Surah 29 · word by word

Surah 29, ayah 10

  1. وَمِنَاور سے
  2. النَّاسِلوگوں (میں سے)
  3. مَنْکوئی ہے
  4. یَّقُوْلُجو کہتا ہے
  5. اٰمَنَّاہم ایمان لائے
  6. بِاللّٰهِاللہ پر
  7. فَاِذَاۤپھر جب
  8. اُوْذِیَستایا جاتا ہے
  9. فِیمیں
  10. اللّٰهِاللہ کی (راہ میں)
  11. جَعَلَبنا لیتا ہے
  12. فِتْنَةَآزمائش کو
  13. النَّاسِلوگوں کی
  14. كَعَذَابِمانند عذاب کے
  15. اللّٰهِ ؕاللہ کے
  16. وَلَىِٕنْاور البتہ اگر
  17. جَآءَآگئی
  18. نَصْرٌفتح/ مدد
  19. مِّنْسے
  20. رَّبِّكَتیرے رب کی طرف (سے)
  21. لَیَقُوْلُنَّالبتہ وہ ضرور کہیں گے
  22. اِنَّابیشک ہم
  23. كُنَّاتھے ہم
  24. مَعَكُمْ ؕتمہارے ساتھ
  25. اَوَلَیْسَکیا بھلا نہیں
  26. اللّٰهُاللہ
  27. بِاَعْلَمَخوب جانتا
  28. بِمَاساتھ اس کے جو
  29. فِیْمیں
  30. صُدُوْرِسینوں (میں) ہے
  31. الْعٰلَمِیْنَجہان والوں کے

Translation and commentary

Tafheem-ul-Quran

لوگوں میں سے کوئی ایسا ہے جو کہتا ہے کہ ہم ایمان لائے اللہ پر۔1 مگر جب وہ اللہ کے معاملہ میں ستایا گیا تو اس نے لوگوں کی ڈالی ہوئی آزمائش کو اللہ کے عذاب کی طرح سمجھ لیا۔2 اب اگر تیرے ربّ کی طرف سے فتح و نصرت آگئی تو یہی شخص کہے گا کہ”ہم تو تمہارے ساتھ تھے“3 کیا دنیا والوں کےدلوں کا حال اللہ کو بخوبی معلوم نہیں ہے؟

Footnotes (the author's commentary)

  1. کہنے والا ایک شخص ہے، مگر ”میں ایمان لایا“ کہنے کے بجائے کہہ رہا ہے ”ہم ایمان لائے۔“ امام رازی نے اس میں ایک لطیف نکتے کی نشاندہی کی ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ منافق اپنے آپ کو ہمیشہ زمرۂ اہل ایمان میں شامل کرنے کی  کی کوشش کرتا ہے اور اپنے ایمان کا ذکر اس طرح کرتا ہے کہ گویا وہ بھی ویسا ہی مومن ہے جیسے دوسرے ہیں۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک بزدل اگر کسی فوج کے ساتھ گیا ہے اور اس فوج کے بہادر سپاہیوں نے لڑ کر دشمنوں کو مار بھگا دیا ہے ، تو چاہے اس نے خود کوئی کارنامہ انجام نہ دیا ہو ، مگر وہ آکر یوں کہے گا کہ ہم گئے اور ہم خوب لڑے اور ہم نے دشمن کو شکست فاش دے دی۔ گویا آپ بھی انہی بہادروں میں سے ہیں جنہوں  نے داد شجاعت دی ہے۔

  2. یعنی جس طرح اللہ کے عذاب سے ڈر کر کفر و معصیت سے باز آنا چاہیے ، یہ شخص بندوں کی دی ہوئی تکلیفوں سے ڈر کر ایمان اور نیکی سے باز آگیا۔ ایمان لانے کے بعد کفار  کی دھمکیوں اور مار پیٹ اور قید و بند سے جب اسے سابقہ پیش آیا تو  اس نے سمجھا کہ اللہ کی وہ دوزخ بھی  بس اتنی ہی کچھ ہو گی جس سے مرنے کے بعد کفر کی پاداش میں سابقہ پیش آنا ہے۔ اس لیے اس نے فیصلہ کر لیا کہ وہ عذاب تو بعد میں بھگت لوں گا، یہ نقد عذاب جو اَب مل رہا ہے اِس سے بچنے کے لیے مجھے ایمان چھوڑ کر پھر زمرۂ کفار میں جا ملنا چاہیے تا کہ دنیا کی زندگی تو خیریت سے گزر جائے۔

  3. یعنی آج  تو وہ اپنی کھال بچانے کےلیے کفاروں میں جا ملا ہے اور اہلِ ایمان کا ساتھ اس نے چھوڑ دیا ہے، کیونکہ دینِ حق کو فروغ دینے  کے لیے وہ اپنی نکسیر تک پُھڑوانے کو تیار نہیں ہے ۔ مگر جب اِس دین کی خاطر سر دھڑ کی بازی لگا دینے والوں کو اللہ تعالیٰ فتح و کامرانی بخشے گا تو یہ شخص فتح کے ثمرات میں حصّہ بٹانے کے لیے آموجود ہو گا اور مسلمانوں سے کہے گا کہ دل سے تو ہم  تمہارے ہی ساتھ تھے، تمہاری کامیابی کے لیے دعائیں  مانگا کرتے تھے، تمہاری جانفشانیوں اور قربانیوں کی بڑی قدر ہماری نگاہ میں تھی۔ یہاں اتنی بات اور سمجھ لینی چاہیے کہ ناقابلِ برداشت اذیت یا نقصان ، یا شدید خوف کی حالت میں کسی شخص کا کلمۂ کفر  کہہ کر اپنے آپ کو بچا لینا شرعًا جائز ہے بشرطیکہ آدمی سچے دل سے ایمان پر ثابت قدم رہے۔ لیکن بہت بڑا فرق ہے اُس مخلص مسلمان میں جو بحالتِ مجبوری جان بچانے کے لیے کفر کا اظہار کرے ، اور اُس مصلحت پر ست انسان میں جو نظریہ کے اعتبار سے اسلام ہی کو حق جانتا اور مانتا ہو مگر ایمانی زندگی کے خطرات و مہالک دیکھ کر کفار سے جا ملے۔ بظاہر ان دونوں کی حالت ایک دوسرے سے کچھ زیادہ مختلف نظر نہیں آتی۔ مگر در حقیقت جو چیز ان کے درمیان  زمین  و آسمان کا فرق کر دیتی ہے وہ یہ ہے کہ مجبوراً کفر ظاہر کرنے والا مخلص مسلمان نہ صرف عقیدے کے اعتبار سے اسلام کا گرویدہ رہتا ہے، بلکہ عملاً بھی اس کی دلی ہمدردیاں دین و اہل ِ دین کے ساتھ رہتی ہیں۔ ان کی کامیابی سے وہ خوش اور ان کو زک پہنچنے سے وہ بے چین ہو جاتا ہے۔ مجبوری کی حالت میں بھی وہ مسلمانوں کا ساتھ دینے کے ہر موقع سے فائدہ اُٹھاتا ہے ، اور اس تاک میں رہتا ہے کہ جب بھی اس پر سے اعدائے دین کی گرفت ڈھیلی ہو وہ اپنے اہلِ دین کے ساتھ جا ملے۔ اس کے بر عکس مصلحت پر ست آدمی جب دین کی راہ کٹھن دیکھتا ہے ، اور خوب ناپ تول کر دیکھ لیتا ہے کہ دینِ حق کا ساتھ دینے کے نقصانات کفار کے ساتھ جا ملنے کے فوائد سے زیادہ ہیں، تو وہ خالص عافیت اور منفعت کی خاطر دین اور اہلِ دین سے منہ موڑ لیتا ہے ، کفاروں سے رشتہ ٔ دوستی استوار کرتا ہے اور اپنے مفاد کی خاطر ان کی کوئی ایسی خدمت بجا لانے سے بھی باز نہیں رہتا  جو دین کے سخت خلاف اور اہلِ دین کے لیے نہایت نقصان دہ ہو۔ لیکن اس کے ساتھ وہ اِس امکان سے بھی آنکھیں بند نہیں کر لیتا کہ شاید کسی وقت دینِ حق ہی کا بول بالا ہو جائے۔ اس لیے جب کبھی اسے مسلمانوں سے بات کرنے کا موقع ملتا ہے ، وہ ان کے نظریے کو حق ماننے اور ان کے سامنے  اپنے ایمان کا اقرار کرنے اور راہِ حق میں ان کی قربانیوں کو خراجِ تحسین  ادا کرنے میں ذرّہ برابر بُخل نہیں کرتا،  تاکہ یہ زبانی اعترافات سند رہیں اور بوقتِ ضرورت کام آئیں۔ قرآن کریم ایک دوسرے موقع پر  ان منافقین کی اسی سوداگرانہ ذہنیت کو یوں بیان کرتا ہے: اَلَّذِیْنَ یَتَرَ بَّصُوْنَ بِکُمْ فَاِنْ کَانَ لَکُمْ فَتْحٌ مِّنَ اللہِ قَالُوْآ اَلَمْ نَکُنْ مَّعَکُمْ وَاِنْ کَانَ لِلْکَافِرِیْنَ نَصِیْبٌ قَالُوْآ اَلَمْ نَسْتَحْوِذْ عَلَیْکُمْ وَنَمْنَعْکُمْ مِّنَ الْمُؤْ مِنِیْنَ  o    (النساء۔ آیت141) ”یہ وہ لوگ ہیں جو تمہارے معاملے میں انتظار کرہے ہیں (کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے) ۔ اگر اللہ کی طرف سے فتح تمہاری ہوئی تو آکر کہیں گے کہ کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے؟ اور اگر کافروں کا پلہ بھاری رہا تو ان سے کہیں گے کہ کیا ہم تمہارے خلاف لڑنے پر قادر نہ تھے اور ہم نے پھر بھی تمہیں مسلمانو ں سے بچایا؟“

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Bayan-ul-Quran

اور لوگوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں ہم ایمان لائے اللہ پر مگر جب انہیں اللہ کی راہ میں ایذا پہنچائی جاتی ہے تو وہ لوگوں کی ایذا رسانی کو اللہ کے عذاب کی مانند سمجھ لیتے ہیں اور (اے نبی ﷺ !) اگر آپ کے رب کی طرف سے مدد آجائے یہ ضرور کہیں گے کہ ہم آپ لوگوں کے ساتھ ہی تو تھے تو کیا اللہ بخوبی واقف نہیں ہے اس سے جو جہان والوں کے سینوں میں مضمر ہے

Commentary

آیت 10 وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا باللّٰہِ فَاِذَآ اُوْذِیَ فِی اللّٰہِ جَعَلَ فِتْنَۃَ النَّاسِ کَعَذَاب اللّٰہِ ط ”یعنی لوگوں کی طرف سے ڈالی گئی آزمائش سے ایسے گھبرا جاتے ہیں جیسے ان پر اللہ کا عذاب نازل ہوگیا ہو۔ یہاں یہ نکتہ خصوصی اہمیت کا حامل ہے کہ یہ آیت مکہ میں اس وقت نازل ہوئی جب اسلام میں منافقت کا شائبہ تک نہ تھا ‘ بلکہ یہ وہ وقت تھا جب کلمہ توحید کا اقرار کرنے والے ہر شخص پر عرصۂ حیات تنگ کردیا جاتا تھا۔ ایسے ماحول میں جو کوئی بھی اسلام قبول کرتا تھا اس کے ایمان میں کسی شک و شبہ کا امکان نہیں تھا۔ لیکن یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مسلمّ ہے کہ سب لوگوں کی طبیعتیں ایک جیسی نہیں ہوتیں اور جذبے ‘ بہادری ‘ استقامت وغیرہ میں سب انسان برابر نہیں ہوتے۔ چناچہ آیت زیر مطالعہ میں اسی حوالے سے ایک ایسے کردار کا ذکر ہو رہا ہے جو ایمان تو پورے خلوص سے لایا ہے مگر اس راستے کی مشکلات اور آزمائشوں کو جھیلنے کا حوصلہ اس میں نہیں ہے۔لَیَقُوْلُنَّ اِنَّا کُنَّا مَعَکُمْ ط ”جب صورت حال تبدیل ہوجائے گی اور دین کی خاطر سر دھڑ کی بازی لگادینے والوں کو اللہ تعالیٰ فتح و نصرت سے ہم کنارکرے گا تو اس کردار کے لوگ فتح کے ثمرات میں حصہ دار بننے کے لیے آموجود ہوں گے کہ ہم تو دل سے آپ ہی کے ساتھ تھے۔ گویا یہ وہی کردار ہے جس کا ذکر سورة البقرۃ کے آغاز میں بھی ہوا ہے اور سورة الحج کی اس آیت میں اس کی نفسیاتی کیفیت کو مزید واضح کردیا گیا ہے : وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّعْبُدُ اللّٰہَ عَلٰی حَرْفٍج فَاِنْ اَصَابَہٗ خَیْرُ نِ اطْمَاَنَّ بِہٖج وَاِنْ اَصَابَتْہُ فِتْنَۃُ نِ انْقَلَبَ عَلٰی وَجْہِہٖج خَسِرَ الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃَط ذٰلِکَ ہُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ الح ج ”اور لوگوں میں سے کوئی وہ بھی ہے جو اللہ کی عبادت کرتا ہے کنارے پر رہ کر۔ پھر اگر اسے کوئی فائدہ پہنچے تو اس کے ساتھ مطمئن رہے ‘ اور اگر اسے کوئی آزمائش آجائے تو منہ کے بل الٹا پھرجائے۔ وہ دنیا میں بھی خسارے میں رہا اور آخرت میں بھی۔ یہی ہے واضح خسارہ۔“

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29

Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.

See this ayah on Mushaf page 397

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.

Sources & attribution