Surah 4 · word by word

Surah 4, ayah 24

  1. وَّالْمُحْصَنٰتُاور جو شادی شدہ ہیں
  2. مِنَمیں سے
  3. النِّسَآءِعورتوں
  4. اِلَّامگر
  5. مَاوہ جن کے
  6. مَلَكَتْمالک ہوئے
  7. اَیْمَانُكُمْ ۚتمہارے دائیں ہاتھ
  8. كِتٰبَلکھی ہوئی بات ہے
  9. اللّٰهِاللہ کی۔
  10. عَلَیْكُمْ ۚتم پر
  11. وَاُحِلَّاور حلال کیا گیا
  12. لَكُمْتمہارے لئیے
  13. مَّاجو
  14. وَرَآءَعلاوہ ہیں ان کے
  15. ذٰلِكُمْیہ اس لئیے کہ
  16. اَنْیہ کہ
  17. تَبْتَغُوْاتلاش کرو تم
  18. بِاَمْوَالِكُمْاپنے مالوں کے ساتھ
  19. مُّحْصِنِیْنَقید نکاح میں لانے والے
  20. غَیْرَنہ
  21. مُسٰفِحِیْنَ ؕبدکاری کرنے والے
  22. فَمَاتو جو
  23. اسْتَمْتَعْتُمْتم فائدہ اٹھاو
  24. بِهٖساتھ اس کے
  25. مِنْهُنَّان عورتوں سے
  26. فَاٰتُوْهُنَّتو دے دو انکو
  27. اُجُوْرَهُنَّمہر ان کے
  28. فَرِیْضَةً ؕبطور فرض
  29. وَلَااور نہیں
  30. جُنَاحَکوئی گناہ
  31. عَلَیْكُمْتم پر
  32. فِیْمَااس معاملہ میں جو
  33. تَرٰضَیْتُمْہم رضا مند ہوئے
  34. بِهٖساتھ اس کے
  35. مِنْکے
  36. بَعْدِبعد
  37. الْفَرِیْضَةِ ؕمہر
  38. اِنَّبیشک
  39. اللّٰهَاللہ
  40. كَانَہے
  41. عَلِیْمًاجاننے والا ہے
  42. حَكِیْمًاحکمت والا ہے

Translation and commentary

Tafheem-ul-Quran

اور وہ عورتیں بھی تم پر حرام ہیں جو کسی دُوسرے کے نکاح میں ہوں (مُحْصَنَات) البتہ ایسی عورتیں اس سے مستثنٰی ہیں جو (جنگ میں) تمہارے ہاتھ آئیں۔1 یہ اللہ کا قانون ہے جس کی پابندی تم پر لازم کردی گئی ہے۔اِن کے ما سوا جتنی عورتیں ہیں انہیں اپنے اموال کے ذریعہ سے حاصل کرنا تمہارے لیے حلال کردیا گیا ہے، بشرطیکہ حصارِ نکاح میں اُن کو محفوظ کرو، نہ یہ کہ آزاد شہوت رانی کرنے لگو۔ پھر جو ازدواجی زندگی کا لُطف تم ان سے اُٹھاوٴ اس کے بدلے اُن کے مَہر بطور فرض کے ادا کرو، البتّہ مَہر کی قرار داد ہو جانے کے بعد آپس کی رضامندی سے تمہارے درمیان اگر کوئی سمجھوتہ ہوجائے تو اس میں کوئی حرج نہیں، اللہ علیم اور دانا ہے

Footnotes (the author's commentary)

  1. یعنی جو عورتیں جنگ میں پکڑی ہوئی آئیں اور ان کے  کافر شوہر دارالحرب میں موجود ہوں وہ حرام نہیں ہیں، کیونکہ دارالحرب سے دارالاسلام میں آنے کے بعد ان کے نکاح ٹوٹ گئے۔ ایسی عورتوں کے ساتھ نکاح بھی کیا جا سکتا ہے اور جس کی ملک یمین میں ہو ں وہ ان سے تمتُّع بھی کر سکتا ہے۔ البتہ فقہاء کے درمیان اس امر میں اختلاف ہے کہ اگر میاں  اور بیوی دونوں ایک ساتھ گرفتا ر ہوں  تو ان کا کیا حکم ہے ۔ امام ابو حنیفہ اور ان کے اصحاب کہتے ہیں کہ ان کا نکاح باقی رہے گا اور امام مالک و شافعی کا مسلک یہ ہے کہ ان کا نکاح بھی باقی نہ رہے گا۔ لونڈیوں سے تمتُّع کے معاملہ میں بہت سی غلط فہمیاں لوگوں کے ذہن میں ہیں۔ لہٰذا حسب ذیل مسائل کو اچھی طرح سے سمجھ لینا چاہیے: (١) جو عورتیں جنگ میں گرفتا ر ہوں ان کو پکڑتے ہی ہر سپاہی ان کے ساتھ مباشرت کر لینے کا مجاز نہیں ہے۔ بلکہ اسلامی قانون یہ ہے کہ ایسی عورتیں حکومت کے حوالہ کر دی جائیں گی۔ حکومت کو اختیار ہے کہ چاہے ان کو رہا کر دے،  چاہے ان سے فدیہ لے ، چاہے ان کا تبادلہ اُن مسلمان قیدیوں سے کرے جو دُشمن کے ہاتھ میں ہوں ، اور چاہے تو انہیں سپاہیوں میں تقسیم کر دے۔ ایک سپاہی صرف اس عورت ہی سے تمتُّع کرنے کا مجاز ہے جو حکومت کی طرف سے باقاعدہ اس کی ملک میں دی گئی ہو۔ (2) جو عورت اس طرح کسی کی ملک میں دی جائے اس کے ساتھ بھی اس وقت تک مباشرت نہیں کی جاسکتی جب تک کہ اسے ایک مرتبہ ایام ماہواری نہ آجائیں اور یہ اطمینان نہ ہولے کہ وہ حاملہ نہیں ہے ۔ اس سے پہلے مباشرت کرنا حرام ہے۔ اور اگر وہ حاملہ ہو تو وضع حمل سے پہلے بھی مباشرت ناجائز ہے۔ (3)جنگ میں پکڑی ہوئی عورتوں سے تمتُّع کے معاملہ میں یہ شرط نہیں ہے کہ وہ اہلِ کتاب ہی میں سے ہوں۔ ان کا مذہب خواہ کوئی ہو، بہرحال جب وہ تقسیم کر دی جائیں گی تو جن کے حصّہ میں وہ آئیں وہ ان سے تمتُّع کر سکتے ہیں۔ (4) جو عورت جس شخص کے حصّہ میں دی گئی ہو صرف وہی اس کے ساتھ تمتُّع کر سکتا ہے۔ کسی دُوسرے کو اسے ہاتھ لگانے کا حق نہیں ہے۔ اس عورت سے جو اولاد ہوگی وہ اسی شخص کی جائز اولاد سمجھی جائے گی جس کی ملک میں وہ عورت ہے۔ اُس اولاد کے قانونی حقوق وہی ہوں گے جو شریعت میں صُلبی اولاد کے لیے مقرر ہیں۔ صاحب ِ اولاد ہوجانے کے بعد وہ عورت فروخت نہ کی جا سکے گی۔ اور مالک کے مرتے ہی وہ آپ سے آپ آزاد ہو جائے گی۔ (5) جو عورت اس طرح کسی شخص کی ملک میں آئی ہو اسے اگر اس کا مالک کسی دُوسرے شخص کے نکاح میں دیدے تو پھر مالک کو اس سے دُوسری تمام خدمات لینے کا حق تو رہتا ہے لیکن شہوانی تعلق کا حق باقی نہیں رہتا۔ (6) جس طرح شریعت نے بیویوں کی تعداد پر چار کی پابندی لگائی ہے اُس طرح لونڈیوں کی تعداد پر نہیں لگائی ۔ لیکن اس معاملہ میں کوئی حد مقرر نہ کرنے سے شریعت کا منشا یہ نہیں تھا کہ مالدار لوگ بے شمار لونڈیاں خرید کر جمع کر لیں اور اپنے گھر کو عیاشی کا گھر بنا لیں۔ بلکہ درحقیقت اس معاملہ میں عدم تعیُّن کی وجہ جنگی حالات کا عدم تعیُّن ہے۔ (7) ملکیت کے تمام دُوسرے حقوق کی طرح وہ مالکانہ حقوق بھی قابلِ انتقال ہیں جو کسی شخص کو ازرُوئے قانون کسی اسیرِ جنگ پر حکومت نے عطا کیے ہوں۔ (8) حکومت کی طرف سے حقوقِ ملکیّت کا باقاعدہ عطا کیا جانا ویسا ہی ایک قانونی فعل ہے جیسا نکاح ایک قانونی فعل ہے۔ لہٰذا کوئی معقول وجہ نہیں کہ جو شخص نکاح میں کسی قسم کی کراہت محسُوس نہیں کرتا  وہ خواہ مخواہ لونڈی سے تمتُّع میں کراہت محسُوس کرے۔ (9) اسیرانِ جنگ میں سے کسی عورت کو کسی شخص کی ملکیت میں دے دینے کے بعد پھر حکومت اسے واپس لینے کے مجاز نہیں رہتی۔ بالکل اسی طرح جیسے کسی عورت کا ولی اس کو کسی کے نکاح میں دے چکنے کے بعد پھر واپس لینے کا حقدار نہیں رہتا۔ اور محض کچھ وقت کے لیے انھیں فوج میں تقسیم کرے تو یہ اسلامی قانون کی رُو سے قطعاً ایک ناجائز فعل ہے۔ اس میں اور زنا میں کوئی فرق نہیں ہے، اور زنا اسلامی قانون میں جُرم ہے ۔ تفصیلی بحث کے لیے ملاحظہ ہو ہماری کتاب”تفہیمات“ حصّہ دوم۔ اور ”رسائل و مسائل“ حصّہٴ اوّل۔

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Bayan-ul-Quran

اور وہ عورتیں (بھی تم پر حرام ہیں) جو کسی اور کے نکاح میں ہوں سوائے اس کے کہ جو تمہاری ملک یمین بن جائیں یہ تم پر اللہ کا لکھا ہوا فریضہ ہے ان کے سوا جو عورتیں ہیں وہ تمہارے لیے حلال ہیں کہ تم اپنے مال کے ذریعے ان کے طالب بنو بشرطیکہ حصار نکاح میں ان کو محفوظ کرو نہ یہ کہ آزاد شہوت رانی کرنے لگو پس جو بھی تم نے ان سے تمتع کیا ہو تو اس کے بدلے ان کے مہر ادا کرو جو مقرر ہوئے تھے البتہ اس کا تم پر کوئی گناہ نہیں ہے کہ مہر مقرر ہونے کے بعد باہمی رضامندی سے کوئی کمی بیشی کرلو یقیناً اللہ تعالیٰ علیم اور حکیم ہے

Commentary

آیت 24 وَّالْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ چونکہ وہ کسی اور کے نکاح میں ہیں اس لیے آپ پر حرام ہیں۔ ایک عورت کو اگر اس کا شوہر طلاق دے دے تو آپ اس سے نکاح کرسکتے ہیں۔ چناچہ یہ حرمت ابدی نوعیت کی نہیں ہے۔ مُحْصَنٰت“ ان عورتوں کو کہا جاتا ہے جو کسی کی قید نکاح میں ہوں۔ حِصن قلعے کو کہتے ہیں اور احصان کے معنی کسی شے کو اپنی حفاظت میں لینے کے بھی اور کسی کی حفاظت میں ہونے کے بھی۔ چناچہ مُحْصَنٰت“ وہ عورتیں ہیں جو ایک خاندان کے قلعے کے اندر محفوظ ہیں اور شوہر والیاں ہیں۔ نیز یہ لفظ لونڈیوں کے مقابل آزاد خاندانی شریف زادیوں کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ اِلاَّ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ ج۔یعنی جنگ کے نتیجے میں تمہارے ہاں کنیزیں بن کر آجائیں۔ یہ عورتیں اگرچہ مشرکوں کی بیویاں ہیں لیکن وہ لونڈیوں کی حیثیت سے آپ کے لیے جائز ہوں گی۔کِتٰبَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ ج ۔یہ اللہ کا قانون ہے جس کی پابندی تم پر لازم کردی گئی ہے۔وَاُحِلَّ لَکُمْ مَّا وَرَآءَ ذٰلِکُمْ آپ نے دیکھا کہ کتنی تھوڑی سی تعداد میں محرمات ہیں ‘ جن سے نکاح حرام قرار دے دیا گیا ہے ‘ باقی کثیر تعداد حلال ہے۔ یعنی مباحات کا دائرہ بہت وسیع ہے جبکہ محرمات کا دائرہ بہت محدود ہے۔ اَنْ تَبْتَغُوْا بِاَمْوَالِکُمْ یعنی ان کے مہر ادا کر کے ان کے ساتھ نکاح کرو۔مُّحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَ ط یعنی نیت گھر بسانے کی ہو ‘ صرف مستی نکالنے کی نہیں۔ اس کو محض ایک کھیل اور مشغلہ نہ بنا لو۔

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29

Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.

See this ayah on Mushaf page 82

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.

Sources & attribution