- وَّلَاُضِلَّنَّهُمْاور البتہ میں ضرور بھٹکاؤں گا ان کو
- وَلَاُمَنِّیَنَّهُمْاور البتہ میں ضرور امیدیں دلاؤں گا ان کو
- وَلَاٰمُرَنَّهُمْاور البتہ میں ضرور حکم دوں گا ان کو
- فَلَیُبَتِّكُنَّپھر البتہ وہ ضرور کاٹیں گے
- اٰذَانَکان
- الْاَنْعَامِجانوروں کے
- وَلَاٰمُرَنَّهُمْاور البتہ میں ضرور حکم دوں گا ان کو
- فَلَیُغَیِّرُنَّپس البتہ وہ ضرور بدل دیں گے
- خَلْقَتخلیق کو
- اللّٰهِ ؕاللہ کی
- وَمَنْاور جو کوئی
- یَّتَّخِذِبنائے گا
- الشَّیْطٰنَشیطان کو
- وَلِیًّادوست
- مِّنْNo meaning in the source
- دُوْنِسوا
- اللّٰهِاللہ کے
- فَقَدْتو تحقیق
- خَسِرَاس نے نقصان اٹھایا
- خُسْرَانًانقصان اٹھانا
- مُّبِیْنًاکھلم کھلا
Surah 4 · word by word
Surah 4, ayah 119
Translation and commentary
Tafheem-ul-Quran
میں انہیں بہکاؤں گا، میں انہیں آرزوؤں میں اُلجھادوں گا، میں انہیں حکم دوں گا اور وہ میرے حکم سے جانوروں کے کان پھاڑیں گے1 اور میں انہیں حکم دوں گا اور وہ میرے حکم سے خدائی ساخت میں ردوبدل کریں گے۔“2اس شیطان کو جس نے اللہ کے بجائے اپنا ولی و سر پرست بنالیا وہ صریح نقصان میں پڑگیا
Footnotes (the author's commentary)
-
اہلِ عرب کے توہّمات میں سے ایک کی طرف اشارہ ہے۔ ان کے ہاں قاعدہ تھا کہ جب اُونٹنی پانچ یا دس بچے جَن لیتی تو اس کے کان پھاڑ کر اسے اپنے دیوتا کے نام پر چھوڑ دیتے اور اس سے کام لینا حرام سمجھتے تھے۔ اسی طرح جس اُونٹ کے نطفہ سے دس بچے ہو جاتے اُسے بھی دیوتا کے نام پر پُن کر دیا جاتا اور کان چیرنا اس بات کی علامت تھا کہ یہ پُن کیا ہوا جانور ہے۔
-
خدائی ساخت میں ردّو بدل کرنے کا مطلب اشیاء کی پیدائشی بناوٹ میں ردّو بدل کرنا نہیں ہے۔ اگر اس کا یہ مطلب لیا جائے تب تو پوری انسانی تہذیب ہی شیطان کے اغوا کا نتیجہ قرار پائے گی۔ اس لیے کہ تہذیب تو نام ہی ان تصرفات کا ہے جو انسان خدا کی بنائی ہوئی چیزوں میں کرتا ہے ۔ دراصل اس جگہ جس ردّو بدل کو شیطانی فعل قرار دیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ انسان کسی چیز سے وہ کام لے جس کے لیے خدا نے اُسے پیدا نہیں کیا ہے، اور کسی چیز سے وہ کام نہ لے جس کے لیے خدا نے اُسے پیدا کیا ہے۔ بالفاظِ دیگر وہ تمام افعال جو انسان اپنی اور اشیاء کی فطرت کے خلاف کرتا ہے ، اور وہ تمام صورتیں جو وہ منشائے فطرت سے گریز کے لیے اختیار کرتا ہے ، اِس آیت کی رُوسے شیطان کی گمراہ کُن تحریکات کا نتیجہ ہیں۔ مثلاً عملِ قومِ لوط ، ضبطِ ولادت، رَہبانیت، پرہمچرج، مردوں اور عورتوں کو بانجھ بنایا، مردوں کو خواجہ سرا بنایا، عورتوں کو ان خدمات سے منحرف کرنا جو فطرت نے ان کے سپرد کی ہیں اور انہیں تمدّن کے اُن شعبوں میں گھسیٹ لانا جن کے لیے مرد پیدا کیا گیا ہے۔ یہ اور ان طرح کے دُوسرے بے شمار افعال جو شیطان کے شاگرد دنیا میں کر رہے ہیں ، دراصل یہ معنی رکھتے ہیں کہ یہ لوگ خالقِ کائنات کے ٹھیرائے ہوئے قوانین کو غلط سمجھتے ہیں اور ان میں اصلاح فرمانا چاہتے ہیں۔
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Bayan-ul-Quran
اور میں لازماً ان کو بہکاؤں گا اور ان کو بڑی بڑی امیدیں دلاؤں گا اور میں انہیں حکم دوں گا تو (اس کی تعمیل میں) وہ چوپایوں کے کان چیر دیں گے اور میں انہیں حکم دوں گا تو (اس کی تعمیل میں) وہ اللہ کی تخلیق میں تبدیلی کریں گے اور جس کسی نے بھی اللہ کو چھوڑ کر شیطان کو اپنا دوست بنا لیا تو وہ بہت کھلے خسارے (اور تباہی) میں پڑگیا
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29
Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.
See this ayah on Mushaf page 97
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Meanings are shown as the source gives them, one per word. 1 word in this ayah has no meaning in the source and is left empty. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.
Commentary
آیت 119 وَّلَاُضِلَّنَّہُمْ وَلَاُمَنِّیَنَّہُمْ ان کے دلوں میں بڑی امیدوں کے چراغ روشن کروں گا کہ یہ بہت تابناک کیریئر ہے ‘ لگے رہو اسی کام میں ‘ اس میں بڑا فائدہ ہے ‘ ناجائز ہے تو خیر ہے ‘ اللہ بخش ہی دے گا۔ ہم تو اللہ کے پیارے رسول ﷺ کے امتی ہیں ‘ ہمیں خوف کس بات کا ہے ؟ جس طرح یہودیوں کو یہ زعم ہوگیا تھا کہ ہم تو اللہ کے بیٹے ہیں ‘ ہم اس کے بڑے چہیتے ہیں ‘ وغیرہ۔ ان کو میں اس طرح کی لمبی لمبی امیدوں اور لمبے لمبے منصوبوں میں الجھا دوں گا۔ اسی کو ’ طول امل ‘ کہتے ہیں۔ وَلَاٰمُرَنَّھُمْ فَلَیُبَتِّکُنَّ اٰذَانَ الْاَنْعَامِ اس کی تفصیل سورة الانعام میں آئے گی کہ فلاں بت یا فلاں دیوی کے نام پر کسی جانور کے کان چیر کر اسے آزاد کردیا گیا ہے ‘ اب اس کو کوئی چھیڑ نہیں سکتا ‘ اس کا گوشت نہیں کھایا جاسکتا ‘ اس پر سواری نہیں ہوسکتی۔وَلَاٰمُرَنَّھُمْ فَلَیُغَیِّرُنَّ خَلْقَ اللّٰہِ ط۔جیسے آج جو کچھ آپ دیکھ رہے ہیں کہ مردوں میں عورتوں کے سے انداز اپنائے جا رہے ہیں اور عورتوں میں مردوں کے سے طور طریقے اختیار کیے جا رہے ہیں۔ لیکن سائنس کے میدان میں ‘ خاص طور پر Genetics میں جو کچھ آج ہورہا ہے وہ تو بہت ہی نازک صورت حال ہے۔ سائنسی ترقی کے سبب انسان آج اس مقام پر پہنچ گیا ہے کہ وہ اپنا اختیار استعمال کر کے جینیاتی تبدیلیوں کے ذریعے سے اللہ کی تخلیق میں تغیر و تبدّل کر رہا ہے۔