- وَلَقَدْاور البتہ تحقیق
- صَدَقَكُمُسچ کیا تم سے۔ سچ کہا تم سے
- اللّٰهُاللہ نے
- وَعْدَهٗۤاپنا وعدہ۔ اپنے وعدے کو
- اِذْجب
- تَحُسُّوْنَهُمْتم قتل کر رہے تھے ان کو
- بِاِذْنِهٖ ۚاس کے اذن سے
- حَتّٰۤییہاں تک کہ
- اِذَاجب
- فَشِلْتُمْبزدلی دکھائی تم نے۔ ہمت ہار دی تم نے
- وَتَنَازَعْتُمْاور جھگڑا کیا تم نے
- فِیمیں
- الْاَمْرِمعاملے
- وَعَصَیْتُمْاور نافرمانی کی تم نے
- مِّنْNo meaning in the source
- بَعْدِبعد اس کے
- مَاۤجو
- اَرٰىكُمْاس نے دکھایا تم کو
- مَّاجو
- تُحِبُّوْنَ ؕتم پسند کرتے تھے
- مِنْكُمْتم میں سے
- مَّنْکوئی
- یُّرِیْدُچاہتا ہے۔ تھا
- الدُّنْیَادنیا کو
- وَمِنْكُمْاور تم میں سے
- مَّنْکوئی
- یُّرِیْدُچاہتا ہے۔ تھا
- الْاٰخِرَةَ ۚآخرت کو
- ثُمَّپھر
- صَرَفَكُمْاس نے پھیر دیا تم کو
- عَنْهُمْان سے
- لِیَبْتَلِیَكُمْ ۚتاکہ وہ آزمائے تم کو
- وَلَقَدْاور البتہ تحقیق
- عَفَااس نے معاف کردیا
- عَنْكُمْ ؕتم سے
- وَاللّٰهُاور اللہ
- ذُوْوالا
- فَضْلٍفضل( والا ہے )
- عَلَیپر
- الْمُؤْمِنِیْنَمومنوں
Surah 3 · word by word
Surah 3, ayah 152
Translation and commentary
Bayan-ul-Quran
اور اللہ نے تو تم سے (تائید و نصرت کا) جو وعدہ کیا تھا وہ پورا کردیا جبکہ تم ان کو تہ تیغ کر رہے تھے اللہ کے حکم سے یہاں تک کہ جب تم ڈھیلے پڑگئے اور امر میں تم نے جھگڑا کیا اور تم نے نافرمانی کی اس کے بعد کہ تم نے وہ چیز دیکھ لی جو تمہیں محبوب ہے تم میں سے وہ بھی ہیں جو دنیا چاہتے ہیں اور تم میں وہ بھی ہیں جو صرف آخرت کے طالب ہیں پھر اللہ نے تمہارا رخ پھیر دیا ان کی طرف سے تاکہ تمہاری آزمائش کرے اور اللہ تمہیں معاف کرچکا ہے اور اللہ تعالیٰ اہل ایمان کے حق میں بہت فضل والا ہے
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29
Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.
See this ayah on Mushaf page 69
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Meanings are shown as the source gives them, one per word. 1 word in this ayah has no meaning in the source and is left empty. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.
Commentary
آیت 152 وَلَقَدْ صَدَقَکُمُ اللّٰہُ وَعْدَہٗ اِذْ تَحُسُّوْنَہُمْ بِاِذْنِہٖ ج غزوۂ احد میں جو عارضی شکست ہوگئی تھی اور مسلمانوں کو زَک پہنچی تھی ‘ جس سے ان کے دل زخمی تھے اس کے ضمن میں اب یہ آیت ایک قول فیصل کے انداز میں آئی ہے کہ دیکھو مسلمانو ! تم ہم سے کوئی شکایت نہیں کرسکتے ‘ اللہ نے تم سے تائید و نصرت کا جو وعدہ کیا تھا وہ پورا کردیا تھا جبکہ تم انہیں اللہ کے حکم سے قتل کر رہے تھے ‘ گاجر مولی کی طرح کاٹ رہے تھے۔ تمہیں فتح حاصل ہوگئی تھی اور ہمارا وعدہ پورا ہوچکا تھا۔حَتّٰی اِذَا فَشِلْتُمْ وَتَنَازَعْتُمْ فِی الْاَمْرِ فَشِلْتُمْ کا ترجمہ بعض مترجمین نے کچھ اور بھی کیا ہے ‘ لیکن میرے نزدیک یہاں نظم ڈسپلن کو ڈھیلا کرنا مراد ہے۔ اسلامی نظم جماعت میں سمع وطاعت کو بنیادی اہمیت حاصل ہے ‘ اور ظاہر ہے کہ سمع وطاعت میں ایک ہی شخص کی اطاعت مقصود نہیں ہوتی۔ رسول اللہ ﷺ کی اطاعت بھی فرض تھی اور آپ ﷺ اگر کسی کو امیر مقرر کرتے تو اس کی اطاعت بھی فرض تھی۔ حضرت ابوہریرہ رض روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : مَنْ اَطَاعَنِیْ فَقَدْ اَطَاع اللّٰہَ ‘ وَمَنْ عَصَانِیْ فَقَدْ عَصَی اللّٰہَ ‘ وَمَنْ اَطَاعَ اَمِیْرِیْ فَقَدْ اَطَاعَنِیْ ‘ وَمَنْ عَصٰی اَمِیْرِیْ فَقَدْ عَصَانِیْ 1جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی ‘ اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی۔ اور جس نے میرے مقرر کردہ امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی ‘ اور جس نے میرے نامزد کردہ امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی۔اگرچہ رسول اللہ ﷺ کے حکم کی تو انہوں نے تاویل کرلی تھی کہ حضور ﷺ نے جو یہ فرمایا تھا کہ اگر ہم سب بھی اللہ کی راہ میں قتل ہوجائیں اور تم دیکھو کہ چیلیں اور کوے ہمارا گوشت کھا رہے ہیں تب بھی یہاں سے نہ ہٹنا ‘ تو یہ شکست کی صورت میں تھا ‘ لیکن اب تو فتح ہوگئی ہے۔ چناچہ انہوں نے جان بوجھ کر اللہ کے رسول ﷺ کے حکم کی خلاف ورزی نہیں کی تھی۔ لیکن انہوں نے اپنے مقامی امیر لوکل کمانڈر کے حکم کی خلاف ورزی کی تھی۔ میرے نزدیک یہاں عَصَیْتُمْسے یہی حکم عدولی مراد ہے۔ اسلامی نظم جماعت میں اوپر سے لے کر نیچے تک ‘ سپہ سالار سے لے کر لوکل کمانڈر تک ‘ درجہ بدرجہ نظام سمع وطاعت کی پابندی ضروری ہے۔ فوج کا ایک سپہ سالار ہے ‘ لیکن پھر پوری فوج کے کئی حصے ہوتے ہیں اور ہر ایک کا ایک امیر ہوتا ہے۔ میسرہ ‘ میمنہ ‘ قلب اور ہراول دستہ وغیرہ ‘ ہر ایک کا ایک کمانڈر ہوتا ہے۔ اب اگر ان کمانڈروں کے احکام سے سرتابی ہوگی تو ایسی فوج کا جو انجام ہوگا وہ معلوم ہے۔ چناچہ ایک جماعت کے اندر درجہ بدرجہ جو بھی نظام سمع وطاعت ہے اس کی پوری پوری پابندی ضروری ہے۔وَعَصَیْتُم مِّنْم بَعْدِ مَآ اَرٰٹکُمْ مَّا تُحِبُّونَ ط۔عَصَیْتُمْ کے بارے میں وضاحت ہوچکی ہے کہ اس سے مراد اللہ کے رسول ﷺ کی نافرمانی نہیں ‘ بلکہ لوکل کمانڈر کی نافرمانی ہے۔ مِّنْم بَعْدِ مَآ اَرٰٹکُمْ مَّا تُحِبُّونَ ط سے اکثر مفسرین نے مال غنیمت مراد لیا ہے ‘ کہ درّے پر مامور حضرات مال غنیمت کی طلب میں درّہ چھوڑ کر چلے گئے ‘ لیکن میرے نزدیک یہ بات درست نہیں ہے۔ اس لیے کہ مال غنیمت کی تقسیم کا قانون تو غزوۂ بدر کے بعد سورة الانفال میں نازل ہوچکا تھا۔ اس کی رو سے چاہے کوئی شخص کچھ جمع کرے یا نہ کرے اسے مال غنیمت میں سے برابر کا حصہ ملے گا۔ یہاں مِّنْم بَعْدِ مَآ اَرٰٹکُمْ مَّا تُحِبُّونَ ط سے مراد دراصل فتح ہے اور اس کے لیے القرآن یفُسِّر بعضُہ بَعْضًاکی رو سے سورة الصف کی یہ آیت ہماری رہنمائی کرتی ہے : وَاُخْرٰی تُحِبُّوْنَھَاط نَصْرٌ مِّنَ اللّٰہِ وَفَتْحٌ قَرِیْبٌ ط آیت 13 گویا بندۂ مؤمن کو دنیا میں فتح و نصرت محبوب تو ہوتی ہے ‘ لیکن اسے اس کو اپنا مقصود نہیں بنانا۔ اس کا مقصود اللہ کی رضا جوئی اور اپنے فرض کی ادائیگی ہے۔ باقی کامیابی یا ناکامی اللہ کی مرضی اور اس کی حکمت کے تحت ہوتی ہے۔ اللہ کب فتح لانا چاہتا ہے وہ بہتر جانتا ہے۔ مِنْکُمْ مَّنْ یُّرِیْدُ الدُّنْیَا یعنی وہ خواہش رکھتے ہیں کہ دنیا میں فتح و نصرت اور کامیابی حاصل ہوجائے ‘ ہمارا بول بالا ہوجائے ‘ ہماری حکومت قائم ہوجائے۔وَمِنْکُمْ مَّنْ یُّرِیْدُ الْاٰخِرَۃَ ج ثُمَّ صَرَفَکُمْ عَنْہُمْ لِیَبْتَلِیَکُمْ ج پہلے وہ بھاگ رہے تھے اور تم ان کا تعاقب کر رہے تھے ‘ اب معاملہ الٹاہو گیا کہ تم پسپا ہوگئے اور اپنی جانیں بچانے کے لیے ادھر ادھر جائے پناہ ڈھونڈنے لگے۔ تمہاری یہ پسپائی تمہارے لیے آزمائش تھی۔وَلَقَدْ عَفَا عَنْکُمْ ط۔تم میں سے جس کسی سے جو بھی خطا ہوئی اللہ نے اسے معاف فرما دیا ہے۔