- وَالْقَمَرِاور چاند کی
- اِذَاجب
- اتَّسَقَوہ پورا ہو جائے
Surah 84 · word by word
Surah 84, ayah 18
Translation and commentary
Bayan-ul-Quran
اور چاند کی جب وہ پورا ہوجاتا ہے۔
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29
Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.
See this ayah on Mushaf page 594
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.
Commentary
آیت 18{ وَالْقَمَرِ اِذَا اتَّسَقَ۔ } ”اور چاند کی جب وہ پورا ہوجاتا ہے۔“ میری خالص ذاتی رائے کے مطابق واللہ اعلم ! سورة المدثر کی مذکورہ آیات 32 ‘ 33 ‘ 34 میں بعثت ِمحمدی ﷺ کی خبر دی گئی ہے ‘ جبکہ زیر مطالعہ آیات میں اسلام کی نشاۃ ثانیہ کی نشاندہی کی گئی ہے۔ سورة المدثر کے مطالعے کے دوران اس موضوع پر تفصیلی گفتگو ہوچکی ہے۔ اس تفصیل کا خلاصہ یہ ہے کہ رات { وَالَّـیْلِ اِذْ اَدْبَرَ۔ } سے مراد چھ سو سال حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد سے حضور ﷺ کی نبوت کے ظہور تک کا وہ طویل عرصہ ہے جس کے دوران وحی و نبوت کا سلسلہ منقطع رہا اور دنیا پر مجموعی طور پر کفر و شرک اور ضلالت و جہالت کے اندھیرے چھائے رہے۔ چاند کی قسم { کَلَّا وَالْقَمَرِ۔ } میں علم و ہدایت کی اس مدھم روشنی کا استعارہ ہے جو ِجن و اِنس کے نیک افراد کی صورت میں اس دوران کہیں کہیں موجود رہی ‘ جبکہ صبح کی قسم { وَالصُّبْحِ اِذَآ اَسْفَرَ۔ } کے پردے میں نبوت محمدی ﷺ کے خورشید کے طلوع ہونے کی خبر دی گئی ہے ‘ اور اس کے بارے میں یہ بھی واضح کردیا گیا ہے : { اِنَّھَا لَاِحْدَی الْکُبَرِ۔ } کہ یہ بلاشبہ ایک بہت عظیم واقعہ ہے۔ ظاہر ہے نوع انسانی کی تاریخ میں نبوت محمدی ﷺ کے ظہور سے بڑا کوئی اور واقعہ کیا ہوگا۔ بہرحال نبوت و رسالت ِمحمدی ﷺ کے خورشید جہاں تاب کی تابانیوں سے چھ سو سال کی تاریکیاں چھٹ گئیں۔ حضور ﷺ کی وساطت سے ابنائے آدم کو ”اَکْمَلْتُ لَـکُمْ دِیْنَـکُمْ“ کی خصوصی سند بھی عطا ہوئی ‘ جزیرہ نمائے عرب میں انسانی تاریخ کا عظیم ترین انقلاب بھی رونما ہوگیا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے اس انقلاب کی فتوحات و برکات تین براعظموں تک پھیل گئیں۔ لیکن چند ہی دہائیوں کے بعد مشیت خداوندی سے نہ صرف مسلمانوں کے بڑھتے ہوئے قدم رک گئے ‘ بلکہ رفتہ رفتہ وہ پسپائی پر مجبور ہوگئے۔ پسپائی کا یہ عمل جب شروع ہوا تو صرف جنگی محاذوں سے پیچھے ہٹنے تک ہی محدود نہ رہا بلکہ مسلمان بحیثیت قوم زندگی کے ہر شعبے اور ہر میدان سے دست بردار ہو کر نکبت و ادبار کی پستیوں میں لڑھکتے چلے گئے۔ یہ سفر آج بھی جاری ہے اور ابھی اس کے رکنے کے بظاہر کوئی آثار بھی نظر نہیں آتے۔ یہ گھمبیر صورت حال اپنی جگہ پر ایک زمینی حقیقت ہے ‘ لیکن دوسری طرف ہمارا ایمان ہے کہ قیامت سے پہلے اسلام پوری دنیا پر غالب آئے گا۔ اس بارے میں حضور ﷺ کے فرمودات بہت واضح ہیں اس مضمون کی احادیث ”نوید ِخلافت“ کے عنوان سے ایک کتابچے میں جمع کردی گئی ہیں۔ تفصیل جاننے کے لیے اس کتابچے سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ زیر مطالعہ آیات میں اسلام کے اسی غلبے کی بشارت دی گئی ہے جس کی تفصیل حضور ﷺ کے فرمودات میں ملتی ہے۔ میرے نزدیک یہاں پہلی قسم { فَلَآ اُقْسِمُ بِالشَّفَقِ۔ } میں اسلام کے رفتہ رفتہ زوال پذیر ہونے کی صورت حال کا نقشہ دکھایا گیا ہے۔ یعنی سورج غروب ہوچکا ہے اور اب افق پر صرف شفق کی سرخی نظر آرہی ہے۔ دوسری قسم { وَالَّـیْلِ وَمَا وَسَقَ۔ } میں حالات کے مزید گھمبیر ہونے کی طرف اشارہ ہے کہ دین پر عمل کے اعتبار سے دنیا میں ایک دفعہ پھر تاریکی چھا جائے گی ‘ صرف مدھم سی روشنی باقی رہے گی جو وقت آنے پر آہستہ آہستہ بڑھتی جائے گی۔ درجہ بدرجہ بڑھتے ہوئے چاند کی قسم : { وَالْقَمَرِ اِذَا اتَّسَقَ۔ } اسی مدھم اور تدریجاً بڑھتی ہوئی روشنی کا استعارہ ہے۔ ظاہر ہے جب چاند پورا ہوجاتا ہے تو اس کی چاندنی ایک حد تک رات کو روشن کردیتی ہے۔ اس کے بعد فرمایا :