- لَقَدْالبتہ / تحقیق
- اَرْسَلْنَابھیجا ہم نے
- نُوْحًانوح کو
- اِلٰیطرف
- قَوْمِهٖاس کی قوم کی
- فَقَالَتو اس نے کہا
- یٰقَوْمِاے میری قوم
- اعْبُدُواعبادت کرو
- اللّٰهَاللہ کی
- مَانہیں
- لَكُمْتمہارے لئے
- مِّنْکوئی
- اِلٰهٍالٰہ
- غَیْرُهٗ ؕاس کے سوا
- اِنِّیْۤبیشک میں
- اَخَافُمیں ڈرتا ہوں
- عَلَیْكُمْتم پر
- عَذَابَعذاب سے
- یَوْمٍدن کے
- عَظِیْمٍبڑے (دن کے)
Surah 7 · word by word
Surah 7, ayah 59
Translation and commentary
Tafheem-ul-Quran
ہم نے نوح ؑ کو اُس کی قوم کی طرف بھیجا۔1 اس نے کہا”اے برادرانِ وقم، اللہ کی بندگی کرو، اُسکے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے۔2 میں تمہارے حق میں ایک ہولناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔“
Footnotes (the author's commentary)
-
اس تاریخی بیان کی ابتدا حضرت نوح ؑ اور ان کی قوم سے کی گئی ہے، کیونکہ قرآن کی رو سے جس صالح نظام ِ زندگی پر حضرت آدم ؑ اپنی اولاد کو چھوڑ گئے تھے اس میں سب سے پہلا بگاڑ حضرت نوح ؑ کے دور میں رونما ہوا اور اس کی اصلاح کے لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو مامور فرمایا۔ قرآن کے ارشادات اور بائیبل کی تصریحات سے یہ بات متحقق ہو جاتی ہے کہ حضرت نوح ؑ کی قوم اُس سر زمین میں رہتی تھی جس کو آج ہم عراق کے نام سے جانتے ہیں۔ بابِل کے آثارِ قدیمہ میں بائیبل سے قدیم تر جو کتبات ملے ہیں ان سے ملے ہیں ان سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے، اُن میں تقریباً اُسی قسم کا ایک قصہ مذکور ہے جس کا ذکر قرآن اور تورات میں بیان ہوا ہے اور اس کی جائے وقوع موصل کے نواح میں بتائی گئی ہے۔ پھر جو روایات کُردستان اور آرمینیہ میں قدیم ترین زمانے سے نسلاً بعد نسلِ چلی آرہی ہیں اُن سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ طوفان کے بعد حضرت نوح ؑ کی کشتی اسی علاقہ میں کسی مقام پر ٹھری تھی۔ موصل کے شمال میں جزیرہ ابنِ عمر کے آس پاس ، آرمینیہ کی سرحد پر کوہِ اراراط کے نواح میں نوح ؑ کے مختلف آثار کی نشان دہی اب بھی کی جاتی ہے، اور شہر نخچیوان کے باشندوں میں آج تک مشہور ہے کہ اِس شہر کی نبا حضرت نوح ؑ نے ڈالی تھی۔ حضرت نوح ؑ کے اس قصے سے ملتی جُلتی روایات یونان ،مصر، ہندوستان اور چین کے قدیم لٹیریچر میں بھی ملتی ہیں اور اس کے علاوہ برما، ملایا، جزائر شرق الہند، آسٹریلیا، نیوگنی اور امریکہ و یورپ کے مختلف حصوں میں بھی ایسی ہی روایات قدیم زمانہ سے چلی آرہی ہیں۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ قصہ اُس عہد سے تعلق رکھتا ہے جبکہ پوری نسلِ آدم کسی ایک ہی خطہ زمین میں رہتی تھی اور پھر وہاں سے نکل کر دنیا کے مختلف حصوں میں پھیلی۔ اسی وجہ سے تمام قومیں اپنی ابتدائی تاریخ میں ایک ہمہ گیر طوفان کی نشان دہی کرتی ہیں، اگرچہ مرورِ ایام سے اس کی حقیقی تفصیلات انہوں نے فراموش کر دیں اور اصل واقعہ پر ہر ایک نےاپنے اپنے تخیل کے مطابق افسانوں کا ایک بھا ری خول چڑھادیا۔
-
یہاں اور دوسرے مقامات پر حضرت نوح ؑ اور ان کی قوم کا جو حال قرآن مجید میں بیان کیا گیا ہے اس سے یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ یہ قوم نہ تو اللہ کے وجود کی منکر تھی ، نہ اس سے نا واقف تھی، نہ اُسے اللہ کی عبادت سے انکار تھا، بلکہ اصل گمراہی جس میں وہ مبتلا ہو گئی تھی، شرک کی گمراہی تھی۔ یعنی اس نے اللہ کے ساتھ دوسری ہستیوں کو خدائی میں شریک اور عبادت کے استحقاق میں حصہ دار قرار دے لیا تھا۔ پھر اس بنیادی گمراہی سے بے شمارخرابیاں اس قوم میں رونما ہو گئیں۔ جو خود ساختہ معبود خدائی میں شریک ٹھیرا لیے گئے تھے ان کی نمائندگی کرنے کے لیے قوم میں ایک خاص طبقہ پیدا ہو گیا جو تمام مذہبی سیاسی اور معاشی اقتدار کا مالک بن بیٹھا اور اس نے انسانوں میں اُونچ اور نِیچ کی تقسیم پیدا کر دی، اجتماعی زندگی کو ظلم و فساد سے بھر دیا او اخلاقی فسق و فجور سے انسانیت کی جڑیں کھوکھلی کر دیں ۔ حضرت نوح ؑ نے اس حالت کو بدلنے کے لیے ایک زنانہ در از تک انتہائی صبر و حکمت کے ساتھ کوشش کی مگر عامتہ الناس کو ان لوگوں نے اپنے مکر کے جال میں ایسا پھانس رکھا تھا کہ اصلاح کی کوئی دتد بیر کار گر نہ ہوئی ۔ آخر کار حضرت نوح ؑ نے خدا سے دعا کی کہ ان کافروں میں سے ایک کو بھی زمین نہ چھوڑ، کیونکہ اگر تو نے ان میں سے کسی کو بھی چھوڑ دیا تو یہ تیرے بندوں کو گمراہ کر یں گے اور ان کی نسل سے جو بھی پیدا ہو گا بد کار او نمک حرام ہی پیدا ہو گا۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو سورہ ہود، رکوع 3 ۔ سورہ شعراء رکوع ۶ ۔ اور سورہ نوح مکمل)۔
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Bayan-ul-Quran
ہم نے بھیجا تھا نوح ؑ کو اس کی قوم کی طرف تو اس نے کہا اے میری قوم کے لوگو ! اللہ کی بندگی کرو تمہارا کوئی معبود اس کے سوا نہیں ہے مجھے تمہارے بارے میں اندیشہ ہے ایک بڑے دن کے عذاب کا۔
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29
Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.
See this ayah on Mushaf page 158
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.
Commentary (one passage for ayahs 7:59, 7:60, 7:61)
اس رکوع سے التذکیر بِاَ یَّام اللّٰہ کے اس سلسلے کا آغاز ہو رہا ہے جسے قبل ازیں اس سورت کے مضامین کا عمود قرار دیا گیا ہے۔ یہاں اس سلسلے کا بہت بڑا حصہ انباء الرّسل پر مشتمل ہے۔ آگے بڑھنے سے پہلے اس اصطلاح کو اچھی طرح سمجھنا بہت ضروری ہے۔ قرآن مجید میں جہاں کہیں نبیوں کا ذکر آتا ہے تو اس کا مقصد ان کی سیرت کے روشن پہلوؤں مثلاً ان کا مقام ‘ تقویٰ اور استقامت وغیرہ کو نمایاں کرنا ہوتا ہے ‘ جبکہ رسولوں کا ذکر بالکل مختلف انداز میں آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جب بھی کوئی رسول علیہ السلام آیا تو وہ کسی قوم کی طرف بھیجا گیا ‘ لہٰذا قرآن مجید میں رسول علیہ السلام کے ذکر کے ساتھ لازماً متعلقہ قوم کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ پھر رسول کی دعوت کے جواب میں اس قوم کے رویے اور ردِّ عمل کی تفصیل بھی بیان کی گئی ہے۔ چناچہ پہلی قسم کے واقعات کو قصص الانبیاء کہا جاسکتا ہے۔ اس کی مثال سورة یوسف ہے ‘ جس میں حضرت یوسف علیہ السلام کے حالات بہت تفصیل سے بیان ہوئے ہیں ‘ مگر کہیں بھی آپ علیہ السلام کی طرف سے اس نوعیت کے اعلان کا ذکر نہیں ملتا کہ لوگو ! مجھ پر ایمان لاؤ ‘ میری بات مانو ‘ ورنہ تم پر عذاب آئے گا اور نہ ہی ایسا کوئی اشارہ ملتا ہے کہ اس قوم نے آپ علیہ السلام کی دعوت کو ردّ کردیا اور پھر ان پر عذاب آگیا اور انہیں ہلاک کردیا گیا۔ دوسری قسم کے واقعات کے لیے انباء الرسل کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔ انباء جمع ہے نبأ کی ‘ جس کے معنی خبر کے ہیں ‘ یعنی رسولوں کی خبریں۔ اِن واقعات سے ایک اصول واضح ہوتا ہے کہ جب بھی کوئی رسول کسی قوم کی طرف آیا تو وہ اللہ کی عدالت بن کر آیا۔ جن لوگوں نے اس کی دعوت کو مان لیا وہ اہل ایمان ٹھہرے اور عافیت میں رہے ‘ جبکہ انکار کرنے والے ہلاک کردیے گئے۔ انباء الرسل کے سلسلے میں عام طور پر چھ رسولوں علیہ السلام کے حالات قرآن مجید میں تکرار کے ساتھ آئے ہیں۔ اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ رسول صرف چھ ہیں ‘ بلکہ یہ چھ رسول علیہ السلام وہ ہیں جن سے اہل عرب واقف تھے۔ یہ تمام رسول علیہ السلام اسی جزیرہ نمائے عرب کے اندر آئے۔ یہ رسول علیہ السلام جن علاقوں میں مبعوث ہوئے ان کے بارے میں جاننے کے لیے جزیرہ نمائے عرب Arabian Peninsula کا نقشہ اپنے ذہن میں رکھیے۔ نیچے جنوب کی طرف سے اس کی چوڑائی کافی زیادہ ہے ‘ جبکہ یہ چوڑائی اوپر شمال کی طرف کم ہوتی جاتی ہے۔ اس جزیرہ نما علاقہ کے مشرقی جانب خلیج فارس Persian Gulf ہے جب کہ مغربی جانب بحیرۂ احمر Read Sea ہے جو شمال میں جاکر دو کھاڑیوں میں تقسیم ہوجاتا ہے۔ ان میں سے ایک شمال مغرب کی طرف خلیج سویز ہے اور دوسری طرف شمال مشرق کی جانب خلیج عقبہ۔ خلیج عقبہ کے اوپر شمال والے کونے سے خلیج فارس کے شمالی کنارے کی طرف سیدھی لائن لگائیں تو نقشے پر ایک مثلث triangle بن جاتی ہے ‘ جس کا قاعدہ base نیچے جنوب میں یمن سے سلطنت عمان تک ہے اور اوپر والا کونہ شمال میں بحیرۂ مردار Dead Sea کے علاقے میں واقع ہے۔موجودہ دنیا کے نقشے کے مطابق اس مثلث میں سعودی عرب کے علاوہ عراق اور شام کے ممالک بھی شامل ہیں۔ یہ مثلث اس علاقے پر محیط ہے جہاں عرب کی قدیم قومیں آباد تھیں اور یہی وہ قومیں تھیں جن کی طرف وہ چھ رسول مبعوث ہوئے تھے جن کا ذکر قرآن مجید میں بار بار آیا ہے۔ ان میں سے جو رسول سب سے پہلے آئے وہ حضرت نوح علیہ السلام تھے۔ آپ علیہ السلام کے زمانے کے بارے میں یقینی طور پر تو کچھ نہیں کہا جاسکتا ‘ لیکن مختلف اندازوں کے مطابق آپ علیہ السلام کا زمانہ حضرت آدم علیہ السلام سے کوئی دو ہزار سال بعد کا زمانہ بتایا جاتا ہے واللہ اعلم۔ اس وقت تک کل نسل انسانی بس اسی علاقے میں آباد تھی۔ جب آپ علیہ السلام کی قوم آپ علیہ السلام کی دعوت پر ایمان نہ لائی تو پانی کے عذاب سے انہیں تباہ کردیا گیا۔ یہی وہ علاقہ ہے جہاں وہ تباہ کن سیلاب آیا تھا جو طوفان نوح سے موسوم ہے اور یہیں کوہ جودی میں ارارات کی وہ پہاڑی ہے جہاں حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی لنگر انداز ہوئی تھی۔ پھر حضرت نوح علیہ السلام کے تین بیٹوں سے دوبارہ نسل انسانی چلی۔ آپ علیہ السلام کا ایک بیٹا جس کا نام سام تھا ‘ اس کی نسل جنوب میں عراق کی طرف پھیلی۔ اس نسل سے جو قومیں وجود میں آئیں انہیں سامی قومیں کہا جاتا ہے۔ انہی قوموں میں ایک قوم عاد تھی ‘ جو جزیرہ نمائے عرب کے بالکل جنوب میں آباد تھی۔ آج کل یہ علاقہ بڑا خطرناک قسم کا ریگستان ہے ‘ لیکن اس زمانے میں قوم عاد کا مسکن یہ علاقہ بہت سر سبز و شاداب تھا۔ اس قوم کی طرف حضرت ہود علیہ السلام کو رسول بنا کر بھیجا گیا۔ آپ علیہ السلام کی دعوت کو اس قوم نے رد کیا تو یہ بھی ہلاک کردی گئی۔ اس قوم کے بچے کھچے لوگ اور حضرت ہود علیہ السلام وہاں سے نقل مکانی کر کے مذکورہ مثلث کی مغربی سمت جزیرہ نمائے عرب کے شمال مشرقی کونے میں خلیج عقبہ سے نیچے مغربی ساحل کے علاقے میں جاآباد ہوئے۔ ان لوگوں کی نسل کو قوم ثمود کے نام سے جانا جاتا ہے۔ قوم ثمود کی طرف حضرت صالح علیہ السلام کو بھیجا گیا۔ اس قوم نے بھی اپنے رسول علیہ السلام کی دعوت کو رد کردیا ‘ جس پر انہیں بھی ہلاک کردیا گیا۔ یہ لوگ پہاڑوں کو تراش کر عالی شان عمارات بنانے میں ماہر تھے۔ پہاڑوں کے اندر کھدے ہوئے ان کے محلات اور بڑے بڑے ہال آج بھی موجود ہیں۔ قوم ثمود کے اس علاقے سے ذرا اوپر خلیج عقبہ کے داہنی طرف مدین کا علاقہ ہے جہاں وہ قوم آباد تھی جن کی طرف حضرت شعیب علیہ السلام کو بھیجا گیا۔ مدین کے علاقے سے تھوڑا آگے بحیرۂ مردار Dead Sea ہے ‘ جس کے ساحل پر سدوم اور عامورہ کے شہر آباد تھے۔ ان شہروں میں حضرت لوط علیہ السلام کو بھیجا گیا۔ بہرحال یہ ساری اقوام جن کا ذکر قرآن میں بار بار آیا ہے مذکورہ مثلث کے علاقے میں ہی آباد تھیں۔ صرف قوم فرعون اس مثلث سے باہر مصر میں آباد تھی جہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام مبعوث ہوئے۔ ان چھ رسولوں کے حالات پڑھنے سے پہلے ان کی قوموں کے علاقوں کا یہ نقشہ اچھی طرح ذہن نشین کرلیجئے۔ زمانی اعتبار سے حضرت نوح علیہ السلام سب سے پہلے رسول ہیں ‘ پھر حضرت ہود علیہ السلام ‘ پھر حضرت صالح علیہ السلام ‘ پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام۔ لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر قرآن میں انباء الرسل کے انداز میں نہیں بلکہ قصص الانبیاء کے طور پر آیا ہے۔ آپ علیہ السلام کے بھتیجے حضرت لوط علیہ السلام کو سدوم اور عامورہ کی بستیوں کی طرف بھیجا گیا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ایک بیٹے کا نام مدین تھا ‘ جن کی اولاد میں حضرت شعیب علیہ السلام کی بعثت ہوئی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام ہی کے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام حجاز مکہ میں آباد ہوئے اور پھر حجاز میں ہی نبی آخر الزماں ﷺ کی بعثت ہوئی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق علیہ السلام تھے جن کو آپ علیہ السلام نے فلسطین میں آباد کیا۔ حضرت اسحاق علیہ السلام کے بیٹے حضرت یعقوب علیہ السلام تھے جن سے بنی اسرائیل کی نسل چلی۔ قرآن حکیم میں جب ہم انبیاء و رسل کے تذکرے پڑھتے ہیں تو یہ ساری تفصیلات ذہن میں ہونی چاہئیں۔آیت 59 لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰی قَوْمِہٖ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰہَ مَا لَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہٗ ط اِنِّیْٓ اَخَافُ عَلَیْکُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ یعنی مجھے اندیشہ ہے کہ اگر تم لوگ یونہی مشرکانہ افعال اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں کا ارتکاب کرتے رہو گے تو بہت بڑے عذاب میں پکڑے جاؤ گے۔