Surah 70 · word by word

Surah 70, ayah 1

  1. سَاَلَسوال کیا
  2. سَآىِٕلٌۢسوال کرنے والے نے
  3. بِعَذَابٍعذاب کا
  4. وَّاقِعٍجو واقع ہونے والا ہے

Translation and commentary

Tafheem-ul-Quran

مانگنے والےنے عذاب مانگا ہے،1 (وہ عذاب)جو ضرور واقع ہونے والا ہے

Footnotes (the author's commentary)

  1. اصل الفاظ ہیں سَاَلَ سَا ئِلٌ۔ بعض مفسرین نے یہاں سوال کو پوچھنے کے معنی میں لیا ہے اور وہ آیت کا مطلب یہ بیان کرتے ہیں کہ پوچھنے والے نے پوچھا ہے کہ وہ عذاب ، جس کی ہمیں خبر دی جا رہی ہے ، کس پر واقع ہوگا؟ اور اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ وہ کافروں پر واقع ہو گا ۔ لیکن اکثر مفسرین نے اس جگہ سوال  کو مانگنے اور مطالبہ کر نے کے معنی میں لیا ہے۔ نسائی اور دوسرے محدثین نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ روایت نقل کی ہے اور حاکم نے اس کو صحیح قرار دیا ہے کہ نَضربن حارِث بن کلدہ نے کہا تھا اَللّٰھُمَّ اِنْ کَانَ ھٰذَا ھُوَالْحَقُّ مِنْ عِنْدِکَ فَاَمْطِرْ عَلیْنَا حِجَارَةًمِّنَ السَّمَاءِ اَوِئْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ ہ۔(الانفال، آیت 32)۔”خدایا اگر یہ واقعی تیری ہی طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پھتر برسا دے یا ہم پر درد ناک عذاب لے آ۔“اس کے علاوہ متعدد مقامات پر قرآن مجید میں کفارِ مکہ کے اس چیلنج کا ذکر کیا گیا ہے کہ جس عذاب سے تم ہمیں ڈراتے ہو وہ لے کیوں نہیں آتے۔ مثال کے طور پر حسبِ ذیل مقامات ملاحظہ ہوں : یونس، آیات 4۶ تا 48۔ الانبیاء، 3۶ تا 41۔ النمل، 27 تا72۔ سبا،2۶ تا 3۰۔ یٰس، 45 تا 52۔الملک،24 تا 27۔

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Bayan-ul-Quran

مانگا ایک مانگنے والے نے ایک ایسا عذاب جو واقع ہونے والا ہو

Commentary (one passage for ayahs 70:1, 70:2, 70:3)

آیت 1 ‘ 2{ سَاَلَ سَآئِلٌم بِعَذَابٍ وَّاقِعٍ - لِّلْکٰفِرِیْنَ لَـیْسَ لَہٗ دَافِعٌ۔ } ”مانگا ایک مانگنے والے نے ایک ایسا عذاب جو واقع ہونے والا ہو ‘ کافروں کے لیے ‘ جس کو کوئی ٹال نہ سکے گا۔“ یہاں سَاَلَ سَآئِلٌسے کون مراد ہے ؟ اس بارے میں مفسرین کے درمیان بہت اختلاف پایا جاتا ہے۔ میری رائے بہت پہلے سے یہ تھی کہ یہ عذاب طلب کرنے والے خود حضور ﷺ ہیں ‘ لیکن مجھے اپنی رائے پر اطمینان اس وقت ہوا جب مجھے معلوم ہوا کہ شاہ عبدالقادر دہلوی رح کی رائے بھی یہی ہے۔ عام مفسرین میں سے بہت کم لوگ شاہ صاحب رح کی اس رائے سے متفق ہیں کہ اس آیت میں حضور ﷺ کی خواہش یا دعا کا ذکر ہے۔ اس آیت کو سمجھنے کے لیے دراصل اس دور کا نقشہ ذہن میں لانا ضروری ہے جب حضور ﷺ پر ہر طرف سے طرح طرح کے الزامات کی بوچھاڑ ہو رہی تھی اور مکہ کی گلیوں میں آپ ﷺ کو شاعر ‘ مجنون ‘ ساحر اور کذاب جیسے ناموں سے پکارا جارہا تھا معاذ اللہ۔ اعلانِ نبوت کے بعد تین سال تک تو یوں سمجھئے کہ پورے شہر کی مخالفت کا نشانہ صرف حضور ﷺ کی ذات تھی۔ مشرکین کا خیال تھا کہ اگر وہ آپ ﷺ کی قوت ارادی اور ہمت توڑنے یا کسی بھی طریقے سے آپ ﷺ کو آپ ﷺ کے موقف سے ہٹانے میں کامیاب ہوگئے تو یہ تحریک خود بخود ختم ہوجائے گی۔ چناچہ اس دور میں عام اہل ایمان کو نظرانداز کر کے صرف آپ ﷺ کی ذات کو نشانے پر رکھا گیا تھا۔ اس دوران اگرچہ آپ ﷺ کو کوئی جسمانی اذیت تو نہ پہنچائی گئی لیکن باقاعدہ ایک منظم مہم کے تحت آپ ﷺ کے خلاف ذہنی ‘ نفسیاتی اور جذباتی تشدد کی انتہا کردی گئی۔ ان لوگوں کی اس مذموم مہم کی وجہ سے حضور ﷺ مسلسل ایک کرب اور تکلیف کی کیفیت میں تھے۔ اس کا اندازہ ان الفاظ اور جملوں سے بھی ہوتا ہے جو اس دور میں نازل ہونے والی سورتوں میں آپ ﷺ کی تسلی کے لیے جگہ جگہ آئے ہیں۔ بہرحال حضور ﷺ بھی تو آخر انسان تھے۔ مسلسل شدید ذہنی اذیت کا سامنا کرتے ہوئے ردّعمل کے طور پر آپ ﷺ کے دل میں ایسی خواہش کا پیدا ہونا ایک فطری امر تھا کہ اب ان لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آجانا چاہیے۔ چناچہ ان آیات میں آپ ﷺ کی اسی خواہش یا دعا کا ذکر ہے۔ اس حوالے سے یہاں یہ نکتہ بھی مدنظر رہے کہ اس سورت کا سورة نوح کے ساتھ جوڑے کا تعلق ہے اور سورة نوح میں بھی حضرت نوح علیہ السلام کی اس دعا کا ذکر ہے جس میں آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے اپنی قوم کے لیے سخت عذاب مانگا تھا۔ گویا ان دونوں سورتوں کے اس مضمون کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ اس تعلق میں یہ مناسبت بھی بہت اہم ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام پہلے رسول اور حضور ﷺ آخری رسول ہیں۔ 1

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29

Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.

See this ayah on Mushaf page 569

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.

Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.

Sources & attribution