- وَقَالُوْۤااور وہ کہتے ہیں
- اِنْاگر
- نَّتَّبِعِہم پیروی کریں
- الْهُدٰیہدایت کی
- مَعَكَآپ کے ساتھ
- نُتَخَطَّفْہم اچک لیے جائیں گے
- مِنْسے
- اَرْضِنَا ؕاپنی زمین (سے)
- اَوَلَمْکیا بھلا نہیں
- نُمَكِّنْہم نے جگہ دی
- لَّهُمْان کو
- حَرَمًاحرم میں
- اٰمِنًاپر امن
- یُّجْبٰۤیبنا کر کھینچے جاتے ہیں
- اِلَیْهِاس کی طرف
- ثَمَرٰتُپھل
- كُلِّہر
- شَیْءٍچیز کے
- رِّزْقًارزق کے طور پر
- مِّنْسے
- لَّدُنَّاہماری طرف (سے)
- وَلٰكِنَّاور لیکن
- اَكْثَرَهُمْاکثر ان میں سے
- لَانہیں
- یَعْلَمُوْنَعلم رکھتے
Surah 28 · word by word
Surah 28, ayah 57
Translation and commentary
Bayan-ul-Quran
اور وہ کہتے ہیں کہ اگر ہم آپ ﷺ کے ساتھ اس ہدایت کی پیروی کریں تو ہم اپنی زمین سے اچک لیے جائیں گے کیا ہم نے انہیں امن والے حرم میں متمکن نہیں کیا کھنچے چلے آتے ہیں اس (حرم) کی طرف ہر قسم کے پھل یہ خاص رزق ہے ہماری طرف سے لیکن ان کی اکثریت علم نہیں رکھتی
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29
Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.
See this ayah on Mushaf page 392
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.
Commentary
آیت 57 وَقَالُوْٓا اِنْ نَّتَّبِعِ الْہُدٰی مَعَکَ نُتَخَطَّفْ مِنْ اَرْضِنَا ط ”ہم اچک لیے جائیں گے ‘ یعنی ہمیں ختم یا برباد کردیا جائے گا۔ یہ لفظ اسی مفہوم میں سورة الانفال کی آیت 26 میں بھی آیا ہے ‘ جس کا مطالعہ ہم کرچکے ہیں : وَاذْکُرُوْٓا اِذْ اَنْتُمْ قَلِیْلٌ مُّسْتَضْعَفُوْنَ فِی الْاَرْضِ تَخَافُوْنَ اَنْ یَّتَخَطَّفَکُمُ النَّاسُ ”اور یاد کرو جب تم تعداد میں تھوڑے تھے اور زمین میں دبا لیے گئے تھے ‘ تمہیں اندیشہ تھا کہ لوگ تمہیں اچک لے جائیں گے“۔ مزید برآں یہ لفظ سورة العنکبوت کی آیت 67 میں بھی آیا ہے۔عام طور پر کسی معاشرے میں حق کو قبول کرنے والے لوگ دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک تو وہ جو حق کو پہچانتے ہی فوراً قبول کرلیتے ہیں۔ ایسے لوگ نہ تو اپنی کسی مصلحت کو اس رستے کی دیوار بننے دیتے ہیں اور نہ ہی دوسرے لوگوں کے اس طرف مائل ہونے کا انتظار کرتے ہیں۔ وہ نہ صرف آگے بڑھ کر بےدھڑک انداز میں حق کو قبول کرتے ہیں بلکہ اس کے بعد وہ ”ہرچہ باداباد“ کے مصداق حق کی وفاداری میں کسی بھی قسم کی قربانی کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔ حتیٰ کہ اس راستے میں جان کی بازی لگانے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ ان کے برعکس کچھ لوگ حق کو پہچان لینے کے باوجود منتظر رہتے ہیں کہ کچھ اور لوگ بھی آجائیں ‘ جب کچھ لوگ اس نظریے کو قبول کر کے اس نئے راستے پر چلیں گے اور ان کے چلنے سے اس راستے کے نشانات واضح ہو کر ایک پگڈنڈی بن جائے گی تو ہم بھی شامل ہوجائیں گے۔ ان دونوں قسم کے لوگوں کا ذکر سورة التوبہ کی آیت 100 میں اس طرح کیا گیا ہے : وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُہٰجِرِیْنَ وَالْاَنْصَارِ وَالَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُمْ بِاِحْسَانٍلا ”اور پہلے پہل سبقت کرنے والے ‘ مہاجرین اور انصار میں سے ‘ اور وہ جنہوں نے ان کی پیروی کی نیکی کے ساتھ“۔ یعنی کچھ خوش قسمت لوگ تو پہلے پہل سبقت لے گئے اور کچھ ان کے پیروکار بنے۔ اللہ تعالیٰ کے حضور ان دونوں طرح کے لوگوں کے اپنے اپنے درجات ہیں۔ ان دو اقسام کے علاوہ ہر معاشرے میں ایک گروہ ایسے کم ہمت لوگوں پر بھی مشتمل ہوتا ہے جو کسی نظریے کی خاطر کسی قسم کی آزمائش جھیلنے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔ وہ حق کو پہچان تو لیتے ہیں مگر اسے بڑھ کر قبول کرنے کی جرأت نہیں کرسکتے۔ آیت زیر مطالعہ میں ایسے کم ہمت لوگوں کا قول نقل ہوا ہے کہ اے محمد ﷺ آپ کی باتیں تو درست ہیں ‘ آپ کی دعوت دل کو بھی لگتی ہے ‘ لیکن ہم پورے عرب کے ساتھ دشمنی مول نہیں لے سکتے۔ اگر ہم آپ علیہ السلام پر ایمان لے آئیں گے تو یہ لوگ ہم پر چڑھ دوڑیں گے اور ہمیں نیست و نابود کرکے رکھ دیں گے۔اَوَلَمْ نُمَکِّنْ لَّہُمْ حَرَمًا اٰمِنًا ”ان کے اس بہانے کا یہاں یہ جواب دیا گیا ہے کہ جس حرم کی حدود میں وہ سکون اور چین کی زندگی بسر کر رہے ہیں ‘ اسے امن کی جگہ کس نے بنایا ہے ؟ تو جس اللہ نے حرم کو امن والی جگہ بنایا ہے ‘ کیا اب وہ اپنے نام لیواؤں کی مدد نہیں کرے گا اور کیا وہ ان کو ان کے دشمنوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دے گا ؟یُّجْبٰٓی اِلَیْہِ ثَمَرٰتُ کُلِّ شَیْءٍ ”ان الفاظ کا عملی نقشہ دنیا نے مکہ کے اندر ہر دور میں دیکھا ہے۔ پرانے زمانوں میں بھی جب حج کے لیے دنیا کے مختلف علاقوں سے لوگ مکہ آتے تھے تو اپنے اپنے علاقوں کے پھل اور دوسری چیزیں اپنے ساتھ لاتے تھے۔ آج بھی دنیا کے مختلف علاقوں کے بہترین پھل مکہ میں ہر وقت دستیاب رہتے ہیں۔ بہر حال اس گھر کو امن والی جگہ بھی اللہ ہی نے بنایا ہے اور اسی نے اس کو پھلوں اور رزق کی فراوانی سے نوازا ہے۔رِّزْقًا مِّنْ لَّدُنَّا ”اس لیے کہ ہمارے محبوب بندے ابراہیم علیہ السلام نے اپنی اولاد کو یہاں آباد کرتے وقت ہم سے اس بارے میں یہ دعا کی تھی : رَبَّنَآ اِنِّیْٓ اَسْکَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ بِوَادٍ غَیْرِ ذِیْ زَرْعٍ عِنْدَ بَیْتِکَ الْمُحَرَّمِلا رَبَّنَا لِیُقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ فَاجْعَلْ اَفْءِدَۃً مِّنَ النَّاسِ تَہْوِیْٓ اِلَیْہِمْ وَارْزُقْہُمْ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّہُمْ یَشْکُرُوْنَ ابراہیم ”اے ہمارے رب ! میں نے اپنی اولاد کی ایک شاخ کو آباد کردیا ہے اس بےآب وگیاہ وادی میں تیرے محترم گھر کے پاس ‘ اے ہمارے پروردگار ! تاکہ یہ نماز قائم کریں ‘ تو تو لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف مائل کردے اور ان کو رزق عطا کر پھلوں سے ‘ تاکہ وہ شکر ادا کریں“۔ ہم نے اپنے بندے کی یہ دعا قبول فرمائی اور یہ اسی دعا کی قبولیت کا نتیجہ ہے کہ ہم ہر طرح کا رزق وافر مقدار میں وہاں بسنے والے لوگوں تک مسلسل پہنچا رہے ہیں۔