- اَوْیا
- كَظُلُمٰتٍمانند اندھیروں کے
- فِیْمیں
- بَحْرٍسمندر (میں)
- لُّجِّیٍّگہرے
- یَّغْشٰىهُڈھانپ لیتی ہے اس کو
- مَوْجٌایک لہر
- مِّنْکے
- فَوْقِهٖاس کے اوپر سے
- مَوْجٌایک موج۔ ایک لہر
- مِّنْکے
- فَوْقِهٖاس کے اوپر سے
- سَحَابٌ ؕبادل
- ظُلُمٰتٌاندھیرے میں
- بَعْضُهَاان میں سے بعض
- فَوْقَاوپر
- بَعْضٍ ؕبعض کے
- اِذَاۤجب
- اَخْرَجَنکالتا ہے۔ نکالے
- یَدَهٗاپنے ہاتھ کو
- لَمْنہیں
- یَكَدْقریب
- یَرٰىهَا ؕکہ دیکھ سکے اس کو۔ نہیں سکتا اس کو
- وَمَنْاور جس کا
- لَّمْنہیں
- یَجْعَلِبنایا
- اللّٰهُاللہ نے
- لَهٗاس کے لیے
- نُوْرًاکوئی نور
- فَمَاتو نہیں
- لَهٗاس کے لیے
- مِنْکوئی
- نُّوْرٍنور
Surah 24 · word by word
Surah 24, ayah 40
Translation and commentary
Tafheem-ul-Quran
یا پھر اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک گہرے سمندر میں اندھیرا، کہ اُوپر ایک موج چھائی ہوئی ہے، اُس پر ایک اور موج، اور اس کے اُوپر بادل، تاریکی مسلّط ہے، آدمی اپنا ہاتھ نکالے تو اسے بھی نہ دیکھنے پائے۔ 1 جسے اللہ نُور نہ بخشے اُس کے لیے پھر کوئی نُور نہیں۔ 2
Footnotes (the author's commentary)
-
اس مثال میں تمام کفار و منافقین کی حالت بیان کی گئی ہے جن میں نمائشی نیکیاں کرنے والے بھی شامل ہیں۔ ان سب کے متعلق بتایا جا رہا ہے کہ وہ اپنی پوری زندگی قطعی اور کامل جہالت کی حالت میں بسر کر رہے ہیں ، خواہ وہ دنیا کی اصطلاحوں میں علامہ دہر اور علوم و فنون کے استاذ الاساتذہ ہی کیوں نہ ہوں۔ ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو کسی ایسی جگہ پھنسا ہوا ہو جہاں مکمل تاریکی ہو، روشنی کی ایک کرن تم نہ پہنچ سکتی ہو۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ایٹم تم اور ہائڈروجن بم اور آواز سے تیز رفتار طیارے ، اور چاند تک پہنچنے والی ہوائیاں بنا لینے کا نام علم ہے۔ ان کے نزدیک معاشیات اور مالیات اور قانون اور فلسفے میں مہارت کا نام علم ہے۔ مگر حقیقی علم ایک اور چیز ہے ، اور اس کی ان کو ہوا تک نہیں لگی ہے۔ اس علم کے اعتبار سے وہ جاہل محض ہیں ، اور ایک ان پڑھ دیہاتی ذی علم ہے اگر وہ معرفت حق سے بہرہ مند ہو۔
-
یہاں پہنچ کر وہ اصل مدعا کھول دیا گیا ہے جس کی تمہید : اَللہُ نُوْرُالسَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ کے مضمون سے اٹھائی گئی تھی۔ جب کائنات میں کوئی نور در حقیقت اللہ کے نور کے سوا نہیں ہے ، اور سارا ظہور حقائق اسی نور کی بدولت ہو رہا ہے ، تو جو شخص اللہ سے نور نہ پائے وہ اگر کامل تاریکی میں مبتلا نہ ہو گا تو اور کیا ہو گا۔ کہیں اور تو روشنی موجود ہی نہیں ہے کہ اس سے ایک کرن بھی وہ پا سکے۔
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Bayan-ul-Quran
یا بہت گہرے سمندر میں اندھیروں کی مانند اسے ڈھانپ لیتی ہو ایک موج اس کے اوپر ہو ایک اور موج اس کے اوپر ہوں بادل اندھیرے ہی اندھیرے ہیں ایک دوسرے کے اوپر جب وہ اپنا ہاتھ نکالتا ہے تو اسے بھی نہیں دیکھ سکتا اور جس کو اللہ نے ہی کوئی نور عطا نہ کیا ہو تو اس کے لیے کہیں کوئی نور نہیں ہے
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29
Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.
See this ayah on Mushaf page 355
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.
Commentary
آیت 40 اَوْ کَظُلُمٰتٍ فِیْ بَحْرٍ لُّجِّیٍّ یَّغْشٰہُ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِہٖ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِہٖ سَحَابٌ ط ”یعنی اندھیری رات ہے ‘ سمندر کی گہرائی میں موج در موج کی کیفیت ہے اور اوپر فضا میں گہرے بادل چھائے ہوئے ہیں۔ گویا روشنی کی کسی ایک کرن کا بھی کہیں کوئی وجود نہیں۔ ظُلُمٰتٌم بَعْضُہَا فَوْقَ بَعْضٍط اِذَآ اَخْرَجَ یَدَہٗ لَمْ یَکَدْ یَرٰٹہَا ط ”مطلق تاریکی absolute darkness کی اس کیفیت کو اردو محاورے میں یوں بیان کیا جاتا ہے کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دیتا۔ ایک فرینچ ایڈمرل اس آیت کو پڑھ کر مسلمان ہوگیا تھا۔ اس کی ساری عمر سمندروں میں گزری تھی اور پانی کے نیچے absolute darkness کی کیفیت اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھی تھی۔ یہ آیت پڑ ھ کر اسے بجا طور پر یہ تجسسّ ہوا کہ کیا محمد ﷺ نے بحری سفر بھی کیے تھے ؟ اور جب اسے معلوم ہوا کہ آپ ﷺ نے کبھی بھی کوئی بحری سفر نہیں کیا تو اس نے اعتراف کرلیا کہ یہ ان ﷺ کا کلام نہیں اللہ کا کلام ہے ‘ کیونکہ ایسی تشبیہہ تو صرف وہی شخص دے سکتا ہے جو سمندر میں غوطہ خوری کرتا رہا ہو اور سمندر کی گہرائی میں اندھیروں کی کیفیت کو اپنی آنکھوں سے دیکھا چکا ہو۔وَمَنْ لَّمْ یَجْعَلِ اللّٰہُ لَہٗ نُوْرًا فَمَا لَہٗ مِنْ نُّوْرٍ ”یعنی وہ لوگ جن کی زندگیاں ملمع کی نیکیوں سے بھی خالی ہیں ان کے لیے اندھیرے ہی اندھیرے ہیں۔