- وَلَقَدْاور البتہ
- فَتَنَّاآزمایا ہم نے
- الَّذِیْنَلوگوں کو
- مِنْسے
- قَبْلِهِمْجو ان (سے) پہلے تھے
- فَلَیَعْلَمَنَّپس البتہ ضرور جان لے گا
- اللّٰهُاللہ
- الَّذِیْنَان لوگوں کو
- صَدَقُوْاجنہوں نے سچ کہا
- وَلَیَعْلَمَنَّاور البتہ ضرور جان لے گا
- الْكٰذِبِیْنَجھوٹوں کو
Surah 29 · word by word
Surah 29, ayah 3
Translation and commentary
Tafheem-ul-Quran
حالانکہ ہم اُن سب لوگوں کی آزمائش کر چکے ہیں جو اِن سے پہلے گزرے ہیں۔1 اللہ کو تو ضرور یہ دیکھنا ہے2 کہ سچے کون ہیں اور جھُوٹے کون
Footnotes (the author's commentary)
-
یعنی یہ کوئی نیا معاملہ نہیں ہے جو تمہارے ساتھ ہی پیش آرہا ہو۔ تاریخ میں ہمیشہ یہی ہوا ہے کہ جس نے بھی ایمان کا دعویٰ کیا ہے اسے آزمائشوں کی بھٹی میں ڈال کر ضرور تپایا گیا ہے۔ اور جب دوسروں کو امتحان کے بغیر کچھ نہیں دیا گیا تو تمہاری کیا خصوصیت ہے کہ تمہیں صرف زبانی دعوے پر نواز دیا جائے۔
-
اصل الفاظ ہیں فَلَیَعْلَمَنَّ اللہُ ، جن کا لفظی ترجمہ یہ ہو گا ”ضرور ہے اللہ یہ معلوم کرے۔ اس پر ایک شخص یہ سوال کرتا ہے کہ اللہ کو تو سچے کی سچائی اور جھوٹے کا جھوٹ خود ہی معلوم ہے، آزمائش کر کے اسے معلوم کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جب تک ایک شخس کے اندر کسی چیز کی صرف صلاحیت اور استعداد ہی ہوتی ہے ، عملاً اس کا ظہور نہیں ہو جاتا ، اس وقت تک ازروئے عدل و انصاف نہ تو وہ کسی جزاء کا مستحق ہو سکتا ہے نہ سزا کا۔ مثلاً ایک آدمی میں امین ہونے کی صلاحیت ہے اور ایک دوسرے میں خائن ہونے کی صلاحیت۔ ان دونوں پر جب تک آزمائش نہ آئے اور ایک سے امانت داری کا اور دوسرے سے خیانت داری کا عملاً ظہور نہ ہو جائے ، یہ بات اللہ کے انصاف سے بعید ہے کہ وہ محض اپنے علمِ غیب کی بنا پر ایک کو امانت داری کا انعام دے دے اور دوسرے کو خیانت کی سزا دے ڈالے۔ اس لیے وہ علمِ سابق جو اللہ کو لوگوں کے اچھے اور بُرے اعمال سے پہلے اُن کی صلاحیتوں کے بارے میں اور اِن کے آئندہ طرزِ عمل کے بارے میں حاصل ہے ، انصاف کے اغراض کے لیے کافی نہیں ہے ۔ اللہ کے ہاں انصاف اِس علم کی بنیاد پر نہیں ہوتا کہ فلاں شخص چوری کا رحجان رکھتا ہے اور چورے کرے گا یا کرنے والا ہے، بلکہ اِس علم کی بنیاد پر ہوتا ہے کہ اس شخص نے چوری کر ڈالی ہے۔ اسی طرح بخششیں اور انعامات بھی اس کے ہاں اِس علم کی بنا پر نہیں دیے جاتے کہ فلاں شخص اعلیٰ درجے کا مومن و مجاہد بن سکتا ہے یا بنے گا، بلکہ اِس علم کی بنا پر دیے جاتے ہیں کہ فلاں شخص نے اپنے عمل سے اپنا صادق الایمان ہونا ثابت کر دیا ہے اور اللہ کی راہ میں جان لڑا کر د کھا دی ہے۔ اسی لیے ہم نے آیت کے ان الفاظ کا ترجمہ ”اللہ کو تو ضرور یہ دیکھنا ہے“ کیا ہے۔
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Bayan-ul-Quran
ہم نے تو ان کو بھی آزمایا تھا جو ان سے پہلے تھے پس اللہ ظاہر کر کے رہے گا ان کو جو سچے ہیں اور ان کو بھی جو جھوٹے ہیں
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29
Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.
See this ayah on Mushaf page 396
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.
Commentary
آیت 3 وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ ”ہم ان سے پہلے بھی ایمان کے ہر دعویدار کو آزماتے رہے ہیں اور آزمائش کے بغیر ہم کسی کے ایمان کو تسلیم نہیں کرتے۔فَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰہُ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَلَیَعْلَمَنَّ الْکٰذِبِیْنَ ”اگرچہ ان الفاظ کا لفظی ترجمہ تو یہ ہے کہ ”اللہ جان کر رہے گا“ لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ کے علم قدیم سے کچھ بھی پوشیدہ نہیں ہے اور وہ انسانوں کی نیتوں اور دلوں کے حالات سے بخوبی واقف ہے ‘ اس لیے یہاں اللہ کے ”جان لینے“ کا مفہوم دراصل یہی ہے کہ اللہ ظاہر کر دے گا کہ کون کتنے پانی میں ہے ! وہ ممیز کر دے گا کہ کون منافق ہے اور کون سچا مؤمن ! کون ضعیف الایمان ہے اور کون قوئ الایمان ! کون سچا جاں نثار ہے اور کون محض دودھ پینے والا مجنوں ہے !یہاں یہ بات بھی لائق توجہ ہے کہ گزشتہ دو آیات میں اگر خفگی کا اظہار ہے تو اگلی دو آیات میں اہل ایمان کی دلجوئی کا سامان بھی ہے۔ گویا ترہیب اور ترغیب ساتھ ساتھ ہیں۔ اس کی مثال ایسے ہے جیسے ایک شفیق استاد اپنے شاگرد کو ایک وقت میں ڈانٹ پلاتا ہے لیکن پھر اس کے بعد تھپکی دے کر اس کی حوصلہ افزائی بھی کرتا ہے۔ اس نکتے کو اس حدیث کے حوالے سے بھی سمجھنا چاہیے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے : اَلْخَلْقُ عَیَال اللّٰہِ 1 کہ تمام مخلوق اللہ کا کنبہ ہے۔ یعنی اللہ اپنی مخلوق اور خصوصاً اپنے بندوں سے بہت محبت کرتا ہے۔ چناچہ اس محبت اور شفقت کی جھلک اگلی آیت میں صاف نظر آرہی ہے :