- سَآءَبڑی ہی بری ہے
- مَثَلَامثال
- لْقَوْمُاس قوم کی
- الَّذِیْنَجنہوں نے
- كَذَّبُوْاجھٹلایا
- بِاٰیٰتِنَاہماری آیات کو
- وَاَنْفُسَهُمْاور اپنے نفسوں پر
- كَانُوْاتھے وہ
- یَظْلِمُوْنَظلم کرتے
Surah 7 · word by word
Surah 7, ayah 177
Translation and commentary
Tafheem-ul-Quran
بڑی ہی بری مثال ہے ایسے لوگوں کی جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا، اور وہ آپ اپنے ہی اوپر ظلم کرتے رہے ہیں
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database files dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Tafheem-ul-Quran by Sayyid Abul A'la Maududi, Urdu translation and footnotes, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 302). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Bayan-ul-Quran
کیا ہی بری مثال ہے اس قوم کی جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور وہ خود اپنی ہی جانوں پر ظلم ڈھاتے رہے
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Print publisher: not stated by QUL. Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-12 (translation database dated 2026-08-26; commentary database, from https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29, dated 2025-05-26); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Bayan-ul-Quran (Urdu translation and commentary; author identified by the project owner as Dr. Israr Ahmad, not named by the source), from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 183 and tafsir resource 29). Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Commentary: https://qul.tarteel.ai/resources/tafsir/29
Translation and commentary are shown as the source gives them. They give no ruling. Not reviewed by a scholar.
See this ayah on Mushaf page 173
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Qudratullah Company, Lahore, Pakistan (print); distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Script and font author: not stated by QUL (its Credits page thanks Ayman Siddiqui for Indopak fonts and script). Version QUL downloads as retrieved by the owner on 2026-10-11 (layout file dated 2026-09-30, script file dated 2025-06-14, font file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-11). Layout of the Qudratullah Company 15-line Mushaf, Indopak Nastaleeq script and font, from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai). Script and font credited by QUL to Ayman Siddiqui. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Source: Quranic Universal Library (QUL), qul.tarteel.ai, published by Distributed by the Quranic Universal Library (Tarteel). Translator or author: not stated by QUL. Version QUL download as retrieved by the owner on 2026-10-12 (database file dated 2025-05-27); no version number is published (retrieved 2026-10-12). Urdu word-by-word meanings from the Quranic Universal Library (qul.tarteel.ai, translation resource 93); the translator is not named by the source. Not reviewed by a scholar. Redistribution rights are not confirmed.
Meanings are shown as the source gives them, one per word. This is not a translation of the ayah and gives no ruling. Not reviewed by a scholar.
Commentary (one passage for ayahs 7:176, 7:177)
آیت 176 وَلَوْ شِءْنَا لَرَفَعْنٰہُ بِہَا وَلٰکِنَّہٗٓ اَخْلَدَ اِلَی الْاَرْضِ یعنی اللہ کی آیات اور جو بھی علم اس کو عطا ہو اتھا اس کے ذریعے سے اس کو بڑا بلند مقام مل سکتا تھا مگر وہ تو زمین ہی کی طرف دھنستا چلا گیا۔ یہاں پر زمین کی طرف دھنسنے کے استعارے کو بھی اچھی طرح سمجھنے کی ضرورت ہے۔ انسان دراصل حیوانی جسم اور ملکوتی روح سے مرکب ہے۔ جسم کے اجزائے ترکیبی کا تعلق زمین سے ہے ‘ جیسا کہ سورة طٰہٰ کی آیت 55 میں فرمایا گیا : مِنْہَا خَلَقْنٰکُمْ یعنی ہم نے تمہیں اس زمین سے پیدا کیا۔ اس کے برعکس انسانی روح کا تعلق عالم بالا سے ہے اور وہ اللہ سے اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ ط والا عہد کر کے آئی ہے۔ چناچہ اصل کے اس تضاد کی بنیاد پر جسم اور روح میں متواتر کشمکش رہتی ہے۔ کُلُّ شَیْءٍ یَرْجِعُ اِلٰی اَصْلِہٖ ہر چیز اپنے منبع کی طرف لوٹتی ہے کے مصداق روح اوپر اٹھنا چاہتی ہے تاکہ اللہ سے قرب حاصل کرسکے ‘ جبکہ جسم کی ساری کشش زمین کی طرف ہوتی ہے۔ چونکہ جسم کی تقویت کا سارا سامان ‘ غذا وغیرہ زمین ہی کے مرہون منت ہے ‘ اس لیے زمینی اور دنیاوی لذتوں میں ہی اسے سکون ملتا ہے اور ع بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست کا نعرہ اسے اچھا لگتا ہے۔ اب اگر کوئی شخص فیصلہ کرلیتا ہے کہ جسمانی ضرورتوں اور لذتوں کے حصول کے لیے اس نے زمین کے ساتھ ہی چمٹ کر رہنا ہے تو گویا اب اس نے اپنے آپ کو اللہ کی توفیق سے محروم کرلیا۔ اب اس کی روح سسکتی رہے گی ‘ احتجاج کرتی رہے گی اور اگر زیادہ مدت تک اس کی روحانی غذا کا بندوبست نہیں کیا جائے گا تو روح کی موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔ اگر کسی انسان کے جیتے جی اس کی روح کے ساتھ یہ حادثہ ہوجائے ‘ یعنی اس کی روح کی موت واقع ہوجائے تو گویا وہ چلتا پھرتا حیوان بن جاتا ہے ‘ جو اپنے سارے حیوانی تقاضے حیوانی انداز میں پورے کرتا رہتا ہے۔ پھر زمینی غذائیں ‘ سفلی آرزوئیں اور مادی امنگیں ہی اس کی زندگی کا مقصد و محور قرار پاتی ہیں۔ نتیجتاً اسے فیضان سماوی اور توفیق الٰہی سے کلی طور پر محروم کردیا جاتا ہے۔وَاتَّبَعَ ہَوٰٹہُ ج فَمَثَلُہٗ کَمَثَلِ الْکَلْبِج اِنْ تَحْمِلْ عَلَیْہِ یَلْہَثْ اَوْ تَتْرُکْہُ یَلْہَثْ ط یعنی اس شخص نے اللہ کی نعمتوں کی قدر کرنے کے بجائے خود کو کتے سے مشابہ کرلیا ‘ جو ہر وقت زبان نکالے ہانپتا رہتا ہے اور حرص وطمع کے غلبے کی وجہ سے ہر وقت زمین کو سونگھتے رہنا اس کی فطرت میں شامل ہے۔ذٰلِکَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا ج۔ اوپر تفصیل کے ساتھ یہود کی جو سرگزشت بیان ہوئی ہے اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ قوم شروع سے ہی بلعم بن باعوراء بنی رہی ہے۔ آج اس کی سب سے بڑی مثال پاکستانی قوم ہے۔ پاکستان کا بن جانا اور اس کا قائم رہنا ایک معجزہ تھا۔ انگریزوں اور ہندوؤں کو یقین تھا کہ پاکستان کی بقا بحیثیت ایک آزاد اور خودمختار ملک کے ممکن نہیں ہے ‘ اس لیے یہ جلد ہی ختم ہوجائے گا۔ لیکن یہ ملک نہ صرف قائم رہا بلکہ 1965 ء کی جنگ جیسی بڑی بڑی آزمائشوں سے بھی سر خرو ہو کر نکلا۔ اس لیے کہ ہم نے اس ملک کو حاصل کیا تھا اسلام کے نام پر کہ اسے اسلامی نظام کی تجربہ گاہ بنائیں گے ‘ تاکہ پوری دنیا اسلامی نظام کے عملی نمونے اور اس کی برکات کا مشاہدہ کرسکے۔ قائد اعظم نے بھی فرمایا تھا کہ ہم پاکستان اس لیے چاہتے ہیں کہ ہم عہد حاضر میں اسلام کے اصول حریت و اخوت و مساوات کا ایک نمونہ دنیا کے سامنے پیش کرسکیں ‘ لیکن عملی طور پر آج ہمارا طرز عمل فانْسَلَخَ مِنْہَا کی عبرتناک تصویر بن چکا ہے۔ ہم ان تمام وعدوں سے پیچھا چھڑا کر نکل بھاگے اور شیطان کی پیروی اختیار کی۔ پھر ہمارا جو حال ہوا اور مسلسل ہو رہا ہے وہ سامنے رکھیں اور اس پس منظر میں اس آیت کو دوبارہ پڑھیں۔