- اَوَلَمْکیا بھلا ہیں وہ
- یَسِیْرُوْاچلے پھرے
- فِیمیں
- الْاَرْضِزمین
- فَیَنْظُرُوْاتو وہ دیکھتے
- كَیْفَکس طرح
- كَانَہوا
- عَاقِبَةُانجام
- الَّذِیْنَان لوگوں کا
- مِنْجو ان سے
- قَبْلِهِمْ ؕپہلے تھے
- كَانُوْۤاوہ تھے
- اَشَدَّزیادہ شدید۔ زیادہ طاقتور
- مِنْهُمْان سے
- قُوَّةًقوت میں
- وَّاَثَارُوااور انہوں نے کھودا
- الْاَرْضَزمین کو
- وَعَمَرُوْهَاۤاور آباد کیا اس کو
- اَكْثَرَزیادہ
- مِمَّااس سے
- عَمَرُوْهَاجو انہوں نے آباد کیا اس کو
- وَجَآءَتْهُمْاور آئے ان کے پاس
- رُسُلُهُمْان کے رسول
- بِالْبَیِّنٰتِ ؕساتھ روشن دلائل کے
- فَمَاتو نہ
- كَانَتھا
- اللّٰهُاللہ
- لِیَظْلِمَهُمْکہ ظلم کرتا ان پر
- وَلٰكِنْلیکن
- كَانُوْۤاتھے وہ
- اَنْفُسَهُمْاپنی جانوں پر
- یَظْلِمُوْنَوہ ظلم کرتے
Surah 30 · word by word
Surah 30, ayah 9
Translation and commentary
Tafheem-ul-Quran
اور کیا یہ لو گ کبھی زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ انہیں ان لوگوں کا انجام نظر آتا جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں؟1 وہ ان سے زیادہ طاقت رکھتے تھے ، انہوں نے زمین کو خوب ادھیڑا تھا2 اور اسے اتنا آباد کیا تھا جتنا انہوں نے نہیں کیا ہے۔3 ان کےپاس ان کے رسول روشن نشانیاں لے کر آئے۔4 پھر اللہ ان پر ظلم کرنے والا نہ تھا، مگر وہ خود ہی اپنے اوپر ظلم کر رہے تھے۔5
Footnotes (the author's commentary)
-
یہ آخرت کے حق میں تاریخی استدلال ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ آخرت کا انکار دنیا میں دوچار آدمیوں ہی نے تو نہیں کیا ہے۔ انسانی تاریخ کے دوران کثیر التعداد انسان اس مرض میں مبتلا ہوتے رہے ہیں۔ بلکہ پوری پوری قومیں ایسی گزری ہیں جنہوں نے یا تو اس کا انکار کیا ہے ، یا اس سے غافل ہو کر رہی ہیں، یا حیات بعد الموت کے متعلق ایے غلط عقیدے ایجاد کر لیے ہیں جن سے آخرت کا عقیدہ بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے۔ پھر تاریخ کا مسلسل تجربہ یہ بتاتا ہے کہ انکارِ آخرت جس صور ت میں بھی کیا گیا ہے اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ لوگوں کے اخلاق بگڑے ، وہ اپنے آپ کو غیر ذمہ دار سمجھ لر شتر بے مہار بن گئے، انہوں ظلم و فساد اور فسق و فجور کی حد کر دی، اور اسی چیز کی بدولت قوموں پر قومیں تباہ ہوتی چلی گئیں۔ کیا ہزاروں سال کی تاریخ کا یہ تجربہ، جو پے در پے انسانی نسلوں کو پیش آتا رہا ہے، یہ ثابت نہیں کرتا کہ آخرت ایک حقیقت ہے جس کا انکار انسان کے لیے تباہ کن ہے؟ انسان کششِ ثقل کا اسی لیے تو قائل ہے کہ تجربے اور مشاہدے سے اس نے مادّی اشیاء کو ہمیشہ زمین کی طرف گرتے دیکھا ہے۔ انسان نے زہر کو زہر اسی لیے تو مانا ہے کہ جس نے بھی زہر کھایا وہ ہلاک ہوا۔ اسی طرح جب آخرت کا انکار ہمیشہ انسان کے لیے اخلاقی بگاڑ کاموجب ثابت ہوا ہے تو کیا یہ تجربہ یہ سبق دینے کے لیے کافی نہیں ہے کہ آخرت ایک حقیقت ہے اور اس کو نظر انداز کر کے دنیا میں زندگی بسر کرنا غلط ہے؟
-
اصل میں لفظ اَثَارُو ا الْاَرْضَ استعمال ہو ا ہے ۔ اس کا اطلاق زراعت کے لیے ہل چلانے پر بھی ہو سکتا ہے اور زمین کھود کر زیرِ زمین پانی، نہریں، کاریزیں اور معدنیات وغیرہ نکالنے پر بھی۔
-
اس میں اُن لوگوں کے استدلال کا جواب موجود ہے جو محض مادی ترقی کو کسی قوم کے صالح ہونے کی علامت سمجھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جن لوگوں نے زمین کے ذرائع کو اتنے بڑے پیمانے پر استعمال (Expoit ) کیا ہے، جنہوں نے دنیا میں عظیم الشان تعمیری کام کیے ہیں اور ایک شاندار تمدّن کو جنم دیا ہے ، بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ اللہ ان کو جہنم کا ایندھن بنا دے۔ قرآن اس کا جواب یہ دیتا ہے کہ یہ ”تعمیری کام“ پہلے بھی بہت سی قوموں نے بڑے پیمانے پر کیے ہیں، پھر کیا تمہاری آنکھوں نے نہیں دیکھا کہ وہ قومیں اپنی تہذیب اور اپنے تمدّن سمیت پیوند ِ خاک ہو گئیں اور ان کی ”تعمیر“ کا قصرِ فلک بوس زمین پر آرہا؟ جس خدا کے قانون نے یہاں عقیدہ ٔ حق اور اخلاقِ صالحہ کے بغیر محض مادّی تعمیر کی یہ قدر کی ہے ، آخر کیا وجہ ہے کہ اسی خدا کا قانون دوسرے جہان میں انہیں واصل جہنم نہ کرے؟
-
یعنی ایسی نشانیاں لے کر آئے جو ان کے نبی صادق ہونے کا یقین دلانے کے لیے کافی تھیں۔ اس سیاق و سباق میں انبیاء کی آمد کے ذکر کا مطلب یہ ہے کہ ایک طرف انسان کے اپنے وجود میں ، اور اس سے باہر ساری کائنات کے نظام میں، اور انسانی تاریخ کے مسلسل تجربے میں آخرت کی شہادتیں موجود تھیں، اور دوسری طرف پے درپے ایسے انبیاء بھی آئے جن کے ساتھ ان کی نبوت کے برحق ہونے کی کھلی کھلی علامتیں پائی جاتی ہیں اور انہوں نے انسانوں کو خبردار کیا کہ فی الواقع آخرت آنے والی ہے۔
-
یعنی اس کے بعد جو تباہی ان قوموں پر آئی وہ ان پر خدا کا ظلم نہ تھا بلکہ وہ ان کا اپنا ظلم تھا جو انہوں نے اپنے اوپر کیا۔ جو شخص یا گروہ نہ خود سوچے اور نہ کسی سمجھانے والے کے سمجھانے سے صحیح رویہ اختیار کرے اس پر اگر تباہی آتی ہے تو وہ آپ ہی اپنے برے انجام کا ذمہ دار ہے۔ خدا پر اس کا الزام عائد نہیں کیا جا سکتا۔ خدا نے تو اپنی کتابوں اور اپنے انبیاء کے ذریعہ سے انسان کو حقیقت کا علم دینے کا انتظام بھی کیا ہے ، اور وہ علمی و عقلی وسائل بھی عطا کیے ہیں جن سے کام لے کر وہ ہر وقت انبیاء اور کتب آسمانی کے دیے ہوئے علم کی صحت جانچ سکتا ہے۔ اِس رہنمائی اور ان ذرائع سے اگر خدا نے انسان کو محروم رکھا ہوتا اور اس حالت میں انسان کو غلط روی کے نتائج سے دوچار ہونا پڑتا تب بلاشبہہ خدا پر ظلم کے الزام کی گنجائش نکل سکتی تھی۔
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Bayan-ul-Quran
کیا یہ لوگ زمین میں گھومے پھرے نہیں کہ وہ دیکھتے کہ کیسا انجام ہوا ان لوگوں کا جو ان سے پہلے تھے وہ قوت میں ان سے کہیں زیادہ تھے اور انہوں نے زمین کو کاشت کیا اور اسے آباد کیا اس سے کہیں بڑھ کر جو (آ ج) انہوں نے آباد کیا اور ان کے پاس بھی ان کے رسول ؑ آئے تھے کھلی نشانیاں لے کر سو اللہ ان پر ظلم کرنے والا نہیں تھا بلکہ انہوں نے خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29
Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.
See this ayah on Mushaf page 405
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.
Commentary (one passage for ayahs 30:8, 30:9, 30:10)
مَا خَلَقَ اللّٰہُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَہُمَآ اِلَّا بالْحَقِّ وَاَجَلٍ مُّسَمًّی ط ”اللہ تعالیٰ نے یہ کائنات ایک مقصد کے تحت پیدا کی ہے۔ یہ وہ حقیقت ہے جس کا اقرار ہر وہ شخص کرتا ہے جو چشم بصیرت سے کائنات کا نظام دیکھتا ہے۔ چناچہ سورة آل عمران کی آیت 191 میں اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کی ایک خصوصیت یہ بھی بتائی گئی ہے کہ جب وہ کائنات کی تخلیق کے بارے میں غور و فکر کرتے ہیں تو بےاختیار پکار اٹھتے ہیں : رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ہٰذَا بَاطِلاً ج ”اے ہمارے پروردگار ! ہم سمجھ گئے ہیں کہ تو نے یہ سب کچھ عبث پیدا نہیں فرمایا۔“