Surah 91 · word by word

Surah 91, ayah 10

  1. وَقَدْاور یقیناً
  2. خَابَناکام ہوا
  3. مَنْجس نے
  4. دَسّٰىهَادبا دیا اس کو

Translation and commentary

Tafheem-ul-Quran

اور نامراد ہوا وہ جس نے اُس کو دبا دیا۔1

Footnotes (the author's commentary)

  1. یہ ہے وہ بات جس پر اُن چیزوں کی قسم کھائی گئی ہے جو اوپر کی آیات میں مذکور ہوئی ہیں ۔ اب غور کیجیے کہ وہ چیزیں اِس پر کس طرح دلالت کرتی ہیں۔ قرآن  میں اللہ تعالیٰ  کا قاعدہ یہ ہے کہ جن حقائق کو وہ انسان کے ذہن نشین کرا نا چاہتا ہے ، اُن کی شہادت میں وہ سامنے کی چند ایسی نمایاں ترین چیزوں کو پیش کرتا ہے جو ہر آدمی کو اپنے گرد و پیش کی دنیا میں ، یا خود اپنے وجود میں نظر آتی ہیں۔ اِسی قاعدے کے مطابق یہاں دو دو چیزوں کو ایک دوسرے کے مقابلے میں پیش کیا گیا ہے جو ایک دوسرے سے متضاد ہیں اس لیے اُن کے آثار اور نتائج بھی یکساں نہیں ہیں بلکہ لازمًا ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ ایک طرف سورج ہے اور دوسری طرف چاند۔ سورج کی روشنی نہایت تیز ہے اور اس میں گرمی بھی ہے۔ اس کے مقابلہ میں چاند اپنی کوئی روشنی نہیں رکھتا۔ سورج کی موجودگی میں وہ آسمان پر موجود ہ بھی ہو تو بے نُور ہوتا ہے ۔ وہ اُس وقت چمکتا ہے جب سُورج چھُپ جائے اور اُس وقت بھی اس کی روشنی   نہ اتنی تیز ہوتی ہے  کہ رات کو دِن بنا دے، نہ اُس  میں کوئی گرمی ہوتی ہے کہ  وہ کام کر سکے جو سورج کی گرمی کرتی ہے ۔ لیکن اُس کے اپنے کچھ اثرات ہیں جو سورج کے  اثرات سے بالکل مختلف ہوتے ہیں۔ اسی طرح ایک طرف دن ہے اور دوسری طرف رات۔ دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ دونوں کے اثرات اور نتائج باہم اس قدر مختلف ہیں کہ کوئی اُن کو یکساں نہیں کہہ سکتا حتیٰ کہ ایک بے وقوف سے بے  وقوف آدمی کے لیے بھی یہ کہنا ممکن نہیں ہے کہ رات ہوئی تو کیا اور دن ہوا تو کیا، کسی سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اسی طرح ایک طرف آسمان ہے جسے خالق نے بلند اٹھایا ہے اور دوسری طرح زمین ہے جسے پیدا کرنے والے نے آسمان کے نیچے فرش کی طرح بچھا دیا ہے۔ دونوں اگرچہ ایک ہی کائنات اور اس کے نظام اور اس کی مصلحتوں کی خدمت کر رہے ہیں ، لیکن دونوں کے کام اور ان کے اثرات  و نتائج میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ اِن آفاقی شہادتوں کو پیش کرنے کے بعد خود انسان کے  اپنے نفس کو لیا گیا ہے  اور بتایا گیا ہے  کہ اسے اعضا اور حواس اور ذہنی قوتوں کے متناسب امتزاج  سے ہموار کر کے خالق نے اس کے اندر بھلائی اور بڑائی، دونوں کے میلانات، رُحجانات اور محرکات رکھ دیے ہیں جو ایک دوسرے کی ضد ہیں اور الہامی طور پر اسے اِن دونوں کا فرق سمجھا دیا ہے کہ ایک فجور ہے اور وہ بُری چیز ہے، اور دوسرا تقویٰ ہے، اور وہ اچھی چیز ۔ اب اگر سورج اور چاند، دن اور رات، زمین اور آسمان یکساں نہیں ہیں بلکہ ان کے اثرات اور نتائج ایک دوسرے سے لازمًا مختلف ہیں، تو نفس کا فجور اور تقویٰ دونوں ایک دوسرے کی ضد ہونے کے باوجود یکساں کیسے ہو سکتے ہیں۔ انسان  خود اِس دنیا میں بھی نیکی اور بدی کو یکساں نہیں سمجھتا اور نہیں مانتا۔ خواہ اس نے اپنے بنائے ہوئے فلسفوں کی رو سے خیر و شر کیے کچھ بھی معیار تجویز کر لیے ہوں ، بہر حال جس چیز کو بھی وہ نیکی سمجھتا ہے اس کے متعلق وہ یہ رائے رکھتا ہے کہ وہ قابل قدر ہے ، تعریف اور صلے اور انعام کی مستحق ہے۔ بخلاف اِس کے جس چیز کو بھی وہ بدی سمجھتا ہے ، اس کے بارے میں اس کی اپنی بے لاگ رائے یہ ہے کہ وہ مذمت اور سزا کی مستحق ہے۔ لیکن اصل فیصلہ انسان کے ہاتھ میں نہیں ہے بلکہ اُس خالق کے ہاتھ میں ہے جس نے انسانن کا فجور اور تقویٰ اُس پر الہام کیا ہے۔ فجور وہی ہے جو خالق کے نزدیک فجور ہے اور تقویٰ وہی ہے جو اس کے نزدیک تقویٰ ہے۔ اور خالق کے ہاں اِن دونوں کے دو الگ نتائج ہیں۔ ایک کا نتیجہ یہ ہے کہ جو اپنے نفس کا تزکیہ کرے وہ فلاح پائے ، اور دوسرے کا  نتیجہ یہ ہے کہ جو اپنے نفس کو دبا دے وہ نامراد ہو۔ تزکیہ کے معنی ہیں پاک کرنا ابھارنا اور نشو نما دینا۔ سیاق و سباق سے اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ جو اپنے نفس کو فجور سے پا ک کرے، اس کو اُبھار کر تقویٰ کی بلندی پر لے جائے اور اُس کے اندر بھلائی کو نشوونمادے وہ فلاح پائے گا۔ اس کے مقابلہ میں دَسّٰھَا کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جس کا مصدر تَدْسِیَہ ہے۔ تدسیہ کے معنی دبانے، چھُپانے، اِغوا کرنے اور گمراہ کر دینے کے ہیں۔ سیاق و سباق سے اس کا مطلب بھی واضح ہوجاتا ہے کہ وہ شخص نامراد ہو گا جو اپنے نفس کے اندر پائے جانے والے نیکی کے رحجانات کو ابھارنے اور نشو ونما دینے کے بجائے اُن کو دبا دے، اُس کو بہکا کر برائی کے رحجانات کی طرف لے جائے، اور فجور کو اُس پر اتنا غالب کر دے کہ تقویٰ اس کے نیچے اِس طرح چھپ  کر رہ جائے جیسے ایک لاش قبر پر مٹی ڈال دینے کے بعد چھپ جاتی ہے۔ بعض مفسّرین نے اس آِت کے معنی یہ بیان کیے ہیں کہ  قَدْ  اَفْلَحَ مَنْ  زَکَّی اللہُ نَفْسَہٗ وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسَّی اللہُ نَفْسَہٗ، یعنی فلاح پا گیا وہ جس کے نفس کو اللہ نے پاک کر دیا اور  نا  مراد ہوا وہ جس کے نفس کو اللہ نے دبا دیا۔ لیکن یہ تفسیر اول تو زبان کے لحاظ سے قرآن کے طرزِ بیان کے خلاف ہے ، کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ کو یہی بات کہنی مقصود ہوتی تو وہ یوں فرماتا کہ قَدْ اَفْلَحَتْ مَنْ زَکّٰھَا اللہُ وَقَدْ خَابَتْ مَنْ دَسّٰھَاللہُ (فلاح پا گیا وہ نفس  جس کو اللہ  نے پاک کر دیا اور نامراد ہو گیا وہ نفس جو اللہ نے دبا دیا)۔ دوسرے یہ تفسیر اِسی موضوع پر قرآن کے دوسرے بیانات سے ٹکراتی ہے۔ سورۂ اعلیٰ میں اللہ تعالیٰ  کا ارشاد ہے قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَکّٰی، ”فلاح پا گیا وہ جس نے پاکیزگی اختیار کی“(آیت 14)۔ سورۂ عَبَسَ میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کر کے فرمایا وَمَا عَلَیْکَ اِلَّا یَزَّکّٰی، ”اور تم پر کیا ذمہ داری ہے اگر وہ پاکیزگی نہ اختیار کرے“۔ اِن  دونوں آیتوں میں انسان کا امتحان لیا جا رہاے ہے ۔ مثلاً سُورۂ دہر میں فرمایا ”ہم نے انسان کو ایک مخلوط نطفے سے پیدا کیا تا کہ اس کی آزمائش کریں اِسی لیے اُسے ہم نے سمیع و بصیر بنایا“(آیت2)۔ اور سُورۂ مُلک میں فرمایا” جس نے موت اور زندگی کو ایجاد کیا تا کہ تمہیں آزمائے  کون تم میں بہتر عمل کر نے والا ہے“(آیت 2)۔ اب یہ ظاہر ہے کہ امتحان سرے سے ہی بے معنی ہو جاتا ہے اگر امتحان لینے والا پہلے ہی ایک امیدوار کو ابھار دے اور دوسرے کو   دبا دے۔ اس لیے صحیح تفسیر وہی ہے کہ جو قَتَادَہ، عِکْرِمَہ مجاہد اور سعید بن جُبَیر نے بیان کی ہے کہ زَکّٰھَا اور دَسّٰھَا کا فاعل بندہ ہے  نہ کہ خدا۔ رہی وہ حدیث جو ابن ابی حاتم نے  عن جُوَیْبِر بن سعید عن الضحّاک عن ابن عباس کی سند سے نقل کی ہے کہ  خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کا مطلب یہ بیان فرمایا کہ اَفْلَحَتْ نَفْسٌ زَکَّا ھَا اللہُ عَزَّ وَجَلَّ ( فلاح پا گیا وہ نفس جس  کو اللہ عز و جل نے پاک کر دیا ، تو یہ ارشاد در حقیقت حضور سے ثابت نہیں ہے کیونکہ اس کی سند  میں جُوَ یبِر متروک الحدیث ہے اور ابن عباس  سے ضحّاک کی ملاقات نہیں ہوئی ہے۔ البتہ وہ حدیث صحیح ہے جو امام احمد، مسلم ، نَسائی اور ابن ابی شَیْبَہ نے حضرت زید بن اَرقم سے روایت کی ہے کہ حضور ؐ یہ دُعا مانگا کرتے تھے کہ الّٰہمّ اٰتِ نفسی تقواھا و زَکِّھا انتَ خیر من زکّاھا، انت ولیُّھا و مَولا ھا۔ ”خدایا میرے نفس کو اُس کا تقویٰ عطا کر اور اس کو پاکیزہ کر، تو ہی وہ بہتر ہستی ہے  جس اس کو پاکیزہ کر ے، تو ہی اُس کا  سرپرست اور مولیٰ ہے“۔ اِسی سے ملتے جلتے الفاظ میں حضور ؐ کی یہ دعا حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ طَبَرانی، ابن مَرْدُوْیَہ اور ابن المُنْذِر نے اور حضرت عائشہ ؓ  سے امام احمد نے نقل کی ہے۔ اس کا مطلاب درحقیقت یہ ہے کہ  بندہ تو صرف تقویٰ اور تزکیہ کی خواہش اور طلب ہی کر سکتا ہے،  رہا اس کا نصیب ہو جانا، تو وہ بہر حال اللہ ہی کی توفیق پر منحصر ہے۔ اور یہی  حال تَدْسیہ کا بھی ہے کہ اللہ زبردستی کسی کے نفس کو نہیں دباتا ، مگر جب بندہ اُس پر تُل جائے تو اللہ تعالیٰ اُسے تقویٰ اور تزکیہ کی توفیق سے محروم کریتا ہے اور اُسے چھوڑ دیتا ہے کہ اپنے نفس کو جس گندگی کےڈھیر میں دبانا چاہے دبا دے۔  

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Bayan-ul-Quran

اور ناکام ہوگیا جس نے اسے مٹی میں دفن کردیا۔

Commentary

آیت 10{ وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰٹہَا۔ } ”اور ناکام ہوگیا جس نے اسے مٹی میں دفن کردیا۔“ یہ اس سورت کا مرکزی مضمون ہے۔ ان دو آیات میں انتہائی اختصار کے ساتھ انسان کی حقیقی کامیابی اور ناکامی کا معیار بیان کردیا گیا ہے۔ دَسَّ یَدُسُّ کے معنی کسی چیز کو مٹی میں دفن کردینے کے ہیں۔ سورة النحل آیت 59 میں ہم پڑھ چکے ہیں : { اَیُمْسِکُہٗ عَلٰی ھُوْنٍ اَمْ یَدُسُّہٗ فِی التُّرَابِط } اس آیت میں قبل از اسلام زمانے کے عربوں کی ایک خاص ذہنیت کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ ان میں سے جس شخص کے گھر بیٹی پیدا ہوتی ہے وہ یا تو اسے ذلت آمیز طریقے سے زندہ رکھتا ہے یا زندہ دفن کردیتا ہے۔ یہاں ”دَسّٰی“ دراصل دَسَّسَ باب تفعیل ہے ‘ اس کے آخری سین کو یا سے بدل دیا گیا ہے۔ تو جس انسان نے اپنے نفس کو مٹی میں دفن کردیا اس کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ جس نے اپنی روح کو اپنے خاکی وجود کے اندر دبا دیا۔ یعنی جس کی حیوانی خواہشات و شہوات اس کی روح پر غالب آگئیں تو وہ ناکام رہا۔ البتہ جیسا کہ سورة الاعلیٰ کے مطالعہ کے دوران بھی نشان دہی کی گئی ہے ‘ زیر مطالعہ سورتوں کے مضامین میں سے اکثر کا تعلق سورة الاعلیٰ کے مضامین کے ساتھ ہے۔ چناچہ سورة الاعلیٰ میں { قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَکّٰی۔ } کے الفاظ میں جو مضمون انتہائی مختصر انداز میں آیا تھا ‘ یوں سمجھیں کہ اب آیات زیر مطالعہ میں اس مضمون کی مزید تفصیل بیان ہوئی ہے۔ اس مضمون پر قسموں کی صورت میں یہاں مزید گواہیاں بھی لائی گئی ہیں اور زیر مطالعہ آیت کے الفاظ { وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰٹہَا۔ } میں تصویر کا دوسرا رخ بھی دکھایا گیا ہے۔ دراصل انسان کا نفس اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی امانت ہے۔ اس امانت کو پاک صاف رکھنا اس کی ذمہ داری ہے۔ نفس کو پاک کرنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو ‘ یعنی اپنی شخصیت کو تمام رذائل اور باطنی بیماریوں سے پاک کر کے بہترین انسانی خوبیوں کا مرقع بنائے۔ اس کے لیے ہمارے ہاں عام طور پر تزکیہ نفس ‘ تعمیر ِسیرت ‘ تعمیر خودی وغیرہ اصطلاحات استعمال ہوتی ہیں۔ بہرحال اللہ تعالیٰ کی نظر میں کامیاب انسان وہی ہے جو اپنے نفس کو پاک کرنے اور پاک رکھنے میں کامیاب ہوگیا ‘ خواہ دنیا والوں کی نظروں میں وہ حقیر ‘ فقیر اور بےنام ہی کیوں نہ ہو۔ اس کے برعکس جس انسان نے اپنے نفس کو رذائل و خبائث سے آلودہ کرلیا ‘ اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ ناکام ہے ‘ دنیا میں خواہ وہ غیر معمولی عزت ‘ شہرت اور دولت کا مالک ہی کیوں نہ ہو۔ اس لیے کہ اصل اور حقیقی کامیابی اور ناکامی کا تعلق انسان کے ظاہر سے نہیں بلکہ اس کی ”ذات“ سے ہے۔ انسان کی ”ذات“ سے کیا مراد ہے ؟ فرائڈ نے اسے انسان کی self اَنا کا نام دیا ہے۔ اس کے نزدیک انسان کی اصل کامیابی یہ ہے کہ وہ اپنی self کو id اور libido کے تسلط سے آزاد کرا کے اسے مثبت انداز میں ترقی دے۔ علامہ اقبال نے اسے خودی کا نام دیا ہے اور انسان کی ”کامیابی“ کو اس کی خودی کی تعمیر و ترقی سے مشروط کیا ہے۔ بہرحال اس حوالے سے سمجھنے کا اصل نکتہ یہ ہے کہ انسان محض ایک جسم یا ہاتھ پائوں ‘ سر ‘ دھڑ وغیرہ کے مجموعے کا نام نہیں ہے۔ انسان کہتا ہے میرا ہاتھ ‘ میرا پائوں ‘ میرا سر وغیرہ۔ یہ تمام اعضاء بیشک اس کے ہیں ‘ لیکن وہ انسان جو ان اعضاء کو اپنا بتارہا ہے وہ خود کیا ہے ؟ اور کہاں ہے ؟ ظاہر ہے اصل انسان اس جسم یا وجود کے اندر ہے۔ اس کو ایسے سمجھیں کہ جس طرح آم کی گٹھلی کے اندر آم کا پورا درخت موجود ہے ‘ اسی طرح انسانی جسم کے اندر اصل انسان ایک لطیف شخصیت کی صورت میں موجود ہے۔ یہ لطیف شخصیت عبارت ہے اس روح سے جو اللہ تعالیٰ نے اس کے حیوانی یا خاکی وجود کے اندر پھونکی ہے : { وَنَفَخْتُ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِیْ } الحجر : 29۔ روح یا انسان کی انا کا ذکر اپنشد کے اس فقرے میں بھی ہے ‘ جس کا حوالہ میں پہلے بھی دے چکا ہوں : Man in his ignorance identifies himself with the material sheeths that encompass his real self.گویا انسان کی self یا انا یا خودی یا روح اس کے حیوانی وجود کی مٹی کے اندر دفن ایک خزانہ ہے۔ اب جو انسان اس خزانے کو مٹی سے نکال کر کام میں لے آئے گا ‘ یعنی اپنی روح کو صیقل کرلے گا ‘ اس کا نفس پاک ہوجائے گا روح کی پاکیزگی نفس کی پاکیزگی کا باعث بنتی ہے۔ دونوں کا تعلق انسان کے باطن سے ہے اور وہ کامیابی یا فلاح کے راستے پر گامزن ہوجائے گا۔ فلاح کا لفظ قرآن مجید میں ایک جامع اصطلاح کے طور پر استعمال ہوا ہے۔ اس اصطلاح کے مفہوم کی تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو سورة المومنون کی پہلی آیت کی تشریح۔ زیر مطالعہ آیات کے حوالے سے یہ نکتہ خصوصی طور پر پیش نظر رہنا چاہیے کہ انسان کی روح اور اس کا نفس دو الگ الگ چیزیں ہیں اور ان آیات میں انسانی روح کا نہیں بلکہ انسانی نفس کا ذکر ہوا ہے۔ روحِ انسانی دراصل عالم امر کی چیز ہے اور یہ معرفت خداوندی اور محبت خداوندی کی امین ہے ‘ جبکہ نفس انسانی کا تعلق عالم خلق سے ہے۔ اسی لیے اس کے ذکر سے پہلے جن چیزوں کی یہاں قسمیں کھائی گئی ہیں ان سب سورج ‘ چاند ‘ دن ‘ رات ‘ آسمان ‘ زمین کا تعلق بھی عالم خلق سے ہے۔ روح تمام مخلوقات میں سے صرف انسان کو عطا ہوئی ہے ‘ جبکہ نفس گدھے ‘ گھوڑے اور چمپنیزی وغیرہ سب جانوروں میں ہوتا ہے۔ البتہ انسان کی خصوصیت اس حوالے سے یہ ہے کہ دوسرے جانوروں کے مقابلے میں نفس انسانی کو اللہ تعالیٰ نے خصوصی ارتقائی درجات سے نوازا ہے اور اس کے اندر اخلاقی حس اور نیکی و بدی کی وہ تمیز الہام کردی ہے جو دوسرے جانوروں کے نفس میں نہیں پائی جاتی۔ اسی حس اور تمیز کی وجہ سے انسانی فطرت آفاقی سطح پر نیکی کو اچھا اور بدی کو برا سمجھتی ہے۔ دنیا میں کسی معاشرے ‘ کسی مذہب اور کسی نسل کا انسان ہو وہ سچ بولنے کو اچھا اور جھوٹ بولنے کو برا سمجھتا ہے۔ اس حوالے سے قرآن میں معروف اور منکر کی اصطلاحات کثرت سے استعمال ہوتی ہیں۔ معروف وہ چیزیں یا افعال یا اعمال ہیں جو نفس انسانی کے لیے مانوس ہیں۔ انہیں دیکھ کر یا اپنا کر نفس انسانی کو راحت محسوس ہوتی ہے۔ اس کے مقابلے میں منکرات وہ چیزیں یا اعمال یا افعال ہیں جنہیں نفس انسانی برا سمجھتا ہے اور جن کی صحبت و معیت میں وہ اجنبیت اور کوفت محسوس کرتا ہے ‘ بلکہ وہ انسان کو ایسے اعمال و افعال سے ٹوکتا ہے۔ اسی لیے انسان غلطی کرنے کے بعد اکثر یہ کہتا پایا جاتا ہے کہ ”میرا ضمیر مجھے ملامت کر رہا ہے“ my conscience is pinching me۔ نفس انسانی کی اسی خصوصیت کی وجہ سے سورة القیامہ کی آیت 2 میں اسے نفس لوامہ ملامت کرنے والا نفس کا نام دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے آیات زیر مطالعہ کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ نفس انسانی کے اندر اللہ تعالیٰ کی طرف سے نیکی اور بدی کی تمیز کا بنیادی بیج ڈال دیا گیا ہے۔ اب انسان کا کام یہ ہے کہ وہ اس بیج کی حفاظت کرے ‘ اسے سازگار ماحول فراہم کرے اور عمل صالح کے پانی سے اس کی آبیاری کرے۔ سورة فاطر آیت 10 میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { اِلَیْہِ یَصْعَدُ الْکَلِمُ الطَّیِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ یَرْفَعُہٗط } کہ کسی بھی اچھی بات یا اچھے کلام میں اللہ تعالیٰ کے حضور پہنچنے کی صلاحیت تو ہوتی ہے لیکن عمل صالح اس کی اس صلاحیت کو اور بڑھا دیتا ہے۔ چناچہ انسان جب تزکیہ نفس اور اعمالِ صالحہ کے حوالے سے محنت کرے گا تو اسے ایمان کی حلاوت بھی نصیب ہوگی ‘ وہ ایمان کے ان ثمرات سے بھی بہرہ مند ہوگا جن کا ذکر ہم سورة التغابن میں پڑھ آئے ہیں اور اسے کامیابی کی ضمانت بھی ملے گی۔ اس کے برعکس جس انسان نے اپنے نفس کو حیوانی وجود کے تابع کیے رکھا اور وہ اس کی آواز کو دبا کر زندگی بھر جسمانی تقاضے پورے کرنے میں لگا رہا وہ گویا خائب و خاسر ہو کر رہ گیا۔ اب اگلی آیات میں ایک قوم یا ایک معاشرے کے اجتماعی ضمیر کے حوالے سے ایک مثال دی گئی ہے۔ ظاہر ہے جس طرح ایک انسان کے اندر نیکی اور بدی کی تمیز ہوتی ہے اسی طرح ہر معاشرے میں اجتماعی طور پر بھی اخلاقی حس پائی جاتی ہے ‘ اور جس طرح ایک انسان میں اچھے برے داعیات ہوتے ہیں اسی طرح ہر معاشرے کے اندر بھی نیکی کے علمبردار اور شر پھیلانے والے عناصر موجود ہوتے ہیں۔ غرض جس طرح ایک فرد کا ضمیر ہوتا ہے اسی طرح معاشروں اور قوموں کا اجتماعی ضمیر بھی ہوتا ہے۔ چناچہ اگر کسی قوم کا اجتماعی ضمیر زندہ ہو ‘ اس کی صفوں میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ احسن طریقہ سے ادا کیا جا رہا ہو تو اس قوم کے مجموعی حالات بہتر طور پر چلتے رہتے ہیں۔ لیکن اگر کسی قوم کا اجتماعی ضمیر مردہ ہوجائے اور اس کی اخلاقی حس بحیثیت مجموعی اس قدر کمزور ہوجائے کہ اس کے ماحول میں برائی کو برائی کہنے والا بھی کوئی نہ رہے تو ایسی قوم اپنے زندہ رہنے کا جواز کھو دیتی ہے۔ علامہ اقبال نے اپنے اس شعر میں اسی اجتماعی بےحسی کی تصویر پیش کی ہے : ؎وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا ! اس حوالے سے اب ملاحظہ ہو قوم ثمود کی مثال :

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29

Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.

See this ayah on Mushaf page 601

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.

Sources & attribution