- وَاَوْرَثَكُمْاور اس نے و ارث بنادیا تم کو
- اَرْضَهُمْان کی زمین کا
- وَدِیَارَهُمْاور ان کے گھروں کا
- وَاَمْوَالَهُمْاور ان کے مالوں کا
- وَاَرْضًااور زمین کا
- لَّمْنہیں
- تَطَـُٔوْهَا ؕتم نے پامال کیا اس کو
- وَكَانَاور ہے
- اللّٰهُاللہ تعالیٰ
- عَلٰیاوپر
- كُلِّہر
- شَیْءٍچیز کے
- قَدِیْرًاقدرت رکھنے والا
Surah 33 · word by word
Surah 33, ayah 27
Translation and commentary
Tafheem-ul-Quran
اس نے تم کو ان کی زمین اور ان کے گھروں اور ان کے اموال کا وارث بنا دیا اور وہ علاقہ تمہیں دیا جسے تم نے کبھی پامال نہ کیا تھا اللہ ہر چیز پر قادر ہے
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Bayan-ul-Quran
اور اس نے تمہیں وارث بنا دیا ان کی زمینوں ان کے گھروں اور ان کے اموال کا اور اس زمین کا بھی جس پر ابھی تم نے قدم نہیں رکھے۔ اور اللہ ہرچیز پر قادر ہے۔
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29
Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.
See this ayah on Mushaf page 421
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.
Commentary
آیت 27 { وَاَوْرَثَکُمْ اَرْضَہُمْ وَدِیَارَہُمْ وَاَمْوَالَہُمْ } ”اور اس نے تمہیں وارث بنا دیا ان کی زمینوں ‘ ان کے گھروں اور ان کے اموال کا“ { وَاَرْضًا لَّمْ تَطَئُوْہَا } ”اور اس زمین کا بھی جس پر ابھی تم نے قدم نہیں رکھے۔“ اس فقرے میں ان تمام فتوحات کی طرف اشارہ موجود ہے جو بعد میں مسلمانوں کو حاصل ہوئیں۔ اس لحاظ سے غزوئہ احزاب حضور ﷺ کی جدوجہد کے سفر میں ایک فیصلہ کن موڑ turning point ثابت ہوا۔ اس سلسلے میں حضور ﷺ نے اہل ایمان کو خوشخبری بھی سنا دی تھی کہ : لَنْ تَغْزُوْکُمْ قُرَیْشٌ بَعْدَ عَامِکُمْ ھٰذَا وَلٰـکِنَّـکُمْ تَغْزُوْنَھُمْ 1 یعنی ”اس سال کے بعد قریش کبھی بھی تم پر حملہ آور نہیں ہو سکیں گے ‘ بلکہ آئندہ تم ان پر چڑھائی کرو گے۔“ حضور ﷺ کے اس فرمان کی صداقت اگلے ہی سال یعنی 6 ہجری میں اس وقت ظاہر ہوگئی جب آپ ﷺ چودہ سو صحابہ رض کے ساتھ عمرہ کرنے کے لیے مکہ روانہ ہوئے۔ اس سفر میں مسلمانوں نے احرام باندھ رکھے تھے۔ تلواروں کے علاوہ ان کے پاس کوئی اور ہتھیار بھی نہیں تھا اور تلواریں بھی نیاموں میں تھیں۔ حضور ﷺ اپنے قافلے کے ساتھ جب مکہ کے قریب پہنچے تو یہ صورت حال گویا مشرکین مکہ کے گلے میں ایک ایسی ہڈی کی طرح پھنس کر رہ گئی جسے نہ وہ اگل سکتے تھے اور نہ نگل سکتے تھے۔ ایک طرف ان کی صدیوں پرانی روایات تھیں جن کے مطابق کسی بد ترین دشمن کو بھی حج یا عمرے سے روکا نہیں جاسکتا تھا اور دوسری طرف ان کی انا تھی جس کے تحت وہ مسلمانوں کو کسی قیمت پر بھی مکہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے سکتے تھے۔ ان کے لیے یہ دونوں صورتیں ہی مشکل تھیں۔ مسلمانوں کو مکہ میں داخل ہونے سے روکیں تو کس جواز کے تحت روکیں اور اگر آنے کی اجازت دیں تو کس منہ سے ایسا کریں ! اس صورت حال میں حضور ﷺ نے حدیبیہ کے مقام پر پڑائو کرنے کا حکم دیا اور حضرت عثمان رض کو حالات کا جائزہ لینے کے لیے مکہ بھیجا۔ حضرت عثمان رض کو مکہ میں کچھ زیادہ دیر رکنا پڑا تو مسلمان لشکر میں کسی طرح یہ افواہ پھیل گئی کہ مشرکین نے انہیں شہید کردیا ہے۔ اس پر حضور ﷺ نے آپ رض کے خون کا بدلہ لینے کے لیے صحابہ رض سے بیعت لینے کا ارادہ ظاہر فرمایا۔ چناچہ موقع پر موجود تمام صحابہ رض نے آپ ﷺ کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر حضرت عثمان رض کے خون کا بدلہ لینے کے لیے آخری دم تک لڑنے کا عہد کیا تھا۔ یہ بیعت علی الموت تھی اور تاریخ میں اسے ”بیعت ِرضوان“ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ جب اس بیعت کی خبر مکہ پہنچی تو مشرکین کے چھکے ّچھوٹ گئے۔ انہوں نے سفارتی مہم کے ذریعے حضور ﷺ کو صلح کی پیش کش کی اور طویل مذاکرات کے بعدبالآخر فریقین کے مابین صلح حدیبیہ کا تاریخی معاہدہ طے پا گیا۔ اس معاہدہ کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے سورة الفتح میں بایں الفاظ تبصرہ فرمایا : { اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیْنًا } ”یقینا ہم نے آپ ﷺ کو فتح مبین عطا فرمائی ہے۔“ اس فرمانِ الٰہی کے اثرات وثمرات فوری طور پر ہی ظاہر ہونا شروع ہوگئے۔ اگلے ہی سال 7 ہجری میں مسلمانوں نے یہودیوں کا مضبوط گڑھ خیبر فتح کرلیا۔ اس کے بعد مسلمانوں کی فتوحات کا ایک طویل سلسلہ شروع ہوگیا اور بیس سال کے اندر اندر اسلامی سلطنت کی حدود تین براعظموں تک وسیع ہوگئیں۔ آیت زیر نظر میں انہی فتوحات کے بارے میں پیشین گوئی کی گئی ہے۔ { وَکَانَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرًا } ”اور اللہ ہرچیز پر قادر ہے۔“