- مِنْسے
- شَرِّشر
- مَاہر اس چیز کے جو
- خَلَقَاس نے پیدا کی
Surah 113 · word by word
Surah 113, ayah 2
Translation and commentary
Tafheem-ul-Quran
ہر اُس چیز کے شر سے جو اُس نے پیدا کی ہے1
Footnotes (the author's commentary)
-
بالفاظ دیگر تمام مخلوقات کے شر سے میں اُس کی پناہ مانگتا ہوں۔ اس فقرے میں چند باتیں قابل غور ہیں: اول یہ کہ شر کو پیدا کرنے کی نسبت اللہ کی طرف نہیں کی گئی ، بلکہ مخلوقات کی پیدائش کی نسبت اللہ کی طرف اور شر کی نسبت مخلواقات کی طرف کی گئی ہے۔ یعنی یہ نہیں فرمایا کہ اُن شرُور سے پناہ مانگتا ہوں جو اللہ نے پیدا کیے ہیں، بلکہ یہ فرمایا کہ اُن چیزوں کے شر سے پناہ مانگتا ہوں جو اُس نے پیدا کی ہیں۔ اِس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے کسی مخلوق کو شر کے لیے پیدا نہیں کیا ہے۔ بلکہ اُس کا ہر کام خیر اور کسی مصلحت ہی کے لیے ہوتا ہے ، البتہ مخلوقات کے اندر جو اوصات اُس نے اس لیے پیدا کیے ہیں کہ اُن کی تخلیق کی مصلحت پوری ہو، ان سے بعض اوقات اور بعض اقسام کی مخلواقت سے اکثر شرور رنما ہوتا ہے۔ دوم یہ کہ اگر صرف اسی ایک فقرے پر اکتفا کیا جاتا اور بعد کے فقروں میں خاص خاص قسم کی مخلوقات کی شُرور سے الگ الگ خدا کی پناہ مانگنے کا نہ بھی ذکر کیا جاتا تو یہ فقرہ مدعا پورا کرنےکے لیے کافی تھا، کیونکہ اس میں ساری مخلوقات کے شر سے خدا کی پناہ مانگ لی گئی ہے ۔ اس عام اِستعاذ ے کے بعد چند مخصوص شرور سے پناہ مانگنے کا ذکر خود بخود یہ معنی دیتا ہے کہ ویسے تو میں خدا کی پیدا کی ہوئی ہر مخلوق کے شر سے خدا کی پناہ مانگتا ہوں، لیکن خاص طور پر وہ چند شرور جن کا ذکر سورہ فلق کی باقی آیات اور سورہ ناس میں کیا گیا ہے ، ایسے ہیں جن سے خدا کی امان پانے کا میں بہت محتاج ہوں۔ سوم یہ کہ مخلوقات کے شر سے پناہ حاصل کرنے کے لیے موزوں ترین“ اور مؤثر ترین استعاذہ اگر کوئی ہو سکتا ہے تو وہ یہ ہے کہ اُن کے خالق کی پناہ مانگی جائے ، کیونکہ وہ بہر حال اپنی مخلوق پر غالب ہے، اور ان کے ایسے شرور کو بھی جانتا ہے جنہیں ہم جانتے ہیں اور ایسے شرور سے بھی واقف ہے جنہیں ہم نہیں جانتے۔ لہٰذا اُس کی پناہ گویا اُس حاکم اعلیٰ کی پناہ ہے جس کے مقابلےکی طاقت کسی مخلوق میں نہیں ہے، اور اس کی پناہ مانگ کر ہم ہر مخلوق کے ہر شر سےاپنا بچاؤ کر سکتے ہیں ، خواہ وہ ہمیں معلوم ہو یا نہ ہو ۔ نیز اس میں دنیا ہی کے نہیں آخرت کے بھی ہر شے سے استعاذہ شامل ہے۔ چہارم یہ کہ شر کا لفظ نقصان ، ضرر، تکلیف اور اَلَم کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے، اور اُن اسباب کے لیے بھی جو نقصان و ضرور اور تکلیف والم کے موجب ہوتے ہیں۔ مثلاً بیماری ، بھوک، کسی حادثے یا جنگ میں زخمی ہونا، آگ سے جل جانا ، سانپ بچھو وغیرہ سے ڈسا جانا، اولاد کی موت کے غم میں مبتلا ہونا، اور ایسے ہی دوسرے شرور پہلے معنی میں شر ہیں، کونکہ یہ بجائے خود تکلیف اور اذیت ہیں۔ بخلاف اس کے مثال کے طور پر کفر، شرک ، اور ہر قسم کے گناہ اور ظلم دوسرے معنی میں شر ہیں کیونکہ ان کا انجام نقصان اور ضرر ہے اگرچہ بظاہر ان سے فی الوقت کوئی تکلیف نہ پہنچتی ہو، بلکہ بعض گناہوں سے لذت ملتی یا نفع حاصل ہوت ہو۔ پس شر سے پناہ مانگنا اِن دونوں مفہومات کا جامع ہے۔ پنجم یہ کہ شر سے پناہ مانگنے میں دو مفہوم اور بھی شامل ہیں۔ ایک یہ کہ جو شر واقع ہو چکا ہے، بندہ اپنے خدا سے دعا مانگ رہا ہے کہ وہ اسے دفع کر دے۔ دوسرے یہ کہ جو شر واقع نہیں ہوا ہے، بندہ یہ دعا مانگ رہا ہے کہ خدا مجھے اُس شر سے محفوظ رکھے۔
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Bayan-ul-Quran
(میں پناہ میں آتا ہوں) اس کی تمام مخلوقات کے شر سے۔
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29
Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.
See this ayah on Mushaf page 610
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.
Commentary
آیت 2{ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ۔ } ”میں پناہ میں آتا ہوں اس کی تمام مخلوقات کے شر سے۔“ یعنی ”شر“ مستقل طور پر علیحدہ وجود رکھنے والی کوئی چیز نہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی مختلف مخلوقات کے اندر ہی کا ایک عنصر ہے۔ اس نکتے کو یوں سمجھئے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہر قسم کے نقص یا عیب سے پاک ہے۔ لیکن اس کی مخلوق اپنے خالق کی طرح کامل نہیں ہوسکتی۔ چناچہ ہر مخلوق کے اندر کمی یا تقصیر و تنقیص کا کوئی نہ کوئی پہلو یا عنصر بالقوہ potentially موجود ہے۔ جیسے خود انسان کی متعدد کمزوریوں کا ذکر قرآن مجید میں آیا ہے۔ سورة النساء میں فرمایا گیا : { وَخُلِقَ الْاِنْسَانُ ضَعِیْفًا۔ } کہ انسان بنیادی طور پر کمزور پیدا کیا گیا ہے۔ سورة بنی اسرائیل میں { وَکَانَ الْاِنْسَانُ عَجُوْلًا۔ } کے الفاظ میں انسان کی جلد بازی کا ذکر ہوا۔ سورة المعارج میں اس کی تین کمزوریوں کا ذکر بایں الفاظ ہوا : { اِنَّ الْاِنْسَانَ خُلِقَ ہَلُوْعًا - اِذَا مَسَّہُ الشَّرُّ جَزُوْعًا - وَّاِذَا مَسَّہُ الْخَیْرُ مَنُوْعًا۔ } ”یقینا انسان پیدا کیا گیا ہے تھڑدلا۔ جب اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو بہت گھبرا جانے والا ہے۔ اور جب اسے بھلائی ملتی ہے تو بہت بخیل بن جاتا ہے۔“ گویا انسان روحانی طور پر اگرچہ احسن تقویم کے درجے میں پیدا کیا گیا ہے ‘ لیکن اس کے حیوانی اور مادی وجود میں مذکورہ خامیوں سمیت بہت سی کمزوریاں پائی جاتی ہیں۔ اسی طرح ہر مخلوق میں مختلف کمزوریوں کے متعدد پہلو پائے جاتے ہیں جن کی وجہ سے ’ شر ‘ جنم لیتا ہے۔ چناچہ اس آیت کا مفہوم یوں ہوگا کہ اے پروردگار ! تیری جس جس مخلوق میں شر کے جو جو پہلو پائے جاتے ہیں میں ان میں سے ہر قسم کے شر سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔