- اَلَّذِیْنَوہ لوگ
- ضَلَّگم ہوگئی
- سَعْیُهُمْان کی کوشش
- فِیمیں
- الْحَیٰوةِزندگی
- الدُّنْیَادنیا کی
- وَهُمْاور وہ
- یَحْسَبُوْنَسمجھتے ہیں
- اَنَّهُمْبیشک وہ
- یُحْسِنُوْنَاچھے کررہے ہیں
- صُنْعًاکام
Surah 18 · word by word
Surah 18, ayah 104
Translation and commentary
Tafheem-ul-Quran
وہ کہ دنیا کہ زندگی میں جن کی ساری سعی و جہد راہِ راست سے بھٹکی رہی1 اور وہ سمجھتے رہے کہ وہ سب کچھ ٹھیک کر رہے ہیں
Footnotes (the author's commentary)
-
اس آیت کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک وہ جو ہم نے ترجمے میں اختیار کیا ہے۔ اور دوسرا یہ کہ ’’ جن کی ساری سعی و جہد دنیا کی زندگی ہی میں گم ہو کر رہ گئی‘‘۔ یعنی انہوں نے جو کچ بھی کیا خدا سے بے نیاز اور اور آخرت سے بے فکر ہو کر صرف دنیا کے لیے کیا۔ دنیوی زندگی ہی کو اصل زندگی سمجھا۔ دنیا کی کامیابیوں اور خوشحالیوں ہی کو اپنا مقصود بنا یا۔ خدا کی ہستی کے اگر قائل ہوئے بھی تو اس بات کی کبھی فکر نہ کی کہ اس کی رضا کیا ہے اور ہمیں کبھی اس کے حضور جا کر اپنے اعمال کا حساب بھی دینا ہے۔ اپنے آپ کو محض ایک خود مختار و غیر ذمہ دار حیوان عاقل سمجھتے رہے جس کے لیے دنیا کی اس چراگاہ سے تمتع کے سوا اور کوئی کام نہیں ہے۔
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Bayan-ul-Quran
وہ لوگ جن کی سعی و جہد دنیا ہی کی زندگی میں گم ہو کر رہ گئی اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ بہت اچھا کام کر رہے ہیں
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29
Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.
See this ayah on Mushaf page 304
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.
Commentary
آیت 104 اَلَّذِيْنَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَاایسے لوگ جنہیں آخرت مطلوب ہی نہیں ان کی ساری تگ و دو اور سوچ بچار دنیا کمانے کے لیے ہے۔ آخرت کے لیے انہوں نے نہ تو کبھی کوئی منصوبہ بندی کی اور نہ ہی کوئی محنت۔ بس برائے نام اور موروثی مسلمانی کا بھرم رکھنے کے لیے کبھی کوئی نیک کام کرلیا کبھی نماز بھی پڑھ لی اور کبھی روزہ بھی رکھ لیا۔ مگر اللہ کو اصل میں ان سے مقصود و مطلوب کیا ہے ؟ اس بارے میں انہوں نے کبھی سنجیدگی سے سوچنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی۔ ایسے لوگوں کو ان کی محنت کا صلہ حسب مشیت الٰہی دنیا ہی میں مل جاتا ہے جبکہ آخرت میں ان کے لیے سوائے جہنم کے اور کچھ نہیں۔ اس مضمون کا ذروۂ سنام سورة بنی اسرائیل کی یہ آیات ہیں : مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّــلْنَا لَهٗ فِيْهَا مَا نَشَاۗءُ لِمَنْ نُّرِيْدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهٗ جَهَنَّمَ ۚ يَصْلٰىهَا مَذْمُوْمًا مَّدْحُوْرًا وَمَنْ اَرَادَ الْاٰخِرَةَ وَسَعٰى لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰۗىِٕكَ كَانَ سَعْيُهُمْ مَّشْكُوْرًا ”جو کوئی طلب گار بنتا ہے جلدی والی دنیا کا تو ہم اس کو جلدی دے دیتے ہیں اس میں جو کچھ ہم چاہتے ہیں جس کے لیے چاہتے ہیں پھر ہم مقرر کردیتے ہیں اس کے لیے جہنم وہ داخل ہوگا اس میں ملامت زدہ دھتکارا ہوا۔ اور جو کوئی آخرت کا طلبگار ہو اور کوشش کرے اس کے لیے اس کی سی کوشش اور وہ مؤمن بھی ہو تو وہی لوگ ہوں گے جن کی کوشش کی قدر کی جائے گی“۔ چناچہ نجات اخروی کا امیدوار بننے کے لیے ہر بندۂ مسلمان کو واضح طور پر اپنا راستہ متعین کرنا ہوگا کہ وہ طالب دنیا ہے یا طالب آخرت ؟ جہاں تک دنیا میں رہتے ہوئے ضروریات زندگی کا تعلق ہے وہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نیک و بد سب کی پوری ہو رہی ہیں : كُلًّا نُّمِدُّ هٰٓؤُلَاۗءِ وَهٰٓؤُلَاۗءِ مِنْ عَطَاۗءِ رَبِّكَ ۭ وَمَا كَانَ عَطَاۗءُ رَبِّكَ مَحْظُوْرًا بنی اسرائیل ”ہم سب کو مدد پہنچائے جا رہے ہیں ان کو بھی اور ان کو بھی آپ کے رب کی عطا سے اور آپ کے رب کی عطا رکی ہوئی نہیں ہے“۔ لہٰذا انسان کو اپنی ضروریات زندگی کے حصول کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ پر توکل رکھنا چاہیے۔ اس نے انسان کو دنیا میں زندہ رکھنا ہے تو وہ اس کے کھانے پینے کا بندو بست بھی کرے گا : وَّیَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ الطلاق : 3 ”وہ اس کو وہاں سے رزق دے گا جہاں سے اسے گمان بھی نہ ہوگا“۔ چناچہ ایک بندۂ مؤمن کو چاہیے کہ فکر دنیا سے بےنیاز ہو کر آخرت کو اپنا مطلوب و مقصود بنائے اور ان لوگوں کے راستے پر نہ چلے جنہوں نے سرا سر گھاٹے کا سودا کیا ہے جن کی ساری محنت اور تگ و دو دنیا کی زندگی ہی میں گم ہو کر رہ گئی ہے :وَهُمْ يَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ يُحْسِنُوْنَ صُنْعًاایسے لوگ اپنے کاروبار کی ترقی جائیدادوں میں اضافے اور دیگر مادی کامیابیوں کو دیکھتے ہوئے سمجھتے ہیں کہ ان کی محنتیں روز بروز نتیجہ خیز اور کوششیں بار آور ہو رہی ہیں۔