Surah 80 · word by word

Surah 80, ayah 2

  1. اَنْکہ
  2. جَآءَهُآیا اس کے پاس
  3. الْاَعْمٰىاندھا

Translation and commentary

Tafheem-ul-Quran

اِس با ت پر کہ وہ اندھا اُس کے پاس آگیا۔1

Footnotes (the author's commentary)

  1. اس پہلے فقرے کا اندازِ بیان عجیب لُطف اپنے اندر رکھتا ہے۔ اگر چہ بعد کے فقروں میں براہ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب فرمایا گیا ہے جس سے یہ بات خود ظاہر ہو جاتی ہے کہ ترش روئی اور بے رُخی برتنے کا یہ فعل حضورؐ ہی سے صادر ہوا تھا، لیکن کلام کی ابتداء اِس طرح کی گئی ہے کہ گویا حضورؐ نہیں بلکہ کوئی اور شخص ہے جس سے اس فعل کا صدور ہوا ہے۔ اِس طرز بیان سے ایک نہایت لطیف طریقے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احساس دلایا گیا ہے کہ یہ ایسا کام تھا  جو آپ کے کرنے کا نہ تھا۔ آپ کے اخلاقِ عالیہ کو جاننے والا اِسے دیکھتا تو یہ خیال کرتا کہ یہ آپ نہیں  ہیں بلکہ کوئی اور ہے جو اس رویّے کا مرتکب ہورہا ہے۔           جن نابینا کا یہاں ذکر کیا گیا ہے ان سے مراد ، جیسا کہ ہم دیباچے میں بیان کرآئے ہیں، مشہور صحابی حضرت ابنِ اُمِّ مکتوم ہیں ۔ حافظ ابن عبد الُبَرّ نے اَلْاِ ستیداب میں اور حافظ ابن حَجَر نے اَلْاِ صابَہ میں بیان کیا ہے کہ یہ ام المومنین حضرت خدیجہؓ کے پھوپھی زاد بھائی تھے، ان کی ماں امِّ مکتوم اور حضرت خدیجہ کے والد خُو یَلْدِ آپس میں بہن بھائی تھے۔ حضورؐ کے ساتھ ان کا یہ رشتہ معلوم ہو جانے کے بعد اس شبہ کی کوئی گنجائش  باقی نہیں رہتی کہ آپ نے اُن غریب یا کم حیثیت آدمی سمجھ کر ان سے بے رُخی برتی اور بڑے آدمیوں کی طرف توجہ فرمائی تھی ، کیونکہ یہ حضورؐ کے اپنے برادر نسبتی تھے، خاندانی آدمی تھے، کوئی گِرے پڑے آدمی نہ  تھے۔ اصل وجہ جس کی بنا پر آپؐ نے ان کے ساتھ یہ رویّہ اختیار کیا،لفظ اعمیٰ(نابینا) سے معلوم ہوتی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے حضورؐ کی بے اعتنائی کے سبب کی حیثیت سے خود بیان فرمادیا ہے ۔ یعنی حضورؐ کا خیال یہ تھا کہ میں اس وقت جن لوگوں کوراہ راست پر لانے  کی کوشش کر رہا ہوں اُ  ن میں سے کوئی ایک آدمی بھی ہدایت پا لے تو اسلام کی تقویت کا بڑا ذریعہ بن سکتا ہے، بخلاف اس کے ابن ِ مکتوم ایک نابینا آدمی ہیں، اپنی معذوری کے باعث یہ اسلام کے لیے اُس قدر مفید ثابت نہیں ہو سکتے جس قدر اِن سرداروں میں سے کوئی مسلمان ہو کر مفید ہو سکتا ہے، اِس لیے اِن کو اِس موقع پر گفتگو میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے یہ جو کچھ سمجھنا یا معلوم کرنا  چاہتے ہیں اُسے بعد میں کسی وقت بھی دریافت کر سکتے ہیں۔

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.

See this ayah on Mushaf page 589

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.

Sources & attribution