Surah 79 · word by word

Surah 79, ayah 19

  1. وَاَهْدِیَكَاور میں رہنمائی کروں تیری
  2. اِلٰیطرف
  3. رَبِّكَتیرے رب کی
  4. فَتَخْشٰیتاکہ تو ڈرے

Translation and commentary

Tafheem-ul-Quran

اور میں تیرے ربّ کی طرف تیری رہنمائی کروں تو (اُس کا)خوف تیرے اندر پیدا ہو؟“1

Footnotes (the author's commentary)

  1. یہاں چند باتیں اچھی طرح سمجھ لینی چاہییں: (1)      حضرت موسیٰ کو منصبِ نبوت پر مقرر کرتے وقت جو باتیں اُن کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان ہوئی تھیں اُن کو قرآن مجید میں حسبِ موقع کہیں مختصر اور کہیں مفصّل بیان کیا گیا ہے ۔ یہاں موقع اختصار کا طالب تھا، اس لیے اُن کا صرف خلاصہ بیان کیا گیا ہے۔ سورہ طٰہٰ، آیات9 تا 48، سورہ شعراء ، آیات1۰تا17، سورہ نمل، آیات7تا 12، اور سورہ قصص، آیات29تا 35 میں ان کی تفصیل بیان ہوئی ہے۔ (2)      فرعون کی جس سرکشی کا یہاں ذکر کیا گیا ہے اس سے مراد بندگی کی حد سے تجاوز کر کے خالق اور خلق ،دونوں کے مقابلے میں سرکشی کرنا ہے ۔ خالق کے مقابلے میں اُس سرکشی کا ذکر تو آگے آرہا ہے کہ اس نے اپنی رعیت کو جمع کر کے اعلان کیا کہ” میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں۔“۔ اور خلق کے مقابلے میں اس کی سرکشی یہ تھی کہ اس نے اپنی مملکت کے باشندوں کو مختلف گروہوں اور طبقوں میں بانٹ رکھا تھا، کمزور طبقوں پر وہ سخت ظلم و ستم ڈھا رہا تھا، اور اپنی پوری قوم کو بیوقوف بنا کر اس نے غلام بنا رکھا تھا ، جیسا کہ سُورہ قصص آیت4 اور سُورہ زُخْرُف آیت 54 میں بیان کیا گیا ہے۔ (3)     حضرت موسیٰ ؑ کو ہدایت فرمائی گئی تھی کہ فَقُوْ لَا لَہُ قَوْلاً لَّیِّنًا لَّعَلَّہٗ یَتَذَکَّرُ اَوْ یَخْشیٰ،”تم اور ہارون دونو ں بھائی اُس سے نرمی کے ساتھ بات کرنا  ، شاید کہ وہ نصیحت قبول کر ے او خدا سے ڈرے“(القَصَص، آیت44) اِس نرم کلام کا ایک نمونہ تو اِن آیات میں دیا گیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک مبلّغ کو کسی بگڑے ہوئے آدمی کی ہدایت کے لیے کس حکمت کے ساتھ تبلیغ کرنی چاہیے۔ دوسرے نمونے سورہ طٰہٰ، آیات49تا52، الشعراء،23تا28، اور القصص، آیت 37 میں دیے گئے ہیں۔ یہ منجملہ اُن آیات کے ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں حکمت ِ تبلیغ کی تعلیم دی ہے۔ (4)     حضرت موسٰی صرف بنی اسرائیل کی رہائی کےلیے ہی فرعون کے پاس نہیں بھیجے گئے تھے، جیسا کہ بعض لوگوں کا خیال ہے ، بلکہ ان کی بِعثت کا پہلا مقصد فرعون اور اس کی قوم کو راہ راست دکھانا تھا، اور دوسرا مقصد یہ تھا کہ اگر وہ راہ راست قبول نہ کرے تو بنی اسرائیل کو ( جو اصل میں ایک مسلمان قوم تھے) اُس کی غلامی سے چُھڑا کر مصر سے  نکال لائیں۔ یہ بات اِن آیات سے بھی ظاہر ہوتی ہے، کیونکہ اِن میں سرے سے بنی اسرائیل کی رہائی کا ذکر ہی نہیں ہے بلکہ  حضرت موسیٰ کو فرعون کے سامنے سے صرف حق کی تبلیغ پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اور اُن مقامات سے بھی ا س کا ثبوت ملتا ہے حہاں حضڑت موسیٰ نے تبلیغ اسلام بھی کی ہے اور بنی اسرائیل کی رہائی کا مطالبہ بھی فرمایا ہے۔ مثلاً ملا حظہ ہو ( الاَعراف، آیات1۰4۔1۰5۔طٰہٰ، آیات47 تا 52۔ الشعراء، آیات1۶۔17و23 تا28۔(مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد دوم، یونس، حاشیہ74)۔ (5)      یہاں پاکیزگی (تَزَ کِّی) اختیار کرنے کا مطلب عقیدے اور اخلاق اور اعمال کی پاکیزگی اختیار کانا، یا دوسرے الفاظ میں اسلام قبول کر لینا ہے۔ ابن زید کہتے ہیں کہ قرآن مجید جہاں بھی تز کِّی کا لفظ استعمال ہوا ہے وہاں اس سے مراد اسلام قبول کرنا ہی ہے۔ چنانچہ وہ مثال میں قرآن مجید کی حسبِ ذیل تین آیات کو پیش کرتے ہیں۔ وَ ذٰ لِکَ جَزَآ ؤُ مَنْ تَزَکّٰی، ” اور یہ جزا ہے اس کی جو پاکیزگی اختیار کرے“۔ یعنی اسلام لے آئے۔ وَمَا یُدْ رِیْکَ لَعَلَّہُ یَزَّکّٰی، اور ”تمہیں کیا خبر شاید کہ وہ پاکیزگی اختیار کرے“، یعنی مسلمان اسلام لے آئے۔ وَمَا  عَلَیْکَ اَلَّا یَزَّکّٰی،” اور تم پر کیا ذمہ داری ہے اگر وہ پاکیزگی اختیار نہ کرے“یعنی مسلمان نہ ہو(ابن جریر)۔ (۶)      یہ ارشاد کہ ”میں تیرے رب کی طرف تیری رہنمائی کروں تو (اس کا خوف)تیرے دل میں پیدا ہو“، اس کا مطلب یہ  ہے کہ جب تو اپنے رب کو پہچان لے گا اور تجھے معلو م ہو جائے گا تو  اُس کا بندہ ہے، مردِ آزاد نہیں ہے، تو لازماً تیرے دل میں اُس کا خوف پیدا ہوگا، اور خوفِ خدا ہی وہ چیز ہے جس پر دنیا میں آدمی کے رویّے کے صحیح ہونے کا انحصار ہے۔ خدا کی معرفت اور اس کے خوف کے بغیر کسی پاکیزگی کا تصوّر نہیں کیا جا سکتا۔

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.

See this ayah on Mushaf page 588

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.

Sources & attribution