- قَالَاس نے کہا
- فَمَنْپھر کون ہے
- رَّبُّكُمَاتم دونوں کا رب
- یٰمُوْسٰیاے موسیٰ
Surah 20 · word by word
Surah 20, ayah 49
Translation and commentary
Tafheem-ul-Quran
فرعون1 نے کہا”اچھا، تو پھر تم دونوں کا ربّ کو ن ہے اے موسیٰ؟“2
Footnotes (the author's commentary)
-
یہاں قصے کی اِن تفصیلات کو چھوڑ دیا گیا ہے کہ حضرت موسیٰؑ کس طرح فرعون کے پاس پہنچے اور کس طرح اپنی دعوت اس کے سامنے پیش کی۔ یہ تفصیلات سورۂ اعراف رکوع 13 میں گزر چکی ہیں اور آگے سورۂ شعراء رکوع 2 – 3 ، سورۂ قصص رکوع 4، اور سورۂ نازعات رکوع 1 میں آنے والی ہیں۔ فرعون سے متعلق ضروری معلومات کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد دوم، الاعراف، حاشیہ نمبر 85۔
-
دونوں بھائیوں میں سے اصل صاحبِ دعوت چونکہ موسیٰ علیہ السّلام تھے اس لیے فرعون نے انہی کو مخاطب کیا۔ اور ہو سکتا ہے کہ خطاب کا رُخ ان کی طرف رکھنے سے اس کا مقصد یہ بھی ہو کہ وہ حضرت ہارون کی فصاحت و بلاغت کو میدان میں آنے کا موقع نہ دینا چاہتا ہو اور خطابت کے پہلو میں حضرت موسیٰ ؑ کے ضعف سے فائدہ اُٹھا نا چاہتا ہو جس کا ذکر اس سے پہلے گزر چکا ہے۔ فرعون کے اس سوال کا منشا یہ تھا کہ تم دونوں کسے ربّ بنا بیٹھے ہو ، مصر اور اہلِ مصر کا ربّ تو میں ہوں۔ سورۂ نازعات میں اس کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ اَنَا رَبُّکُمُ الْاَعْلیٰ،”اے اہلِ مصر، تمہارا ربّ اعلیٰ میں ہوں“۔سورۂ زُخْرف میں وہ بھرے دربار کو مخاطب کر کے کہتا ہے یٰقَوْمِ اَلَیْسَ لِیْ مُلْکُ مِصْرَ وَھٰذِہِ الْاَنْھَارُ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِیْ،”اے قوم، کیا مصر کی بادشاہی میری نہیں ہے؟ اور نہ نہریں میرے نیچے نہیں بہ رہی ہیں؟“ (آیت 51)۔ سورۂ قصص میں وہ اپنے درباریوں کے سامنے یوں بنکارتا ہے یٰٓاَ یُّھَا الْمَلَاُ مَا عَلِمْتُ لِکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرِیْ، فَاَوْقِدْ لِیْ یَا ھَا مٰنُ عَلَی الطِّیْنِ فَا جْعَلْ لِّیْ صَرْحًا لَّعَلّیِ اَطَّلِعُ اِلیٰ اِلٰہِ مُوْسٰی، ”اے سردارانِ قوم، میں نہیں جانتا کہ میرے سوا تمہارا کوئی اور بھی الٰہ ہے، اے ہامان، ذرا اینٹیں پکوا اور ایک بلند عمارت میرے لیے تیار کرا تاکہ میں ذرا اوپر چڑھ کر دیکھوں تو سہی کہ یہ موسیٰ کسے الٰہ بنا رہا ہے“۔ (آیت نمبر 38)۔ سورۂ شعراء میں وہ حضرت موسیؑ کو ڈانٹ کر کہتا ہے لَئِنِ اتَّخَذْتَ اِلٰھًا غَیْرِیْ لَاَ جْعَلَنَّکَ مِنَ الْمَسْجُوْ نِیْنَ،”اگر تُو نے میرے سوا کسی کو الٰہ بنایا تو یاد رکھ کہ تجھے جیل بھیج دوں گا“(آیت نمبر29)۔ اِس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ فرعون اپنی قوم کا واحد معبود تھا اور وہاں اس کے سوا کسی کی پرستش نہ ہوتی تھی ۔ یہ بات پہلے گزر چکی ہے کہ فرعون خود سورج دیوتا (رع یا راع) کے اوتار کی حیثیت سے بادشاہی کا استحقاق جتاتاتھا، اور یہ بات بھی مصر کی تاریخ سے ثابت ہے کہ اس قوم کے مذہب میں بہت سے دیوتاؤں اور دیویوں کی عبادت ہوتی تھی۔ اس لیے فرعون کا دعویٰ ”واحد مرکز ِ پرستش“ ہونے کا نہ تھا، بلکہ وہ عملاً مصر کی اور نظریے کے اعتبار سے دراصل پوری نوعِ انسان کی سیاسی ربوبیت و خداوندی کا مدعی تھا اور یہ ماننے کے لیے تیار نہ تھا کہ اُس کے اوپر کوئی دوسری ہستی فرمانروا ہو جس کا نمائندہ ، آکر اسے ایک حکم دے اور اس حکم کی اطاعت کا مطالبہ اس سے کرے۔ بعض لوگوں کو اُس کی لن ترانیوں سے یہ غلط فہمی ہوئی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ہستی کا منکر تھا اور خود خدا ہونے کا دعویٰ رکھتا تھا ۔ مگر یہ بات قرآن سے ثابت ہے کہ وہ عالمِ بالا پر کسی اور کی حکمرانی مانتا تھا۔ سورۂ المؤمن آیات 28 تا 34 اور سورۂ زخرف آیت 53 کو غور سے دیکھیے۔ یہ آیتیں اس بات کی شہادت دیتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ اور فرشتوں کی ہستی سے اُس کو انکار نہ تھا۔ البتہ جس چیز کو ماننے کے لیے وہ تیار نہ تھا وہ یہ تھی کہ اس کی سیاسی خدائی میں اللہ کا کوئی دخل ہو اور اللہ کا کوئی رسُول آکر اُس پر حکم چلائے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد سوم، القصص، حاشیہ 53)۔
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Bayan-ul-Quran
فرعون نے کہا کہ اے موسیٰ ! تم دونوں کا رب ہے کون
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29
Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.
See this ayah on Mushaf page 314
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.
Commentary
آیت 49 قَالَ فَمَنْ رَّبُّکُمَا یٰمُوْسٰی ”ہم تو کسی ایسے رب سے واقف نہیں ہیں جس کے بارے میں تم دونوں بات کر رہے ہو۔ تمہارا ربّ ہے کون ؟