئی ہے۔ رہیں شادی شدہ خاندانی عورتیں، تو وہ غیر شادی شدہ محصَنات سے زیادہ سخت سزا کی مستحق ہیں کیونکہ وہ دوہری حفاظت کو توڑتی ہیں۔ اگر چہ قرآن ان کے لیے سزا ے رجم کی تصریح  نہیں کرتا ، لیکن نہایت لطیف طریقہ سے اس کی طرف اشارہ کرتا ہے  جو بلید الذہن لوگوں سے مخفی رہ جائے تو رہ جائے ، نبی کے  ذہن رسا سے مخفی نہیں رہ سکتا تھا۔

  3. یعنی خاندانی عورت سے نکاح کرنے کی استطاعت نہ ہو تو کسی لونڈی سے اس کے مالکوں کی اجازت لے کر نکاح کر لینے کی سہولت۔

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Bayan-ul-Quran

اور جو کوئی تم میں سے اتنی مقدرت نہ رکھتا ہو کہ خاندانی مسلمان عورتوں سے شادی کرسکے تو وہ تمہاری ان لونڈیوں میں سے کسی کے ساتھ نکاح کرلے جو تمہارے قبضہ میں ہوں اور مؤمنہ ہوں اللہ تمہارے ایمانوں کا حال خوب جانتا ہے تم سب ایک دوسرے ہی میں سے ہو سو ان سے نکاح کرلو ان کے مالکوں کی اجازت سے اور انہیں ان کے مہر ادا کرو معروف طریقے پر ان کو حصار نکاح میں لا کر نہ کہ آزاد شہوت رانی کرنے والیاں ہوں اور نہ ہی چوری چھپے آشنائیاں کریں پس جب وہ قید نکاح میں آجائیں تو پھر اگر وہ بےحیائی کا کام کریں تو ان پر اس سزا کی بہ نسبت آدھی سزا ہے جو آزاد عورتوں کے لیے ہے یہ اجازت تم میں سے ان کے لیے ہے جن کو گناہ میں پڑنے کا اندیشہ ہو اور اگر تم صبر کرو تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے اور اللہ غفور اور رحیم ہے

Commentary

آیت 25 وَمَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ مِنْکُمْ طَوْلاً اَنْ یَّنْکِحَ الْمُحْصَنٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ فَمِنْ مَّا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ مِّنْ فَتَیٰتِکُمُ الْمُؤْمِنٰتِ ط یہاں محصَنٰت“ دوسرے معنی میں آیا ہے ‘ یعنی شریف زادیاں ‘ آزاد مسلمان عورتیں۔ اور ظاہر ہے آزاد مسلمان عورتوں کا تو مہر ادا کرنا پڑے گا۔ اس حوالے سے اگر کوئی بےچارہ مفلس ہے ‘ ایک خاندانی عورت کا مہر ادا نہیں کرسکتا تو وہ کیا کرے ؟ ایسے لوگوں کو ہدایت کی جا رہی ہے کہ وہ معاشرے میں موجود مسلمان لونڈیوں سے نکاح کرلیں۔ وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِاِیْمَانِکُمْ ط۔یہ اللہ بہتر جانتا ہے کہ کون مؤمن ہے اور کون نہیں ہے۔ مراد یہ ہے کہ جو بھی قانونی اعتبار سے مسلمان ہے دنیا میں وہ مؤمن سمجھا جائے گا۔ بَعْضُکُمْ مِّنْم بَعْضٍ ج فَانْکِحُوْہُنَّ بِاِذْنِ اَہْلِہِنَّ کسی لونڈی کا مالک اس سے جنسی تعلق قائم کرسکتا ہے۔ لیکن جب ایک شخص اس کی اجازت سے اس کی لونڈی سے نکاح کرلے تو اب لونڈی کے مالک کا یہ تعلق منقطع ہوجائے گا۔ اب وہ لونڈی اس اعتبار سے اس کے کام میں نہیں آسکتی ‘ بلکہ اب وہ ایک مسلمان کی منکوحہ ہوجائے گی۔ اسی لیے اس نکاح کے لیے بِاِذْنِ اَہْلِہِنَّکی ہدایت فرمائی گئی ہے۔ واضح رہے کہ اس وقت کے معاشرے میں بالفعل یہ شکلیں موجود تھیں۔ یہ نہیں کہا جا رہا کہ یہ شکلیں پیدا کرو۔ غلام اور لونڈیوں کا معاملہ اس وقت کے بین الاقوامی حالات اور اسیران جنگ کے مسئلے کے ایک حل کے طور پر پہلے سے موجود تھا۔ ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ جس معاشرے میں قرآن نے اصلاح کا عمل شروع کیا اس میں فی الواقع کیا صورت حال تھی اور اس میں کس کس اعتبار سے تدریجاً بہتری پیدا کی گئی۔ وَاٰتُوْہُنَّ اُجُوْرَہُنَّ بالْمَعْرُوْفِ مُحْصَنٰتٍ غَیْرَ مُسٰفِحٰتٍ ان سے نکاح کا تعلق ہوگا ‘ جس میں نیت گھر میں بسانے کی ہونی چاہیے ‘ محض مستی نکالنے کی اور شہوت رانی کی نیت نہ ہو۔ یہ حصار نکاح میں محفوظ ہو کر رہیں ‘ آزاد شہوت رانی نہ کرتی ‘ پھریں۔ ّ وَّلاَ مُتَّخِذٰتِ اَخْدَانٍ ج کسی کی لونڈی سے کسی کا نکاح ہو تو کھلم کھلا ہو۔ معلوم ہو کہ فلاں کی لونڈی اب فلاں کے نکاح میں ہے۔ جیسے حضرت سمیہ رض سے حضرت یاسر رض نے نکاح کیا تھا۔ حضرت سمیہ رض ‘ ابوجہل کے چچا کی لونڈی تھیں ‘ جو ایک شریف انسان تھا۔ حضرت یاسر رض جب یمن سے آکر مکہ میں آباد ہوئے تو انہوں نے ابوجہل کے چچا سے اجازت لے کر ان کی لونڈی سمیہ رض سے شادی کرلی۔ ان سے حضرت عمار رض پیدا ہوئے۔ یہ تین افراد کا ایک کنبہ تھا۔ یاسر ‘ عمار بن یاسر اور عمار کی والدہ سمیہ رض۔ ابوجہل کا شریف النفس چچا جب فوت ہوگیا تو ابوجہل کو اس کنبے پر اختیار حاصل ہوگیا اور اس نے اس خاندان کو بدترین ایذائیں دی۔ فَاِذَآ اُحْصِنَّ فَاِنْ اَتَیْنَ بِفَاحِشَۃٍ فَعَلَیْہِنَّ نِصْفُ مَا عَلَی الْمُحْصَنٰتِ مِنَ الْعَذَابِ ط لونڈیاں اگر قید نکاح میں آنے کے بعد بدچلنی کی مرتکب ہوں تو بدکاری کی جو سزا آزاد عورتوں کو دی جائے گی انہیں اس کی نصف سزا دی جائے گی۔ واضح رہے کہ یہ ابتدائی احکامات ہیں۔ ابھی تک نہ تو سو کوڑوں کی سزا کا حکم آیا تھا اور نہ رجم کا۔ چناچہ اٰذُوْھُمَا“ کے حکم کی تعمیل میں بدکاری کی جو سزا بھی آزاد خاندانی عورتوں کو دی جاتی تھی ایک منکوحہ لونڈی کو اس سے نصف سزا دینے کا حکم دیا گیا۔ اس لیے کہ ایک شریف خاندان کی عورت جسے ہر طرح کا تحفظ حاصل ہو اس کا معاملہ اور ہے اور ایک بےچاری غریب لونڈی کا معاملہ اور ہے۔ ّ ذٰلِکَ لِمَنْ خَشِیَ الْعَنَتَ مِنْکُمْ ط۔مسلمان لونڈیوں سے نکاح کرلینے کی اجازت تم میں سے ان لوگوں کے لیے ہے جو اپنی شہوت اور جنسی جذبے کو روک نہ سکتے ہوں اور انہیں فتنے میں مبتلا ہوجانے اور گناہ میں ملوث ہوجانے کا اندیشہ ہو۔ ّ وَاَنْ تَصْبِرُوْا خَیْرٌ لَّکُمْ ط۔چونکہ عام طور پر اس معاشرے میں جو باندیاں تھیں وہ بلند کردار نہیں تھیں ‘ لہٰذا فرمایا کہ بہتر یہ ہے کہ تم ان سے نکاح کرنے سے بچو اور تعفف اختیار کرو۔

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29

Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.

See this ayah on Mushaf page 82

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.

Sources & attribution