Surah 90 · word by word

Surah 90, ayah 17

  1. ثُمَّپھر
  2. كَانَہوگا وہ
  3. مِنَسے
  4. الَّذِیْنَان لوگوں میں (سے)
  5. اٰمَنُوْاجو ایمان لائے
  6. وَتَوَاصَوْااور انہوں نے ایک دوسرے کو تلقین کی
  7. بِالصَّبْرِصبر کی
  8. وَتَوَاصَوْااور ایک دوسرے کو تلقین کی
  9. بِالْمَرْحَمَةِرحم کی/ مہربانی کی

Translation and commentary

Tafheem-ul-Quran

پھر (اِس کے ساتھ یہ کہ) آدمی اُن لوگوں میں شامل ہو جو ایمان لائے1 اور جنہوں نے ایک دُوسرے کو صبر اور (خلقِ خدا پر) رحم کی تلقین کی۔2

Footnotes (the author's commentary)

  1. یعنی اِن اوصاف کے ساتھ یہ ضروری ہے کہ آدمی مومن ہو، کیونکہ ایمان کے بغیر نہ کوئی عمل عملِ صالح ہے اور نہ اللہ کے ہاں وہ مقبول ہو سکتا ہے۔ قرآن مجید میں بکثرت مقامات پر اِس کی تصریح کی گئی ہے کہ نیکی وہی قابلِ قدر اور ذریعۂ نجات ہے جو ایمان کے ساتھ ہو۔ مثلاً سورۂ نساء میں فرمایا جو نیک اعمال کرے، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، اور  ہو وہ مومن، تو ایسے لوگ جنت میں داخل ہوں گے“(آیت 124)۔ سورۂ نحل میں فرمایا ”جو نیک عمل کرے ، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، اور ہو وہ مومن، تو ہم اسے پاکیزہ زندگی بسر کرائیں گے اور ایسے لوگوں کو اُن کا اجر ان کے بہترین اعمال کے مطابق عطا کریں گے“(آیت 97)۔  سورۂ مومن میں فرمایا”اور جو نیک عمل کرے، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، اور ہو وہ مومن، ایسے لوگ جنت میں داخل ہوں گے ، وہاں اُن کو بے حساب رزق دیا جائے گا“(آیت 4۰)۔ قرآن ِ پاک  کا جو شخص بھی مطالعہ کرے گا وہ یہ دیکھے گا کہ اس کتاب میں جہاں بھی عملِ صالح کے اجر اور اس کی جزائے خیر کا ذکر کیا گیا ہے وہاں لازمًا اُس کے ساتھ ایمان کی شرط لگی ہوئی ہے۔ عمل بلا ایمان کو کہیں بھی خدا کے ہاں مقبول نہیں قرار دیا گیا ہے اور نہ اس پر کسی اجر کی امید  دلائی گئی ہے۔ اس مقام پر یہ اہم نکتہ بھی نگاہ  سے مخفی نہ رہنا چاہیے کہ آیت میں یہ نہیں فرمایا گیا کہ  ”پھر وہ ایمان لایا“ بلکہ یہ فرمایا گیا ہے کہ”پھر وہ اُن لوگوں میں شامل ہوا جو ایمان لائے“۔ اِس کے معنی یہ ہیں کہ محض ایک فرد کی حیثیت سے اپنی جگہ ایمان لا کر رہ جانا مطلوب نہیں ہے، بلکہ یہ ہے  کہ ہر ایمان لانے والا اُن دوسرے لوگوں کے ساتھ مل جائے جو ایمان لائے ہیں تاکہ اِس سے اہلِ ایمان کی ایک جماعت بنے، ایک مومن معاشرہ  وجود میں آئے ، اور اجتماعی طور پر اُن بھلائیوں کو قائم کیا جائے جن کا قائم کرنا، اور اُن برائیوں  کو  مٹایا جائے جن کا مٹانا ایمان کا تقاضا ہے۔

  2. یہ مومن معاشرے کی دو اہم خصوصیات ہیں جن کو دو مختصر فقروں میں بیان کر دیا گیا ہے۔ پہلی خصوصیت یہ ہے کہ اُس کے افراد ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کریں ۔ اور دوسری یہ کہ وہ ایک دوسرے کو رحم کی تلقین کریں۔ جہاں تک صبر کا تعلق ہے ، ہم اِس سے پہلے بارہا اس امر کی  وضاحت کر چکے ہیں کہ قرآن مجید جس وسیع مفہوم میں اس لفظ کو استعمال کرتا ہے اُس کے لحاظ سے مومن کی پوری زندگی صبر کی زندگی ہے ، اور ایمان کے راستے پر قدم رکھتے ہی آدمی کے صبر کا امتحان شروع ہو جاتا ہے۔ خدا کی فرض کردہ عبادتوں کے انجام دینے میں صبر  درکار ہے۔ خدا کے احکام کی اطاعت  وپیروی میں صبر کی ضرورت ہے۔ خدا کی حرام کی ہوئی چیزوں سے بچنا  صبر کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ اخلاق کی بر ائیوں کو چھوڑنا اور پاکیزہ  اخلاق اختیار کرنا صبر چاہتا ہے۔ قدم قدم پر گناہوں کی ترغیبات سامنے آتی ہیں جن کا مقابلہ صبر  ہی سے ہو سکتا ہے۔ بے شمار مواقع زندگی میں ایسے پیش آتے ہیں جن میں خدا کے قانون کی پیروی کی جائے تو نقصانات ، تکالیف، مصائب ، اور محرومیوں سے سابقہ پڑتا ہے اوراس کے برعکس نافرمانی کی راہ اختیار کی جائے تو فا ئدے اور لذّتیں حاصل ہوتی نظر آتی ہیں۔ صبر کے بغیر ان مواقع سے کوئی مومن بخیریت نہیں گزر سکتا۔ پھر ایمان کی راہ اختیار کرتے ہی آدمی کو اپنے نفس اور اس کی خواہشات سے لے کر اپنے اہل و عیال، اپنے خاندان، اپنے معاشرے ، اپنے ملک و قوم، اور دنیا بھر کے شیاطینِ جنّ و انس کی مزاحمتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، حتیٰ کہ  راہ خدا میں ہجرت اور جہاد کی نوبت بھی آجاتی ہے۔ ان سب حالات میں صبر ہی کی صفت آدمی کو ثابت قدم رکھ سکتی ہے۔ اب یہ ظاہر بات ہے کہ ایک ایک مومن اکیلا اکیلا  اس شدید امتحان میں پڑ جائے تو ہر وقت شکست کھا جانے کے خطرے سے دوچار ہو گا اور مشکل ہی سے کامیاب ہو سکے گا۔ بخلاف اِس کے اگر ایک مومن معاشرہ ایسا موجود ہو جس کا ہر فرد خود بھی صابر ہو اور جس کے سارے افراد ایک دوسرے کو صبر کے اِس ہمہ گیر امتحان میں سہارا دے رہے ہوں تو کامرانیاں اُس معاشرے کے قدم چومیں گی۔ بدی کے مقابلے میں ایک بے پناہ طاقت پیدا ہو جائے گی۔ انسانی معاشرے کو بھلائی کے راستے پر لانے کے لیے ایک زبردست لشکر تیار ہو جائے گا۔ رہا رحم ، تو اہلِ ایمان کے معاشرے کی امتیازی شان  یہی ہے کہ وہ ایک سنگدل، بے رحم اور ظالم معاشرہ نہیں ہوتا بلکہ انسانیت کے لیے رحیم و شفیق اور آپس میں ایک دوسرے کا ہمدرد و غمخوار معاشرہ ہوتا ہے۔ فرد کی حیثیت سے بھی ایک مومن اللہ کی شان ِ رحیمی کا مظہر ہے، اور جماعت کی حیثیت سے بھی مومنوں کا گروہ خدا کے اُس رسول کا نمائندہ  ہے جس کی تعریف میں فرمایا گیا ہے کہ  وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ(الانبیاء۔1۰۶)۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے بڑھ کر جس بلند اخلاقی صفت کو اپنی امّت میں فروغ دینے کی کوشش فرمائی ہے وہ  یہی رحم کی صفت ہے۔ مثال کے طور پر آپ کے حسب ذیل ارشادات ملاحظہ  ہوں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی نگاہ میں اس کی کیا اہمیت تھی۔ حضرت جَرِیر بن عبد اللہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لا یر حمُ اللہ ُ من لا یرحمُ النَّاسَ (بخاری و مسلم) اللہ اس شخص پر رحم نہیں کرتا جو انسانوں پر رحم نہیں کرتا۔           حضرت عبد اللہ بن ؓ عَمْروبن العاص کہتے ہیں کہ حضور ؐ نے فرمایا: الراحمون یرحمہم الرحمٰن ۔ ارحموا من فی الارض یرحمکم من فی السماء۔ (ابوداؤد، ترمذی) رحم کرنے والوں پر رحمان رحم کرتا ہے ۔ زمین والوں پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم کرے گا۔           ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: لیس منّا من لم یر حم صغیر نا ولم یُوقِّر کبیرنا (ترمذی) وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو ہمارے چھوٹے پر رحم نہ کھائے اور ہمارے بڑے کی توقیر نہ کرے۔           ابو داؤد نے حضور ؐ کے اس ارشاد کو حضرت عبد ؓ اللہ بن عَمْرو کے حوالہ سے یوں نقل کیا ہے: من لم یرحم صغیرنا و یعرف حق کبیرنا فلیس منّا۔(ابوداؤد) جس نے ہمارے چھوٹے پر رحم نہ کھایا اور ہمارے بڑے کا حق نہ پہچانا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔           حضرت ابوہریرہ ؓ  کہتے ہیں کہ میں نے ابوالقاسم صاد ق و مصدق صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سُنا ہے: لا تُنزع الرّحمۃُ الا مِن شقیٍّ (مسند احمد، ترمذی) بدبخت آدمی کے دل ہی سے رحم سلب کر لیا جاتا ہے۔           حضرت عِیاض ؓ بن حِماد کی روایت ہے کہ حضور ؐ نے فرمایا تین قسم کے آدمی جنّتی ہیں۔ ان میں سے ایک: رجل رحیم رقیق القلب لکل ذی قربیٰ و مسلم (مسلم) وہ شخص ہے جو ہر رشتہ دار اور ہر مسلمان کے لیے رحیم اور رقیق القلب ہو۔           حضرت نعمان ؓ بن پشیر کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تری المؤمنین و تراحمہم و توادّ ھم و تعا طفہم کمثل الجسد اذا اشتکٰی عضوًا تداعیٰ لہ سائر الجسد بالسَّھْر و الحمّٰی (بخاری و مسلم)                  تم مومنوں کو آپس  کے رحم اور محبت اور ہمدردی کے معاملہ میں ایک جسم کی طرح  پاؤ گے کہ اگر ایک عضو میں کوئی تکلیف ہو تو سارا جسم اس کی خاطر بے خوابی اور بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے۔           حضرت ابو موسیٰ ؓ اشعری کہتے ہیں کہ حضور ؐ نے فرمایا: المؤمن للمؤمن کالبنیان یشدّ بعضہ بعضًا (بخاری و مسلم) مومن دوسرے مومن کے لیے اُس دیوار کی طرح ہے جس کا ہر حصّہ دوسرے حصّے کو مضبوط کرتا ہے۔           حضرت عبداللہ ؓ بن عُمر حضور ؐ کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں: المسلم اخو المسلم لا یظلمہ ولا یُسلمہ و من کان فی حاجۃ اخیہ کان اللہ فی حاجتہ  و من فرّج عن مسلم کُرْ بۃً فرّج اللہ عنہ کربۃً من کُرُبات یوم القامۃ و من ستر مسلمًا سترہ اللہ یوم القیامۃ (بخاری و مسلم) مسلمان مسلمان کا بھائی ہے،  نہ اس پر ظلم کرتا ہے نہ اس کی مدد سے باز رہتا ہے ۔ جو شخص اپنے بھائی کی کسی حاجت کو پورا کرنے میں لگا ہو  گا اللہ اس کی حاجت پوری کرنے میں لگ جائے گا۔ اور جو شخص کسی مسلمان کو کسی مصیبت سے نکالے گا اللہ تعالیٰ اسے روزِ قیامت کی مصیبتوں میں سے کسی مصیبت سے نکال دے گا ، اور جو شخص کسی مسلمان کی عیب پوشی کرے گا اللہ قیامت کے روز اس کی عیب پوشی کرے گا۔           اِن ارشادات سے معلوم ہوتا ہے کہ نیک اعمال کرنے والوں کو ایمان لانے کے بعد اہلِ ایمان کے گروہ میں شامل ہونے کی جو ہدایت قرآن مجید کی اِس آیت میں دی گئی ہے اُس سے کس قسم کا معاشرہ بنانا مقصود ہے۔

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Bayan-ul-Quran

پھر وہ شامل ہو ان لوگوں میں جو ایمان لائے اور جنہوں نے باہم ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کی اور باہم ایک دوسرے کو ہمدردی کی نصیحت کی۔

Commentary

آیت 17{ ثُمَّ کَانَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا } ”پھر وہ شامل ہو ان لوگوں میں جو ایمان لائے“ یہاں پر لفظ ثُمَّ بہت اہم اور معنی خیز ہے۔ یعنی پہلے انسان اس مشکل گھاٹی کو عبور کرے ‘ اپنے دل کی زمین میں انفاق فی سبیل اللہ کا ہل چلائے ‘ اس کے ذریعے سے دل کی زمین سے حب مال کا جھاڑ جھنکاڑ صاف کرے ‘ اور پھر ثُمَّ اس میں ایمان کا بیج ڈالے۔ اگر وہ اس ترتیب اور اس انداز سے محنت کرے گا تو تبھی ایمان کا پودا اس کے دل کی زمین میں اپنی جڑیں پھیلائے گا اور برگ و بار لائے گا۔ { وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَتَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَۃِ۔ } ”اور جنہوں نے باہم ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کی اور باہم ایک دوسرے کو ہمدردی کی نصیحت کی۔“ یہ مضمون سورة العصر میں بایں الفاظ آیا ہے : { اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ لا وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ۔ } ”سوائے ان کے جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے عمل کیے ‘ اور باہم ایک دوسرے کو حق کی تاکید کی اور باہم ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کی“۔ الفاظ اور مفہوم کے اعتبار سے ان دونوں آیات میں گہری مشابہت پائی جاتی ہے۔ البتہ دونوں جگہ مذکور اصطلاحات کی ترتیب مختلف ہے۔ سورة العصر کی اس آیت میں ایمان کے بعد عمل صالح کا بیان ہے جبکہ آیت زیر مطالعہ میں عمل صالح غرباء و مساکین اور یتیموں کے حقوق کی ادائیگی کے بعد ایمان کا ذکر ہے۔ سورة العصر میں تواصی بالحق کے بعد تواصی بالصبر کا تذکرہ ہے ‘ جبکہ یہاں پر پہلے تواصی بالصبر اور بعد میں تواصی بالمرحمہ کا ذکر آیا ہے۔ اس پہلو سے دونوں آیات کے تقابلی مطالعہ سے بہت سے حقائق و رموز کی نشاندہی ہوتی ہے۔

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29

Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.

See this ayah on Mushaf page 600

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.

Sources & attribution