Surah 17 · word by word

Surah 17, ayah 18

  1. مَنْجو کوئی
  2. كَانَہے
  3. یُرِیْدُارادہ رکھتا ہے
  4. الْعَاجِلَةَجلدی ملنے والی چیز کا
  5. عَجَّلْنَاجلدی دیتے ہیں ہم
  6. لَهٗاس کے لئے
  7. فِیْهَااس میں
  8. مَاجو
  9. نَشَآءُہم چاہتے ہیں
  10. لِمَنْجس کے لئے
  11. نُّرِیْدُہم چاہتے ہیں
  12. ثُمَّپھر
  13. جَعَلْنَامقرر کردیتے ہیں ہم
  14. لَهٗاس کے لئے
  15. جَهَنَّمَ ۚجہنم کو
  16. یَصْلٰىهَاتاپے گا اس کو
  17. مَذْمُوْمًاملامت زدہ
  18. مَّدْحُوْرًارحمت سے دور رکھا ہوا

Translation and commentary

Tafheem-ul-Quran

جو کوئی عاجلہ1کا خواہشمند ہو، اسے یہیں ہم دے دیتے ہیں جو کچھ بھی جسے دینا چاہیں، پھر اس کے مقسُوم میں جہنّم لکھ دیتے ہیں جسے وہ تاپے گا ملامت زدہ اور رحمت سے محرُوم ہو کر۔2

Footnotes (the author's commentary)

  1. عاجلہ کےلغوی معنی ہیں جلدی ملنے والی چیز۔ اور اصطلاحاً قرآن مجید اس لفظ کو دنیا کے لیے استعمال کرتا ہے جس کے فائدے اور نتائج اسی زندگی میں حاصل ہوجا تے ہیں۔ اس کے مقابلے کی اصطلاح”آخرت“ہے جس کے فوائد اور نتائج کو موت کے بعد دوسری زندگی تک موخر کر دیا گیاہے۔

  2. مطلب یہ ہے کہ جو شخص آخرت کو نہیں مانتا ، یا آخرت تک صبر کرنے کے لیے تیار نہیں ہے اور اپنی کوششوں کا مقصود صرف دنیا اور اس کی کامیابیوں اور خوشحالیوں ہی کو بناتا ہے، اسے جو کچھ بھی ملےگا بس دنیا میں مل جائے گا۔ آخرت میں وہ کچھ نہیں پا سکتا ۔ اور بات صرف یہیں تک نہ رہے گی کہ اسے کوئی خوشحالی آخرت میں نصیب نہ ہوگی، بلکہ مزید برآں دنیا پرستی ، اور آخرت کی جوابدہی وذمہ داری سے بے پر واہی اس کے طرز عمل کو بنیادی طور پر ایسا غلط کر کے رکھ دے گی کہ آخرت میں وہ اُلٹا جہنم کا مستحق ہو گا۔

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Bayan-ul-Quran

جو کوئی عاجلہ کا طلب گار بنتا ہے ہم اس کو جلدی دے دیتے ہیں اس میں سے جو کچھ ہم چاہتے ہیں جس کے لیے چاہتے ہیں پھر ہم مقرر کردیتے ہیں اس کے لیے جہنم وہ داخل ہوگا اس میں ملامت زدہ دھتکارا ہوا

Commentary

آیت 18 مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّــلْنَا لَهٗ فِيْهَا مَا نَشَاۗءُ لِمَنْ نُّرِيْدُ یہاں پر ”دنیا“ کی بجائے ”عاجلہ“ کا لفظ آیا ہے۔ یہ دونوں الفاظ مؤنث ہیں۔ ”ادنیٰ“ قریب کی چیز کو کہا جاتا ہے اس کی مونث ”دنیا“ ہے جبکہ ”عاجل“ کے معنی جلدی والی چیز کے ہیں اور اس کی مؤنث ”عاجلہ“ ہے۔ یہ دنیا نقد کا سودا ہے یہاں پر راحت بھی فوراً آسودگی دیتی ہے اور اس کی تکلیف بھی فوری طور پر خود کو محسوس کراتی ہے۔ اسی لیے اسے ”عاجلہ“ کہا گیا ہے۔ عاجلہ کے مقابلے میں آیت زیر نظر میں ”آخرت“ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جو کہ قرآن حکیم میں اکثر ”دنیا“ کے مقابلے میں بھی آتا ہے۔ دنیا یا عاجلہ کے مقابلے میں آخرت کو آخرت اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس کا ثواب و عذاب بعد میں آنے والی چیز ہے۔آیت زیر نظر میں جو اصول بیان ہوا ہے اس کی وضاحت یہ ہے کہ جو شخص دنیا کی عیش اور دنیا کی دولت و شہرت حاصل کرنے کا خواہش مند ہو اور صرف اسی کے لیے منصوبہ بندی محنت اور دوڑ دھوپ کرے اس کی محنت اور دوڑ دھوپ کو اللہ کسی نہ کسی درجہ میں کامیاب کردیتا ہے ‘ مگر ضروری نہیں کہ جس قدر کوئی دنیا سمیٹنا چاہے اسی قدر اسے مل بھی جائے۔ اور یہ بھی ضروری نہیں کہ جو کوئی بھی اس“ عاجلہ“ کو پانے کی دوڑ میں شامل ہو کامیاب ٹھہرے بلکہ ہر کسی کو وہی کچھ ملے گا جو اللہ چاہے گا اور صرف اسی کو ملے گا جس کے لیے وہ چاہے گا۔ بہت سے لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو حصول دنیا کے لیے ساری عمر اپنے آپ کو ہلکان کردیتے ہیں مگر دنیا پھر بھی ہاتھ نہیں آتی۔ چناچہ یہ اللہ کا فیصلہ ہے کہ جس کو وہ چاہتا ہے اور جس قدر چاہتا ہے دنیا میں اس کی محنت کا صلہ دے دیتا ہے۔ثُمَّ جَعَلْنَا لَهٗ جَهَنَّمَ ۚ يَصْلٰىهَا مَذْمُوْمًا مَّدْحُوْرًااس شخص کی خواہش اور محنت سب دنیا کے لیے کی تھی چناچہ دنیا کسی نہ کسی قدر اسے دے دی گئی۔ آخرت کے لیے اس نے خواہش کی تھی اور نہ محنت لہٰذا آخرت میں سوائے جہنم کے اس کے لیے اور کچھ نہیں ہوگا۔

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29

Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.

See this ayah on Mushaf page 284

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.

Sources & attribution