- وَلَااور نہ
- تُفْسِدُوْاتم فساد کرو
- فِیمیں
- الْاَرْضِزمین
- بَعْدَکے بعد
- اِصْلَاحِهَااس کی اصلاح (کے بعد)
- وَادْعُوْهُاور پکارو اس کو
- خَوْفًاخوف کے ساتھ
- وَّطَمَعًا ؕاور امید کے ساتھ
- اِنَّبیشک
- رَحْمَتَرحمت
- اللّٰهِاللہ کی
- قَرِیْبٌقریب ہے
- مِّنَکے
- الْمُحْسِنِیْنَاحسان کرنے والوں کے
Surah 7 · word by word
Surah 7, ayah 56
Translation and commentary
Tafheem-ul-Quran
زمین میں فساد برپا نہ کرو جبکہ اس کی اصلاح ہو چکی ہے1 اور خدا ہی کو پکارو خوف کے ساتھ اور طمع کے ساتھ،2 یقیناً اللہ کی رحمت نیک کردار لوگوں سے قریب ہے
Footnotes (the author's commentary)
-
”زمین میں فساد برپا نہ کرو “، یعنی زمین کے انتظام کو خراب نہ کرو۔ انسان کا خدا کی بندگی سے نکل کر اپنے نفس کی یا دوسروں کی بندگی اختیار کرنا اور خدا کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنے اخلاق، معاشرت اور تمدّن کو ایسے اصول و قوانین پر قائم کرنا جو خدا کے سوا کسی اور کی رہنمائی سے ماخوذ ہوں ، یہی وہ بنیا دی فساد ہے جس سے زمین کے انتظام میں خرابی کی بے شمار صورتیں رونما ہوتی ہیں اور اسی فساد کو روکنا قرآن کا مقصود ہے ۔ پھر اس کے ساتھ قرآن اس حقیقت پر بھی متنبہ کرتا ہے کہ زمین کے انتظام سے عارض ہوتا رہا ہے۔ بالفاظ دیگر یہاں انسان کی زندگی کی ابتدا جہالت و دحشت اور شرک و بغاوت اور اخلاقی بدنظمی سے نہیں ہوئی ہے جس کو دور کرنے کے لیے بعد میں بتدریج اصلاحات کی گئی ہوں، بلکہ فی الحقیقت انسانی زندگی کا آغاز صلاح سے ہوا ہے اور بعد میں اس درست نظام کو غلط کا ر انسان اپنی حماقتوں اور شرارتوں سے خراب کرتے رہے ہیں۔ اسی فساد کو مٹانے اور نظام حیات کو ازسرِ نو درست کر دینے کےلیے اللہ تعالیٰ وقتاًفوقتاً اپنے پیغمبر بھیجتا رہا ہے اور انہوں نے ہر زمانے میں انسان کو یہی دعوت دی ہے کہ زمین کا انتظام جس صَلاح پر قائم کیا گیا تھا اس میں فساد برپا کرنے سے باز آؤ۔ اس معاملہ میں قرآن کا نقطئہ نظر اُن لوگوں کے نقطئہ نظر سے بالکل مختلف ہے جنہوں نے ارتقاء کا ایک غلط تصور لے کر یہ نظریہ قائم کیا ہے کہ انسان ظلمت سے نکل کر بتدریج روشنی میں آیا ہے اور اس کی زندگی بگاڑ سے شروع ہو کر رفتہ رفتہ بنی اور بنتی جا رہی ہے۔ اس کے بر عکس قرآن کہتا ہے کہ خدا نے انسان کو پوری روشنی میں زمین پر بسایا تھا اور ایک صالح نظام کو بگاڑتا رہا اور خدا بار بار اپنے پیغمبروں کو اس غرض کے لیے بھیجتا رہا کہ اسے تاریکی سےروشنی کی طرف آنے اور فساد سے باز رہنے کی دعوت دیں۔(سورة بقرہ، حاشیہ نمبر23۰)
-
اس فقرے سے واضح ہو گیا کہ اوپر کے فقرے میں جس چیز کو فسادے سے تعبیر کیا گیا ہے وہ دراصل یہی ہے کہ انسان خدا کے بجائے کسی اور کو اپنا ولی و سرپرست اور کارساز اور کارساز اور کارفرما قرار دے کر مدد کے لیے پکارے۔ اور اصلاح اس کے سوا کسی دوسری چیز کا نام نہیں ہے کہ انسان کی اِس پکار کا مرجع پھر سے محض اللہ کی ذات ہی ہو جائے۔ خوف اور طمع کے ساتھ پارنے کا مطلب یہ ہے کہ تمہیں خوف بھی ہو تو اللہ سے ہو اور تمہاری اُمیدیں بھی اگر کسی سے وابستہ ہوں تو صرف اللہ سے ہوں۔ اللہ کو پکارو تو اس احساس کے ساتھ پکارو کہ تمہاری قسمت بالکلیہ اس کی نظرِ عنایت پر منحصر ہے، فلاح و سعادت کو پہنچ سکتے ہو تو صرف اس کی مدد اور رہنمائی سے، ورنہ جہاں تم اس کی اعانت سے محروم ہوئے پھر تمہارے لیے تباہی و نا مرادی کے سوا کوئی دوسرا انجام نہیں ہے۔
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Bayan-ul-Quran
اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد مت مچاؤ اور اللہ کو پکارا کرو خوف اور امید کے ساتھ یقیناً اللہ کی رحمت اہل احسان بندوں کے بہت ہی قریب ہے
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29
Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.
See this ayah on Mushaf page 157
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.
Commentary
آیت 56 وَلاَ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلاَحِہَا وَادْعُوْہُ خَوْفًا وَّطَمَعًا ط اللہ کو پکارنے ‘ اس سے دعا کرنے کے دو پہلو dimensions پہلے بتائے گئے کہ اللہ کو جب پکارو تو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے دل میں پکارو۔ اب اس ضمن میں مزید فرمایا گیا کہ اللہ کے ساتھ تمہارا معاملہ ہمیشہ بین الخوف والرجاء رہنا چاہیے۔ ایک طرف خوف کا احساس بھی ہو کہ اللہ پکڑ نہ لے ‘ کہیں سزا نہ دے دے ‘ اور دوسری طرف اس کی مغفرت اور رحمت کی قوی امید بھی دل میں ہو۔ لہٰذا فرمایا کہ اللہ سے دعا کرتے ہوئے تمہاری دلی اور روحانی کیفیت ان دونوں کے بین بین ہونی چاہیے۔