- وَلَنْاور ہرگز نہیں
- تَرْضٰیراضی ہوں گے
- عَنْكَآپ سے
- الْیَهُوْدُیہود
- وَلَااورنہ
- النَّصٰرٰیعیسائی/ نصائی
- حَتّٰییہاں تک کہ
- تَتَّبِعَتم پیروی کرنے لگ جاؤ
- مِلَّتَهُمْ ؕان کے طریقے کی
- قُلْکہہ دیجئے
- اِنَّبیشک
- هُدَیہدایت
- اللّٰهِاللہ
- هُوَوہ ہی
- الْهُدٰی ؕجو ہدایت ہے
- وَلَىِٕنِاور البتہ اگر
- اتَّبَعْتَپیروی کی تم نے/ اتباع کیا تم نے
- اَهْوَآءَهُمْان کی خواہشات کی
- بَعْدَبعد
- الَّذِیْاس کے جو
- جَآءَكَآیا تیرے پاس
- مِنَسے
- الْعِلْمِ ۙعلم
- مَانہیں ہوگا
- لَكَتیرے لئے
- مِنَسے
- اللّٰهِاللہ (بچانے والا)
- مِنْکوئی
- وَّلِیٍّدوست
- وَّلَااورنہ
- نَصِیْرٍکوئی مددگار
Surah 2 · word by word
Surah 2, ayah 120
Translation and commentary
Bayan-ul-Quran
اور (اے نبی ﷺ ! آپ کسی مغالطے میں نہ رہیے) ہرگز راضی نہ ہوں گے آپ ﷺ سے یہودی اور نہ نصرانی جب تک کہ آپ ﷺ پیروی نہ کریں ان کی ملت کی کہہ دیجیے ہدایت تو بس اللہ کی ہدایت ہے اور (اے نبی ﷺ !) اگر آپ ﷺ نے ان کی خواہشات کی پیروی کی اس علم کے بعد جو آپ کے پاس آچکا ہے تو نہیں ہوگا اللہ کے مقابلے میں آپ ﷺ کے لیے کوئی مددگار اور نہ حمایتی۔
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29
Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.
See this ayah on Mushaf page 19
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.
Commentary
آیت 120 وَلَنْ تَرْضٰی عَنْکَ الْیَہُوْدُ وَلا النَّصٰرٰی حَتّٰی تَتَّبِعَ مِلَّتَہُمْ ط لہٰذا آپ ان سے امید منقطع کر لیجیے۔ اس لیے کہ زیادہ امید ہو تو پھر مایوسی ہوجاتی ہے۔ اقبال نے بندۂ مؤمن کے بارے میں بہت خوب کہا ہے : ع اس کی امیدیں قلیل ‘ اس کے مقاصد جلیل !مقصد اونچا ہو ‘ لیکن امید قلیل رہنی چاہیے۔ اللہ چاہے گا تو ہوجائے گا ‘ نہیں چاہے گا تو نہیں ہوگا۔ بندۂ مؤمن کا کام اپنی حد تک اپنا فرض ادا کردینا ہے۔ اس سے زیادہ کی خواہش اگر اپنے دل میں پالیں گے تو کسی عجلت پسندی میں گرفتار ہوجائیں گے اور کسی راہ یسیر یا راہ قصیر short cut کے ذریعے منزل تک پہنچنے کی کوشش کریں گے اور اپنے آپ کو بھی برباد کرلیں گے۔قُلْ اِنَّ ہُدَی اللّٰہِ ہُوَ الْہُدٰی ط۔ جو اللہ نے بتلایا ہے وہی سیدھا راستہ ہے۔وَلَءِنِ اتَّبَعْتَ اَہْوَآءَ ‘ ہُمْ بَعْدَ الَّذِیْ جَآءَ ‘ کَ مِنَ الْعِلْمِلا اگر بفرض محال آپ ﷺ نے ان کی خواہشات کی پیروی کی کہ چلو کچھ لو کچھ دو کا معاملہ کرلو ‘ کچھ ان کی بات مانوکچھ اپنی بات منوا لو ‘ تو یہ طرز عمل اللہ تعالیٰ کے ہاں قابل قبول نہ ہوگا۔ مکہ میں قریش کی طرف سے اس طرح کی پیشکش کی جاتی تھی کہ کچھ اپنی بات منوا لیجیے ‘ کچھ ہماری مان لیجیے ‘ compromise کرلیجیے ‘ اور اب مدینہ میں یہود کے ساتھ بھی یہی معاملہ تھا۔ چناچہ اس پر متنبہ کیا جا رہا ہے۔ ّ مَا لَکَ مِنَ اللّٰہِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّلاَ نَصِیْرٍ معاذ اللہ ! حق کی تلوار بالکل عریاں ہے۔ اللہ کا عدل ہر فرد کے لیے الگ نہیں ہے ‘ یہ فرد سے فرد تک بدلتا نہیں ہے۔ ایسے ہی ہر قوم اور ہر امت کے لیے قانون تبدیل نہیں ہوتا۔ ایسا نہیں ہے کہ کسی ایک قوم سے کوئی ایک معاملہ ہو اور دوسری قوم سے کوئی دوسرا معاملہ۔ اللہ کے اصول اور قوانین غیر مبدل ہیں۔ اس ضمن میں اس کی ایک سنت ہے جس کے بارے میں فرمایا : فَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللّٰہِ تَبْدِیْلًاج وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللّٰہِ تَحْوِیْلًا فاطر پس تم اللہ کے طریقے میں ہرگز کوئی تبدیلی نہ پاؤ گے ‘ اور تم اللہ کے طریقے کو ہرگز ٹلتا ہوا نہیں پاؤ گے۔