Surah 9 · word by word

Surah 9, ayah 74

  1. یَحْلِفُوْنَوہ قسمیں کھاتے ہیں
  2. بِاللّٰهِاللہ کی
  3. مَانہیں
  4. قَالُوْا ؕانہوں نے کہا
  5. وَلَقَدْاور البتہ تحقیق
  6. قَالُوْاانہوں نے کہا ہے
  7. كَلِمَةَکلمہ
  8. الْكُفْرِکفر
  9. وَكَفَرُوْااور انہوں نے کفر کیا
  10. بَعْدَبعد
  11. اِسْلَامِهِمْاپنے اسلام کے
  12. وَهَمُّوْااور انہوں نے ارادہ کیا
  13. بِمَاساتھ اس کے جو
  14. لَمْنہیں
  15. یَنَالُوْا ۚپہنچے وہ
  16. وَمَااور نہیں
  17. نَقَمُوْۤاوہ ناراض ہوئے
  18. اِلَّاۤمگر
  19. اَنْیہ کہ
  20. اَغْنٰىهُمُغنی کردیا ان کو
  21. اللّٰهُاللہ نے
  22. وَرَسُوْلُهٗاور اس کے رسول نے
  23. مِنْسے
  24. فَضْلِهٖ ۚاپنے فضل سے
  25. فَاِنْپھر اگر
  26. یَّتُوْبُوْاوہ توبہ کرلیں
  27. یَكُہوگا
  28. خَیْرًااچھا
  29. لَّهُمْ ۚانہی کے لیے
  30. وَاِنْاور اگر
  31. یَّتَوَلَّوْاوہ منہ موڑیں
  32. یُعَذِّبْهُمُعذاب دے گا ان کو
  33. اللّٰهُاللہ
  34. عَذَابًاعذاب
  35. اَلِیْمًا ۙدردناک
  36. فِیمیں
  37. الدُّنْیَادنیا میں
  38. وَالْاٰخِرَةِ ۚاور آخرت میں
  39. وَمَااور نہیں
  40. لَهُمْان کے لیے
  41. فِیمیں
  42. الْاَرْضِزمین (میں)
  43. مِنْکوئی
  44. وَّلِیٍّدوست
  45. وَّلَااور نہ
  46. نَصِیْرٍکوئی مددگار

Translation and commentary

Tafheem-ul-Quran

یہ لوگ خدا کی قسم کھا کھا کر کہتے ہیں کہ ہم نے وہ بات نہیں کی، حالانکہ انہوں نے ضرور وہ کافرانہ بات کہی ہے۔1 وہ اسلام لانے کے بعد کفر کے مرتکب ہوئے اور انہوں نے وہ کچھ کرنے کا ارادہ کیا جسے کر نہ سکے۔2 یہ ان کا سارا غصّہ اسی بات پر ہے تاکہ اللہ اور اس کے رسول نے اپنے فضل سے ان کو غنی کر دیا3 ہے ! اب اگر یہ اپنی اس روش سے باز آجائیں تو انہی کے لیےبہتر ہے اور اگر یہ باز نہ آئے تو اللہ ان کو نہایت دردناک سزا دے گا ، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، اور زمین میں کوئی نہیں جو اِن کا حمایتی اور مددگار ہو

Footnotes (the author's commentary)

  1. وہ بات کیا تھی جس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ؟ اس کے متعلق کوئی یقینی معلومات ہم تک نہیں پہنچی ہیں۔ البتہ روایات میں متعدد ایسی کافرانہ باتوں کا ذکر آیا ہے جو اس زمانہ میں منافقین نے کی تھیں۔ مثلًا ایک منافق کے متعلق مروی ہے کہ اس نے اپنے عزیزوں میں سے ایک مسلمان نوجوان کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ”اگر واقعی وہ سب کچھ برحق ہے جو یہ شخص (یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم) پیش کر تا ہے تو ہم سب گدھوں سے بھی بدتر ہیں“۔ ایک اور روایت میں ہے کہ تبوک کے سفر میں ایک جگہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی گم ہو گئی۔ مسلمان اس کو تلاش کرتے پھررہے تھے۔ اس پر منافقوں کے ایک گروہ نے اپنی مجلس میں بیٹھ کر خوب مذاق اڑایا اور آپس میں کہا کہ”یہ حضرت آسمان کی خبریں تو خوب سناتے ہیں، مگر ان کو اپنی اونٹنی کی کچھ خبر نہیں کہ وہ اس وقت کہاں ہے“۔

  2. یہ اشارہ ہے اُن سازشوں کی طرف جو منافقوں نے غزوۂ تبوک کے سلسلے میں کی تھیں۔ ان میں سے پہلی سازش کا واقعہ محدثین نے اس طرح بیان کیا ہے کہ تبوک سے واپسی پر جب مسلمانوں کا لشکر ایک ایسے مقام کے قریب پہنچا جہاں سے پہاڑوں کے درمیان راستہ گزرنا تھا تو بعض منافقین نے آپس میں طے کیا کہ رات کے وقت کسی گھاٹی میں سے گزرتے ہوئے نبی صلی اللہ  علیہ وسلم کو کھڈ میں پھینک دیں گے ۔ حضور کو اس کی اطلاع ہو گئی۔ آپ نے تمام  اہلِ لشکر کو حکم دیا کہ وادی کے راستہ سے نکل جائیں، اور آپ خود صرف عمّار بن یاسرؓ اور حُذَیفَہ بن یمانؓ کو لے کر گھاٹی کے اندر سے ہو کر چلے۔ اثنائے راہ میں یکایک معلوم ہوا کہ دس بارہ منافق ڈھاٹے باندھے ہوئے پیچھے پیچھے آرہے ہیں۔ یہ دیکھ کر حضرت حذیفہؓ ان کی طرف لپکے تاکہ ان کے اونٹوں کو مار مار کر ان کے منہ پھیر دیں ۔ مگر وہ دُور ہی سے حضرت حذیفہؓ کو آتے دیکھ کر  ڈر گئے اور اس خوف سے کہ کہیں ہم پہنچان نہ لیے جائیں فورًا بھاگ نکلے۔ دوری سازش جس کا اس سلسلہ میں ذکر کیا گیا ہے ، یہ ہے کہ منافقین کو رومیوں کے مقابلہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے وفادار ساتھیوں کے بخیریت بچ کر واپس آجانے کی توقع نہ تھی ، اس لیے انہوں نے آپس میں طے کر لیا تھا کہ جونہی اُدھر کوئی سانحہ پیش آئے اِدھر مدینہ میں عبد اللہ بن اُبَیّ کے سر پر تاج ِ شاہی رکھ دیا جائے۔

  3. نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت سے پہلے مدینہ عرب کے قصبات میں سے ایک معمولی قصبہ تھا اور اَوس و خَزرَج کے قبیلے مال او ر جاہ کے لحاظ سے کوئی اونچا درجہ نہ رکھتے تھے۔ مگر جب حضور وہاں تشریف لے گئے اور انصار نے آپ کا ساتح دے کر اپنے آپ کو خطرات میں ڈال دیا تو آٹھ نو سال کے اندر اندر یہی متوسط درجہ کا قصبہ تمام عرب کا دارالسلطنت بن گیا۔ وہی اوس و خزرج کےکاشتکار سلطنت کے اعیان و اکابر بن گئے اور ہر طرف سے فتوحات ، غنائم اور تجارت کی برکات اس مرکزی شہر پر بارش کی طرح برسنے لگیں۔ اللہ تعالیٰ اسی پر انہیں شرم دلا رہا ہے کہ ہمارے نبی پر تمہارا یہ غصہ  کیا اسی قصور کی پاداش میں ہے کہ اس کی بدولت یہ نعمتیں تمہیں بخشی گئیں!

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Bayan-ul-Quran

وہ اللہ کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ انہوں نے یہ بات نہیں کی حالانکہ انہوں نے کہا ہے کفر کا کلمہ اور وہ کفر کرچکے اپنے اسلام کے بعد اور انہوں نے ارادہ کیا تھا اس شے کا جو وہ حاصل نہ کرسکے اور یہ لوگ اپنے عناد کا مظاہرہ نہیں کر رہے مگر اسی لیے کہ اللہ اور اس کے رسول نے انہیں غنی کردیا ہے اپنے فضل سے اب بھی اگر یہ توبہ کرلیں تو ان کے لیے بہتر ہے اور اگر وہ پیٹھ موڑیں گے تو اللہ انہیں بہت درد ناک عذاب دے گا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اور پوری زمین میں ان کا نہ کوئی دوست ہوگا اور نہ کوئی مددگار

Commentary (one passage for ayahs 9:74, 9:75, 9:76)

آیت 74 یَحْلِفُوْنَ باللّٰہِ مَا قَالُوْا ط یہ جس بات کا ذکر ہے اس کی تفصیل اٹھائیسویں پارے کی سورة المنافقون میں آئے گی۔ بہر حال یہاں صرف اتنا جان لینا ضروری ہے کہ تبوک سے واپسی کے سفر پر عبداللہ بن ابی کے منہ سے کسی نوجوان مسلمان نے غلط بات سنی تو اس نے آکر رسول اللہ ﷺ سے اس کا ذکر کردیا۔ آپ ﷺ نے طلب فرما کر باز پرس کی تو وہ صاف مکر گیا کہ اس نوجوان نے خواہ مخواہ فتنہ اٹھانے کی کوشش کی ہے۔ وَلَقَدْ قَالُوْا کَلِمَۃَ الْکُفْرِ عبداللہ بن ابی کے مکر جانے پر یہ آیت نازل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے اس نوجوان کو سچا قرار دیا اور اس منافق کے جھوٹ کا پردہ چاک کردیا۔ وَکَفَرُوْا بَعْدَ اِسْلاَمِہِمْ وَہَمُّوْا بِمَا لَمْ یَنَالُوْا ج یہ جس واقعے کی طرف اشارہ ہے وہ بھی غزوۂ تبوک سے واپسی کے سفر میں پیش آیا تھا۔ پہاڑی راستہ میں ایک موقع پر رسول اللہ ﷺ کا گزر ایک ایسی تنگ گھاٹی سے ہوا جہاں سے ایک وقت میں صرف ایک اونٹ گزر سکتا تھا۔ اس موقع پر آپ ﷺ قافلے سے علیحدہ تھے اور آپ ﷺ کے ساتھ صرف دو صحابہ حضرت حذیفہ رض بن یمان اور عمار رض بن یاسر رض تھے۔ اس تنگ جگہ پر کچھ منافقین نے رات کی تاریکی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آپ ﷺ پر حملہ کردیا۔ انہوں نے پہچانے جانے کے ڈر سے ڈھاٹے باندھ رکھے تھے اور وہ چاہتے تھے کہ حضور ﷺ کو نعوذ باللہ شہید کردیں۔ بہر حال آپ ﷺ کے جاں نثار صحابہ رض نے حملہ آوروں کو مار بھگایا اور وہ اپنے ناپاک منصوبے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ اس موقع پر رسول اللہ ﷺ نے اپنے ان دو صحابہ رض کو حملہ آوروں میں سے ہر ایک کے نام بتادیے اور ان کے علاوہ بھی تمام منافقین کے نام بتا دیے۔ مگر ساتھ ہی آپ ﷺ نے ان دونوں حضرات کو تاکید فرما دی کہ وہ یہ نام کسی کو نہ بتائیں اور آپ ﷺ کے اس راز کو اپنے پاس ہی محفوظ رکھیں۔ اسی وجہ سے حذیفہ رض بن یمان صحابہ رض میں صاحب سِرِّ النَّبِی ﷺ نبی ﷺ کے رازدان کے لقب سے مشہور ہوگئے تھے۔ وَمَا نَقَمُوْٓا الآَّ اَنْ اَغْنٰٹہُمُ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗ مِنْ فَضْلِہٖ ج یعنی اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کے رسول ﷺ کی مہربانی سے یہ لوگ مال غنیمت اور زکوٰۃ و صدقات میں سے با فراغت حصہ پاتے رہے۔ فَاِنْ یَّتُوْبُوْا یَکُ خَیْرًا لَّہُمْ ج وَاِنْ یَّتَوَلَّوْا یُعَذِّبْہُمُ اللّٰہُ عَذَابًا اَلِیْمًا فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ ج وَمَا لَہُمْ فِی الْاَرْضِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّلاَ نَصِیْرٍ اب وہ تین آیات آرہی ہیں جن کا حوالہ میری تقاریر میں اکثر آتا رہتا ہے۔ ان میں مدینہ کے منافقین کی ایک خاص قسم کا تذکرہ ہے ‘ مگر مسلمانان پاکستان کے لیے ان آیات کا مطالعہ بطور خاص مقام عبرت بھی ہے اور لمحۂ فکریہ بھی۔

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29

Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.

See this ayah on Mushaf page 199

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.

Sources & attribution