- اَلَمْکیا نہیں
- یَعْلَمُوْۤاانہوں نے جانا
- اَنَّبیشک
- اللّٰهَاللہ تعالیٰ
- یَعْلَمُجانتا ہے
- سِرَّهُمْان کی چھپی ہوئی بات کو
- وَنَجْوٰىهُمْاور ان کی سرگوشیوں کو
- وَاَنَّاور بیشک
- اللّٰهَاللہ تعالیٰ
- عَلَّامُخوب جاننے والا ہے
- الْغُیُوْبِغیبوں کو
Surah 9 · word by word
Surah 9, ayah 78
Translation and commentary
Tafheem-ul-Quran
کیا یہ لوگ جانتے نہیں ہیں کہ اللہ کو ان کے مخفی راز اور ان کی پوشیدہ سرگوشیاں تک معلوم ہیں اور وہ تمام غیب کی باتوں سے پوری طرح باخبر ہے؟
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Bayan-ul-Quran
کیا انہیں معلوم نہیں ہے کہ اللہ جانتا ہے ان کے بھیدوں کو اور ان کی سرگوشیوں کو اور یہ کہ اللہ تمام غیب کا جاننے والا ہے
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29
Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.
See this ayah on Mushaf page 199
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.
Commentary (one passage for ayahs 9:77, 9:78)
آیت 77 فَاَعْقَبَہُمْ نِفَاقًا فِیْ قُلُوْبِہِمْ اللہ سے وعدہ کر کے اس سے پھرجانے کی دنیا میں یہ نقدسزا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے دلوں میں نفاق پیدا فرما دیتے ہیں ‘ اور بدقسمتی سے یہی روگ آج مسلمانان پاکستان کے دلوں میں پیدا ہوچکا ہے۔ گویا پاکستانی قوم بحیثیت مجموعی اس سزا کی مستحق ہوچکی ہے۔ مسلمانان برصغیر نے تحریک پاکستان کے دوران اللہ سے ایک وعدہ کیا تھا اور یہ وعدہ ایک نعرہ بن کر بچے بچے کی زبان پر آگیا تھا : پاکستان کا مطلب کیا ؟ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ ! گویا دنیا کے نقشے پر یہ نیا ملک اسلام کے نام پر بنا ‘ اسلام کے لیے بنا۔ اس ضمن میں ہندوستان کے مسلمانوں نے تو ووٹ دے کر اپنا فرض کفایہ ادا کردیا کہ تم جا کر پاکستان میں اسلام کا نظام قائم کرو ‘ ہم پر جو گزرے گی سو گزرے گی۔ مگر مسلمانان پاکستان نے اس سلسلے میں اب تک کیا کیا ہے ؟ کہاں ہے اسلام اور کہاں ہے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ ؟ یہ پاکستانی قوم کی اللہ کے ساتھ اجتماعی بےوفائی اور بد عہدی کی مثال ہے۔ اس بد عہدی کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ نے تین قسم کے نفاق اس قوم پر مسلط کردیے۔ ایک باہمی نفاق ‘ جس کے باعث یہ قوم اب قوم نہیں رہی فرقوں میں بٹ چکی ہے اور اس میں مختلف عصبیتیں پیدا ہوچکی ہیں۔ صوبائیت ‘ مذہبی فرقہ واریت وغیرہ نے باہمی اتحاد پارہ پارہ کردیا ہے۔ دوسرے جب یہ نفاق ہمارے دلوں کا روگ بنا تو اس سے شخصی کردار اور پھر قومی کردار کا بیڑا غرق ہوگیا۔ اس کے بارے میں ایک متفق علیہ حدیث ملاحظہ کیجیے۔ حضرت ابوہریرہ رض روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : آیَۃُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ [ وَفِیْ رِوَایَۃٍ لِمُسْلِمٍ : وَاِنْ صَامَ وَصَلّٰی وَزَعَمَ اَنَّہٗ مُسْلِمٌ] اِذَا حَدَّثَ کَذَبَ ‘ وَاِذَا وَعَدَ اَخْلَفَ ‘ وَاِذَا اوؤتُمِنَ خَانَ منافق کی تین نشانیاں ہیں [ اور مسلم کی ایک روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : اگرچہ روزہ رکھتا ہو ‘ نماز پڑھتا ہو اور اپنے آپ کو مسلمان سمجھتا ہو ] i جب بولے جھوٹ بولے ii جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے iii جب امین بنایا جائے تو خیانت کرے اس حدیث کو کسوٹی سمجھ کر اپنی قوم کے کردار کو پرکھ لیجیے۔ جو جتنا بڑا ہے اتنا ہی بڑا جھوٹا ہے ‘ اتنا ہی بڑا وعدہ خلاف ہے اور اتنا ہی بڑا خائن ہے الا ما شاء اللہ ! تیسرا نفاق جو اس قوم کے حصے میں آیا وہ بہت ہی بڑا ہے اور وہ ہے آئین کا نفاق۔ آپ جانتے ہیں کہ کسی ملک کی اہم ترین دستاویز اس کا دستور ہوتا ہے ‘ جبکہ اس ملک کے آئین کو بھی منافقت کا پلندہ بنا کر رکھ دیا گیا ہے۔ ہمارے آئین میں ایک ہاتھ سے اسلام داخل کیا جاتا ہے اور دوسرے ہاتھ سے نکال لیا جاتا ہے۔ الفاظ دیکھو تو اسلام ہی اسلام ہے ‘ تعمیل دیکھو تو اسلام کہیں نظر نہیں آتا۔ ذرا ان الفاظ کو دیکھیں ‘ آئین میں کتنی بڑی بات لکھ دی گئی ہے : No legislation will be done repugnant to the Quran and the Sunnah.۔ یعنی قرآن و سنت کے خلاف کوئی قانون سازی نہیں ہوسکتی۔ ان الفاظ پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ سورة الحجرات کی پہلی آیت کا ترجمہ کر کے دستور میں لکھ دیا گیا ہے ‘ لیکن ملک اور معاشرے کے اندر اس کے عملی پہلو پر نظر ڈالیں تو قرآن و سنت کے احکام پر عمل ہوتا کہیں بھی نظر نہیں آتا۔ گویا یہ الفاظ صرف آئینی اور قانونی تقاضا پورا کرنے کے لیے لکھ دیے گئے ہیں ‘ ان پر عمل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ بس ایک اسلامی نظریاتی کونسل بنا دی گئی ہے جو اپنی سفارشات پیش کرتی رہتی ہے۔ یہ سفارشات سالانہ رپورٹس کے طور پر باقاعدگی سے پیش ہوتی رہتی ہیں ‘ مگر ان کی کوئی تعمیل نہیں ہوتی۔ اسی طرح فیڈرل شریعت کو رٹ بھی دکھاوے کا ایک ادارہ ہے۔ بڑے بڑے علماء اس کے تحت بڑی بڑی تنخواہیں اور مراعات لے رہے ہیں ‘ مگر عملی پہلو دیکھو تو دستورِپاکستان ان کے دائرۂ عمل سے ہی خارج ہے۔ اسی طرح عدالتی قوانین ‘ عائلی قوانین ‘ مالی قوانین وغیرہ سب فیڈرل شریعت کو رٹ کے دائرۂ اختیار سے باہر ہیں۔ غرض دستور کی سطح پر اتنی بڑی منافقت شاید پوری دنیا میں کہیں نہ ہو۔ بہر حال یہ ہے ایک ہلکی سی جھلک پاکستانی قوم کی اس سزا کی جو انہیں وعدہ خلافی کے جرم کے نتیجے میں دی گئی ہے۔ اِلٰی یَوْمِ یَلْقَوْنَہٗ اس نفاق سے اب ان کی جان روز قیامت تک نہیں چھوٹے گی۔ یہ کانٹا ان کے دلوں سے نکلے گا نہیں۔