Surah 28 · word by word

Surah 28, ayah 15

  1. وَدَخَلَاور داخل ہوا
  2. الْمَدِیْنَةَشہر میں
  3. عَلٰیمیں
  4. حِیْنِوقت میں
  5. غَفْلَةٍغفلت (کے وقت میں)
  6. مِّنْکے
  7. اَهْلِهَااس کے رہنے والوں کی
  8. فَوَجَدَتو اس نے پایا
  9. فِیْهَااس میں
  10. رَجُلَیْنِدو لوگوں کو/ دو مردوں کو
  11. یَقْتَتِلٰنِ ؗۗوہ دونوں لڑ رہے تھے
  12. هٰذَایہ
  13. مِنْسے
  14. شِیْعَتِهٖاس کے گروہ میں سے تھا
  15. وَهٰذَااور یہ
  16. مِنْسے
  17. عَدُوِّهٖ ۚجو اس کے دشمنوں میں (سے) تھا
  18. فَاسْتَغَاثَهُپس مدد طلب کی اس سے
  19. الَّذِیْاس نے
  20. مِنْجو
  21. شِیْعَتِهٖاس کے اپنے گروہ میں سے تھا
  22. عَلَیپر
  23. الَّذِیْاس کے خلاف سے جو
  24. مِنْسے
  25. عَدُوِّهٖ ۙاس کے دشمنوں میں (سے) تھا
  26. فَوَكَزَهٗتو گھونسہ مارا اس کو
  27. مُوْسٰیموسیٰ نے
  28. فَقَضٰیتو پوری کردی
  29. عَلَیْهِ ؗۗاس پر (زندگی)
  30. قَالَبولا
  31. هٰذَایہ
  32. مِنْسے
  33. عَمَلِکام میں (سے) ہے
  34. الشَّیْطٰنِ ؕشیطان کے
  35. اِنَّهٗیقیناً وہ
  36. عَدُوٌّدشمن ہے
  37. مُّضِلٌّگمراہ کرنے والا
  38. مُّبِیْنٌکھلم کھلا

Translation and commentary

Tafheem-ul-Quran

(ایک روز) وہ شہر میں ایسے وقت داخل ہوا جبکہ اہلِ شہر غفلت میں تھے۔1 وہاں اُس نے دیکھا کہ دو آدمی لڑ رہے ہیں۔ ایک اُس کی اپنی قوم کا تھا اور دُوسرا اُس کی دشمن قوم سے تعلق رکھتا تھا۔ اُس کی قوم کے آدمی نے دشمن قوم والے کے خلاف اُسے مدد کے لیے پکارا۔ موسیٰؑ نے اُس کو ایک گھونسا مارا2 اور اُس کا کام تمام کر دیا۔ (یہ حرکت سرزَد ہوتے ہی)موسیٰؑ نے کہا”یہ شیطان کی کار فرمائی ہے، وہ سخت دشمن اور کھُلا گمراہ کُن ہے۔“3

Footnotes (the author's commentary)

  1. ہو سکتا ہے کہ وہ صبح سویرے کا وقت ہو، یا گرمی میں دوپہر کا ، یا سردیوں میں رات کا۔ بہر حال مراد یہ ہے کہ جب سڑکیں سنسان تھیں اور شہر میں سناٹا چھایا ہوا تھا۔           ”شہر میں داخل ہوا“، ان الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ دارالسطنت کے شاہی محلات عام آبادی سے باہر واقع تھے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام چونکہ شاہی محل میں رہتے تھے اس لیے”شہر میں نکلے“کہنے کے بجائے”شہر میں داخل ہوئے“فرمایا گیا ہے۔

  2. اصل میں لفظ”وکز“استعمال ہوا ہے جس کے معنی تھپڑ مارنے کے بھی ہیں اور گھونسا مارنے  کے بھی ۔ ہم نے اس خیال سے کہ تھپڑ سے موت واقع ہو جانا گھونسے کی  بہ نسبت بعید تر ہے، اس کا ترجمہ گھونسا مارنا کیا ہے۔

  3. اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ گھونسا کھآ کر جب مصری گرا ہوگا اور اس نے دم توڑ دیا ہوگا تو کیسی  سخت ندامت اور گھبراہٹ کی حالت میں یہ الفاظ حضرت موسیٰؑ کی زبان سے نکلے ہوں گے۔ ان کا کوئی ارادہ قتل کا نہ تھا۔ نہ قتل کے لیے گھونسا مارا جاتا ہے۔ نہ کوئی شخص یہ توقع رکھتا ہے کہ ایک گھونسا کھاتے ہی ایک بھلا چنگا آدمی پِرَان چھوڑ دے گا۔ اس بنا پر حضرت موسیٰؑ نے فرمایا کہ یہ شیطان کا کوئی شریر انہ منصوبہ معلوم ہوتا ہے ۔ اس نے ایک بڑا فساد کھرا کرنے کے لیے مجھ سے یہ کام کرایا ہے تا کہ ایک اسرائیلی کی حمایت میں ایک قبطی کو مار ڈالنے کا الزام مجھ پر عائد ہو اور صرف میرے ہی خلاف نہیں بلکہ تمام بنی اسرائیل کے خلاف مصر میں ایک طوفانِ عظیم اُٹھ کھڑا ہو۔ اس معاملہ میں بائیبل کا بیان قرآن سے مختلف ہے۔ وہ حضرت موسیٰؑ کو قتلِ عمد کا مجرم ٹھیراتی ہے۔ اس کی روایت یہ ہے کہ مصری اور اسرائیلی کو لڑتے دیکھ کر حضرت موسیٰؑ نے ”ادھر اُدھر نگاہ کی اور جب دیکھا کہ وہاں کوئی دوسرا آدمی نہیں ہے تو اس مصری کو  جان سے مار کر اسے ریت میں چھپا دیا“(خروج12:2)۔ یہی بات تلمود میں بھی قرآن کس طرح ان کی پوزیشن صاف کرتا ہے ۔ عقل بھی یہی  کہتی ہے کہ ایک حکیم و دانا آدمی، جسے آگے چل کر ایک اولو العزم پیغمبر ہونا تھا اور جسے انسان کو عدل و انصاف کا ایک عظیم الشان قانون دینا تھا، ایسا اندھا قوم پرست نہیں ہو سکتا  کہ اپنی قوم کے ایک فرد سے دوسری قوم کے کسی شخص کو لڑتے دیکھ کر آپے سے باہر ہو جائے اور جان بوجھ کر اسے قتل کر ڈالے۔ ظاہر ہے کہ اسرائیلی کو مصری کے پنچے سے چھڑا نے کے لیے اسے قتل کر دینا تو روانہ ہو سکتا تھا۔

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.

See this ayah on Mushaf page 387

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.

Sources & attribution