Surah 79 · word by word

Surah 79, ayah 33

  1. مَتَاعًافائدے کی چیزیں/ فائدے کا سامان
  2. لَّكُمْواسطے تمہارے
  3. وَلِاَنْعَامِكُمْاور تمہارے مویشیوں کے لئے

Translation and commentary

Tafheem-ul-Quran

سامانِ زیست کے طور پر تمہارے لیے اور تمہارے مویشیوں کے لیے۔1

Footnotes (the author's commentary)

  1. ان آیات میں قیامت اور حیات بعد الموت کے لیے دو حیثیتوں سے استد لال کیا گیا ہے۔ ایک یہ کہ اُس خدا کی قدرت سے اِن کا برپا کرنا ہر گز بعید نہیں ہے جس نے یہ وسیع و عظیم کائنات اِس حیرت انگیز توازن کے ساتھ اور یہ زمین اِس سرو سامان کے ساتھ بنائی ہے۔ دوسرے یہ کہ اللہ کے کمالِ حکمت کے جو آثار اِس کائنات اور اِس زمین میں صریحاً نظر آرہے ہیں وہ اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ یہاں کوئی کام بے مقصد نہیں ہو رہا ہے۔ عالمِ بالا میں بے شمار ستاروں اور سیاروں اور کہکشانوں کے درمیان جو توازُن قائم ہے وہ شہادت دے رہا ہے کہ یہ سب کچھ الل ٹب نہیں ہو گیا ہے بلکہ کوئی بہت سوچا سمجھا منصوبہ اِس کے پیچھے کار فرما ہے۔ یہ رات اور دن کا باقاعدگی سے آنا اس بات پر گواہ ہے کہ زمین کو آباد کرنے کے لیے یہ نظم کمال درجہ دانائی کے ساتھ قائم کیا گیاہے۔ خود اسی زمین پر وہ خطے بھی موجود ہیں۔ جہاں 24 گھنٹے کے اندردن اور رات کا الٹ پھیر ہو جاتا ہے اور وہ خطّے بھی موجود ہیں جہاں بہت لمبی راتیں ہوتی ہیں۔ زمین کی آبادی کا بہت بڑ ا حصّہ پہلی قسم کے  خطّوں میں ہے، اور جہاں رات اور دن جتنے زیادہ لمبے ہوتے جاتے ہیں وہاں زندگی زیادہ سے زیادہ دشوار اور آبادی کم سے کم ہوتی چلی جاتی ہے، یہاں تک کہ ۶ مہینے کے دن اور ۶ مہینے کی راتین رکھنے والے علاقے آادی کے بالک قابل نہیں ہیں۔ یہ دونوں نمونے اِسی زمین پر دکھا کر اللہ تعالیٰ نے اِس حقیقت کی شہادت پیش کر دی ہے کہ رات اور دن کی آمد ورفت کا یہ باقاعدہ انتظام کچھ اتفاقاً نہیں ہو گیا ہے بلکہ یہ زمین کو آبادی کے قابل بنانے کے لیے بڑی حکمت کے ساتھ ٹھیک ٹھیک ایک اندازے کے مطابق کیا گیا ہے ۔ اِسی طرح زمین کو اس طرح بچھانا کہ وہ قابلِ سکونت بن سکے، اِس میں  وہ پانی پیدا کرنا جو انسان اور حیوان کے لیے پینے کے قابل اور نباتات کے لیے روئیدگی کے قابل ہو، اِس میں پہاڑوں کاجمانا اور وہ تمام چیزیں پیدا کرنا جو انسان اور ہر قسم کے حیوانات کے لیے زندگی بسر کرنے کے ذریعہ بن سکیں،یہ سارے کام اس بات کی صریح علامت ہیں کہ یہ اتفاقی حوادث یا کسی کھلنڈر ے کے بے مقصد کام نہیں ہیں، بلکہ ان میں سے ہر کام ایک بہٹ بڑی حکیم و دانا ہستی نے بامقصد کیا ہے۔ اب یہ ہر صاحبِ عقل آدمی کے خود سوچنے کی بات ہے کہ آیا آخرت کا ہونا حکمت کا تقاضا ہے یا نہ ہونا؟ جو شخص اِن ساری چیزوں کو دیکھنے کے با وجود یہ کہتا ہے کہ آخرت نہیں ہو گی وہ گویا یہ کہتا ہے کہ یہاں اور سب کچھ تو حکمت اور مقصد یت کے ساتھ ہو رہا ہے، مگر زمین پر انسان کو ذی ہوش اور با اختیار بنا کر پیدا کرنا بے مقصد اور بے حکمت بات نہیں ہوسکتی کہ اِس زمین میں تصرّف کے وسیع اختیارات دے کر انسان کو یہاں ہر طرح کے اچھے اور برے کام کرنے کا موقع تو دے دیا جائے مگر کبھی اس کا محاسبہ نہ کیا جائے۔

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Bayan-ul-Quran

سامانِ زیست کے طور پر تمہارے لیے اور تمہارے چوپایوں کے لیے۔

Commentary (one passage for ayahs 79:30, 79:31, 79:32, 79:33, 79:34)

آیت 31{ اَخْرَجَ مِنْہَا مَآئَ ہَا وَمَرْعٰٹہَا۔ } ”اس میں سے نکالا اس کا پانی اور اس کا چارہ۔“ یہاں یہ نکتہ خصوصی طور پر لائق توجہ ہے کہ اس وقت دنیا میں جتنا پانی موجود ہے اس کا منبع خود زمین ہے۔ آج سائنسی معلومات کی روشنی میں ہم اس کی وضاحت یوں کرسکتے ہیں کہ ابتدا میں زمین آگ کا ایک گولا تھی۔ جوں جوں یہ ٹھنڈی ہوتی گئی اس کے بخارات نکل کر فضا میں جمع ہوتے رہے۔ اس طرح زمین کے ارد گرد مختلف گیسوں پر مشتمل ایک غلاف سا بن گیا ‘ جسے آج ہم فضا atmosphere کہتے ہیں۔ پھر کسی مرحلے پر فضا میں ہائیڈروجن اور آکسیجن کے ملاپ سے پانی بنا۔ یہ پانی فضا سے بارش کی شکل میں سالہا سال تک زمین پر برستا رہا۔ اس کے بعد سورج کی تپش سے بخارات اٹھنے ‘ بادل بننے اور بارش برسنے کے معمول پر مشتمل پانی کا وہ مربوط نظام بنا جسے آج کی سائنس نے واٹر سائیکل water cycle کا نام دیا ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ نے ایک خاص مقدار کے مطابق دنیا میں پانی پیدا فرما کر زمین پر موجود ”زندگی“ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اس کی رسد اور ترسیل کا ایک خوبصورت نظام cycle تشکیل دے دیا ہے۔ اس نظام کے تحت سمندروں کے بخارات سے بادل بنتے ہیں۔ ان بادلوں سے اللہ تعالیٰ کی مشیت اور حکمت کے تحت مختلف علاقوں میں بارش برستی ہے اور برفباری ہوتی ہے۔ پھر پہاڑوں پر برف کے وسیع ذخائر سے نالوں اور دریائوں کے ذریعے نشیبی علاقوں کو سارا سال پانی کی سپلائی جاری رہتی ہے۔ گویا بارشوں اور پہاڑی گلیشیرز کے overhead tanks سے حاصل ہونے والے پانی سے پوری دنیا میں زیرزمین پانی کے ذخیرے کو رسد بھی مہیا ہوتی رہتی ہے اور ہر طرح کی ”زندگی“ کی تمام ضروریات بھی پوری ہوتی ہیں۔ اس کے بعد جو پانی بچ رہتا ہے وہ واپس سمندر میں چلا جاتا ہے۔

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29

Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.

See this ayah on Mushaf page 588

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.

Sources & attribution