Surah 2 · word by word

Surah 2, ayah 229

  1. اَلطَّلَاقُطلاق
  2. مَرَّتٰنِ ۪دو مرتبہ ہے
  3. فَاِمْسَاكٌپھر روک لینا ہے
  4. بِمَعْرُوْفٍساتھ بھلے طریقے کے
  5. اَوْیا
  6. تَسْرِیْحٌرخصت کردینا ہے
  7. بِاِحْسَانٍ ؕساتھ احسان کے
  8. وَلَااور نہیں
  9. یَحِلُّحلال۔ جائز
  10. لَكُمْتمہارے لیے
  11. اَنْکہ
  12. تَاْخُذُوْاتم لے لو
  13. مِمَّاۤاس میں سے جو
  14. اٰتَیْتُمُوْهُنَّدے دیا ہے تم نے ان کو
  15. شَیْـًٔاکچھ بھی
  16. اِلَّاۤمگر
  17. اَنْکہ
  18. یَّخَافَاۤوہ دونوں ڈریں
  19. اَلَّاکہ نہ
  20. یُقِیْمَاوہ دونوں قائم رکھ سکیں گے
  21. حُدُوْدَحدود کو
  22. اللّٰهِ ؕاللہ کی
  23. فَاِنْپھر اگر
  24. خِفْتُمْاندیشہ ہو تمہیں
  25. اَلَّاکہ نہ
  26. یُقِیْمَاوہ دونوں قائم رکھ سکیں گے
  27. حُدُوْدَحدود کو
  28. اللّٰهِ ۙاللہ کی
  29. فَلَاتو نہیں
  30. جُنَاحَکوئی گناہ
  31. عَلَیْهِمَاان دونوں پر
  32. فِیْمَااس چیز میں
  33. افْتَدَتْجو وہ (عورت) فدیہ دے دے
  34. بِهٖ ؕساتھ اس کے
  35. تِلْكَیہ
  36. حُدُوْدُحدود ہیں
  37. اللّٰهِاللہ کی
  38. فَلَاتو نہ
  39. تَعْتَدُوْهَا ۚتم تجاوز کرنا ان سے
  40. وَمَنْاور جو
  41. یَّتَعَدَّتجاوز کرے گا
  42. حُدُوْدَحدود
  43. اللّٰهِاللہ کی
  44. فَاُولٰٓىِٕكَتو یہی لوگ ہیں
  45. هُمُوہ
  46. الظّٰلِمُوْنَجو ظالم ہیں

Translation and commentary

Tafheem-ul-Quran

طلاق دو بار ہے۔ پھر یا تو سیدھی طرح عورت کو روک لیا جائے یا بھلے طریقے سے اس کو رخصت کر دیا جائے۔1اور رخصت کرتے ہوئے ایسا کرنا تمہارے لیے جائز نہیں ہے کہ جو کچھ تم انہیں دے چکے ہو ، اس میں سے کچھ واپس لے لو۔2البتہ یہ صورت مستشنٰی ہےکہ زوجین کو اللہ کے حدود پر قائم نہ رہ سکنے کا اندیشہ ہو۔ ایسی صورت میں اگر تمہیں یہ خوف ہو کہ وہ دونوں حدود الٰہی پر قائم نہ رہیں گے، تو ان دونوں کے درمیان یہ معاملہ ہو جانے میں مضائقہ نہیں کہ عورت اپنے شوہر کو معاوضہ دے کر علیحدگی حاصل کرلے۔3 یہ اللہ کے مقرر کردہ حدود ہیں، ان سے تجاوز نہ کرو۔ اور جو لوگ حدود الٰہی سے تجاوز کریں، وہی ظالم ہیں

Footnotes (the author's commentary)

  1. اس مختصر سی آیت میں ایک بہت بڑی معاشرتی خرابی کی، جو عربِ جاہلیّت میں رائج تھی ، اِصلاح کی گئی ہے۔ عرب میں قاعدہ یہ تھا کہ ایک شخص اپنی بیوی کو بے حدّو حساب طلاق دینے کا مجاز تھا۔ جس عورت سے اس کا شوہر بگڑ جاتا اُس کو وہ بار بار طلاق دے کر رجوع کرتا رہتا تھا، تاکہ نہ تو وہ غریب اس کے ساتھ بس ہی سکے اور نہ اس سے آزاد ہو کر کسی اَور سے نکاح ہی کر سکے۔ قرآن مجید کی یہ آیت اسی ظلم کا دروازہ بند کرتی ہے۔ اس آیت کی رُوسے ایک مرد ایک رشتہ ء نکاح میں اپنی بیوی پر حد سے حد دو ہی مرتبہ طلاقِ رجعی کا حق استعمال کر سکتا ہے۔ جو شخص اپنی منکوحہ کو دو مرتبہ طلاق دے کر اس سے رُجوع کر چکا ہو، وہ اپنی عمر میں جب کبھی اس کو تیسری بار طلاق دے گا، عورت اس سے مستقل طور پر جدا ہو جائے گی۔ طلاق کا صحیح طریقہ، جو قرآن و حدیث سے معلوم ہوتا ہے ، یہ ہے کہ عورت کو حالتِ طُہر میں ایک مرتبہ طلاق دی جائے۔ اگر جھگڑا ایسے زمانے میں ہوا ہو، جبکہ عورت ایّامِ ماہواری میں ہو تو اسی وقت طلاق دے بیٹھنا درست نہیں ہے، بلکہ ایّام  سے اس کے فارغ ہونے کا انتظار کرنا چاہیے۔ پھر ایک طلاق دینے کے بعد اگر چاہے، تو دُوسرے طُہر میں دوبارہ ایک طلاق اور دیدے، ورنہ بہتر یہی ہے کہ پہلی ہی طلاق پر اکتفا کرے۔ اِس صُورت میں شوہر کو حق حاصل رہتا ہے کہ عدّت گزرنے سے پہلے پہلے جب چاہے رُجوع کر لے، اور عدّت گزر بھی جائے ، تو دونوں کے لیے موقع باقی رہتا ہے کہ پھر باہمی رضامندی سے دوبارہ نکاح کر لیں۔ لیکن تیسرے طُہر میں تیسری بار طلاق دینے کے بعد نہ تو شوہر کو رجوع  کا حق باقی رہتا ہے اور نہ اِس کا ہی کوئی موقع رہتا ہے کہ دونوں کا پھر نکاح ہو سکے۔ رہی یہ صُورت کہ ایک ہی وقت میں تین طلاقیں دے  ڈالی جائیں، جیسا کہ آج کل جُہلا کا عام طریقہ ہے ، تو یہ شریعت کی رُو سے سخت گناہ ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بڑی مذمت فرمائی ہے اور حضرت عمر ؓ  سے یہاں تک ثابت ہے کہ جو شخص بیک وقت اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیتا تھا، آپ اس کو دُرّے لگاتے تھے۔ تاہم گناہ ہونے کے باوجود ، ائمہء اربعہ کے نزدیک تینوں طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں اور طلاق مغلظ ہو جاتی ہے۔

  2. یعنی مَہر اور وہ زیور اور کپڑے وغیرہ ، جو شوہر اپنی بیوی کو دے چکا ہو، ان میں سے کوئی چیز بھی واپس مانگنے کا اسے حق نہیں ہے۔ یہ بات ویسے بھی اسلام کے اخلاقی اُصُولوں  کی ضد ہے کہ کوئی شخص کسی ایسی چیز کو، جسے وہ دُوسرے شخص کو ہبہ یا ہدیہ و تحفہ کے طور پر دے چکا ہو، واپس مانگے۔ اس ذلیل حرکت کو حدیث میں اُس کتّے کے فعل سے تشبیہ دی گئی ہے، جو اپنی ہی قے کو خود چاٹ لے۔ مگر خصُو صیّت کے ساتھ ایک شوہر کے لیے تو یہ بہت ہی شرمناک ہے کہ وہ طلاق دے کر رُخصت کر تے وقت اپنی بیوی سے وہ سب کچھ رکھوا لینا چاہے جو اس نے کبھی اسے خود دیا تھا۔ اس کے برعکس اسلام نے یہ اخلاق سکھائے ہیں کہ آدمی جس عورت کو طلاق دے ، اُسے رخصت کرتے وقت کچھ نہ کچھ دے کر رُخصت کرے۔ جیسا کہ آگے آیت 241 میں ارشاد فرمایا گیا ہے۔

  3. شریعت کی اصطلاح میں اسے” خُلع“ کہتے ہیں، یعنی ایک عورت کا اپنے شوہر کو کچھ دے دلا کر  اس سے طلاق حاصل کرنا۔ اس معاملے میں اگر عورت اور مرد کے درمیان گھر کے گھر ہی میں کوئی معاملہ طے ہو جائے، تو جو کچھ طے ہوا ہو، وہی نافذ ہو گا۔ لیکن اگر عدالت میں معاملہ جائے ، تو عدالت صرف اس امر کی تحقیق کرے گی کہ آیا فی الواقع یہ عورت اُس مرد سے اس حد تک متنفر ہو چکی ہے کہ اُس کے ساتھ اس کا نباہ نہیں ہو سکتا۔ اس کی تحقیق ہوجانے پر عدالت کو اختیار ہے کہ حالات کے لحاظ سے جو فدیہ چاہے ، تجویز کرے ، اور اس فدیے کو قبول کر کے شوہر کو اسے طلاق دینا ہو گا۔ بالعمُوم فقہانے اس بات کو پسند نہیں کیا ہے کہ جو مال شوہر  نے اس عورت کو دیا ہو، اس کی واپسی سے بڑھ کر کوئی فدیہ اسے دلوایا جائے۔ خُلع کی صُورت میں جو طلاق دی جاتی ہے، وہ رجعی نہیں ہے، بلکہ بائنہ ہے۔ چونکہ عورت نے معاوضہ دے کر اس طلاق کو گویا خرادا ہے، اس لیے شوہر کو یہ حق باقی نہیں رہتا کہ اس طلاق سے رُجوع کر سکے۔ البتہ اگر یہی مرد و عورت پھر ایک دُوسرے سے راضی  ہو جائیں اور دوبارہ نکاح کرنا چائیں، تو ایسا کرنا ان کے لیے بالکل جائز ہے۔ جمہور کے نزدیک خُلع کی عدّت وہی ہے جو طلاق کی ہے ۔ مگر ابوداوٗد ، ترمذی اور ابنِ ماجہ وغیرہ میں متعدّد روایات ایسی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی عدّت ایک ہی حیض قرار دی تھی اور اسی کے مطابق حضرت عثمان ؓ نے ایک مقدمہ کا فیصلہ کیا (ابنِ کثیر، جلد اوّل، ص 27۶)۔

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.

See this ayah on Mushaf page 36

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.

Sources & attribution