Surah 113 · word by word

Surah 113, ayah 3

  1. وَمِنْاور سے
  2. شَرِّشر
  3. غَاسِقٍاندھیرا کرنے والی کے
  4. اِذَاجب
  5. وَقَبَوہ داخل ہوجائے

Translation and commentary

Tafheem-ul-Quran

اور رات کی تاریکی کے شر سے جب کہ وہ چھا جائے،1

Footnotes (the author's commentary)

  1. مخلوقات کے شر سے عموماً خدا کی پناہ مانگنے کے بعد اب بعض خاص مخلوقات کے شر سے خصوصیت کے ساتھ پناہ مانگنے کی تلقین کی جا رہی ہے۔ آی میں غَاسِق اِذَا وَقَبَ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ غاسق کے لغوی معنی تاریک کے ہیں۔ چنانچہ قرآن میں ایک جگہ ارشاد ہوا ہے۔ اَقِمِ الصَّلوٰ ۃَ لِدُ لُوْکِ الشَّمْسِ اِلیٰ غَسَقِ الَّیْلِ”نماز قائم کرو زوالِ آفتاب کے وقت سے رات کے اندھیرے تک“(بنی اسرائیل۔78)۔ اور وَقَب کے معنی داخل ہونے یا چھا جانے کے ہیں۔ رات کی تاریکی کے شر سے خاص طور پر اس لیے پناہ مانگنے کی تلقین کی گئی ہے کہ اکثر جرائم اور مظالم رات ہی کے وقت ہوتے ہیں۔ موذی جانور بھی رات ہی کو نکلنےہیں۔ اور عرب میں طوائف الملو کی کا  جو حال اِ ن آیات کے نزول کے وقت تھا اس میں تورات بڑی خوفناک چیز تھی، اس کے اندھیرے میں چھاپہ مار نکلتے تھے اور بستیوں پر غارت گری کے لیے ٹوٹ پڑتے تھے۔ جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جان کے درپے تھے وہ بھی رات ہی کے وقت آپ کے قتل کر دینے کی  تجویز سوچا کرتے تھے تا کہ قاتل کا پتہ نہ چل سکے۔ اس لیے اُن تمام شرور آفات سے خدا کی پناہ مانگنے کا حکم دیا گیا جو رات کے وقت نازل ہوتی ہیں۔ یہاں اندھیری رات کے شر سے طلوعِ فجر کے رب کی پناہ مانگنے میں جو لطیف مناسبت ہے وہ کسی صاحب نظر سے پوشیدہ نہیں  رہ سکتی۔           اس آیت کی تفسیر میں ایک اِشکال یہ پیش آتا ہے کہ متعدد صحیح احادیث میں حضرت عائشہ ؓ کی یہ روایت آئی ہے کہ رات کو چاند نکلا ہوا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ کر اُس کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا کہ اللہ کی پناہ  مانگو، ھٰذا الغاسق اذا وقب، یعنی یہ الغاسق اذا قب ہے (احمد ، ترمذی، نسائی، ابن جریر، ابن المُنذر، حاکم، ابن مردویہ)۔ اِس کی تاویل میں بعض لوگوں نے کہا ہے کہ اِذَا وَقَبَ کا مطلب یہاں اِذَا خَسَفَ ہے ، یعنی جبکہ وہ گہنا جائے یا چاند گرہن اس کو ڈھانک لے۔ لیکن کسی روایت میں بھی یہ نہیں آیا ہے کہ جس وقت حضورؐ نے چاند کی طرف اشارہ کر کے یہ بات فرمائی تھی اُس وقت وہ گرہن میں تھا۔ اور لغتِ عرب میں بھی اِذَاوَقَبَ کے معنی اِذَا خَسَفَ کسی طرح نہیں ہو سکتے ۔ ہمارے نزدیک اِ س حدیث کی صحیح تاویل یہ ہے کہ چاند نکلنے کا وقت  چونکہ رات ہی کو ہوتا ہے ، دن کو اگر چاند آسمان پر ہوتا بھی ہے تو روشن نہیں ہوتا ، اس لیے حضورؐ کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ اس کے (یعنی چاند کے) آنے کے وقت یعنی رات سے خدا کی پناہ مانگو، کیونکہ چاند کی روشنی مدافعت کرنے والے کے لیے اُتنی مدد گار نہیں ہوتی جتنی حملہ کرنے والے کے لیے ہوتی ہے ، اور جرم کا شکار ہونے والے کے لیے اُتنی مددگار نہیں ہوتی جتنی مجرم کے لیے ہوا کرتی ہے ۔ اسی بنا پر حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اِنَّ الشَّمْسَ اِذَا غَرَ بَتْ انتشرت الشیاطین، فالَفتو اصبیانکم و احبسو امواشیکم حتی تذھب فحمۃ العشاء”جب سورج غروب ہو جائے تو شیاطین ہر طرف پھیل جاتے ہیں، لہٰذا اپنے بچوں کو گھروں میں سمیٹ لو اور اپنے جانوروں کو باندھ رکھو جب تک رات کی تاریکی ختم نہ ہو جائے“۔

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Bayan-ul-Quran

اور (خاص طور پر) اندھیرے کے شر سے جب وہ چھا جائے۔

Commentary

آیت 3{ وَمِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ۔ } ”اور خاص طور پر اندھیرے کے شر سے جب وہ چھا جائے۔“ ظاہر ہے رات کے اندھیرے میں انسانوں ‘ جنوں اور ضرر رساں جانوروں اور کیڑوں مکوڑوں کی صورت میں شر پھیلانے والے عناصر زیادہ فعال اور مستعد ہوجاتے ہیں۔ گویا رات کا اندھیرا بذات خود ایک بہت بڑا شر ہے جس سے بچنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آنا ضروری ہے۔

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29

Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.

See this ayah on Mushaf page 610

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.

Sources & attribution