Surah 95 · word by word

Surah 95, ayah 5

  1. ثُمَّپھر
  2. رَدَدْنٰهُپھیر دیا ہم نے اس کو
  3. اَسْفَلَسب سے زیادہ نچلا/نیچے
  4. سٰفِلِیْنَنچلوں میں سے/ نیچوں میں سے

Translation and commentary

Tafheem-ul-Quran

پھر اُسے اُلٹا پھیر کر ہم نے سب نِیچوں سے نیچ کر دیا،1

Footnotes (the author's commentary)

  1. مفسرین نے بالعموم اس کے دومعنی بیان کیے ہیں۔ ایک یہ کہ ہم نے اُسے اَرْذَلُ العُمر، یعنی بُڑھاپے کی ایسی حالت کی طرف پھیر دیا جس میں وہ کچھ سوچنے سمجھنے اور کام کرنے کے قابل نہ رہا ۔ دوسرے یہ کہ ہم نے اُسے جہنّم کے سب سے نیچے درجے کی طرف پھیر دیا۔ لیکن یہ دونوں معنی اُس مقصودِ کلام کے لیے دلیل نہیں بن سکتے جسے ثابت کرنے کے لیے یہ سُورۃ نازل ہوئی ہے۔ سُورۃ کا مقصود جزا و سزا کا برحق ہونے پر استدلال کرنا ہے۔ اِس پر نہ یہ بات دلالت کرتی ہے کہ انسانوں میں سے بعض لو گ بڑھاپے کی انتہائی کمزور حالت کو پہنچا دیے جاتے ہیں، اور نہ یہی بات دلالت کرتی ہے کہ انسانوں کا ایک گروہ جہنّم میں ڈالا جائے گا۔ پہلی بات اس لیے جزا و سزا کی دلیل نہیں بن سکتی کہ بُڑھاپے کی حالت اچھے اور بُرے، دونوں قسم کے لوگوں پر طاری ہوتی ہے، اور کسی کا اِس حالت کو پہنچنا کوئی سزا نہیں ہے جو اُسے اس کے اعمال پر دی جاتی ہو۔ رہی دوسری بات ، تو وہ آخرت میں پیش آنے والا معاملہ ہے۔ اُسے اُن لوگوں کے سامنے دلیل کے طور پر کیسے پیش کیا جا سکتا ہے جنہیں آخرت ہی کی جزا و سزا   کا قائل کرنے کے لیے یہ سارا استدلال کیا جا رہا ہے ؟ اِس لیے ہمارے نزدیک آیت کا صحیح مفہوم یہ ہے  کہ بہترین ساخت پر پیدا کیے جانے کے بعد  جب انسان اپنے جسم اور ذہن کی طاقتوں کو  بُرائی کے راستے میں استعمال کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اُسے بُرائی ہی کو توفیق دیتا ہے اور گِراتے گِراتے اُسے گراوٹ کی اُس انتہا  تک پہنچا دیتا ہے کہ  کوئی مخلوق گِراوٹ میں اُس حد کو پہنچی ہوئی نہیں ہوتی۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو انسانی معاشرے کے اندر بکثرت مشاہدے میں آتی ہے۔ حِرص، طمع، خودغرضی، شہوت پرستی ، نشہ بازی، کمینہ پن ، غیض و غضب اور ایسی ہی دوسری خصلتوں میں جو لوگ غرق ہو جاتے ہیں وہ اخلاقی حیثیت سے فی الواقع سب نیچوں سے نیچ ہو کر رہ جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر صرف اِسی ایک بات کو لے لیجیے کہ  ایک قوم جب دوسری قوم کی دشمنی میں  اندھی ہو جاتی ہے تو  کس طرح درندگی میں تمام درندوں کو  مات کر دیتی ہے۔ درندہ تو صرف اپنی غذا کے لیے کسی جانور کا شکار کرتا ہے ۔ جانوروں کا قتلِ عام نہیں کرتا۔ مگر انسان خود اپنے ہی ہم جِنس انسانوں کا قتلِ عام کرتا ہے۔ درندہ صرف اپنے پنجوں اور دانتوں سے کام لیتا ہے۔ مگر یہ احسنِ تقویم پر پیدا ہونے والا انسان اپنی عقل سے کام لے کر تو ، بندوق ، ٹینک، ہوائی جہاز، ایٹم بم ، ہائیڈروجن بم اور دوسرےبے شمار ہتھیا ر ایجاد کرتا ہے تا کہ آن کی آن میں پوری پوری بستیوں کو تباہ کر کے رکھ دے۔ درندہ صرف زخمی یا ہلاک کرتا ہے ۔ مگر انسان اپنے ہی جیسے انسانوں کو اذیّت دینے کے ایسے ایسے دردناک طریقے اختراع کرتا ہے جن کا تصوّر بھی کبھی کسی درندے کے دماغ میں نہیں آسکتا۔ پھر یہ اپنی دشمنی اور انتقام کی آگ ٹھنڈی کرنے کے لیے کمینہ پن کی اِس انتہا کو  پہنچتا ہے کہ عورتوں کے ننگے جلوس نکالتا ہے، ایک ایک عورت کو دس دس بیس بیس آدمی اپنی ہوس کا نشانہ بناتے ہیں، باپوں اور بھائیوں اور شوہروں کے سامنے اُن کے گھر کی عورتوں کی عصمت لوٹتے ہیں،بچوں کو اُن کے ماں باپ کے سامنے قتل کرتے ہیں، ماؤں کو اپنے بچوں کا خون پینے پر مجبور کرتے ہیں، انسانوں کو زندہ جلاتے اور زندہ دفن کرتے ہیں۔ دنیا میں وحشی سے وحشی جانوروں کی بھی کوئی قسم ایسی نہیں ہے جو انسان کی اس وحشت کا کسی درجہ  میں بھی مقابلہ کر سکتی ہو۔ یہی حال دوسری بُری صفات کا بھی ہے کہ اُن میں سے جس کی طرف بھی انسن رخ کرتا ہے ، اپنے آپ کو ارذلُ المخلوقات ثابت کردیتا ہے ۔ حتیٰ کہ مذہب ، جو انسان کے لیے مقدس ترین شے ہے، اُس کو بھی اِتنا گرا دیتا ہے کہ درختوں اور جانوروں اور پتھروں کو پوجتے پوجتے پستی کی انتہا کو پہنچ کر مرد و عورت کے اعضائے جنسی تک کو پُوج ڈالتا ہے، اور دیوتاؤں کی خوشنودی کے لیے عبادت گاہوں میں دیو داسیاں رکھتا ہے جن سے زنا کا ارتکاب کارِ ثواب سمجھ کر کیا جاتا ہے ۔ جن ہستیوں کو وہ دیوتا اور معبود کا درجہ دیتا ہے ان کی طرف اس کی دیومالا میں ایسے ایسے گندے قصّے منسوب ہوتے ہیں جو ذلیل ترین انسان کے لیے بھی باعثِ شرم ہیں۔

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Bayan-ul-Quran

پھر ہم نے لوٹا دیا اس کو پست ترین حالت کی طرف۔

Commentary

آیت 5{ ثُمَّ رَدَدْنٰــہُ اَسْفَلَ سٰفِلِیْنَ۔ } ”پھر ہم نے لوٹا دیا اس کو پست ترین حالت کی طرف۔“ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی اس عظیم المرتبت مخلوق کی روح کو اس کے جسد خاکی میں بٹھا کر نیچے دنیا میں بھیج دیا۔ لیکن واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو زمین پر جہالت کی تاریکی میں نہیں بلکہ ہدایت کے اجالے میں بھیجا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اسے کامیابی اور ناکامی کے راستوں کا شعور بھی عطا کیا ‘ اس کی فطرت میں نیکی و بدی کی تمیز بھی ودیعت کی اور وقتاً فوقتاً وہ براہ راست ہدایات بھی بھیجتا رہا : { وَلَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ نَسُوا اللّٰہَ فَاَنْسٰٹـھُمْ اَنْفُسَھُمْط } الحشر : 19 کہ تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جنہوں نے اللہ کو فراموش کردیا اور اس کی پاداش میں اللہ نے انہیں اپنے آپ سے ہی غافل کردیا۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے۔ اب اگر وہ اپنے شرفِ انسانی کو بھلا کر محض حیوانی سطح پر زندگی بسر کرتا رہے اور خود کو حیوان ہی سمجھتا رہے تو یہ اس کی مرضی ہے۔ اس فلسفے کا خلاصہ یہ ہے کہ اپنی سرشت حیوانی وجود کے تقاضوں کے اعتبار سے انسان میں کچھ کمزوریاں اور خامیاں پائی جاتی ہیں ‘ لیکن اپنی فطرت روح کے لحاظ سے یہ بہت اعلیٰ اور عظیم المرتبت مخلوق ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی روح کو اس کے حیوانی جسم میں متمکن فرما کر اسے دنیا میں بھیجاتو اس کا ارفع و اعلیٰ روحانی وجود اس کے حیوانی جسم میں قید ہو کر گویا اسفل نچلی مخلوق کی سطح پر آگیا۔ چناچہ دنیوی زندگی میں اس کے سامنے اصل ہدف یہ ہے کہ وہ اپنے شعور اور اللہ تعالیٰ کی فراہم کردہ ہدایت کے مطابق راستہ اختیار کرے ‘ اس راستے کے تقاضے پورے کرنے کے لیے محنت کرے اور اسفل سطح سے اوپر اٹھ کر اپنی اصل عظمت اور حقیقی منزل کو دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ اب اگلی آیت میں اس راستے کی نشاندہی اور مطلوبہ محنت کے طریقے کی وضاحت کی گئی ہے :

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29

Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.

See this ayah on Mushaf page 603

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.

Sources & attribution