Surah 73 · word by word

Surah 73, ayah 4

  1. اَوْیا
  2. زِدْزیادہ بڑھا دو
  3. عَلَیْهِاس پر
  4. وَرَتِّلِاور آہستہ آہستہ پڑھو
  5. الْقُرْاٰنَقرآن کو
  6. تَرْتِیْلًاآہستہ آہستہ پڑھنا

Translation and commentary

Tafheem-ul-Quran

یا اس سے کچھ کم کر لو، یا اس سے کچھ زیادہ بڑھا دو،1 اور قرآن کو خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھو۔2

Footnotes (the author's commentary)

  1. یہ اُس مقدارِ وقت کی تشریح ہے جسے عبادت میں گزارنے کا حکم دی گیا تھا۔ اِس میں آپ ؐ کی اختیار دیا گیا کہ خواہ آدھی رات نما ز میں صرف کریں، یا اس سے کچھ کم کر دیں، یا اس سے کچھ زیادہ۔ لیکن اندازِ بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ قابلِ ترجیح آدھی رات ہے، کیونکہ اُسی کو معیار قرار دے کر کمی و بیشی کا اختیار دیا گیا ہے۔

  2. یعنی تیز تیز رواں دواں نہ  پڑھو، بلکہ آہستہ آہستہ ایک ایک لفظ زبان سے ادا کرو اور ایک ایک آیت پر ٹھیرو، تا کہ ذہن پُوری طرح کلام الہٰی کے مفہوم و مدعا کو سمجھے اور اس کے مضآمین سے متا ثر ہو۔ کہیں اللہ کی ذات وصفات کا ذکر ہے تو اس کی عظمت و ہیبت دل پر طاری ہو۔ کہیں اس کی رحمت کا بیان ہے تو دل جذبات تشکّر سے لبریز ہو جائے۔ کہیں اس کے غضب اور اس کے عذاب کا ذکر ہے تو دل پر اس کا خٔف طاری ہو۔ کہیں کسی چیز کا حکم ہے یا کسی چیز سے منع کیا گیا ہے تو سمجھا جائے کہ کس چیز کا حکم دیا گیا ہے اور کس چیز سے منع کیا گیا ہے۔ غرض یہ قر أت محض قرآن کے الفاظ کو زبان سے ادا کر دینے کے لیے نہیں بلکہ غور و فکر  اور تدبُّر کے ساتھ ہونی چاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قر أ ت کا طریقہ حضرت اَنَس ؓ سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ آپ الفاظ کو کھینچ کھینچ کر پڑھتے تھے۔ مثال کے طور پر انہوں نے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھ کر بتا یا کہ آپ اللہ، رحمان اور رحیم کو مدّ کے ساتھ پڑھا کرتے تھے(بخاری)۔ حضرت ام سلمہ ؓ سے یہی سوال کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ حضور ؑ ایک ایک آیت کو الگ الگ پڑھتے اور ہر آیت پر ٹھیرتے جاتے تھے، مثلاً اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْن پڑھ کر رُک جاتے، پھر اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم پر ٹھیرتے اور اس کے بعد رُک کر مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ کہتے (مسند احمد۔ ابو داؤ۔ترمذی)۔دوسری ایک روایت میں حضرت ام سلمہ ؓ بیان فرماتی ہیں کہ حضور  ؐ ایک ایک لفظ واضح طور پر پڑھا کرتے تھے( ترمذی۔نسائی)۔ حضرت حْذیفہ بن یَمان کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں رات کی نماز میں حضور ؐ کے ساتھ کھڑا ہو گیا تو آپ کی قرآت کا یہ انداز دیکھا کہ جہاں تسبیح کا موقع آتا وہاں تسبیح فرماتے، جہاں دُعا کا موقع آتا وہاں دعا مانگتے، جہاں اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا موقع آتا وہاں پناہ مانگتے(مسلم، نسائی)۔ حضرت ابو ذر کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ رات کی نماز میں جب حضور ؐ اِس مقام پر پہنچے اِنْ تُعَذِّبْھُمْ فَاِنَّھُم عِبَادُکَ وَاِنْ تَغْفِر لَھُمْ فَاِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُالْحَکِیْمُ۔ (اگرتو انہیں عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں، اور اگر تو ان کو معاف فرمادے تو تُو غالب اور دانا ہے) تو اسی کو دُہراتے رہے یہاں تک کہ صبح  ہو گئی(مسند احمد ، بخاری)۔

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Bayan-ul-Quran

یا اس پر تھوڑا بڑھا لیں اور ٹھہر ٹھہر کر قرآن پڑھتے جایئے۔

Commentary

آیت 4{ اَوْ زِدْ عَلَیْہِ } ”یا اس پر تھوڑا بڑھا لیں“ یا پھر رات کا دو تہائی حصہ قیام میں گزاریں۔ گویا آپ ﷺ کے قیام اللیل کا دورانیہ یا نصاب ایک تہائی رات سے لے کر دو تہائی رات تک ہونا چاہیے۔ اس نصاب میں ہمارے لیے رمضان کے قیام اللیل کے حوالے سے بھی راہنمائی موجود ہے۔ رمضان کی راتوں کے قیام کے بارے میں حضرت ابوہریرہ رض سے مروی حضور ﷺ کا فرمان ہے : مَنْ صَامَ رَمَضَانَ اِیْمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لـَــــہٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ ‘ وَمَنْ قَامَ رَمَضَانَ اِیْمَانًا وَّاحْتِسَابًا غُفِرَ لَـہٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ ‘ وَمَنْ قَامَ لَیْلَۃَ الْقَدْرِ اِیْمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَہٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ 1”جس نے رمضان کے روزے رکھے ایمان اور خود احتسابی کی کیفیت کے ساتھ اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کردیے گئے ‘ اور جس نے رمضان کی راتوں میں قیام کیا قرآن سننے اور سنانے کے لیے ایمان اور خود احتسابی کی کیفیت کے ساتھ ‘ اس کے بھی تمام سابقہ گناہ معاف کردیے گئے ‘ اور جو لیلۃ القدر میں کھڑا رہا قرآن سننے اور سنانے کے لیے ایمان اور خود احتسابی کی کیفیت کے ساتھ اس کی بھی سابقہ تمام خطائیں بخش دی گئیں !“ اب ظاہر ہے ”قیام اللیل“ کی اصطلاح کا اطلاق رات کے ایک بڑے حصے کے قیام پر ہی ہوسکتا ہے۔ گھنٹے بھر میں جیسے تی سے بیس رکعتیں پڑھ کر سو جانے کو تو قیام اللیل نہیں کہا جاسکتا۔ اور یہ بیس رکعتوں کا نصاب تو اصل میں ان لوگوں کے لیے ہے جنہوں نے سارا دن محنت و مشقت میں گزارنا ہے۔ ایسے لوگوں کی مجبوری کو پیش نظر رکھتے ہوئے حضرت عمر فاروق رض نے ان کے لیے قیام اللیل کا ایک کم سے کم معیار مقرر فرما دیا تھا۔ البتہ جن لوگوں کے حالات موافق ہوں انہیں رمضان المبارک میں بہرصورت زیر مطالعہ آیات کے مفہوم و مدعا کے مطابق قیام اللیل کا اہتمام کرنا چاہیے۔ اسی طرح وہ حضرات جو اپنی ملازمت وغیرہ سے ایک ماہ کی رخصت لے سکتے ہوں انہیں بھی چاہیے کہ وہ اپنی سالانہ چھٹیاں سیرسپاٹوں پر ضائع کرنے کے بجائے رمضان کے لیے بچا کر رکھا کریں ‘ تاکہ قیام اللیل کی برکتوں سے کماحقہ مستفید ہو سکیں۔ { وَرَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلًا۔ } ”اور ٹھہر ٹھہر کر قرآن پڑھتے جایئے۔“ تَرْتِیْلکے معنی قرآن مجید کو خوب ٹھہرٹھہر کر اور سمجھ کر پڑھنے کے ہیں۔ گویا قیام اللیل کا اصل لازمہ قرآن مجید کی تلاوت ہے اور وہ بھی ترتیل کے ساتھ۔ واضح رہے کہ حضور ﷺ کو یہ حکم نبوت کے بالکل ابتدائی دور میں دے دیا گیا تھا۔ بعد میں جب باقاعدہ پانچ نمازیں فرض ہوگئیں تو قیام اللیل کو مختصر کر کے تہجد کی شکل دے دی گئی ‘ لیکن اس میں بھی قرآن کی تلاوت پر زور دیا گیا : { وَمِنَ الَّــیْلِ فَتَہَجَّدْ بِہٖ } بنی اسرائیل : 79 یعنی تہجد بھی قرآن کے ساتھ بِــہٖ ادا کریں۔ تہجد کا حق یوں ادا نہیں ہوتا کہ چند مختصر سورتوں کے ساتھ آٹھ رکعتیں ادا کیں اور پھر بیٹھ کر دوسرے اذکار میں مشغول ہوگئے۔ بہرحال جسے اللہ تعالیٰ نے تہجد کی توفیق دی ہو اس کے لیے لازم ہے کہ وہ اتنا قرآن ضرور یاد کرے جس سے تہجد کا کچھ نہ کچھ حق ادا ہو سکے۔

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29

Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.

See this ayah on Mushaf page 576

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.

Sources & attribution